May 30, 2008

خوشامد از سر سید احمد خان

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ اول اول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشامد کرتے ہیں اور اپنی ہر ایک چیز کو اچھا سمجھتے ہیں اور آپ ہی آپ اپنی خوشامد کر کے اپنے دل کو خوش کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اوروں کی خوشامد ہم میں اثر کرنے لگتی ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو خود ہم کو اپنی محبت پیدا ہوتی ہے پھر یہی محبت ہم سے باغی ہو جاتی ہے اور ہمارے بیرونی دشمنوں سے جا ملتی ہے اور جو محبت و مہربانی ہم خود اپنے ساتھ کرتے ہیں وہ ہم خوشامدیوں کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور وہی ہماری محبت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ ان خوشامدیوں پر مہربانی کرنا نہایت حق اور انصاف ہے جو ہماری باتوں کو ایسا سمجھتے ہیں اور انکی ایسی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارا دل ایسا نرم ہو جاتا ہے اور اسی قسم کے پھسلاوے اور فریب میں آ جاتا ہے تو ہماری عقل خوشامدیوں کے عقل و فریب سے اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب ہماری طبیعت پر بالکل غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص کو یہ بات معلوم ہو جاوے کہ خوشامد کا شوق کیسے نالائق اور کمینے سببوں سے پیدا ہوتا ہے تو یقینی خوشامد کی خواہش کرنے والا شخص بھی ویسا ہی نالائق اور کمینہ متصور ہونے لگے گا۔ جبکہ ہم کو کسی ایسے وصف کا شوق پیدا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہے یا ہم ایسا بننا چاہتے ہیں جیسے کہ در حقیقت ہم نہیں ہیں، تب ہم اپنے تئیں خوشامدیوں کے حوالے کرتے ہیں جو اوروں کے اوصاف اور اوروں کی خوبیاں ہم میں لگانے لگتے ہیں۔ گو بسبب اس کمینہ شوق کے اس خوشامدی کی باتیں اچھی لگتی ہوں مگر در حقیقت وہ ہم کو ایسی ہی بد زیب ہیں جیسے کہ دوسرں کہ کپڑے جو ہمارے بدن پر کسی طرح ٹھیک نہیں (اس بات سے ہم اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسرے کے اوصاف اپنے میں سمجھنے لگیں، یہ بات کہیں عمدہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو درست کریں اور سچ مچ وہ اوصاف خود اپنے میں پیدا کریں، اور بعوض جھوٹی نقل بننے کے خود ایک اچھی اصل ہو جاویں) کیونکہ ہر قسم کی طبیعتیں جو انسان رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک تیز مزاج اور چست چالاک آدمی اپنے موقع پر ایسا ہی مفید ہوتا ہے جیسے کہ ایک رونی صورت کا چپ چاپ آدمی اپنے موقع پر۔
سر سّد احمد خان، Sir Syyed Ahmed Khan, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
سر سّد احمد خان، Sir Syyed Ahmed Khan
خودی جو انسان کو برباد کرنے کی چیز ہے جب چپ چاپ سوئی ہوئی ہوتی ہے تو خوشامد اس کو جگاتی اور ابھارتی ہے اور جس چیز کی خوشامد کی جاتی ہے اس میں چھچھورے پن کی کافی لیاقت پیدا کر دیتی ہے، مگر یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ جسطرح خوشامد ایک بد تر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب چیز ہے۔ جسطرح کے لائق شاعر دوسروں کی تعریف کرتے ہیں کہ ان اشعار سے ان لوگوں کا نام باقی رہتا ہے جنکی وہ تعریف کرتے ہیں اور شاعری کی خوبی سے خود ان شاعروں کا نام بھی دنیا میں باقی رہتا ہے۔ دونوں شخص ہوتے ہیں، ایک اپنی لیاقت کے سبب سے اور دوسرا اس لیاقت کو تمیز کرنے کے سبب سے۔ مگر لیاقت شاعری کی یہ ہے کہ وہ نہایت بڑے استاد مصور کی مانند ہو کہ وہ اصل صورت اور رنگ اور خال و خط کو بھی قائم رکھتا ہے اور پھر بھی تصویر ایسی بناتا ہے کہ خوش نما معلوم ہو۔ ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہی ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جسکی تعریف کرتے ہیں اسکے اوصاف ایسے جھوٹے اور نا ممکن بیان کرتے ہیں جن کہ سبب سے وہ تعریف، تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہو جاتے ہیں۔ ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے تو اسکا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیز بو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ فیاض آدمی کو بد نامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی ہی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجہ سے اوپر ہیں انہیں لوگوں پر اسکا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 28, 2008

غالب کی ایک خوبصورت فارسی غزل مع منظوم تراجم - ز من گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا

غالب کی مندرجہ ذیل غزل صوفی تبسم کے پنجابی ترجمے اور غلام علی کی گائیکی کی وجہ سے شہرہ آفاق مقبولیت حاصل کر چکی ہے اور میری بھی پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ہے۔

شعرِ غالب
ز من گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا

اردو ترجمہ خواجہ حمید یزدانی
میں تیرے انتظار میں ہوں، اگر تجھے اس کا یقین نہیں ہے تو آ اور دیکھ لے۔ اس ضمن میں بہانے مت تلاش کر، بے شک لڑنے جھگڑنے کا طور اپنا کر آ۔

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
میرے شوق دا نیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا
اینویں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کی تو سوچنا ایں سِتمگار آ جا

منظوم اردو ترجمہ صوفی تبسم
دکھا نہ اتنا خدا را تو انتظار آ جا
نہ ہو ملاپ تو لڑنے کو ایک بار آ جا

منظوم ترجمہ چوہدری نبی احمد باجوہ
نہیں جو مانتے تم میرا انتظار آؤ
بہانہ جو نہ بنو، ہاں ستیزہ کار آؤ


منظوم ترجمہ اردو افتخار احمد عدنی
تجھے ہے وہم، نہیں مجھ کو انتظار آجا
بہانہ چھوڑ، مری جاں ستیزہ کار آجا


انگلش ترجمہ پروفیسر رالف رسل
You cannot think my life is spent in waiting? Well then, come
Seek no excuses; arm yourself for battle and then come
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, مرزا غالب, Mirza Ghalib
مرزا غالب, Mirza Ghalib
شعرِ غالب
بہ یک دو شیوہ ستم دل نمی شوَد خرسند
بہ مرگِ من، کہ بہ سامانِ روزگار بیا


یزدانی
میرا دل تیرے دو ایک اندازِ ستم سے خوش نہیں ہوتا، تجھے میری موت کی قسم تو اس سلسلے میں زمانے بھر کا سامان لے کر آ۔


باجوہ
ستم کی اک دو ادا سے نہیں یہ دل خورسند
بلا ہو، موت ہو، آشوبِ روزگار آؤ


عدنی
جفا میں بخل نہ کر، میرے دل کی وسعت دیکھ
ستم کی فوج لیے مثلِ روز گار آجا


رسل
These meager modes of cruelty bring me no joy. By God
Bring all the age’s armoury to use on me, and come


شعرِ غالب
بہانہ جوست در الزامِ مدّعی شوقَت
یکے بَرَغمِ دلِ نا امیدوار بیا


یزدانی
ہمارا دل تیرے عشق میں رقیب پر الزام دھرنے کے بہانے سوچتا رہتا ہے یعنی یہ کہ رقیب تجھے ہماری طرف نہیں آنے دیتا، تو کبھی یا ذرا ہمارے اس نا امید دل کی اس سوچ کے برعکس آ۔


باجوہ
تمھارے شوق کو الزامِ مدعی کا ہےعذر
کبھی بَرَغمِ دلِ نا امیدوار آؤ


شعرِ غالب
ہلاکِ شیوۂ تمکیں مخواہ مستاں را
عناں گسستہ تر از بادِ نو بہار بیا


یزدانی
تو اپنے مستوں یعنی عاشقوں کیلیے یہ مت چاہ یا پسند کر کے وہ تیرے شیوہء تمکیں (دبدبہء غرورِ حسن) کے نتیجے میں‌ ہلاک ہو جائیں، تو نو بہار کی ہوا سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آ۔


باجوہ
ہلاکِ شیوۂ تمکیں نہ کیجیے مستوں کو
عناں گسستہ مرے ابرِ نو بہار آؤ


عدنی
ہلاک شیوۂ تمکیں سے کر نہ مستوں کو
حجاب چھوڑ کر اے بادِ نو بہار آجا


Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Sufi Ghulam Mustafa Tabassum, صوفی غلام مصطفی تبسم
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم, Sufi Tabassum
رسل
Why seek to slay your lovers by your awesome majesty
Be even more unbridled than the breeze of spring, and come


شعرِ غالب
ز ما گسستی و با دیگراں گرو بستی
بیا کہ عہدِ وفا نیست استوار بیا


یزدانی
تو نے ہم سے تو پیمانِ وفا توڑ لیا اور دوسروں یعنی رقیبوں کے ساتھ یہ عہد باندھ لیا۔ آ، تو ہماری طرف آ کیونکہ عہدِ وفا کوئی محکم عہد نہیں‌ ہے۔


باجوہ
جو ہم سے کٹ کے بندھا غیر سے ہے عہد نیا
جہاں میں عہدِ وفا کب ہے استوار آؤ


عدنی
جو تو نے غیر سے باندھا اسے بھی توڑ صنم
ہوا ہے عہدِ وفا کب سے استوار آ جا


رسل
You broke with me, and now you pledge yourself to other men
But come, the pledge of loyalty is never kept. So come


شعرِ غالب
وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد
ہزار بار بَرَو، صد ہزار بار بیا


یزدانی
فراق اور وصل دونوں میں اپنی اپنی ایک لذت ہے، تو ہزار بار جا اور لاکھ بار آ۔


تبسم پنجابی
بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووئے ،وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نے
میرے سوہنیا جا ہزار واری ،آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا


تبسم اردو
وداع و وصل میں ہیں لذّتیں جداگانہ
ہزار بار تو جا، صد ہزار بار آ جا


باجوہ
جدا جدا ہے وداع اور وصل کی لذّت
ہزار بار اگر جاؤ، لاکھ بار آؤ


عدنی
وداع و وصل ہیں دونوں کی لذّتیں اپنی
ہزار بار جدا ہو کے لاکھ بار آجا


Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, افتخار احمد عدنی, Iftikhar Ahmed Adani
افتخار احمد عدنی, Iftikhar Ahmed Adani
رسل
Parting and meeting - each of them has its distinctive joy
Leave me a hundred times; turn back a thousand times, and come


شعرِ غالب
تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست
جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا


یزدانی
تو ایک بھولے بھالے بچے کی طرح ہے اور رقیب تجھے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہا ہے، سو اگر تو ہمارا جنازہ نہیں دیکھ سکا تو کم از کم ہمارے مزار پر ہی آ جا۔


تبسم پنجابی
تُو سادہ تے تیرا دل سادہ ،تینوں ایویں رقیب کُراہ پایا
جے تو میرے جنازے تے نیں آیا، راہ تکدا اے تیری مزار آ جا


تبسم اردو
تو سادہ دل ہے بہت اور رقیب بد آموز
نہ وقتِ مرگ گر آیا، سرِ مزار آ جا


باجوہ
ہو تم تو سادہ مگر ہمنشیں ہے بد آموز
جنازہ مل نہ سکے گا، سرِ مزار آؤ


شعرِ غالب
فریب خوردۂ نازَم، چہا نمی خواہَم
یکے بہ پُرسَشِ جانِ امیدوار بیا


یزدانی
میں ناز و ادا کا فریب خوردہ یعنی مارا ہوا ہوں، میں‌ کیا کیا نہیں چاہتا، یعنی میری بہت سی آرزوئیں ہیں، تو ہماری امیدوار جان کا حال احوال تو پوچھنے آ۔


باجوہ
فریب خوردہ ہوں میں ناز کا اسے چھوڑو
برائے پرسشِ جانِ امیدوار آؤ


شعرِ غالب
ز خوئے تُست نہادِ شکیب نازک تر
بیا کہ دست و دِلَم می رَوَد ز کار بیا


یزدانی
تیری نزاکت طبع کے ہاتھوں ہمارے صبر کی بنیاد بہت ہی نازک ہوگئی ہے، تو آ کہ تیرے اس رویے کے باعث میرا دست و دل بیکار ہو کر رہ گئے ہیں۔


باجوہ
تمھاری خو سے سرشتِ شکیب نازک ہے
چلا میں، صبر کا دامن ہے تار تار آؤ


شعرِ غالب
رواجِ صومعہ ہستیست، زینہار مَرَو
متاعِ میکدہ مستیست، ہوشیار بیا


یزدانی
خانقاہوں میں غرور و تکبر کا رواج ہے، دیکھیو ادھر مت جائیو، جبکہ میکدہ کی دولت و سرمایہ مستی ہے، وہاں ذرا چوکنا ہو کر آجا۔


تبسم پنجابی
ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ،اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نے
میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نے ،ہوش کر، بن کے ہوشیار آ جا


تبسم اردو
رواجِ صومعہ ہستی ہے واں نہ جا ہر گز
متاعِ میکدہ مستی ہے بے شمار آ جا


باجوہ
رواجِ صومعہ ہستی ہے مت ادھر جاؤ
متاعِ میکدہ مستی ہے، ہوشیار آؤ


عدنی
رواجِ صومعہ، ہستی ہے، اس طرف مت جا
متاعِ میکدہ مستی ہے، ہوشیار آجا


Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Ralph Russell, رالف رسل
رالف رسل, Ralph Russell
رسل
The mosque is all awareness. Mind you never go that way
The tavern is all ecstasy. So be aware, and come


شعر غالب
حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب
چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا


یزدانی
اے غالب اگر تجھے کسی عافیت کے قلعے کی خواہش ہے تو ہماری طرح رندانِ خاکسار کے حلقہ میں آ جا۔


تبسم پنجابی
سُکھیں وسنا جے تُوں چاہونا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر
آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا، ایتھے بیٹھ دے نے خاکسار آ جا


تبسم اردو
حصارِ امن اگر چاہیے تجھے غالب
درونِ حلقۂ رندانِ خاکسار آ جا


باجوہ
حصار امن کی خواہش ہے گر تمھیں غالب
اِدھر ہے حلقۂ رندانِ خاکسار آؤ


عدنی
حصارِ امن کی خواہش ہے گر تجھے غالب
میانِ حلقۂ رندانِ خاکسار آجا


رسل
If you desire a refuge, Ghalib, there to dwell secure
Find it within the circle of us reckless ones, and come
——–


بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع


افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن میں فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)


اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)


تقطیع -
ز من گرت نہ بود باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا


ز من گَرَت - مفاعلن - 2121
نہ بوَد با - فعلاتن - 2211
وَ رنتظا - مفاعلن - 2121 (الف وصل استعمال ہوا ہے)
ر بیا - فَعِلن - 211


بہانَ جو - مفاعلن - 2121
ء مبا شو - فعلاتن - 2211
ستیزَ کا - مفاعلن - 2121
ر بیا - فَعِلن - 211

