Oct 31, 2008

حکیم مومن خان مومن کی ایک خوبصورت غزل - ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے

تابِ نظّارہ نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر، جو حیراں ہوں گے

تو کہاں جائے گی، کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہوں گے

ہم نکالیں گے سن اے موجِ ہوا، بل تیرا
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
مومن خان مومن, Momin Khan Momin, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
مومن خان مومن
منّتِ حضرتِ عیسٰی نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے؟

چاکِ پردہ سے یہ غمزے ہیں، تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
پھر وہی پاؤں، وہی خارِ مُغیلاں ہوں گے

سنگ اور ہاتھ وہی، وہ ہی سر و داغِ جنوں
وہی ہم ہوں گے، وہی دشت و بیاباں ہوں گے

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

(حکیم مومن خان مومن)
——-
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن یعنی فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فَعِلاتُن بھی آ سکتا ہے اور آخری رکن یعنی فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں گویا آٹھ اوزان اس بحر میں جمع ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
تقطیع
ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے
ناوکن دا - فاعلاتن - 2212 (الفِ وصل استعمال ہوا ہے)
ز جدر دی - فعلاتن - 2211
دَ ء جانا - فعلاتن - 2211
ہو گے - فعلن - 22
نیم بسمل - فاعلاتن - 2212
کَ ء ہو گے - فعلاتن - 2211
کَ ء بے جا - فعلاتن - 2211
ہو گے - فعلن - 22
-----

اور یہ خوبصورت غزل مہدی حسن کی آواز میں






مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 28, 2008

فارسی رباعیاتِ غالب مع تراجم

(1)
رباعی غالب
غالب آزادۂ موحد کیشَم
بر پاکی خویشتن گواہِ خویشَم
گُفتی بہ سُخَن بَرفتگاں کس نَرَسد
از باز پَسیں نُکتہ گزاراں پیشَم
ترجمہ
اے غالب، میں ایک آزاد منش اور موحد کیش انسان ہوں، اپنی پاک فطرتی پر خود ہی اپنا گواہ ہوں۔ تو نے کہا کہ کوئی بھی (آج کا شاعر) شاعری میں گذشتہ دور کے شعرا تک نہیں پہنچتا، میں‌ بہرحال آخر میں آنے والے نکتہ آفرینوں سے آگے ہوں۔
منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی
غالب آزاد ہوں، موحد ہوں میں
ہاں پاک دلی کا اپنی شاہد ہوں میں
کہتے ہیں کہ سب کہہ گئے پچھلے شعرا
اب طرزِ سخن کا اپنی موجد ہوں میں
Mirza Ghalib, مرزا غالب, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Rubai, رباعی
Mirza Ghalib, مرزا غالب
(2)
رباعی غالب
غالب بہ گُہَر ز دودۂ زاد شَمَم
زاں رو بہ صفائے دمِ تیغست دَمَم
چوں رفت سپہبدی، زدم چنگ بہ شعر
شد تیر شکستہ نیا کانِ قَلَمَم
ترجمہ
غالب، میں نسل کے لحاظ سے ایک اچھے اور صاف خاندان کا فرد ہوں، اسی لئے میرا دم تلوار کے دم کی طرح صاف ہے۔ جب خاندان سے سپہ گری ختم ہوگئی تو میں نے ہاتھ میں‌ قلم پکڑ لیا، چنانچہ میرے اسلاف کا ٹوٹا ہوا تیر میرا قلم بن گیا۔
منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی
غالب ہے نسب نامہ مرا تیغِ دو دم
تلوار کی دھار ہے نفس سے مرے کم
اب شاعری ہے سپہ گری کے بدلے
ٹوٹے ہوئے نیزوں کو بنایا ہے قلم
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Rubai, رباعی
Saba Akbar Abadi, صبا اکبرآبادی
(3)
رباعیِ غالب
در عالمِ بے زَری کہ تلخ است حیات
طاعت نَتَواں کرد بہ امیدِ نجات
اے کاش ز حق اشارتِ صوم صلوٰت
بودے بَوَجُود مال چوں حج و زکوٰت
ترجمہ
مفلسی کی حالت میں جبکہ زندگی تلخ ہوتی ہے، نجات کی امید میں عبادت کیونکر کی جاسکتی ہے۔ کاش کہ خدا کی طرف سے، روزے اور نماز کے سلسلے میں بھی حج اور زکوٰت کی طرح مال کی شرط ہوتی، یعنی نماز اور روزہ بھی صاحبِ استطاعت و صاحبِ نصاب پر فرض ہوتے۔
منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی
افلاس کے عالم میں ہوئی تلخ حیات
طاعت بھی نہیں ہوتی بہ امید نجات
اے کاش نماز اور روزہ ہوتے
مشروط بہ مال جیسے حج اور زکوٰت
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 25, 2008

