Jul 8, 2008

ابنِ انشا کی ایک غزل - جوگ بجوگ کی باتیں جُھوٹی، سب جی کا بہلانا ہو

ابنِ انشا کی ایک خوبصورت غزل پیشِ خدمت ہے.

جوگ بجوگ کی باتیں جُھوٹی، سب جی کا بہلانا ہو
پھر بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہو

ساری دنیا عقل کی بیَری، کون یہاں پر سیانا ہو
ناحق نام دھریں سب ہم کو، دیوانا دیوانا ہو

نگری نگری لاکھوں دوارے، ہر دوارے پر لاکھ سخی
لیکن جب ہم بھول چکے ہیں، دامن کا پھیلانا ہو

سات سمندر پار کی گوری، کھیل ذرا کرتار کے دیکھ
ہم کو تو اس شہر میں ملنا، اُس کو تھا ملوانا ہو

Ibn-e-Insha, ابنِ انشا، urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Ibn-e-Insha, ابنِ انشا
تیرے یہ کیا جی میں آئی، کھینچ لیے شرما کے ہونٹ
ہم کو زہر پلانے والی، امرت بھی پلوانا ہو

ساون بیتا، بھادوں بیتا، اجڑے اجڑے من کے کھیت
کوئل اب تو کوک اٹھانا، میگھا مینہہ برسانا ہو

ایک ہی صورت، ایک ہی چہرہ، بستی، پربت، جنگل، پینٹھ
اور کسی کے اب کیا ہونگے، چھوڑ ہمیں بھٹکانا ہو

ہم بھی جُھوٹے، تم بھی جُھوٹے، ایک اسی کا سچّا نام
جس سے دیپک جلنا سیکھا، پروانا جل جانا ہو

سیدھے من کو آن دبوچیں، میٹھی باتیں، سُندَر بول
میر، نظیر، کیبر اور انشا، سارا ایک گھرانا ہو
(ابنِ انشا)

متعلقہ تحاریر : ابنِ انشا, اردو شاعری, اردو غزل

5 comments:

  1. بہت خوب جناب

    ReplyDelete
  2. شکریہ شاہ صاحب، اور خوش آمدید بلاگ پر۔

    ReplyDelete
  3. خوب بہت خوب جنابِ اُستادِ مُحترم ۱
    بہت شکریہ

    ReplyDelete