----


اور یہ غزل غلام علی کی آواز میں




مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 26, 2008

امیر خسرو کی ایک غزل - ابر می بارَد و من می شَوَم از یار جدا

شعرِ خسرو
ابر می بارَد و من می شَوَم از یار جدا
چوں کنَم دل بہ چنیں روز ز دلدار جدا
ترجمہ
برسات کا موسم ہے اور میں اپنے دوست سے جدا ہو رہا ہوں، ایسے (شاندار) دن میں، میں کسطرح اپنے دل کو دلدار سے جدا کروں۔
منظوم ترجمہ مسعود قریشی
ابر روتا ہے، ہُوا مجھ سے مرا یار جدا
دل سے ایسے میں کروں کیسے مَیں دلدار جدا
شعرِ خسرو
ابر باران و من و یار ستادہ بوداع
من جدا گریہ کناں، ابر جدا، یار جدا
ترجمہ
برسات جاری ہے، میں اور میرا یار جدا ہونے کو کھڑے ہیں، میں علیحدہ گریہ و فریاد کر رہا ہوں، باراں علیحدہ برس رہی ہے، اور یار علیحدہ رو رہا ہے۔
قریشی
ابر برسے ہے، جدائی کی گھڑی ہے سر پر
میں جدا روتا ہوں اور ابر جدا، یار جدا
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Mazar Amir Khusro, مزار امیر خسرو
مزار خسرو رح، دہلی انڈیا, Mazar Amir Khusro
شعرِ خسرو
سبزہ نوخیز و ہوا خرم و بستان سرسبز
بلبلِ روئے سیہ ماندہ ز گلزار جدا
ترجمہ
تازہ تازہ اگا ہوا سبزہ اور دل خوش کرنے والی ہوا اور سرسبز باغ ہے، اور ایسے میں سیاہ چہرے والی بد قسمت بلبل گلزار سے جدا ہونے کو ہے
قریشی
سبزہ نوخیز، ہوا شاد، گلستاں سرسبز
کیا قیامت ہے کہ بلبل سے ہے گلزار جدا
شعرِ خسرو
اے مرا در تہ ہر موی بہ زلفت بندے
چہ کنی بند ز بندم ہمہ یکبار جدا
ترجمہ
اے میرے محبوب تو نے مجھکو اپنی زلف کے ہر بال کی تہ کے نیچے باندھ لیا ہے، تو کیا باندھے گا جب تو مجھے یکبار ہی اس بند سے جدا کردے گا۔
شعرِ خسرو
دیدہ از بہر تو خونبار شد، اے مردم چشم
مردمی کن، مشو از دیدہء خونبار جدا
ترجمہ
اے آنکھ، میری آنکھ کی پتلی تیرے لیے پہلے ہی خونبار ہو گئی ہے، مہربانی کر اب تو ان خون بہانے والی آنکھوں سے جدا نہ ہونا۔
شعرِ خسرو
نعمتِ دیدہ نخواہم کہ بماند پس ازیں
ماندہ چون دیدہ ازان نعمتِ دیدار جدا
ترجمہ
میں نہیں چاہتا کہ اس کے بعد میری آنکھوں کی نعمت دیدار کی نعمت سے جدا رہے۔
قریشی
نعمتِ چشم ہے میرے لئے سامانِ عذاب
گر مری آنکھ سے ہو نعمتِ دیدار جدا
شعرِ خسرو
حسنِ تو دیر نپاید چو ز خسرو رفتی
گل بسے دیر نماند چو شد از خار جدا
ترجمہ
اے محبوب تیرا حسن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا، جب تو خسرو کے پاس سے چلا گیا کہ جب کوئی پھول کانٹے سے دور ہو جاتا ہے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا۔
قریشی
ہو کے خسرو سے جدا، حسن رہے گا نہ ترا
کب بقا پھول کو ہے، اس سے ہو جب خار جدا
——–
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)۔
تقطیع -
ابر می بارَد و من می شَوَم از یار جدا
چوں کنَم دل بہ چنیں روز ز دلدار جدا
ابر می با - فاعلاتن - 2212
رَ دَ من می - فعلاتن - 2211
شَ وَ مز یا - فعلاتن - 2211 (الف وصل استعمال ہوا ہے)
ر جدا - فَعِلن - 211
چو کنم دل - فاعلاتن - 2212
بَ چنی رو - فعلاتن - 2211
ز ز دلدا - فعلاتن - 2211
ر جدا - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 23, 2008

پاکستان سپیکٹیٹر پر میرا انٹرویو

دی پاکستان سپیکٹیٹر کی محترمہ غزالہ خان نے کچھ دن پہلے یہاں میرے انٹرویو کی بات کی تھی، میں نے انہیں لکھا کہ میں تو بلاگنگ کی دنیا میں بالکل نووارد ہوں اور ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں بلاگ لکھتے ہوئے، اسلیئے ایک دفعہ پھر دیکھ لیجیئے کہ میں انٹرویو کے قابل ہوں بھی یا نہیں۔
بہرحال انہوں نے سوالات مجھے بھیج دیئے جن کے جواب میں نے بھی لکھ بھیجے، اور کل یہ انٹرویو چھپ گیا، جسے اس ربط پر پڑھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 21, 2008

پنجابی غزل طارق عزیز - گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے

گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے
ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے

میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی
ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے

جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا
تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
Tariq Aziz, طارق عزیز، Punjabi Poetry, پنجابی شاعری
Tariq Aziz, طارق عزیز
ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے
نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے

ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
تے حکم عالی جناب کیہ اے

(طارق عزیز ۔ ہمزاد دا دُکھ)
مزید پڑھیے۔۔۔۔

مختصر نظماں - منیر نیازی

اِک موقعے تےایڈیاں دَردی اکھاں دے وچ
ہنجو بھرن نہ دیواں
وَس چلے تے ایس جہان وچ
کسے نوں مرن نہ دیواں

ہوا نال ٹکراںاُپر قہر خدا میرے دا
ہیٹھاں لکھ بلاواں
سب راہواں تے موت کھلوتی
کیہڑے پاسے جاواں
Munir Niazi, منیر نیازی, Punjab Poetry, پنجابی شاعری
Munir Niazi, منیر نیازی

اک کُڑی
پیار کرن توں کافی پہلے
کنی سوہنی لگدی سی
اپنے مرن توں کافی پہلے
کنی سوہنی لگدی سی

شہر دے مکاناپنے ای ڈر توں
جُڑے ہوئے نیں
اک دوجے دے نال
مزید پڑھیے۔۔۔۔

چار چپ چیزاں - منیر نیازی

بربر، جنگل، دشت، سمندر، سوچاں دے پہاڑ
جیہڑے شہر دے کول ایہہ ہوون اوس نوں دین وگاڑ
اندروں پاگل کر دیندی اے، ایہناں دی گرم ہواڑ
ایہناں دے نیڑے رہن لئی، بڑی ہمت اے درکار
ایناں دی چُپ دی ہیبت دا کوئی جھل نہ سکدا بھار
Munir Niazi, منیر نیازی, Punjabi Poetry, پنجابی شاعری
Munir Niazi, منیر نیازی


مزید پڑھیے۔۔۔۔

شعر منیر نیازی

بدل اُڈے تے گم اسمان دسیا
پانی اتریا تے اَپنا مکان دسیا
Munir Niazi, منیر نیازی
Munir Niazi, منیر نیازی
اوتھوں اگے فراق دیاں منزلاں سَن
جتھے پہنچ کے تیرا نشان دسیا

کم اوہو منیر سی مشکلاں دا
جہیڑا شروع وچ بہت اسان دسیا
مزید پڑھیے۔۔۔۔

پنجابی غزل واصف علی واصف - ایہہ بن سَن موتی انمول

ایہہ بن سَن موتی انمول
ہنجو سانبھ کے رکھنا کول

شہر دے بُوے کُھل جاون گے
پہلے دِل دا بُوا کھول

جس دے ناں دی ڈھولک وجدی
اوسے یار نوں کہندے ڈھول

جو کِیتا تُوں چنگا کِیتا
دَبّی رہن دے، اَگ نہ پھول
Wasif Ali Wasif, واصف علی واصف
Wasif Ali Wasif, واصف علی واصف

میرے ورگا مل جاوے گا
پہلے اپنے ورگا ٹول

سونے ورگی اے جوانی
اینویں نہ مٹی وِچ رول

اج تے پتھّر وی پُچھدا اے
کیہہ چاہناں ایں واصف بول

(واصف علی واصف - بھرے بھڑولے)
مزید پڑھیے۔۔۔۔

میں اور عمران سیریز کے ناول

“اوئے الو کے پٹھے” ۔۔۔ والد صاحب نے دھاڑتے ہوئے مجھے پکارا۔
“جی، جی۔۔۔۔۔ ابو جی۔۔۔۔۔۔” میں نے کہنے کی کوشش کی، مگر جیسے میری آواز میرے اندر ہی کہیں مر چکی تھی۔
“اوئے تو پھر یہ گھٹیا ناول پڑھ رہا ہے، خبیث۔۔۔۔”
ہوا کچھ یوں تھا، کہ اللہ جنت نصیب کرے، والد صاحب مرحوم نے محلے کی ساتھ والی گلی میں ایک گھر کے باہر بیٹھے ہوئے مجھے عمران سیریز کا ناول پڑھتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔
اس سے پہلے والد صاحب، گھر میں مجھے کئی بار منع کرچکے تھے بلکہ پٹائی ہوتے ہوتے بچی تھی، اسکا حل میں نے یہ ڈھونڈا ہوا تھا کہ محلے کی ایک ایسی گلی میں کسی کے گھر کے باہر بیٹھ کر میں ناول پڑھا کرتا تھا جسکے بارے میں مجھے پورا یقین تھا کہ والد صاحب ادھر نہیں آئیں گے، لیکن اس دن میری قسمت خراب تھی کہ چھاپہ پڑگیا۔
والد صاحب کے صبر کی یہ شاید آخری حد تھی، انہوں نے آؤ، دیکھا نہ تاؤ، زناٹے کا ایک تھپڑ میرے گال پر جڑ دیا، مجھے بازو سے پکڑا اور سیدھے اس دکاندار کے پاس لے گئے جس سے میں عمران سیریز کے ناول کرائے پر لیکر پڑھا کرتا تھا۔ وہ دکاندار والد صاحب کا شناسا تھا اس نے فوری حامی بھر لی کے آئندہ سے مجھے ناول نہیں دے گا۔
یوں تو جنوں، پریوں، عمرو عیار اور کسی حد تک اشفاق کی انسپکڑ سیریز میں بڑے شوق سے پڑھا کرتا تھا لیکن جب سے عمران سیریز میرے ہاتھ لگی تھی، میرا اوڑھنا، بچھونا یہی ناول تھے، اور تو اور میں کرکٹ کھیلنا بھی بھول چکا تھا۔
ہمارے محلے میں ایک دودھ، دہی اور چائے والے کی دکان تھی، وہ کئی بھائی تھے اور سبھی ناولوں اور جاسوسی ڈائجسٹوں کے رسیا تھے، اول اول تو ڈائجسٹوں کی طرف میں نے دھیان نہیں کیا لیکن ایک دن میں نے ایک سائیڈ پر پڑا ناول اٹھالیا۔ ایسے ہی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے وہ بہت اچھا لگا، پہلے تھوڑا سا پڑا، اور اگلے دن اس سے مانگ کر پورا پڑھ ڈالا۔ وہ مظہر کلیم کا کوئی ناول تھا۔ اب میری روٹین بن گئی تھی کہ میں اس دکان پر جاتا اور انکے نئے ناول لانے کا انتظار کرتا، وہ سارے بھائی باری باری اسے پڑھتے اسلئے مجھے کافی انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن جس کہانی کے دو حصے ہوتے تھے اس میں میری “موجیں” ہوجاتی تھیں جتنی دیر میں وہ پہلا حصہ پڑھتے میں دوسرا حصہ ختم کرچکا ہوتا اور پہلا حصہ بعد میں پڑھتا۔
شوق بڑھا اور میں نے کتابیں کرایے پر دینے والی دکان تک رسائی حاصل کرلی، والد صاحب نے گھر میں جب میرے ہاتھ میں ناول دیکھا تو آگ بگولہ ہوگئے، دراصل سرورق پر بنی ہوئی خوبصورت اور سٹائلش لڑکیوں کی تصویریں انہیں کھل گئی تھیں، انہوں نے مری والدہ سے کہا کہ یہ بیہودہ اور فخش ناول پڑھنے لگ گیا ہے اس پر نظر رکھو۔ کھلے بندھوں ناول پڑھنے بند ہوئے تو میں نے، چھپ چھپ کر ناول پڑھنے شروع کردیے، کبھی چھت پھر، کبھی اس وقت جب دوپہر کو سب سوئے ہوتے تھے، رات کی تنہائی میں اسکول کے کام کا بہانہ کرکے اور دیر تک جاگ کر۔
لیکن بھلا عشق و مشک بھی چھپتی ہے، والدہ ہر بار کبھی بستر کی چادر کے نیچے سے، کبھی اسکول کی کتابوں کے ڈھیر سے ناول برآمد کرہی لیتی تھیں۔ کچھ عرصہ، تو میری منت سماجت پر انہوں نے والد صاحب کو کچھ نہ بتایا۔ لیکن کب تلک بھلا، وہ خود متفکر تھیں جب انہوں نے دیکھا کہ یہ باز نہیں آرہا تو بتادیا۔
اب گھر میں میرے لیے ناول پڑھنے ناممکن ہوچکے تھے، اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ محلے کی گلیوں میں بیٹھ کر پڑھنا شروع کردیا، وہاں سے تھپڑ کھا کر اٹھا تو ذہن نے ایک اور حل سوچا۔
میں گھر میں امی سے کہہ کر جاتا کہ کرکٹ کھیلنے جا رہا ہوں، اور سیدھا پہنچ جاتا ساتھ والے محلے کی ایک دکان پر۔ اسے میں نے کہا کہ مجھے یہاں بیٹھ کر پڑھنے دو تمھارا کیا جائے گا، الٹا چوبیس گھنٹے کی بجائے ناول فورا مل جایا کرے گا، وہ مان گیا اور مجھے یوں لگا کہ مجھے جنت مل گئی ہو، میں وہاں گھنٹوں بیٹھ کر ناول پر ناول پڑھتا ہی چلا جاتا، اسکی دکان میں مظہر کلیم کے جتنے ناول تھے شاید میں نے سارے پڑھ ڈالے تھے۔ مسلسل پڑھنے سے میری آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں اور ان میں سے پانی بہنا شروع ہوجاتا تھا لیکن میں تھا کہ بس مخمور تھا۔ اسکا ایک ضمنی فائدہ یہ ہوا، کہ میری پڑھنے کی رفتار کافی بڑھ گئی تھی، کیونکہ ایک فکر یہ بھی ہوتی تھی کہ گھر واپس جانا ہے اور ناول بھی ختم کرنا ہے۔
ایک وقت آیا کہ میں کالج پہنچ گیا، اب والد صاحب کی سختی بھی کچھ کم ہوچکی تھی اور میری آزادی بھی بڑھ چکی تھی سو کھلے بندھوں بھی پڑھتا اور کالج میں بھی عین ریاضی کی کلاس میں پچھلے بنچوں پر بیٹھ کر۔ وہ ہماری بور ترین کلاس ہوتی تھی، ٹیچر کو سب “پیار” سے “چُوچا” کہتے تھے کہ اسکی ہیتِ کذائی ہی کچھ ایسی تھی۔ اوپر سے ریاضی اور وہ بھی “چُوچے” کے ہاتھوں، نیند اور انگڑائیوں کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا تھا، بس عمران سیریز نے پورے دو سال ساتھ نبھایا۔
شاید والدِ مرحوم اپنے نقطہ نظر سے صحیح کہتے تھے، لیکن عمران سیریز کا ایک بھوت تھا جو سر پر سوار تھا، وہ عمران کی مزے مزے کی باتیں، وہ جولیانا کو چھیڑنا، وہ جوزف اور جوانا کی طاقتیں، وہ ایکس ٹو کا کردار، وہ جذباتی مناظر، وہ عمران کا اسرائیل کے منصوبوں کو تباہ کرنا، وہ نئی نئی ایجادیں، وہ مخالف تنظیموں کے باسز کی بوکھلاہٹیں، کتنے مصالحے تھے ان ناولوں میں جنہوں نے ایک عمر تک مجھے مسحور کئے رکھا۔
خیر وہ زمانہ بہت پیچھے رہ گیا اب، لیکن یہ حقیقت کہ اب بھی دیر رات گئے جب میرا ذہن کوئی ادق کتاب پڑھتے پڑھتے ماؤف ہوجاتا ہے تو میں مٹی سے اٹے ہوئے عمران سیریز کے وہ چند ناول نکال لیتا ہوں جو ایک مدت سے میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

رسم و رواج از سر سید احمد خان

جو لوگ کہ حسنِ معاشرت اور تہذیبِ اخلاق و شائستگیِ عادات پر بحث کرتے ہیں ان کے لئے کسی ملک یا قوم کے کسی رسم و رواج کو اچھا اور کسی کو برا ٹھہرانا نہایت مشکل کام ہے۔ ہر ایک قوم اپنے ملک کے رسم و رواج کو پسند کرتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے کیونکہ جن باتوں کی چُھٹپن سے عادت اور موانست ہو جاتی ہے وہی دل کو بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر ہم اسی پر اکتفا کریں تو اسکے معنی یہ ہو جاویں گے کہ بھلائی اور برائی حقیقت میں کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف عادت پر موقوف ہے، جس چیز کا رواج ہو گیا اور عادت پڑ گئی وہی اچھی ہے اور جس کا رواج نہ ہوا اور عادت نہ پڑی وہی بری ہے۔