ولی دکنی کی ایک غزل - دل ہوا ہے مرا خرابِ سُخَن

ولی دکنی کسی زمانے میں اردو کے پہلے شاعر مانے جاتے تھے، گو جدید تحقیق نے انکا یہ مرتبہ تو انکے پاس نہیں رہنے دیا لیکن ولی دکنی کو اب بھی اردو شاعری کا پہلا باقاعدہ اور اہم غزل گو شاعر ضرور مانا جاتا ہے اور مانا جاتا رہے گا۔
ولی دکنی کی ایک خوبصورت غزل جو مجھے بہت پسند ہے:

دل ہوا ہے مرا خرابِ سُخَن
دیکھ کر حُسن بے حجابِ سُخَن

راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کُھلا ہے بابِ سُخَن

بزمِ معنی میں سر خوشی ہے اسے
جس کو ہے نشّۂ شرابِ سخن

جلوہ پیرا ہو شاہدِ معنی
جب زباں سوں اٹھے نقابِ سُخَن

گوھر اسکی نظر میں جا نہ کرے
جن نے دیکھا ہے آب و تابِ سخن
ولی دکنی, Wali Dakani, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
ولی دکنی, Wali Dakani
ہرزہ گویاں کی بات کیونکے سنے
جو سنا نغمۂ ربابِ سخن

ہے تری بات اے نزاکت فہم
لوح دیباچۂ کتابِ سخن

لفظِ رنگیں ہے مطلعِ رنگیں
نورِ معنی ہے آفتابِ سخن

شعر فہموں کی دیکھ کر گرمی
دل ہوا ہے مرا کبابِ سخن

عُرفی و انوَری و خاقانی
مجھ کوں دیتے ہیں سب حسابِ سُخَن

اے ولی دردِ سر کبھو نہ رہے
جو ملے صندل و گلابِ سخن
———-
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مفاعِلُن فعلُن
(اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں، تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)
اشاری نظام - 2212 2121 22
تقطیع
دل ہوا ہے مرا خرابِ سُخَن
دیکھ کر حُسن بے حجابِ سُخَن
دل ہوا ہے - فاعلاتن - 2212
مرا خرا - مفاعلن - 2121
بِ سخن - فَعِلُن - 211
دیک کر حس - فاعلاتن - 2212
نِ بے حجا - مفاعلن - 2121
بِ سخن - فَعِلُن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 23, 2008