مگر یہ بات صحیح نہیں۔ بھلائی اور برائی فی نفسہ مستقل چیز ہے، رسم و رواج سے البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ کوئی اسکے کرنے پر نام نہیں دھرتا، عیب نہیں لگاتا کونکہ سب کے سب اس کو کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے وہ چیز اگر فی نفسہ بری ہے تو اچھی نہیں ہو جاتی۔ پس ہم کو صرف اپنے ملک یا اپنی قوم کی رسومات کے اچھے ہونے پر بھروسہ کر لینا نہ چاہیئے بلکہ نہایت آزادی اور نیک دلی سے اس کی اصلیت کا امتحان کرنا چاہیئے تا کہ اگر ہم میں کوئی ایسی بات ہو جو حقیقت میں بد ہو اور بسب رسم و رواج کے ہم کو اسکی بدی خیال میں نہ آتی ہو تو معلوم ہو جاوے اور وہ بدی ہمارے ملک یا قوم سے جاتی رہے۔

البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر گاہ معیوب ہونا اور غیر معیوب ہونا کسی بات کا زیادہ تر اس کے رواج و عدم رواج پر منحصر ہو گیا ہے تو ہم کس طرح کسی امیر کے رسم و رواج کو اچھا یا برا قرار دے سکیں گے، بلاشبہ یہ بات کسی قدر مشکل ہے مگر جبکہ یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ بھلائی یا برائی فی نفسہ بھی کوئی چیز ہے تو ضرور ہر بات کی فی الحقیقت بھلائی یا برائی قرار دینے کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ ہوگا۔ پس ہم کو اس طریقہ کے تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی رسوم و عادات کو بھلائی یا برائی قرار دینے کی پیروی کرنی چاہیئے۔

سر سیّد احمد خان، Sir Syyed Ahmed Khan, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
سر سیّد احمد خان، Sir Syyed Ahmed Khan
سب سے مقدم اور سب سے ضروری امر اس کام کے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو تعصبات سے اور ان تاریک خیالوں سے جو انسان کو سچی بات کے سننے اور کرنے سے روکتے ہیں خالی کریں اور اس دلی نیکی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھی ہے ہر ایک بات کی بھلائی یا برائی دریافت کرنے پر متوجہ ہوں۔
یہ بات ہم کو اپنی قوم اور اپنے ملک اور دوسری قوم اور دوسرے ملک دونوں کے رسم و رواج کے ساتھ برتنی چاہیئے تا کہ جو رسم و عادت ہم میں بھلی ہے اس پر مستحکم رہیں اور جو ہم میں بری ہے اسکے چھوڑنے پر کوشش کریں اور جو رسم و عادت دوسروں میں اچھی ہے اس کو بلا تعصب اختیار کریں اور جو ان میں بری ہے اسکے اختیار کرنے سے بچتے رہیں۔

جبکہ ہم غور کرتے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں میں جو رسوم و عادات مروج ہیں انہوں نے کس طرح ان قوموں میں رواج پایا ہے تو باوجود مختلف ہونے ان رسوم و عادات کے ان کا مبدا اور منشا متحد معلوم ہوتا ہے۔
کچھ شبہ نہیں ہے کہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں انکا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا ان اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورت تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی ہے یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہو گئی ہے۔ یا انسان کی حالتِ ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ پس ظاہراً یہی چار سبب ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں رسوم و عادات کے مروج ہونے کا مبدا معلوم ہوتے ہیں۔

جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں انکے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے انکو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں مگر انکے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں اور لندن میں سردی کے سبب انسان کو آگ سے گرم ہونے کی ضرورت ہے پس آگ کا استعمال ایک نہایت سچی اور صحیح عادت دونوں ملکوں کی قوموں میں ہے مگر اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آگ کے استعمال کے لئے یہ بات بہتر ہے کہ مکانات میں ہندی قواعد سے آتش خانہ بنا کر آگ کی گرمی سے فائدہ اٹھاویں یا مٹی کی کانگڑیوں میں آگ جلا کر گردن میں لٹکائے پھریں جس سے گورا گورا پیٹ اور سینہ کالا اور بھونڈا ہو جائے۔

طریقِ تمدن و معاشرت روز بروز انسانوں میں ترقی پاتا جاتا ہے اور اس لئے ضرور ہے کہ ہماری رسمیں و عادتیں جو بضرورتِ تمدن و معاشرت مروج ہوئی تھیں ان میں بھی روز بروز ترقی ہوتی جائے اور اگر ہم ان پہلی ہی رسموں اور عادتوں کے پابند رہیں اور کچھ ترقی نہ کریں تو بلا شبہ بمقابل ان قوموں کے جنہوں نے ترقی کی ہے ہم ذلیل اور خوار ہونگے اور مثل جانور کے خیال کئے جاویں گے، پھر خواہ اس نام سے ہم برا مانیں یا نہ مانیں، انصاف کا مقام ہے کہ جب ہم اپنے سے کمتر اور ناتربیت یافتہ قوموں کو ذلیل اور حقیر مثل جانور کے خیال کرتے ہیں تو جو قومیں کہ ہم سے زیادہ شایستہ و تربیت یافتہ ہیں اگر وہ بھی ہم کو اسی طرح حقیر اور ذلیل مثل جانور کے سمجھیں تو ہم کو کیا مقامِ شکایت ہے؟ ہاں اگر ہم کو غیرت ہے تو ہم کو اس حالت سے نکلنا اور اپنی قوم کو نکالنا چاہیئے۔

دوسری قوموں کی رسومات کا اختیار کرنا اگرچہ بے تعصبی اور دانائی کی دلیل ہے مگر جب وہ رسمیں اندھے پن سے صرف تقلیداً بغیر سمجھے بوجھے اختیار کی جاتی ہیں تو کافی ثبوت نادانی اور حماقت کا ہوتی ہیں۔ دوسری قوموں کی رسومات اختیار کرنے میں اگر ہم دانائی اور ہوشیاری سے کام کریں تو اس قوم سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لئے کہ ہم کو اس رسم سے تو موانست نہیں ہوتی اور اس سبب سے اسکی حقیقی بھلائی یا برائی پر غور کرنے کا بشرطیکہ ہم تعصب کو کام میں نہ لاویں بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ اس قوم کے حالات دیکھنے سے جس میں وہ رسم جاری ہے ہم کو بہت عمدہ مثالیں سینکڑوں برس کے تجربہ کی ملتی ہیں جو اس رسم کے اچھے یا برے ہونیکا قطعی تصفیہ کر دیتی ہیں۔

مگر یہ بات اکثر جگہ موجود ہے کہ ایک قوم کی رسمیں دوسری قوم میں بسبب اختلاط اور ملاپ کے اور بغیر قصد و ارادہ کے اور انکی بھلائی اور برائی پر غور و فکر کرنیکے بغیر داخل ہو گئی ہیں جیسے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بالتخصیص حال ہے کہ تمام معاملاتِ زندگی بلکہ بعض اموراتِ مذہبی میں بھی ہزاروں رسمیں غیر قوموں کی بلا غور و فکر اختیار کر لی ہیں، یا کوئی نئی رسم مشابہ اس قوم کی رسم کے ایجاد کر لی ہے مگر جب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے طریقِ معاشرت اور تمدن کو اعلیٰ درجہ کی تہذیب پر پہنچا دیں تا کہ جو قومیں ہم سے زیادہ مہذب ہیں وہ ہم کو بنظرِ حقارت نہ دیکھیں تو ہمارا فرض ہے ہم اپنی تمام رسوم و عادات کو بنظر تحقیق دیکھیں اور جو بری ہوں ان کو چھوڑیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں ان میں اصلاح کریں۔

جو رسومات کے بسبب حالتِ ترقی یا تنزل کسی قوم کے پیدا ہوتی ہیں وہ رسمیں ٹھیک ٹھیک اس قوم کی ترقی اور تنزل یا عزت اور ذلت کی نشانی ہوتی ہیں۔

اس مقام پر ہم نے لفظ ترقی یا تنزل کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے اور تمام قسم کے حالاتِ ترقی و تنزل مراد لئے ہیں خواہ وہ ترقی و تنزل اخلاق سے متعلق ہو خواہ علوم و فنون اور طریقِ معاشرت و تمدن سے اور خواہ ملک و دولت و جاہ و حشمت سے۔

بلاشبہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں نکلنے کی جس کی تمام رسمیں اور عادتیں عیب اور نقصان سے خالی ہوں مگر اتنا فرق بیشک کہ بعضی قوموں میں ایسی رسومات اور عادات جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہوں، کم ہیں، اور بعضی میں زیادہ، اور اسی وجہ سے وہ پہلی قوم پچھلی قوم سے اعلیٰ اور معزز ہے۔ اور بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے انسان کی حالتِ ترقی کو نہایت اعلیٰ درجہ تک پہنچایا ہے اور اس حالتِ انسانی کی ترقی نے ان کے نقصانوں کو چُھپا لیا ہے جیسے ایک نہایت عمدہ و نفیس شیریں دریا تھوڑے سے گدلے اور کھاری پانی کو چھپا لیتا ہے یا ایک نہایت لطیف شربت کا بھرا ہوا پیالہ نیبو کی کھٹی دو بوندوں سے زیادہ تر لطیف اور خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہی قومیں جو اب دنیا میں “سویلائزڈ” یعنی مہذب گنی جاتی ہیں اور در حقیقت اس لقب کی مستحق بھی ہیں۔

میری دلسوزی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ساتھ اسی وجہ سے ہے کہ میری دانست میں ہم مسلمانوں میں بہت سے رسمیں جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہیں مروج ہو گئی ہیں جن میں ہزاروں ہمارے پاک مذہب کے بھی بر خلاف ہیں اور انسانیت کے بھی مخالف ہیں اور تہذیب و تربیت و شایستگی کے بھی بر عکس ہیں اور اس لئے میں ضرور سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگ تعصب اور ضد اور نفسانیت کو چھوڑ کر ان بری رسموں اور بد عادتوں کے چھوڑنے پر مائل ہوں اور جیسا کہ ان کا پاک اور روشن ہزاروں حکمتوں سے بھرا ہوا مذہب ہے اسی طرح اپنی رسوماتِ معاشرت و تمدن کو بھی عمدہ اور پاک و صاف کریں اور جو کچھ نقصانات اس میں ہیں گو وہ کسی وجہ سے ہوں، ان کو دور کریں۔

اس تجربہ سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ میں اپنے تئیں ان بد عادتوں سے پاک و مبرا سمجھتا ہوں یا اپنے تئیں نمونۂ عاداتِ حسنہ جتاتا ہوں یا خود اِن امور میں مقتدا بننا چاہتا ہوں، حاشا و کلا۔ بلکہ میں بھی ایک فرد انہیں افراد میں سے ہوں جنکی اصلاحِ دلی مقصود ہے بلکہ میرا مقصد صرف متوجہ کرنا اپنے بھائیوں کا اپنی اصلاحِ حال پر ہے اور خدا سے امید ہے کہ جو لوگ اصلاحِ حال پر متوجہ ہونگے، سب سے اول انکا چیلہ اور انکی پیروی کرنے والا میں ہونگا۔ البتہ مثل مخمور کے خراب حالت میں چلا جانا اور روز بروز بدتر درجہ کو پہنچتا جانا اور نہ اپنی عزت کا اور نہ قومی عزت کا خیال و پاس رکھنا اور جھوٹی شیخی اور بیجا غرور میں پڑے رہنا مجھ کو پسند نہیں ہے۔

ہماری قوم کے نیک اور مقدس لوگوں کو کبھی کبھی یہ غلط خیال آتا ہے کہ تہذیب اور حسنِ معاشرت و تمدن صرف دنیاوی امور ہیں جو صرف چند روزہ ہیں، اگر ان میں ناقص ہوئے تو کیا اور کامل ہوئے تو کیا اور اس میں عزت حاصل کی تو کیا اور ذلیل رہے تو کیا، مگر انکی اس رائے میں قصور ہے اور انکی نیک دلی اور سادہ مزاجی اور تقدس نے ان کو اس عام فریب غلطی میں ڈالا ہے۔ جو انکے خیالات ہیں انکی صحت اور اصلیت میں کچھ شبہ نہیں مگر انسان امور متعلق تمدن و معاشرت سے کسی طور علیحدہ نہیں ہو سکتا اور نہ شارع کا مقصود ان تمام امور کو چھوڑنے کا تھا کیونکہ قواعدِ قدرت سے یہ امر غیر ممکن ہے۔ پس اگر ہماری حالتِ تمدن و معاشرت ذلیل اور معیوب حالت پر ہوگی تو اس سے مسلمانوں کی قوم پر عیوب اور ذلت عائد ہوگی اور وہ ذلت صرف ان افراد اور اشخاص پر منحصر نہیں رہتی بلکہ انکے مذہب پر منجر ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلمان یعنی وہ گروہ جو مذہبِ اسلام کا پیرو ہے نہایت ذلیل و خوار ہے۔ پس اس میں در حقیقت ہمارے افعال و عاداتِ قبیحہ سے اسلام کو اور مسلمانی کو ذلت ہوتی ہے۔ پس ہماری دانست میں مسلمانوں کی حسن معاشرت اور خوبیٔ تمدن اور تہذیب اخلاق اور تربیت و شایستگی میں کوشش کرنا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو دنیاوی امور سے جس قدر متعلق ہے اس سے بہت زیادہ معاد سے علاقہ رکھتا ہے اور جس قدر فائدے کی اس سے ہم کو اس دنیا میں توقع ہے اس سے بڑھ کر اُس دنیا میں ہے جس کو کبھی فنا نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 19, 2008

نعرۂ پاکستان کے خالق اصغر سودائی وفات پا گئے

لازوال نعرۂ پاکستان، “پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ” کے خالق پروفیسر اصغر سودائی، 17 مئی کو سیالکوٹ میں چل بسے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیں۔
پروفیسر سودائی نے 1944 میں اپنی طالب علمی کے دور میں تحریک پاکستان کے دوران ایک نظم کہی تھی، ”ترانۂ پاکستان” اور یہ بے مثال مصرع اسی نظم کا ہے۔ آپ سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ یہ مصرع کیسے آپ کے ذہن میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ جب لوگ پوچھتے تھے کہ، مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن پاکستان کا مطلب کیا ہے تو میرے ذہن میں آیا کہ سب کو بتانا چاہیئے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے۔ اور یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان تحریک اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے اور اسی لیئے قائد اعظم نے کہا تھا کہ “تحریکِ پاکستان میں پچیس فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔”
اصغر سودائی 1926 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبۂ تعلیم کو اپنا پیشہ بنایا اور علامہ اقبال کالج، سیالکوٹ کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی تعلیم و ادب کی آبیاری میں گزاری، ایک شعری مجموعہ “چلن صبا کی طرح” یادگار چھوڑا ہے۔
سیالکوٹ، علامہ اقبال چوک میں‌ ایک ریسٹورنٹ ہے، ایمیلیا ہوٹل، یہ یوں سمجھیں کہ لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی طرز کا ریسٹورنٹ ہے کہ جہاں عمعوماً شعرا، صحافی اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات جمع ہوتے ہیں، مرحوم بھی اکثر وہاں آتے تھے اور اپنے ملنے والوں کو تحریک پاکستان، قائد اعظم کے سیالکوٹ کے دورے اور اپنے مصرعے کے متعلق دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے اور اسی وجہ سے لوگ ان کو “تحریک پاکستان کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا” بھی کہتے تھے۔
میں یہ لکھنے میں انتہائی فخر محسوس کر رہا ہوں کہ سیالکوٹ کے علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان، فیض احمد فیض کی طرح پروفیسر اصغر سودائی بھی سیالکوٹ کے ایک ایسے فرزند ہیں کہ سیالکوٹ ان کے نام پر ہمیشہ فخر کرے گا۔
مجھے اصغر سودائی صاحب سے چند بار ملنے کا شرف حاصل رہا ہے، شرافت اور سادگی کا مرقع تھے مرحوم، انتہائی شفقت اور پیار سے ملتے تھے۔ مجھے یاد ہے آخری ملاقات ان سے کچھ سال قبل ہوئی تھی، وہ سیالکوٹ کچہری سے اپنے گھر کی طرف پیدل جا رہے تھے، میں‌ نے ان کو سڑک پر دیکھا تو رک گیا، بہت اصرار کیا کہ میں آپ کو گھر چھوڑ آتا ہوں لیکن نہیں‌ مانے، فقط دعائیں دیتے رہے۔
مجھے ان سے شرفِ تلمیذ تو حاصل نہیں رہا کہ میری کالج کی زندگی سے بہت پہلے وہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے لیکن میں ایسے بزرگوں سے ضرور ملا ہوں جو انکے شاگرد رہ چکے تھے، ان میں‌ سے ایک مغل صاحب تھے، انکی قمیص کا سب سے اوپر والا بٹن ہمیشہ بند رہتا تھا، میں نے ایک دن پوچھ ہی لیا کہ یہ بٹن بھری گرمیوں میں بھی بند رکھتے ہیں، کہنے لگے یہ اصغر سودائی صاحب کی نشانی ہے کہ جب ہمیں‌ پڑھایا کرتے تھے تو کہتے تھے کہ وضع داری کا تقاضہ ہے کہ اساتذہ کے سامنے تمام بٹن بند رکھے جائیں، موحوم خود بھی اس عادت کو نبھاتے رہے اور انکے شاگرد بھی۔
اللہ اللہ، وضع دار بزرگ اس دنیا سے چلے ہی جا رہے ہیں، لیکن جب تک پاکستان کا نام باقی ہے (اور یہ تا قیامت ہے انشاءاللہ) مرحوم اصغر سودائی صاحب کا نام اور ان کا نعرہ “ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ” بھی باقی رہے گا۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 13, 2008

اقبال کی ایک فارسی غزل - فریبِ کشمَکَشِ عقل دیدنی دارَد

فریبِ کشمَکَشِ عقل دیدنی دارَد
کہ میرِ قافلہ و ذوقِ رہزنی دارد
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے کی چیز ہے کہ یہ قافلہ کی امیر ہے لیکن رہزنی کا ذوق رکھتی ہے، یعنی راہنمائی کا دعوٰی کرتی ہے اور غلط راستہ پر ڈالتی ہے۔

نشانِ راہ ز عقلِ ہزار حیلہ مپرس
بیا کہ عشق کمالے ز یک فنی دارد
راستے کا نشان ہزار حیلے بنانے والی عقل سے مت پوچھ۔ آ اور عشق سے پوچھ کہ یہ ایک فن کا کمال رکھتا ہے، یعنی منزل کا نشان اور راستہ عشق ہی بتا سکتا ہے۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
علامہ اقبال, Allama Muhammad Iqbal
فرنگ گرچہ سخن با ستارہ میگویَد
حذر کہ شیوۂ اُو رنگِ جوزنی دارَد
فرنگ اگرچہ ستاروں سے گفتگو رکھتا ہے لیکن اس سے بچو کہ اسکا طریقہ جاودگری کا رنگ رکھتا ہے۔

ز مرگ و زیست چہ پرسی دریں رباطِ کہن
کہ زیست کاہشِ جاں، مرگ جانکنی دارَد
موت اور حیات کے بارے میں کیا پوچھتے ہو کہ اس پرانی سرائے یعنی دنیا میں زندگی، جان کے آہستہ آہستہ گھلنے کا اور موت جسم سے جان کو نکالنے کا نام ہے۔

سرِ مزارِ شہیداں یکے عناں درکش
کہ بے زبانیِ ما حرفِ گفتنی دارد
ہم شہیدوں کے مزار کے پاس ذرا باگ روک کہ ہماری بے زبانی بھی گفتگو کا حرف رکھتی ہے۔

دگر بدشتِ عرب خیمہ زن کہ بزمِ عجم
مٔے گذشتہ و جامِ شکستنی دارد
ایک دفعہ پھر عرب کے صحرا میں خیمہ لگا کہ عجم کی بزم وہ شراب ہے جو فرسودہ ہوچکی اور اسکے جام توڑنے کے قابل ہیں۔

نہ شیخِ شہر، نہ شاعر، نہ خرقہ پوش اقبال
فقیر راہ نشین است و دل غنی دارد
اقبال نہ شیخِ شہر ہے، نہ شاعر اور نہ ہی خرقہ پوش صوفی وہ تو راستے میں بیٹھنے والا فقیر ہے لیکن دل غنی رکھتا ہے۔
(پیامِ مشرق)
——–

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن میں فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

تقطیع -
فریبِ کشمکشِ عقل دیدنی دارد
کہ میرِ قافلہ و ذوقِ رہزنی دارد

فَریب کش - مفاعلن - 2121
مَ کَ شے عق - فعلاتن - 2211
ل دیدنی - مفاعلن - 2121
دارَد - فعلن - 22

کِ میر قا - مفاعلن - 2121
ف لَ او ذو - فعلاتن - 2211
قِ رہ زَ نی - مفاعلن - 2121
دارَد - فعلن - 22
مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 12, 2008

فارسی کلامِ غالب کے تراجم

غالب کی وجۂ شہرت انکا اردو کلام ہے، لیکن غالب کو ہمیشہ اپنے فارسی کلام پر فخر رہا اور وہ اردو کو ثانوی حیثیت ہی دیتے رہے اسی لیے کہا تھا کہ “بگزار مجموعہء اردو کے بے رنگِ من است”۔ غالب اپنے آپ کو کلاسیکی فارسی شعراء کے ہم پلہ بلکہ انسے بہتر ہی سمجھتے رہے، اور یہ بالکل بجا بھی ہے۔ غالب فارسی کلام میں سبک ہندی لڑی کے آخری تاجدار ہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ ایرانی سبکِ ہندی کو بالکل در خورِ اعتنا نہیں سمجھتے، لیکن سبکِ ہندی، کہ نازک خیالی اور حسنِ تعلیل جسکی بڑی خصوصیات ہیں، میں غالب کا مقام انتہائی بلند ہے۔

نوجوانی میں غالب، فارسی اور اردو دونوں میں بیدل کا تتبع کرتے تھے لیکن تائب ہوگئے، اس کے علاوہ فارسی غزل مین وہ نظیری سے بہت متاثر تھے لیکن بالآخر اپنا رنگ جما کر رہے۔ لیکن انکا فارسی کلام کبھی بھی مقبول نہیں ہوسکا، اسکی کئی ایک وجوہات مولانا حالی نے بیان کی ہیں۔ ناقدر شناسی اور فارسی سے دُوری اسکی بڑی مثالیں ہیں۔ برصغیر میں فارسی کا انحطاط تو شاید غالب کے زمانے میں ہی شروع ہو چکا تھا، لیکن آزادی تک پہنچتے پہنچتے تو فارسی شناس معدودے چند ہی رہ گئے تھے۔ اور اب تو یہ حال ہے کہ “زبان یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم”۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Mirza Ghalib, مرزا غالب

کلیاتِ غالب نظمِ فارسی، پاکستان میں‌ پہلی دفعہ، شیخ مبارک علی تاجر و ناشر کتب، لاہور نے 1965 میں‌ شائع کیے، اس میں غالب کے فارسی قطعات، مخمس، ترکیب بند، ترجیع بند، مثنویات، قصائد، غزلیات، رباعیات اور تقریظ شامل ہیں۔ مکمل کلیاتِ نظمِ فارسی کا ترجمہ شاید ابھی تک شائع نہیں ہوا۔ 

غزلیات فارسی غالب کا اردو ترجمہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے کیا تھا جو کہ پکیجز لاہور نے شائع کروایا تھا اسکی بھی مجھے صرف جلد دوئم جس میں ردیف د تا ے کی غزلیں ہیں، ہی ملی، جلدِ اول بعد از تلاش بسیار نہیں مل سکی۔
ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی نے ایک ترجمہ “شرح کلیاتِ غالب فارسی” کے نام سے پیش کیا ہوا ہے لیکن وہ غالب کے مکمل فارسی کلام پر مشتمل نہیں ہے بلکہ غزلیاتِ غالب، رباعیات غالبِ اور چند قصیدوں کے انتخاب پر مشتمل ہے۔
ایک لا جواب کام افتخار احمد عدنی صاحب اور پروفیسر رالف رسل کا ہے۔ انتخاب فارسی غزلیاتِ غالب کے تراجم ان دونوں اصحاب کے یک جا ہیں اور لا جواب ہیں۔ عدنی صاحب نے منظوم ترجمہ کیا ہے۔ یہ کتاب پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی نے، انجمنِ ترقی اردو کے تعاون سے 1999 میں‌ شائع کی۔ 


غالب کے فارسی کلام کا ایک منظوم ترجمہ چوہدری نبی احمد باجوہ نے کیا تھا جو کے 1972 میں “شش جہاتِ غالب” کے نام سے شائع ہوا، اس میں انہوں نے غالب کے فارسی منتخب کلام کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔
غالب کی فارسی غزلیات کا ایک منظوم ترجمہ ڈاکٹر خالد حمید صاحب نے کیا ہے جسے بزمِ علم و فن پاکستان، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ 


فارسی رباعیات غالب کا منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی مرحوم نے “ہم کلام” کے نام سے کیا تھا، اور کیا خوب کام ہے یہ۔ 1986 میں پہلی دفعہ شائع ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

ایک قصیدے کے چند اشعار

مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے اپنی کتاب ‘آبِ کوثر’ میں شیخ جلال خان جمالی کے ایک قصیدے کے سات اشعار لکھے ہیں (یہ قصیدہ انہوں نے اپنے مرشد کی مدح میں لکھا ہے اور مذکورہ اشعار تشبیب کے اشعار ہیں)، وہی پیش کر رہا ہوں اور ترجمہ کرنے کی جرأت بھی کر رہا ہوں کہ یہ اشعار مجھے بہت پسند آئے۔
ز آسماں گر تیغ بارَد سر نَخَارَد اہلِ دِل
نیشِ سوزَن بر دِلِ نامرد زخمِ خنجَر است
اگر آسمان تلوار بھی چلا دے تو اہلِ دل سر نہیں اٹھاتے (اور) نامرد کے دل کیلیئے سوئی کی چھبن بھی خنجر کے زخم کی طرح ہوتی ہے۔
مرد نتواں گفت اُو را کُو تن آرایَد بہ زَر
زینتِ مرداں ست آہن، زر زناں را زیوَر است
اسے مرد مت کہو کہ جس کا جسم (مال و) زو سے سجا ہوا ہے کہ مردوں کی زینت آہن (لوہا) ہے اور زر عورتوں کیلیئے زیور ہے۔
مرد را کردارِ عالی قدر گردانَد نہ نام
ہر کسے کُو را علی نام است نے چُوں حیدَر است
کسی بھی شخص کو اسکا کردار عالی قدر بناتا ہے نہ کہ اسکا نام، ہر وہ جس کا نام علی ہو، حیدر (ع) کی طرح نہیں ہے۔
از معانی افتخارِ سینۂ عالم بُوَد
عزّتِ معدن نہ از کوہ است بل از گوہَر است
مطالب اور معانی ہی سینۂ عالم کا افتخار ہوتے ہیں (نا کہ بلند و بانگ لاتعداد الفاظ)، کہ معدن (کان) کی عزت (بلند و بالا) پہاڑ سے نہیں بلکہ گوہر سے ہوتی ہے۔
سُرخیِ روئے مُنافِق لالہ را مانَد کہ اُو
اسود القلب است اگرچہ رنگِ رویَش احمَر است
منافق کے چہرے کی سرخی لالہ (کے پھول) کی مانند ہوتی ہے کہ اسکا (لالہ اور منافق کا) دل سیاہ ہوتا ہے اگرچہ اسکا رخ کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔
نے کسے کاہل بیاباں شُد دمِ وحدت زنَد
خونِ ہر آہوئے صحرائی نہ مُشکِ اذفَر است
کسی کاہل سے بیاباں ایک ہی لمحے میں عبور نہیں ہو سکتا (وہ تیز رفتار نہیں ہوسکتا) کہ ہر صحرائی ہرن کا خون اذفر کی خوشبو نہیں ہوتا (مشکِ اذفر: ایک خاص خوشبو ہے جو ایک خاص ہرن سے نکلتی ہے)
اصلِ ایماں در نیابی در فقیہِ بے اصول
کامتحانِ دینِ اُو در احتضارِ محضَر است
ایمان کی اصل کسی بے اصول فقیہ سے نہیں ملے گی کہ اس کے دین کا امتحان تو موت کے پروانوں میں ہے (کہ لوگوں کی موت کے فیصلے اور کفر و ایمان کے فتوے اس کی اپنی خواہشات و پسند و ناپسند پر مبنی ہوتے ہیں)
——–
بحر - بحر رمل مثمن محذوف
افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(آخری رکن فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آسکتا ہے)
تقطیع -
ز آسماں گر تیغ بارَد سر نخارَد اہلِ دل
نیشِ سوزن بر دلِ نامرد زخم خنجر است
زا س ما گر - فاعلاتن - 2212 (الف وصل استعمال ہوا ہے)
تیغ بارد - فاعلاتن - 2212
سر نخارد - فاعلاتن - 2212
اہلِ دل - فاعلن - 212
نیش سوزن - فاعلاتن - 2212
بر دلے نا - فاعلاتن - 2212
مرد زخمے - فاعلاتن - 2212
خنجرست - فاعلان - 1212 (الف وصل استعمال ہوا ہے)
مزید پڑھیے۔۔۔۔

بانگِ درا کا ایک کردار - عرفی شیرازی

یہ مضمون اپریل 2007ء میں لکھا تھا اور کسی بھی موضوع پر میرا پہلا مضمون ہے، سب سے پہلے "ون اردو" پر شائع ہوا اور اسکے بعد "اردو محفل" پر۔
—————
اقبال کے تبحرِ علم اور وسعت مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ انکے کلام کے مطالعہ سے یوں لگتا ہے جیسے سارا عالم انکی نگاہ میں تھا۔ فارسی کلام تو خیر دور کی بات ہے، حالانکہ جس پہ علامہ کو فخر تھا، اور جسکے عشاق اب خال خال ہی نطر آتے ہیں، انکا اردو کلام بھی اور ابتدائی کلام بانگِ درا بھی تلمیحات سے بھر پور ہے۔ تلمیح کے لغوی معنی، اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالنا کے ہیں، کلام یا نثر میں اسکا مطلب کسی تاریخی واقعہ یا بات کی طرف اشارہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ بات قارئین کے ذہن میں تازہ ہوجائے۔ کلامِ اقبال دیکھئے، علامہ پے در پے، قرانی آیات، احادیثِ نبوی، تاریخ اسلام، تاریخ عالم، فلاسفہ، شعرا، متکلمین اور دیگر شخصیات کی طرف اشارہ کرتے ہی چلے جاتے ہیں، اور اقبالیات میں تو تلمیحاتِ اقبال پر باقاعدہ کتب موجود ہیں۔ کلامِ اقبال اور پیامِ اقبال کو صحیح تر سمجھنے کیلیے ضروری ہے کہ قاری علامہ کے ساتھ ساتھ رہے وگرنہ وہی بات ہو جاتی ہے کہ ایک لحظہ غافل ہوئے اور منزل کوسوں دور جا پڑی۔

علامہ نے جہاں تلمیحات بھر پور استعمال کی ہیں وہیں انہوں نے مشہور شعرا کے کلام پر تضمینیں بھی کہیں ہیں۔ تضمین کا لغوی مطلب ملانا یا شامل کرنا ہے اور شاعری میں کسی مشہور کلام کو اپنی نظم میں داخل کرنا یا اس پر کچھ کہنا ہے۔ بانگِ درا میں جہاں اقبال نے دوسرے مشہور فارسی شعرا جیسے بیدل، صائب، ابو طالب کلیم وغیرہ کے فارسی کلام پر تضمینیں کہیں ہیں وہیں انہوں نے عرفی شیرازی کے ایک شعر پر بھی تضمین کہی ہے، اور انہی موصوف کا تعارف مقصود ہے۔

عرفی کا نام محمد جمال الدین تھا اور وہ 1556 میں شیراز میں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور پھر ہندوستان میں چلا آیا کہ یہاں دورِ اکبری تھا اور سارے ایران کے سخن ور اسی کے دربار سے منسلک تھے۔ عرفی نے ہندوستان میں خوب نام کمایا، یہاں اسکے اصل ممدوح عبدالرحیم خانخاناں اور شہزادہ سلیم تھے۔ صرف 36 سال کی عمر پا کر عین عالم شباب میں فوت ہوگیا۔ پہلے لاہور میں دفن ہوا لیکن بعد میں اسکی لاش کو نجفِ اشرف لے جا کر دفن کیا گیا۔

علامہ کی نظم کا پہلا شعر ہی دیکھئے

محل ایسا کیا تعمیر عرفی کے تخیل نے
تصدق جس پہ حیرت خانہء سینا و فارابی

فضائے عشق پر تحریر کی اس نے نوا ایسی
میسر جس سے ہے آنکھوں کو اب تک اشک عنابی

Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال, Urfi Shirazi, عرفی شیرازی
نظم عُرفی از علامہ محمد اقبال
ابنِ سینا اور فارابی، عالم اسلام کے بلا شک و شبہ دو بہت بڑے فلاسفر اور حکیم تھے اور بو علی سینا کے مدت تک جسکی کتب یورپ میں نصاب کا حصہ رہیں، انکی تمام ریاضتوں کو علامہ نے عرفی کے تخیل پر قربان کردیا۔ اور یہی عرفی کا عوجِ کمال ہے۔ عرفی کا شعرا میں اگر نام مہتاب کی طرح چمک رہا ہے تو اسی بلند تخیل، زورِ بیان، سوزِ عشق اور جدت طرازی کی وجہ سے۔

علامہ نے جب اس سے امت کا مسائل کا حل پوچھا تو دیکھیے کیا شعر جواب میں منتخب کیا ہے۔

نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی
حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی

ترجمہ- اگر ذوقِ نغمہ کم ہوگیا ہے تو اپنی نوا کر تلخ تر کر دے، اگر اونٹ پر بوجھ زیادہ ہو تو حدی خواں اپنی لے اور تیز کر دیتے ہیں۔

صدیوں کے تجربات سے یہ بات عیاں ہے کہ عرب جب بے آب و گیاہ ریگستانوں میں سفر کرتے ہیں اور اونٹوں پر بوجھ بھی ہوتا ہے تو وہ حدی خوانی کرتے ہیں جس سے نا صرف انکا خود اپنا سفر کٹ جاتا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس لے اور تان سے اونٹ بھی بوجھ کو بھول کر مزے سے سفر کاٹ لیتے ہین یہ عرفی کا کمال مشاہدہ تھا کہ اس نے اس حقیقت کو اپنے شعر میں بیان کر دیا اور علامہ نے اسے منتخب کیا۔

علامہ کے انتخاب میں کس کو کلام ہو سکتا ہے، اور یہ بات اگر مدِ نظر رکھیں کہ علامہ ادب برائے ادب کے قائل نہیں تھے، بلکہ ادب برائے زندگی انکا مقصدِ حیات تھا، وہ ایک پیغام اپنی قوم تک پہنچانا چاہتے تھے، اس موضوع کو کسی اور وقت کیلیے اٹھا رکھتا ہوں کہ علامہ نے کبھی بھی خود کو شاعر نہیں سمجھا بلکہ وہ اپنے آپ کو فلسفی یا شاعر فلسفی سمجھتے تھے، تو یہ بات واضح تر ہو جاتی ہے کہ علامہ رمز و کنایہ یا دقیق تشبیہات کے سہارے اپنی شاعری نہیں کر سکتے تھے۔

انکے کلام سے مترشح ہے کہ آپ نے اپنا پیغام واضح اور صاف صاف الفاظ میں بیان کیا ہے اور عرفی کے شعر کو اپنے حق میں لانے سے انکا مقصد بھی یہی تھا کہ جو معروضی حالات اس وقت کے تھے اور جو زمینی حقائق تھے،انکو پیشِ نظر رکھ کر انکی نوا تلخ تر ہی ہونی چاہیے تھی اور اس نا چیز کی رائے میں علامہ شعوری طور پر اس شعر کو اپنے کام اور کلام کے حق میں لائے ہیں۔

عرفی کا ایک عام معنی تو وہی ہے جو ہمارے ذہن میں عرف سے آتا ہے، لیکن مولانا شبلی نعمانی نے اس تخلص کی وجہء تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ ایران میں مذہبی مسائل کی علاوہ جو دوسرے مسائل ہوتے ہیں ان کے تصفیے کیلئے جو قاضی کا عہدہ تھا اسکو وہ عرف کہتے تھے اور یہ عہدہ عرفی کے خاندان میں تھا، اسی لیے اس نے فخر کی وجہ سے یہ تخلص رکھا کہ اس زمانے میں عموما شعراء کرام بڑے گھرانوں سے نہیں ہوتے تھے۔

عرفی بہت خود دار آدمی تھا، اس مغلیہ زمانے میں جب شعرا جھوٹ کے پلندے قصیدوں میں انعام کے لالچ میں بیان کرتے تھے اور در در کی جبہ سرائی کرتے تھے، عرفی نے اپنی خودداری کو قائم رکھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت مغرور شاعر مشہور ہے۔ اسکا دوسرا بڑا وصف اسکا ہجو گوئی سے پرہیز ہے، فارسی شعرا ایک دوسرے کی ہجو گوئی میں اتنا گر گئے تھے کہ دامنِ شرافت تک کو چھوڑ دیا اور تقریبا ہر بڑے شاعر نے ہجو گوئی کی ہے اور بعضے تو فحشیات اور مغلضات تک آ پہنچے لیکن عرفی نے اپنا دامن اس برائی سے مکمل پاک رکھا۔ لوگوں نے اس کی ہجو گوئی کی، اسکو بہت برا بھلا کہا کہ یہ عام روش تھی کہ شعرا ایک دوسرے کی تضحیک کرکے بادشاہوں کی نظر میں اپنی وقعت بڑھاتے تھے لیکن عرفی انتہائی شریف آدمی تھا۔ ایک اور وصف اسکا، پاک دامنی تھا، اس لہو و لعب کے دور میں جب بادشاہوں سے لیکر ہر صاحبِ مال دادِ عیش دینے میں مصروف تھا، اسنے اپنا دامن ہر قسم کی آلائش سے پاک رکھا۔

عرفی نے شیراز میں کم سنی کے عالم میں ہی شاعری شروع کردی تھی اور وہاں خوب نام کمایا، اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ مشاعروں میں کسی موضوع کے حق اور مخالفت میں نظم میں دلائل دیئے جاتے تھے، باوجود اس کے کہ عرفی کم سن تھا وہ دقیق موضوعات پر بڑے بڑے نامور شعراء کے سامنے ایک موضوع کے ہر دو پہلؤں پر دلائل دیتا اور دونوں طرف بازی لے جاتا، لیکن زندگی میں ان کامیابیوں کی اسے بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی، کہ اس کے بہت سارے حاسدین پیدا ہوگئے تھے اور یہ کامیابیاں آخر اس کی جان لے کر ہی ٹلیں۔

ہندوستان میں بھی چونکہ اس نے بہت جلد اپنا نام پیدا کرلیا تھا اور خاص طور پر وہ شہزادہ سلیم، جو کہ بعد میں شہنشاہ جہانگیر کے لقب سے تختِ مغلیہ پر جلوہ افروز ہوا، کا منظوِ نظر بن گیا تھا، اسکے حاسدین نے اسے زہر دے کر ختم کر دیا۔ عرفی کو خود بھی اسکا احساس تھا اسلئے ایک جگہ کہتا ہے

از من بگیر عبرت و کسبِ ہنر مکن
با بختِ خود عداوتِ ہفت آسمان مخواہ

مجھے دیکھ کر عبرت حاصل کر اور ہنر پیدا کرنے کا خیال چھوڑ دے، تو کیوں چاہتا ہے کہ سات آسمانوں کی دشمنی مول لے لے۔

عرفی کی تصنیفات میں ایک کتاب موسوم بہ “نفسیہ” تھی جو کہ تصوف میں ہے لیکن ناپید ہے اور ذکر اسکا صرف تذکروں میں ہی رہ گیا ہے، اسکے علاوہ دو مثنویاں اور ایک کلیات موجود ہیں۔ کلیات میں 26 قصیدے، 270 غزلیں اور سات سو اشعار کے قطعات اور رباعیاں ہیں۔ اس زمانے کو شعری روایات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھیں تو یہ تعداد دوسرے شعراء کے کلام کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے اور وجہ اسکی یہ ہے کہ اسکا تقریبا 6000 اشعار کا ایک دیوان ضائع ہو گیا تھا، جس کا اس کو بہت قلق تھا اور اسکے غم میں عرفی نے ایک انتہائی درد ناک غزل بھی کہی تھی، لیکن اس ماتم کے دوران انتہائی بلند ہمتی اور جوش کے عالم میں کہتا ہے

گفتہ گر شد ز کفم، شکر کہ نا گفتہ بجاست
از دو صد گنج یکے مشت گہر باختہ ام

اگر کہا ہوا ہاتھ سے چلا گیا ہے تو کیا فکر کہ نا کہا ہوا تو موجود ہے پھر کہہ لوں گا کہ میرے بیش بہا خزانے سے صرف ایک مٹھی بھر گوہر ہی گئے ہیں۔

اپنے زمانے کے شعری مذاق کے مطابق عرفی کا اصل میدانِ سخن قصیدہ ہی تھا لیکن ذاتی طور پر اپنے مزاج کے عین مطابق اسے غزل گوئی ہی پسند تھی اور اسکی غزلیں واقعی ہی لا جواب ہیں، ایک جگہ کہتا ہے

قصیدہ کارِ ہوس پیشگان بود عرفی
تو از قبیلہ عشقی، وظیفہ ات غزل است

عرفی تیرے سامنے قصیدہ ہوس کا کام ہی ہے، تیرا تعلق تو قبیلہء عشاق سے ہے اور تیرا وظیفہ تو غزل ہے۔

مولانا شبلی نعمانی نے عرفی کہ جو شعری خصوصیات بیان کی ہیں ان میں، زورِ کلام، الفاظ کی نئی نئی ترکیبیں اور استعارے، جدتِ تشبیہات، مسلسل مضامین، مضمون آفرینی، طرزِ ادا کی جدت، صدق دوستی، بلند ہمتی، اخلاق اور عشقیہ سوز و گداز شامل ہیں۔ اسکے علاوہ عرفی کی شاعری کا بہت بڑا مقام اسکی فلسفیانہ شاعری ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں، خاص بات یہ ہے کہ اسنے اپنی فلسفیانہ شاعری میں بھی شاعرانہ طرزِ ادا کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا کہ عموما شعراء کرام فلسفیانہ مضمون کو بیان کرتے ہوئے، تغزل کو قربان کر دیتے ہیں۔ ان سب خصوصیات کی امثال کو طوالت کے خوف سے محذوف کرتا ہوں۔

یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ بذلہ سنجی، حاضر جوابی اور ظرافتِ طیع بھی تمام نابغہء روزگار لوگوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، غالب اور اقبال ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں، عرفی بھی اس سے مستسنٰی نہیں ہے، بلا کا ظریف تھا۔

اکبر کے نو رتننوں میں سے دو بھائیوں، ابو الفضل اور فیضی نے بہت نام کمایا انکے باپ کا نام مبارک تھا۔ ایک دن عرفی ابوالفضل کے گھر اسے ملنے گیا تو دیکھا کہ وہ قلم دانتوں میں دبائے سوچنے بیٹھا ہوا ہے، عرفی نے پوچھا، کیا سوچ رہے ہو۔ ابوالفضل نے کہا کی بھائی صاحب/فیضی نے قرآن مجید کی جو بغیر نقطوں کے تفسیر لکھی ہے اسکا دیباچہ اسی طرح یعنی بغیر نقطوں کے لکھ رہا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ والد صاحب کا نام بھی اس میں آ جائے اور صنعت کا التزام بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ لیکن کچھ سوجھ نہیں رہا۔ عرفی نے فورا کہا اس میں تردد کی کیا بات ہے۔ اپنے لہجے میں ممارک لکھ دو۔ اس وقت گنوار لوگ مبارک کو ممارک ہی کہتے تھے۔

ایک دفعہ فیضی بیمار تھا، عرفی عیادت کو گیا۔ فیضی کو کتوں کا بہت شوق تھا، عرفی نے دیکھا کہ فیضی کے ارد گرد پلے سونے کے پٹے ڈالے گھوم پھر رہے ہیں۔ عرفی نے کہا، مخدوم زادوں کا کیا نام ہے۔ فیضی نے کہا ان کا نام عرفی ہے یعنی کچھ خاص نہیں ہے۔ عرفی نے کہا ، “مبارک” ہو۔

متقدمینِ شعر فارسی اور شعراء اردو پر ، مرزا عبدالقادر کے بعد اگر کوئی شاعر سب سے زیادہ اثر پذیر ہوا ہے تو وہ شاید عرفی ہی ہے۔ تقریبا ہر بڑے شاعر نے عرفی سے فیض حاصل کیا ہے اور اقبال بھی اس سے مستسنیٰ نہیں ہیں۔ اقبال کی فارسی میں ایک پوری غزل عرفی کی زمین، یعنی اسی بحر و قافیہ ردیف میں موجود ہے لیکن اسے طوالت اور فارسی کے خوف سے چھوڑتا ہوں۔ غالب نے بھی عرفی سے بھر پور فیض حاصل کیا ہے ایک شعر اوپر عرفی کا گزر چکا ہے، غالب کے اس شعر میں اسکی بازگشت دیکھیں۔

ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

چند شعر اور عرفی اور غالب کے بیان کرتا ہوں تا کہ بات واضح ہو جائے

بہ کیشِ برہمناں آں کس از شہیدان است
کہ در عبادتِ بت روئے بر زمیں میرد

برہمنوں کے نزدیک شیہد وہ ہے، جو بت کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے جان دے دے۔

اور غالب یوں رقم طراز ہیں

وفاداری بشرطِ استواری، اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

عرفی کہتا ہے

عشق اگر مرد است، مردے تابِ دیدار آورد
ورنہ چوں موسیٰ بسے آورد بسیار آورد

اگر عشق بلند ہمتی کا نام ہے تو وہ مرد آئے جسے تابِ دیدار ہو، ورنہ جسطرح موسیٰ آئے تھے تو اسطرح کے بہت آتے ہیں۔

اور غالب اس خیال کو یوں پیش کرتے ہیں

دھمکی میں مر گیا جو نہ بابِ نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ، طلب گارِ مرد تھا

عرفی کچھ یوں اپنی سیہ بختی بیان کرتے ہیں

ز فروغِ آفتابم نہ بود خبرِ کہ بے تو
چو دو زلف تست یکساں، شب و روزم از سیاہی

مجھے سورج کی روشنی کی خبر ہی نہیں ہوتی کہ تیرے بغیر میرے دن اور رات تیری دو زلفوں کی طرح یکساں سیاہ ہیں۔

اور غالب اس مضمون کو اسطرح باندھتے ہیں

جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا
وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو

اور آخر میں عرفی کے کلام میں سے چند اشعار، نمونہء کلام کے طور پر

عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں
آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را

عرفی تو رقیبوں کے شور و گل سے مت گھبرا کہ آوازِ سگاں سے بھی کبھی گدا کا رزق کم ہوا ہے۔

منم آں سیر ز جاں گشتہ کہ با تیغ و کفن
تا درِ خانہ جلاد غزل خواں رفتم

میں اس جان سے وہ تنگ آیا ہوں کہ تلوار اور کفن کے ساتھ، جلاد کے گھر کی طرف غزل خوانی کرتے ہوئے جا رہا ہوں۔

ہر کس نہ شناسندہء راز است وگرنہ
ایں ہا ہمہ راز است کہ معلومِ عوام است

ہر شخص کو راز پہچان لینے کا ملکہ حاصل نہیں ورنہ جو کچھ عوام جانتے ہیں وہ بھی در اصل سارے کا سارا راز ہی ہے۔

عشق می خوانم و می گریم زار
طفلِ نادانم و اول سبق است

عشق کا سبق لیتا ہوں اور زار زار رو رہا ہوں جیسے نادان بچے کا پہلا سبق ہوتا ہے۔

قبولِ خاطر معشوق شرط دیدار است
بحکمِ شوق تماشا مکن کہ بے ادبی است

دوست جس حد تک پسند کرے اسی حد تک نظارہ کرنا چاہیئے کہ اپنے شوق کے موافق دیکھنا بے ادبی ہے۔

اگرفتم آں کہ بہشتم دہند بے طاعت
قبول کردن و رفتن نہ شرط انصاف ست

میں نے مان لیا کہ مجھے بہشت بغیر عمل کے ہی مل جائے گی لیکن اسے قبول کرنا اور اس میں اسطرح جانا انصاف کے خلاف ہے۔

زبان بہ بند و نظر باز کن کہ منع کلیم
کنایب از ادب آموزی تقاضائیست

زبان بند کرو اور آنکھیں کھولو کہ موسیٰ کو جو منع کیا تھا تو یہ بتانا مقصود تھا کہ ادب ملحوظ رکھنا چاہیئے۔

بیا بہ ملکِ قناعت کہ دردِ سر نہ کشی
ز قصہ ہا کہ بہ ہمت فروشِ طے بستند

قناعت کی طرف آ کہ پھر تمہیں ان کہانیوں سے جو حاتم طائی سے منسوب ہیں کوئی مطلب نہیں رہے گا۔

----

مزید پڑھیے۔۔۔۔

امیر خسرو کی مشہور و معروف نعت - نمی دانَم چہ منزل بُود

درج ذیل نعت امیر خسرو کی مشہور و معروف نعت ہے لیکن ادبی محققین کے مطابق یہ انکے کسی بھی دیوان میں نہیں ملتی لیکن صدیوں سے معروف انہی کے نام سے ہے۔
شعرِ خسرو
نمی دانَم چہ منزل بُود، شب جائے کہ من بُودَم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بُود، شب جائے کہ من بودم
اردو ترجمہ
مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں کل رات میں تھا، ہر طرف وہاں رقصِ بسمل ہو رہا تھا کہ جہاں میں کل رات کو تھا۔
منطوم ترجمہ مسعود قریشی
نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Mazar Amir Khusro, مزار امیر خسرو
مزار امیر خسرو علیہ الرحمہ، دہلی ہندوستان, Mazar Amir Khusro
شعرِ خسرو
پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم
ترجمہ
پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا، اس کا قد سرو کی طرح تھا اور رخسار لالے کی طرح، وہ سراپا آفتِ دل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔
قریشی
پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گُوں
سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا
شعرِ خسرو
رقیباں گوش بر آواز، اُو دَر ناز، من ترساں
سخن گفتَن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
ترجمہ
رقیب آواز پر کان دھرے ہوئے تھے، وہ ناز میں تھا اور میں خوف زدہ تھا۔ وہاں بات کرنا کس قدر مشکل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔
قریشی
عدو تھے گوش بر آواز، وہ نازاں تھا، میں ترساں
سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل، شب جہاں میں تھا
شعرِ خسرو
خدا خود میرِ مجلس بُود اندر لا مکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم
ترجمہ
اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا۔
قریشی
خدا تھا میرِ مجلس لا مکاں کی بزم میں خسرو
محمد تھے وہاں پر شمعِ محفل، شب جہاں میں تھا
——–
بحر - بحر ہزج مثمن سالم
افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
تقطیع -
نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم
نمی دانم - مفاعیلن - 2221
چ منزل بو - مفاعیلن - 2221
د شب جائے - مفاعیلن - 2221
کِ من بودم - مفاعیلن - 2221
بَ ہر سو رق - مفاعیلن - 2221
ص بسمل بو - مفاعیلن - 2221
د شب جائے - مفاعیلن - 2221
کِ من بودم - مفاعیلن - 2221
مزید پڑھیے۔۔۔۔

May 9, 2008

میری ایک غزل

اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو
جیت ہو اور نا کسی کی مات ہو

بس ہوس کے ہیں یہ سارے سلسلے
بابری مسجد ہو یا سُمنات ہو

دے بدل ہر زاویہ وہ دفعتاً
کُل نفی کے ساتھ جو اثبات ہو

زخم دل کے چین سے رہنے نہ دیں
روزِ روشن ہو کہ کالی رات ہو

اسطرح پینے کو مے کب ملتی ہے
ناب ہو، تُو ساتھ ہو، برسات ہو

دام دیکھے ہیں وہاں اکثر بچھے
جس جگہ پر دانے کی بہتات ہو

برملا گوئی کا حاصل ہے اسد
اپنوں کی نظروں میں بھی کم ذات ہو
مزید پڑھیے۔۔۔۔

بانگِ درا کا ایک کردار - غلام قادر روہیلہ

یہ مضمون اپریل 2007ء میں لکھا تھا اور سب سے پہلے"ون اردو" پر شائع کیا اور اسکے بعد اردو محفل" پر۔
---------------------
اقبال نے اپنی نظم بعنوان "غلام قادر روہیلہ" میں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے، جس میں غلام قادر روہیلہ کی بربریت دکھائی ہے، کہ اس نے مغل بادشاہ کی آنکھیں نکالنے کے بعد اس کے حرم کی عورتوں کو رقص کا حکم دیا تھا۔ لیکن روہیلہ نے جب یہ دیکھا کہ وہ شریف بیبیاں کسطرح اسکے حکم پر عمل در آمد کر رہی ہیں تو اس کو کچھ شرم آئی، اپنی تلوار اور خنجر کھول کر رکھ دیئے اور یوں ظاہر کیا کہ وہ سو گیا ہے، آخر اٹھا اور ان عورتوں سے کہا کہ سونے کا تو بہانہ تھا، میں نے تمھیں موقعہ دیا تھا کہ میرے خنجر سے ہی میرا خاتمہ کردو، لیکن افسوس خاندانِ تیمور سے غیرت ختم ہو چکی۔

اقبال نظم کا اختتام اس شعر پر کرتے ہیں۔

مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال, Ghulam Qadir Rohela, غلام قادر روہیلہ
نظم غلام قادر روہیلہ از علامہ محمد اقبال
بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ نظم غلام قادر روہیلہ کی بربریت دکھانے کیلیے ہے، لیکن اس کا اختتام ہمیں فکر و جستجو کی دعوت دے کر چھوڑ جاتا ہے کہ جب تک تمام تاریخی واقعات سامنے نہ ہوں، قاری پیچ و تاب میں ہی مبتلا رہتا ہے، اور یہ بھی اقبال کے کلام کا ایک خاصہ ہے۔

غلام قادر روہیلہ، کا تعلق افغانوں کے قبیلہ روہیلہ سے تھے جو روہیل کھنڈ کے باسی تھے۔ تاریخ ہندوستان، مغلوں اور پٹھانوں کی نبرد آزمایوں سے بھری پڑی ہے۔ عظیم پٹھان شاعر، خوشخال خان خٹک کا کلام اسکا واضح ثبوت ہے۔ شیر شاہ سوری نے بھی ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان بدر کر دیا تھا لیکن اسکی اولاد آخر ہمایوں کے ہاتھوں
ہی موت کے گھاٹ اتری۔

اس نظم میں جس مغل بادشاہ کا ذکر ہے، اسکا نام مرزا عبداللہ تھا اور لقب شاہ عالم ثانی، وہ 1759 سے لیکر اپنی وفات 1806 تک تختَ دہلی پر کٹھ پتلی حکمران رہا۔ غلام قادر روہیلہ کے ہاتھوں 1787 میں اندھا ہوا۔ مغل سلطنت کا زوال عالمگیر کی وفات کے ساتھ ہی ہو گیا تھا، اسکے بعد جتنا عرصہ بھی یہ سلطنت رہی، وہ ہاتھی والی اس مثال کے مصداق ہے کہ وہ مرتے مرتے بھی کافی عرصہ لگا دیتا ہے۔ اس واقعے کے بیک گراؤنڈ میں دیکیں تو اس وقت طاقت کے ڈرامے میں کئی کردار تھے: مغل خود، مرہٹے، سکھ، انگریز اور حملہ آور۔ مرہٹوں اور سکھوں نے اس زمانے میں شمالی ہندوستان میں طوفان اٹھایا ہوا تھا اور حکمرانوں کیلئے مسلسل دردِ سر بنے ہوئے تھے۔
مرہٹوں کی چیرہ دستیاں اور مظالم جب حد سے بڑھ گئے تو، غلام قادر روہیلہ کا جرنیل دادا، نجیب الدولہ انکے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے یہ سوچا کہ مغل، مرہٹوں کے خلاف اسکا ساتھ دیں گے کہ مرہٹے خود، مغل سلطنت کیلیے مسلسل پریشانیاں کھڑی کر رہے تھے، لیکن خاندانِ تیموریہ اور انکے وزراء نے کمال بد طینتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، الٹا مرہٹوں کے ساتھ مل کر نجیب الدولہ کو محصور کر دیا اور اس سے پے در پے جنگیں لڑیں۔

ان حالات میں جب نجیب الدولہ نے دیکھا کہ اب کوئی چارہ نہیں ہے تو اسنے احمد شاہ ابدالی سے مدد مانگی۔ احمد شاہ ابدالی نے اپنے قاضی سے فتوٰی طلب کیا تو قاضی نے کہا کہ مرہٹوں کے خلاف نجیب الدولہ کی مدد جائز ہے۔ لہذا احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں سے پانی پت کے مقام پر جنگیں لڑیں۔ اور ان میں سب سے مشہور پانی پت کی تیسری لڑائی ہے جو 1761 میں ہوئی اور اس میں ابدالی نے غلام قادر روہیلہ کے دادا نجیب الدولہ اور والد ضابطہ خان کی مدد سے مرہٹوں کو شکستِ فاش دی جس سے مرہٹوں کی اصل طاقت ہمیشہ کیلیے ختم ہو گئی۔ ابدالی کے سامنے اس وقت دہلی کا تخت خالی پڑا ہوا تھا، لیکن یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے یا پھر انسان کا مقدر کہ ہوتا وہ نہیں ہے جسے چاہا جاتا ہے۔ ابدالی بجائے دہلی پہ قابض ہونے کے واپس چلا گیا۔

اسکے بعد بھی نجیب الدولہ کی مرہٹوں اور سکھوں سے کشمکش جاری رہی لیکن وہ 1770 میں فوت ہوگیا۔ اس بہادر جرنیل کی تعریف اپنے پرائے سب ہی کرتے ہیں، یہاں تک کہ انتہائی متعصب ہندو مصنف جادو ناتھ سرکار، جس نے تاریخِ مغلیہ اور تاریخِ ہند پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں اور جو مسلمانوں کے خلاف زہر سے بھری پڑی ہیں، اس نے بھی نجیب الدولہ کی معاملہ فہمی اور جرنیلی کی تعریفیں کی ہیں۔

نجیب الدولہ کے مرنے کے بعد، مرہٹوں نے روہیلوں سے پانی پت کی شکست کا انتہائی شرمناک انتقام لیا۔ اسکی وفات کے دو سال بعد ہی 1772 میں مرہٹوں نے مغلوں کے ساتھ مل کر روہیلوں کو خون کے گھاٹ اتار دیا۔ اور یہی واقعہ غلام قادر روہیلہ کے انتقام کا محرک ہے۔

غلام قادر روہیلہ اس وقت کوئی 12، 13 سال کا بچہ تھا، اس نے اپنے قبیلے کو مرہٹوں کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں مرتے دیکھا۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید وہ یہ فعلَ شعنیہ نہ کرتا جس کی طرف علامہ نے اپنی نظم میں اشارہ کیا ہے۔ لیکن ہوا وہی جو فاتح فوجیں ہمیشہ کرتی ہیں، مرہٹوں اور مغل فوج نے روہیلہ قبیلے کی عورتوں کی عصمت دری کی۔ غلام قادر نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، جان تو اسکی بچ گئی لیکن وہ اس ظلم کو کبھی نہ بھلا سکا جو اصل میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی نے ہی کیا تھا کہ مرہٹے اکیلے روہیلوں کو فتح نہیں کرسکتے تھے۔

غلام قادر نے 1787 میں جب اسکی عمر کوئی 27 سال تھی، دہلی پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا اور یہ واقع رو پذیر ہوا۔ جب اس نے شاہ عالم ثانی کو پکڑا تو اس نے کہا۔ اگرچہ تمھارا جرم تو اسکا متقاضی ہے کہ تمہارا بند بند جدا کرکے تمہارا گوشت چیل کوؤں کو کھلا دیا جائے لیکن یہ میری خدا ترسی ہے کہ میں تمھیں زندہ چھوڑے دیتا ہوں، ہاں اس میں شک نہیں کہ میں نے تم سے غوث گڑھ کی اس بد سلوکی کا جو تم نے میری ماں بہنوں کے ساتھ روا رکھی، پورا پورا انتقام لے لیا ہے۔ اور اسکے بعد خنجر سے اسکی دونوں آنکھیں نکال دیں۔ اس واقعہ کے ایک سال بعد ہی غلام قادر 1788 میں مرہٹوں کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا۔

اب اس تمام واقعے سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کی غلام قادر نے جو کچھ بھی کیا وہ انتقام کے جذبے میں تھا
کہ مغلوں اور مرہٹوں نے اسکی خاندان کی عورتوں کی خود اور اپنی فوجوں سے آبروریزی کروائی، لیکن غلام قادر نے فتح کے باوجود اس حد تک بربریت نہیں دکھائی جس کا مظاہرہ مغل و مرہٹہ فوجوں نے کیا تھا بلکہ اس نے غیرت کھا کے مغل عورتوں کو موقع بھی دیا کہ اسے قتل کر دیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اپنی نظم کا آغاز تو غلام قادر روہیلہ کی بربریت سے کیا ہے، لیکن نظم کے اختتام پہ نہ صرف غلام قادر پر لعن طعن نہیں کی بلکہ مغلوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انہی میں غیرت و حمیت ختم ہو گئی تھی۔

----

مزید پڑھیے۔۔۔۔

بانگِ درا کا ایک کردار - فاطمہ بنتِ عبداللہ

یہ مضمون مئی 2007ء میں لکھا تھا اور سب سے پہلے "ون اردو" پر شائع ہوا، اسکے بعد "اردو محفل" پر۔
------------------
علامہ نے اپنی نظم فاطمہ بنتِ عبداللہ میں فاطمہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اور نظم کے عنوان کے ساتھ خود ہی وضاحت کردی ہے کہ فاطمہ عرب لڑکی تھی جو طرابلس کی جنگ 1912 میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی۔علامہ نے اپنی شعری روایات کے عین مطابق، نظم کے پہلے ہی مصرعہ میں جان ڈال دی ہے اور اپنا خیال انتہائی واشگاف الفاظ میں بیان کردیا ہے، فرماتے ہیں،فاطمہ، تو آبروئے امتِ مرحوم ہے
تمام نظم ہی لا جواب ہے، پہلے بند میں فاطمہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

اور دوسرے بند میں علامہ نے اپنی دور بیں اور دور رس نگاہوں سے فاطمہ کی شہادت کے واقعے میں مضمر حقیقت
بیان کردی ہے، ایک شعر کچھ یوں ہے۔

ہے کوئی ہنگامہ تیری تربتِ خاموش میں
پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
نظم فاطمہ بنت عبداللہ از علامہ اقبال


پہلے بند کا ایک مصرعہ اور شعر جو اوپر تحریر کیئے گئے ہیں، ان سے ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ اقبال صرف فاطمہ کو خراجِ تحسین ہی پیش نہیں کر رہے، بلکہ ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں، جو "امتِ مرحوم" اور "گلستانِ خزاں منظر" کے الفاظ سے واضح ہے۔ اس نظم اور علامہ کے پیغام کو کماحقہ سمجھنے کیلیے ضروری ہے کہ تاریخ کی تھوڑی سی ورق گردانی کی جائے اور اس واقعہ کے پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے۔
فاطمہ، ایک چودہ سالہ معصوم عرب لڑکی تھی، جو کہ جذبہء جہاد اور جذبہء شہادت سے مالا مال تھی اور بالآخر جنگ میں اپنے غازی اور زخمی مجاہد بھائیوں کو اپنے مشکیزے سے پانی پلاتی ہوئی، جامِ شہادت نوش کر گئی۔ شہید زندہ ہوتے ہیں یہ ہر مسلمان کا ایمان ہے، لیکن ہم جیسے مسلمانوں کو اس معصومہ و شہیدہ کا نام و کام قطعاّ معلوم نہ ہوتے اگر علامہ اسکو خراجِ تحسین پیش نہ کرتے، اور اب، جب تک علامہ، بانگِ درا اور اردو کا نام رہے گا، اس شہیدہ کا نام ہمارے ذہنوں میں بھی زندہ رہے گا۔

جنگِ طرابلس، اصل میں اٹلی اور سلطنتِ عثمانیہ، موجودہ ترکی کی جنگ تھی، جس میں ترکی نے تو شکست مان کر طرابلس اور دوسرے صوبے، موجودہ لیبیا کو، اٹلی کے حوالے کر دیا تھا، لیکن وہاں کے مقامی مجاہدین نے، غیر ملکی قابضین کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ یہ ایک لمبی داستان ہے، میں اس مجملاّ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

لیبیا کو تاریخ عالم میں ہمیشہ سے ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے، اسکی تاریخ کم و بیش ساڑھے تین، چار ہزار سال پرانی ہے، قدیم یونانیوں نے اسے یہ نام دیا تھا کہ قریب 1300 قبل مسیح میں یہاں ایک قبیلہ موسوم بہ لیبی یا لیبو آباد تھا۔ شمالی افریقہ کے بحیرہ روم کے ساحلوں پر آباد یہ ملک ہمیشہ سے حملہ آوروں اور استعماریوں کی جولاں گاہ بنا رہا ہے، کبھی یہ ملک ایک وحدت کے طور پر موجود رہا اور کبھی دو، تین صوبوں کی خود مختار ریاستوں میں۔ قبلِ اسلام اسے سلطنتِ روما نے کئی بار پامال کیا، عربوں نے اسے فتح کیا، یہاں اسلام پھیلایا اور یہاں آباد بھی ہوئے، بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ بنا اور صدیوں تک ان کے زیرِِ نگیں رہا۔
تاریخ عالم کا یہ ایک انتہائی تاریک باب ہے کہ فاشسٹ اور استعماری و استبدادی قوتوں نے ہمیشہ سے اپنے ملکوں کے علاوہ دوسرے اور غیر جانبدار و لاچار ملکوں کو اپنا مشقِ ستم بنایا، کبھی مال و دولت کیلیے اور کبھی اپنے مفادات کیلیے اور صد حیف کہ طلوعِ "انسانیت" سے شروع ہونے والا یہ بھیانک کھیل، انسان اور انسانیت کی "ترقی" کے باوجود رکا نہیں۔

اٹلی نے یورپ میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلیے، ستمبر 1911 کو ایک دن کے الٹی میٹم پر لیبیا پر حملہ کردیا تا کہ ترکی کو مزید کمزور کیا جا سکے اور ادھر سے پریشر ڈال کر ان کو یورپ سے ہمیشہ کیلیے فارغ کر دیا جائے۔ ترکی کی ایک کمزور سی فوج اس وقت لیبیا میں موجود تھی جو شاید بہت جلد ہتھیار ڈال ڈیتی، لیکن وہاں کے عربی اور مقامی بربر قبیلے اٹلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ جنگ اکتوبر 1912 تک چلی، اکتوبر میں ایک معاہدے کے تحت ترکی نے لیبیا پر اٹلی کا مکلمل تسلطت تسلیم کر لیا اور وہاں سے ہمیشہ کیلیے فارغ ہوگئے۔ لیکن مقامی لوگوں نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اٹلی کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ اس کے بعد اٹلی اور ترکی کے درمیان بالقان کی جنگ لڑی گئی اور اور پھر پہلی جنگِ عظیم میں مقابلے ہوئے۔ اس جنگِ عظیم میں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اٹلی کو ناکوں چنے چبوا دیئے اور تمام صوبہ طرابلس پر قابض ہو کر اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی، پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کی عبرتناک شکست اور سلطنتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد اٹلی نے مقامی لوگوں کو پر اذیت ناک مظالم کے پہاڑ ڈھا دیئے لیکن انکے ذکر سے پہلے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک اور اسکے بانی کا تھوڑا سا جائزہ پیش کر دیا جائے کہ جس نے لیبیا اور ملحقہ ملکوں، مراکش، سوڈان، الجزائر وغیرہ کے مسلمانوں کے دلوں میں اس قدر جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ فاطمہ سی معصوم بچی بھی جہاد کیلیے نکل کھڑی ہوئی۔

تاریخ میں یہ تحریک سنوسی تحریک کے نام سے جانی جاتی ہے جو کہ اس کے بانی سید محمد بن علی سنوسی کے نامِ نامی سے منسوب ہے۔ وہاں کے مقامی لوگ آج بھی انکو السنوسی الکبیر کے نام سے اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔

سید محمد بن علی، 1791 میں الجزائر کے ایک چھوٹے سے قصبے سنوس میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے تیونس، قاہرہ اور مکہ میں تعلیم حاصل کی۔ 1837 میں آپ نے ایک اصلاحی تحریک شروع کی، اور بنیادی مقصد اسکا سنتِ نبوی اور شریعت پر عمل کرنا تھا، یہ ایک انتہائی سادہ تحریک تھی اسلئے لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک تمام شمالی افریقہ میں پھیل گئی۔ سید محمد نے اصلاح کی غرض سے مختلف شہروں میں خانقاہیں اور زاویے قائم کیے، جہاں پر لوگوں اور بچوں کو شریعت اور سنتِ نبوی کے ساتھ ساتھ، زراعت، باغبانی، کپٹرا سازی اور معماری کی تعلیم بھی دی جاتی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد کی بھی تلقین کی جاتی تھی۔ آپ کا انتقال 1859 میں ہوا اور آپکے فرزندگان نے اس تحریک کو جاری رکھا اور جنگ طرابلس اور ما بعد جنگوں میں آپ کی اولاد ہی سپہ سالار تھی۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد اٹلی کے فاشسٹ حکمران، مسولینی نے لیبیا کے لوگوں کو سبق سکھانے اور اس تحریک کو ختم کرنےکیلیے وسیع پیمانے پر 1923 میں فوجی مہم شروع کی۔ اس وقت کی سپر پاور اٹلی کا مقابلہ ان نہتے اور بے یار و مدد گار مجاہدوں نے سالوں تک کیا لیکن 1927 تک اٹلی نے چن چن کر مجاہدین کو تقریبا ختم کر دیا اور 1931 میں اس تحریک کے مرکز کفرہ شہر کو فتح کرلیا۔ اور اس تحریک کے راہنماؤں اور مجاہدوں کو اذیت ناک سزائیں دے کر مار ڈالا۔ اس وقت اس تحریک کے راہنما عمر المختار سنوسی تھے، جنھیں اٹلی نے گرفتار کرنے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی اور لوگوں کو عبرت کا سبق سکھانے کیلیے اس پھانسی کیلیے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جس میں لیبیا کے بیس ہزار سے زائد باشندوں کو گرفتار کرکے زبردستی شامل کیا گیا تا کہ "باغی" کا انجام دیکھیں۔

لیکن جو تحریک عوام کے دلوں میں بسی ہو، اور ایمان کی حرارت اس میں جوان لہو شامل کرتی رہے وہ بھلا کب ختم ہوتی ہے دوسری جنگ عظیم میں اس تحریک کو ایک دفعہ پھر ابھرنے کا موقع ملا اور اس دفعہ انہوں نے اتحادی فوجوں کے ساتھ مل کر اٹلی کا مقابلہ کیا اور جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی رو سے 1951 میں مکمل خود مختار ملک بن گیا۔ لیبیا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ کی حمایت سے آزادی حاصل کی۔

علامہ نے اپنی نظم میں جہاں فاطمہ بنتِ عبداللہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہیں، امتِ مرحومہ کا نوحہ بھی بیان کیا ہے کہ اس وقت کے خلیفہ و امیر المومنین نے اپنی اس نہتی رعایا کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کر لیا تھا۔ اور دوسرا علامہ کی زمانہ شناس نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ تحریک دبنے والی نہیں کہ جس قوم کی بچیوں کے جذبہء شہادت کا یہ عالم تھا اس قوم کے جوانوں اور جہاں دیدہ برزگوں کا کیا عالم ہوگا۔

Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
فاطمہ بنت عبداللہ - ایک نایاب تصویر بشکریہ توصیف امین


اور علامہ کی اور بہت سی مبنی بر حقیقت باتوں میں سے یہ بھی ایک پوری ہونے والی بات تھی کہ یہ تحریک اپنے منطقی منزل پر پہنچ کر رہی۔

----

مزید پڑھیے۔۔۔۔

میری ایک رباعی

شکوہ بھی لبوں پر نہیں آتا ہمدَم
آنکھیں بھی رہتی ہیں اکثر بے نَم
مردم کُش یوں ہوا زمانے کا چلن
اب دل بھی دھڑکتا ہے شاید کم کم
مزید پڑھیے۔۔۔۔

میری ایک رباعی

بکھرے ہوئے پھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندِگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی، سُن لے
مزید پڑھیے۔۔۔۔

میری ایک غزل

دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے
ہر سمت خدا ہیں، کوئی انسان نہیں ہے

طاقت کے نشے میں جو لہو سچ کا بہائے
ظالم ہے، لٹیرا ہے، وہ سلطان نہیں ہے

یہ بات غلَط ہے کہ میں باطل کو نہ جانوں
یہ سچ ہے مجھے اپنا ہی عرفان نہیں ہے

جو آگ سے تیری میں نہیں ڈرتا تو واعظ
حوروں کا بھی دل میں کوئی ارمان نہیں ہے

سوچا ہے اسد اب کسی سے میں نہ ملوں گا
کچھ دوست و عدو کی مجھے پہچان نہیں ہے
مزید پڑھیے۔۔۔۔

میری ایک غزل

نہ دل کو ہے نہ جاں کو ہی قرار اب
جنوں ہو کہ رہا اپنا شعار اب

نظر بدلی تو بدلے سارے منظر
ترا ہی جلوہ ہے اے میرے یار اب

کلی دل کی گئی مرجھا ترے بعد
بلا سے آئے گلشن میں بہار اب

پلائی ہے نظر سے مے جو تو نے
اترنے کا نہیں ساقی خمار اب

کٹی مستانہ کچھ ایسے شبِ ہجر
رہا مجھ کو نہ تیرا انتظار اب

اسد وہ جانتا ہے سب حقیقت
بنے پھرتے ہو جو پرہیزگار اب
مزید پڑھیے۔۔۔۔

غزل سراج اورنگ آبادی

خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

شۂ بے خودی نے عطا کیا، مجھے اب لباسِ برہنگی
نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی

چلی سمتِ غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی

نظرِ تغافلِ یار کا گلہ کس زباں سے کروں بیاں
کہ شرابِ حسرت و آرزو، خمِ دل میں تھی سو بھری رہی

وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی

ترے جوشِ حیرتِ حسن کا اثر اس قدر ہے یہاں ہوا
کہ نہ آئینے میں جِلا رہی، نہ پری میں جلوہ گری رہی

کیا خاک آتشِ عشق نے دلِ بے نوائے سراج کو
نہ خطر رہا، نہ حذر رہا، جو رہی سو بے خطری رہی
(سراج اونگ آبادی دکنی)
——–
بحر - بحر کامل مثمن سالم
افاعیل - مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن مُتَفاعِلُن
اشاری نظام - 21211 21211 21211 21211
تقطیع -
خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی
خَ بَ رے تَ حی - مُتَفاعِلُن - 21211
یُ رِ عشق سن - مُتَفاعِلُن - 21211
نَ جنو رہا - مُتَفاعِلُن - 21211
نَ پری رہی - مُتَفاعِلُن - 21211
نَ تُ تو رہا - مُتَفاعِلُن - 21211
نَ تُ مے رہا - مُتَفاعِلُن - 21211
جُ رہی سُ بے - مُتَفاعِلُن - 21211
خَ بَ ری رہی - مُتَفاعِلُن - 21211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

دنیا کا پہلا فلسفی

دنیا کا پہلا فلسفی - تھےلیز آف مائیلیٹس
(Thales of Miletus)
بھری گرمیوں کا دن تھا، دو متحارب بادشاہوں کی فوجیں آپس میں برسرِ پیکار تھیں، اس دن سینکڑوں لاشیں گر چکیں تھیں۔ یہ دونوں فوجیں پچھلے پندرہ سالوں سے آپس میں خون کی ندیاں بہا رہی تھیں کبھی جنگ رک جاتی تھی اور کبھی خون آشام تلواریں ہزاروں جوانوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیتی تھیں۔ اور پچھلے پانچ سالوں سے تو بغیر کسی وقفے سے جنگ اور موت کے دیوتا ہی ان کی پرستشوں کے محور تھے۔ کہ یکا یک آسمان نے اپنا رنگ بدلنا شروع کیا۔ ایک عفریت تھی کہ سورج دیوتا کو نگلے جا رہی تھی۔ روزِ روشن، آہستہ آہستہ تاریکی میں بدلنا شروع ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ عفریت مکمل طور پر سورج دیوتا کو نگل گئی، لوگوں کو دن دیہاڑے ستارے نظر آنے لگے اور بھری دوپہر میں یوں محسوس ہونے لگا کہ آدھی رات ہے۔ ان متحارب لشکروں نے اپنے سورج دیوتا کا یہ حشر ہوتے دیکھا تو تلواریں، نیزے، بھالے پھینک، سجدے میں گر گئے اور مناجات پڑھنے لگے۔ سورج دیوتا کو آہستہ، آہستہ اس عفریت سے رہائی ملی اور وہ دوبارہ اپنی کرنوں سے دنیا کو ضیاء پاش کرنے لگا۔ لیکن اب دونوں لشکروں کے دل بدل چکے تھے، انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا، انہوں نے کہا کہ دیوتا ان کی خونریزیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہو گئے تھے، اسی وجہ سے سورج دیوتا کو یہ سزا ملی، لہذا یہ موت کا کھیل بند کر کے امن سے رہنا چاہئیے۔ جب پیادے ہی لڑنے کو تیار نہ تھے تو شاہ و وزیر بھلا کیا کرتے سو ان دونوں بادشاہوں نے آپس میں امن کا معاہدہ کیا اور عوام ہنسی خوشی رہنے لگے۔
یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں ہے بلکہ قدیم تاریخ کا ایک ایسا منفرد واقعہ ہے جس کا انتہائی صداقت سے تعین ہو چکا ہے۔ یہ ہمارے مروجہ اور مستعمل کیلنڈر کے مطابق 28 مئی 585قبل مسیح کا دن تھا کہ جس دن سورج گرہن لگا، اور یہ دونوں فوجیں قدیم سلطنتوں لیڈیا اور میڈیا کی تھیں، موجودہ دور میں یہ دونوں علاقے، بالترتیب ترکی اور ایران کے حصے بنتے ہیں کہ جو ازمنہء قدیم سے ہی آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔ یہ تو شاید مظاہر فطرت کا پہلا واقعہ تھا جسنے ان لوگوں کی پر خون دنیا میں امن پیدا کر دیا۔ لیکن اس واقعے کی اہمیت ایک اور وجہ سے اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جس وقت یہ جنگ سورج گرہن کی وجہ سے رکی، اسی وقت لوگوں نے میدانِ جنگ سے ملحقہ ایک شہر میں ایک آدمی کو گھیرے ہوا تھا اور حیران و پریشان تھے کہ اس شخص کو اس سورج گرہن کا کیسے پتہ چل گیا کہ یہ دیوتا بھی نہیں اور اس نے کافی عرصہ پہلے اس سورج گرہن کی پیشن گوئی کر دی تھی۔ ناسا کے سائنسدانوں نے نہ صرف اس سورج گرہن والے واقعے کی تاریخ پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے، بلکہ اس بات کو بھی مانا ہے کہ ایشیائے کُوچک کے ان علاقوں میں جہاں پر یہ لڑائی جاری تھی، یہ ایک مکمل سورج گرہن تھا۔ یہ پیشن گوئی کرنے والا شخص، تھے لیز تھا جو متفقہ طور پر دنیا میں پہلا فلسفی مانا جاتا ہے۔
علمِ نجوم جو بعد میں ترقی کرکے علمِ ہیت بنا، دنیا کے قدیم ترین علموں میں سے ہے۔ بابل اور مصر کے لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے اسکے عالم تھے۔ اسکی ابتدا تو شاید اس وقت ہوئی ہوگی جب انسان نے اپنی تاریک راتوں میں سفر کرنے کیلیے ستاروں کی طرف دیکھا ہوگا اور سینکڑوں، ہزاروں سالوں کے مشاہدے نے اسے سکھلا دیا کہ آسمان میں کچھ ستارے ایسے بھی ہیں، جو ہمیشہ ایک ہی سمت کا تعین کرتے ہیں اور انسے دوسری سمتوں کا تعین بآسانی ہو سکتا ہے، لیکن اس علم کو ترقی اس وقت ملی جب یہ معبدوں کے پروہتوں کے ہاتھ میں آیا۔ اس زمانے کے لوگ اور بہت سارے مظاہرِ فطرت کے ساتھ چاند، سورج اور ستاروں کی بھی پرستش کرتے تھے اور پروہت چونکہ دیوتاؤں کے نائب ہوتے تھے اور انکی بات ہی دیوتاؤں کی بات ہوتی تھی، لہذا یہ ان پروہتوں کی مجبوری تھی کہ وہ اپنے آپ کو اپنے دیوتاؤں کے حالات سے با خبر رکھیں۔ بابل اور مصر کے لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے علم نجوم میں کافی ترقی یافتہ تھے۔ ان پروہتوں نے جب اتنہائی بلند و بالا معبدوں کے اونچے اونچے چبوتروں پر بیٹھ کر تاریک راتوں میں آسمان کے ستاروں کا سینکڑوں سالوں تک مشاہدہ کیا اور انکا ریکارڈ رکھنا شروع کیا تو زائچے بن گئے، انہوں نے نہ صرف ستاروں کی گردش اور مختلف موسموں میں انکی آسمان میں پوزیشن کو نوٹ کیا بلکہ وہ اس بات پر بھی قادر ہوگئے کہ ستاروں کی پوزیشن کے متعلق پیشن گوئیاں کر سکیں اور اسی سے وہ پروہت سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق پیشن گوئیاں کیا کرتے تھے۔ یہ ایک انتہائی سائینٹفک علم تھا جو کہ مشاہدہ پر مشتمل تھا لیکن ان پروہتوں نے اس پر طلسم و اسرار کے دبیز پردے ڈالے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو گرہنوں کی پیشن گوئی کرکے نہ صرف مرعوب کرتے تھے بلکہ ان کو یہ کہہ کر کہ دیوتا ان سے ناراض ہوگئے ہیں، قربانیوں اور مناجات پر مجبور بھی کردیتے تھے۔
تھےلیز ایشیائے کوچک کے بحیرہ روم کے ساحل پر ایک یونانی نوآبادی آئیونیا کے شہر مائیلیٹس کا باشندہ تھا۔ اسکے نسل کے بارے میں مورخ آجتک متفق نہیں ہوسکے، بہت سارے مؤرخین کا کہنا ہے کہ وہ یونانی الاصل تھا لیکن قدیم اور نامور یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کا کہنا ہے کہ وہ فونیشی الاصل یعنی ایشیائی تھا۔ تھے لیز 624 ق-م میں مائیلیٹس میں پیدا ہوا اور 546 ق۔م میں وہیں وفات پا گیا۔ تھے لیز کا عہد تاریخ کا ایک انتہائی اہم دور ہے، یہ وہ زمانہ تھا جب علم کا مرکز ایشیا سے مغرب کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔ قدیم اور عظیم مصری تہذیب اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور میسوپوٹیمیا کی تہذیب، ایرانی فاتحین کے ہاتھوں تخت و تاراج ہو رہی تھی، گو ابھی دم خم باقی تھا۔ آئیونیا کی شہری ریاستوں کے مصر اور بابل کے ساتھ دوستانہ اور تجارتی روابط تھے اور انہی خوشگوار تعلقات کی وجہ سے تھےلیز کو اپنی جوانی میں ان علاقوں کے سفروں کا مواقع ملے۔ بابل کے سفر کے دوران اس نے وہاں سے علم نجوم یا علم ہیت سیکھا تھا۔ اسکا مصر کا سفر بہت یادگار ہے۔ مصر کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے، اور جب تھےلیز نے اہرامِ مصر دیکھے تو انکو تعمیر ہوئے بھی تقریبا دو ہزار سال ہوچکے تھے۔ مصر میں تھےلیز نے جیومیڑی اور ریاضی کا علم حاصل کیا۔ مصر میں اس کا ایک واقعہ تو بہت ہی مشہور ہے۔ مصر میں قیام کے دوران اسکے علم کا شہرہ ہو چکا تھا۔ اہلِ مصر نے اس سے پوچھا کہ تم بتاؤ ہمارے اہرام کی اونچائی کتنی ہے کہ یہ بات ان کیلیے ایک چیستان تھی۔ تھےلیز نے کہا یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اس نے ان سے کہا کہ ریگستان میں ایک چھڑی گاڑ دو، جب چھڑی کا سایہ اسکی اصل لمبائی کے برابر ہوگیا تو تھےلیز نے کہا اب اہرام کا سایہ ماپ لو، وہ بھی یقینا انکی اصل اونچائی کے برابر ہوگا، یہ بظاہر سامنے کی بات نظر آتی ہے لیکن تھےلیز نے یہ بات کرکے یقیناّ اہلیانِ مصر کو ششدر کر دیا ہوگا۔ مصر میں اسکے قیام کے دوران اسکی دریائے نیل کی طغیانی، کہ جس پر مصر کا دارومدار آج بھی ہے، کے بارے میں تحقیقات بھی کافی مشہور ہیں۔
تھےلیز کی کوئی تحریر باقی نہیں ہے اور بعض مؤرخین کے نزدیک اس نے کوئی کتاب لکھی بھی نہیں تھی، اس بات پر بہرحال مؤرخین و فلاسفہ کا اختلاف ہے۔ تھےلیز کے فلسفے کو دوام ارسطو نے اپنی مختلف کتابوں میں بیان کرکے بخشا ہے۔ ارسطو نے نہ صرف اسکے فلسفے پر بحث کی ہے بلکہ اسکے حالاتِ زندگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اپنی کتاب سیاسیات میں ارسطو نے اسکے علمِ نجوم میں مہارت کا قصہ بیان کیا ہے۔ ہوا یوں کہ لوگ اسکو غربت کا طعنہ مارا کرتے تھے کہ یوں تو بڑے عالم فاضل بنے پھرتے ہو اور بھوکوں مر رہے ہو، اسنے کہا، اچھا اگر یہ بات ہے تو پھر دیکھنا ۔اس نے علم ہیت میں اپنی مہارت سے اندازہ لگایا کہ اس سال گرما میں موسم کچھ اسطرح کا ہوگا کہ زیتون کی فصل بہت اچھی ہوگی، لہذا اسنے مائیلیٹس اور اسکے ملحقہ علاقوں کے زیتون کا تیل نکالنے والے تمام کارخانے اپنے نام بُک کروالیے۔ یہ سردیوں کا موسم تھا، کارخانے بند پڑے تھے اور اسکے مقابل کوئی بولی لگانے والا بھی نہیں تھا، لہذا اسے بڑے مناسب داموں پر یہ کارخانے مل گئے۔ جب موسمِ گرما میں زیتون کی فصل آئی تو وہ واقعی بہت شاندار تھی، اب ہر کسی کو تیل نکالنے کیلیے کارخانے درکار تھے، تھےلیز نے اپنی من مرضی کے نرخوں پر وہ کارخانے چلائے اور کثیر سرمایہ کمایا اور لوگوں سے کہا کہ دیکھو اگر فلسفی اور علما دولت کمانا چاہئیں تو بہت کما سکتے ہیں لیکن انکے مقاصد اور طرح کے ہوتے ہیں، یہ تو ارسطو کی بیان کردہ کہانی تھی، اس واقعہ پر ایک ستم ظریف فلسفی نے یہ اضافہ کیا کہ اس تمام قصے میں نہ تو علمِ نجوم میں مہارت درکار تھی اور نہ ہی زیتون کی بہت اچھی فصل کی، بلکہ یہ تو سیدھا سادا تاجرانہ اجارہ داری کا واقعہ ہے۔ اسکا ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے ایک دفعہ شام کو وہ کہیں جا رہا تھا اور چلتے چلتے آسمان میں ستاروں کا مشاہدہ بھی کر رہا تھا کہ ایک گڑھے میں گر گیا، اس پر وہاں پر موجود لڑکیوں نے اسکی خوب سبکی کی کہ آسمانوں کی خبر تو رکھتا ہے اور پاؤں کی خبر نہیں۔
تھےلیز کو دنیا میں متفقہ طور پر پہلا فلسفی اور سائنسدان مانا جاتا ہے اور اسکے ساتھ، فزکس جیومیٹری اور ریاضی کا موجد بھی، جیومیٹری کو مصریوں نے بہت پہلے ترقی دی تھی اور تھےلیز نے یہ علم انہی سے سیکھا تھا لیکن اس وقت تک یہ علم بغیر کسی قواعد و ضوابط کے تھا، تھےلیز نے سائنسی بنیادوں پر جیومیٹری کے قواعد و ضوابط منظم کیے اور تھیورم پیش کیے جو بعد میں اقلیدس نے بیان کیے اور آج تک ساری دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں۔ فلسفے اور سائنس کا بانی اس لحاظ سے کہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے اس کائنات کے وجود میں آنے کی وجوہات کی علمی اور عقلی توجیہات بیان کیں۔ اس سے پہلے جب بھی کوئی سوال پوچھتا تھا کہ دنیا کیسے وجود میں آئی تو ہر طرف سے یہی جواب ملتا تھا کہ اس دیوی اور دیوتاؤں نے بنایا ہے۔ اس نے آفرینشِِ کائنات کے بارے میں مادی اسباب کا فلسفہ بیان کیا اور کہا کہ دنیا پانی سے وجود میں آئی ہے۔ اس نے اور بھی نظریات پیش کیے جو آج کی دنیا کو بچگانہ معلوم ہوتے ہیں مثلاّ یہ کہ زمین چپٹی ہے اور پانی کی سطح پر تیر رہی ہے اور کائنات دیوی دیوتاؤں سے بھری ہوئی ہے، لیکن تھےلیز کا تاریخ انسانیت میں یہ کارنامہ نہیں ہے کہ اس نے پانی کو بنیاد مانا بلکہ یہ ہے کہ اس نے علوم کو خرافاتی پردوں کی دبیز تہوں سے نکال کر خرد کی بات کی اور انسان کو یکایک خرافات اور اسطوریات کی دنیا سے نکال کر خرد افروز تحریک کی بنیاد رکھی۔ بقولِ غالب، میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا۔ تھےلیز کے بعد یکے بعد دیگرے بہت سارے فلسفی آسمانِ علم و عقل پر نمودار ہوئے اور اپنے اپنے نظریات پیش کیئے۔ جن میں سب سے پہلے اسکا شاگردِ رشید اناکسی مینڈر تھا، اس نے کہا کہ یہ کائنات پانی نے نہیں بنی بلکہ ایک لامحدود زندہ شے ہے۔ یہی اناکسی مینڈر تھا جس نے ڈارون سے دو ہزار سال پہلے نظریہِ ارتقا پیش کیا اور اسکی ایک دلیل یہ دی کہ انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی، دوسرے حیوانات کی طرح اپنی خوراک تلاش نہیں کرسکتا اور اسکا دودھ پینے کا عرصہ بھی زیادہ ہوتا ہے،اسلیے اگر انسان شروع ہی سے ایسا ہوتا تو کبھی زندہ نہ رہ سکتا تھا، لہذا وہ حیوانوں ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اسکے بعد اناکسی منیس نے کہا کہ گو کائنات کا اصول مادی ہے لیکن یہ ہوا سے بنی ہے۔ ہیریقلیتس نے کہا نہیں یہ کائنات آگ سے بنی ہے۔ ایمپےدکلیس نے عناصرِ اربعہ کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ کائنات آگ، ہوا، مٹی اور پانی سے مل کر بنی ہے اور یہی عناصرِ اربعہ کا نظریہ ہے جو آج تک مسلم صوفیوں میں مقبول ہے۔
ایک مفکر، سائنسدان، ریاضی دان، ماہر علمِ نجوم اور جیومیڑی ہونے کے ساتھ ساتھ، تھےلیز انجینیئر اور سیاست دان بھی تھا۔ ان دنوں مائیلیٹس ایک بہت بڑا تجارتی شہر تھا اور وہاں غلاموں کی بہت بڑی آبادی موجود تھی اور امیر و غریب طبقے کی کشمکش عروج پر تھی۔ پہلے عوام نے شہر پر قبضہ کیا اور طبقہ اشرافیہ کے بیوی بچوں کو قتل کردیا۔ اسکے بعد اشرافیہ نے شہر کو فتح کیا اور غلاموں کو زندہ جلا دیا۔ اسی طرح کے حالات ایشیائے کوچک کی دیگر یونانی شہری ریاستوں کے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کے ایرانیوں نے میسوپوٹیمیا کے علاقے فتح کرنے کے بعد اپنا رخ مغرب کی طرف کیا ہوا تھا اور یہ شہری ریاستیں انکی مستقل زد میں تھیں۔ انہی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، تھےلیز نے شہری ریاستوں کی ایک فیڈریشن کا نظریہ پیش کیا جسکو پذیرائی نہ ملی۔
نطریے کو پذیرائی ملی ہو یا نہ، لیکن تھےلیز کو اپنی زندگی میں ہی بہت پذیرائی مل گئی تھی۔ عمر کے آخری حصے میں اسے عوام کی جانب سے سوفوس یا فلسفی اور حکیم کا خطاب مل چکا تھا۔ قدیم یونانیوں نے سقراط سے پہلے کہ سات دانشور آدمیوں کی فہرست میں اسے نمبر ایک کے درجے پر رکھا ہوا تھا۔ تھےلیز کے بہت سارے مقولے بھی مشہور ہیں۔
جیسے کسی نے اس سے پوچھا کہ خدا کیا ہے۔
اس نے کہا جس کی نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا۔
لوگوں نے پوچھا، انسان امن و سکون اور انصاف کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے۔
تھےلیز نے کہا، اسطرح کہ ہم ہر وہ کام چھوڑ دیں جسکا دوسروں کو الزام دیتے ہیں۔
کسی نے کہا سب سے مشکل کام کیا ہے، اسنے کہا اپنے آپ کو جاننا۔
اور سب سے زیادہ آسان کام، کسی نے فورا پوچھا۔
"مشورہ دینا"، تھےلیز نے جواب دیا۔
-----------
پس نوشت
اس تحریر کا بنیادی مقصد تھےلیز کا تعارف ہے۔ نہ کہ اسکے فلسفے پر بحث۔ جو احباب تھےلیز اور دیگر فلسفیوں کے فلسفے پر تفصیلی بحث پڑھنا چاہتے ہوں وہ مندرجہ ذیل لنکس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
Thales of Miletus - The Internet Encyclopedia of Philosophy
Thales - Wikipedia

Bibliography:
-Greek Thinkers. Vol. 1: A History of Ancient Philosophy by Theodor Gomperz (translated from German by Laurie Magnus, 4 Volumes).
-The Story of Civilization. Vol. 2: The Life of Greece by Will Durant (11 volumes).
-The Story of Philosophy by Will Durant
-History of Western Philosophy by Bertrand Russel
-Collins Dictionary of Philosophy
-Encyclopedia Britannica 1970 ed.
-Funk & Wagnalls New Encyclopedia 1978 ed.
مختصر تاریخ فلسفہء یونان از ڈاکٹر ویلہلم نیسل- جرمن سے ترجمہ از خلیفہ عبدالحکیم
تاریخ فلسفہ از کلیمنٹ-سی-جے-ویب، انگلش سے ترجمہ از احسان احمد
روایاتِ فلسفہ از علی عباس جلالپوری
----
اختتامیہ
میں نے یہ مضمون مئی 2007 میں لکھا تھا اور سے سے پہلے اسے "ون اردو" پر شائع کیا تھا، اسکے بعد یہ مضمون میں نے "اردو محفل" پر شائع کیا تو اسے سال 2007 کا 'فلسفے اور تاریخ' کے زمرے میں بہترین پوسٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔ بعد میں اسے پروفیسر سید تفسیر احمد صاحب نے اپنی ویب سائٹ 'دانش" کدہ پر شائع کیا۔ اسکے علاوہ میری اجازت کے بغیر بھی دو تین ویب سائٹس پر یہ مضمون شائع ہو چکا ہے اور حد یہ کہ مصنف کے طور پر میرا نام تک نہیں دیا۔ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ میرے اس مضمون کو بہت پذیرائی ملی لیکن اس بات کا بھی دکھ ہے کہ بعض ویب سائٹس والوں نے میری اجازت حاصل کرنا تو کجا مصنف کے طور پر میرا نام دینا بھی گوارا نہیں کیا۔میں یہاں پر اس مضمون کے کاپی رائٹس فری کرتا ہوں بشرطیکہ حوالے اور مصنف کے طور پر میرا نام دیا جائے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