غزلِ خسرو مع تراجم - کافَرِ عِشقَم، مُسلمانی مرا درکار نیست

شعرِ خسرو
کافَرِ عِشقَم، مُسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگِ من تار گشتہ، حاجتِ زنّار نیست
ترجمہ
میں عشق کا کافر ہوں، مجھے مسلمانی درکار نہیں، میری ہر رگ تار تار ہوچکی ہے، مجھے زُنار کی حاجت نہیں۔
منظوم ترجمہ مسعود قریشی
کافرِ عشق ہوں، ایماں مجھے درکار نہیں
تار، ہر رگ ہے، مجھے حاجتِ زنار نہیں
شعرِ خسرو
از سَرِ بالینِ مَن بَرخیز اے ناداں طبیب
دردمندِ عشق را دارُو بَجُز دیدار نیست
ترجمہ
اے نادان طبیب میرے سرہانے سے اٹھ جا، عشق کے بیمار کو تو صرف دیدار ہی دوا ہے۔
قریشی
میرے بالیں سے اٹھو اے مرے نادان طبیب
لا دوا عشق کا ہے درد، جو دیدار نہیں
Amir Khusro, امیر خسرو, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
Amir Khusro, امیر خسرو
شعرِ خسرو
شاد باش اے دل کہ فَردَا برسَرِ بازارِ عشق
مُژدۂ قتل است گرچہ وعدۂ دیدار نیست
ترجمہ
اے دل تو خوش ہوجا کہ کل عشق کے بازار میں، قتل کی خوش خبری ہے اگرچہ دیدار کا وعدہ نہیں ہے۔
قریشی
اے دلِ زار ہو خوش، عشق کے بازار میں کَل
مژدۂ قتل ہے گو وعدۂ دیدار نہیں
شعرِ خسرو
ناخُدا در کشتیٔ ما گر نَباشد گو مَباش
ما خُدا داریم، ما را ناخُدا درکار نیست
ترجمہ
اگر ہماری کشتی میں ناخدا نہیں ہے تو کوئی ڈر نہیں کہ ہم خدا رکھتے ہیں اور ہمیں ناخدا درکار نہیں۔
قریشی
ناخدا گر نہیں کشتی میں نہ ہو، ڈر کیا ہے
ہم کہ رکھتے ہیں خدا، وہ ہمیں درکار نہیں
شعرِ خسرو
خلق می گویَد کہ خُسرو بُت پرستی می کُنَد
آرے آرے می کُنَم، با خلق ما را کار نیست
ترجمہ
خلق کہتی ہے کہ خسرو بت پرستی کرتا ہے، ہاں ہاں، میں کرتا ہوں مجھے خلق سے کوئی کام نہیں ہے۔
قریشی
بُت پرستی کا ہے خسرو پہ جو الزام تو ہو
ہاں صنم پوجتا ہوں، خلق سے کچھ کار نہیں
———–
بحر - بحر رمل مثمن محذوف
(مسعود قریشی کا منظوم ترجمہ بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع میں ہے۔)
افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(آخری رکن فاعلن میں فاعِلان بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(آخری رکن 212 میں 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کافَرِ عِشقَم، مُسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگِ من تار گشتہ، حاجتِ زنّار نیست
کافرے عش - فاعلاتن - 2212
قم مسلما - فاعلاتن - 2212
نی مرا در - فاعلاتن - 2212
کار نیس - فاعلان - 1212
ہر رگے من - فاعلاتن - 2212
تار گشتہ - فاعلاتن - 2212
حاجتے زُن - فاعلاتن - 2212
نار نیس - فاعلان - 1212
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 20, 2008

بابا نجمی کی ایک پنجابی غزل - اکھّراں وچ سمندر رکھّاں، میں اقبال پنجابی دا

اکھّراں وچ سمندر رکھّاں، میں اقبال پنجابی دا
جھکّڑاں دے وچ رکھ دِتّا اے دِیوا بال پنجابی دا

دُھوڑاں نال کدے نہیں مرنا، شیشے دے لشکارے نے
جِنّی مرضی تِکھّی بولے اردو، بال پنجابی دا

لوکی منگ منگا کے اپنا بوہل بنا کے بہہ گئے نیں
اساں تے مٹّی کر دِتّا اے سونا گال پنجابی دا

جیہڑے آکھن وچ پنجابی، وسعت نہیں تہذیب نہیں
پڑھ کے ویکھن وارث، بُّلھا، باہُو، لال پنجابی دا
Baba Najmi, بابا نجمی, Punjabi Poetry, پنجابی شاعری
بابا نجمی - Baba Najmi
تن دا ماس کَھوا دیندا اے جیہڑا ایہنوں پیار کرے
کوئی وی جبراً کر نہیں سکدا وِنگّا وال پنجابی دا

ماں بولی دی گھر وچ عزت کمّی جنّی ویکھ رہیاں
دیس پرائے کیہ ہووے گا خورے حال پنجابی دا

غرضاں والی جوک نے ساڈے مگروں جد تک لہنا نہیں
اوناں چِر تے ہو نہیں سکدا حق بحال پنجابی دا

ہتھ ہزاراں ودھ کے بابا گُھٹ دیندے نیں میرا مُونہہ
پرہیا دے وچ جد وی چُکناں کوئی سوال پنجابی دا

(بابا نجمی - اکھراں وچ سمندر)
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 18, 2008

دو شاعر دو غزلیں

فیض احمد فیض اور احمد فراز اردو شاعری کے دو بہت بڑے نام ہیں، ان دونوں شاعروں کی دو دلچسپ اور مشہور و معروف غزلیں جو ایک ہی زمین میں ہیں۔
غزلِ فیض
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچّھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

دردِ شبِ ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے
خونِ دلِ وحشی کا صلہ کیوں نہیں دیتے

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Faiz Ahmed Faiz, فیض احمد فیض
فیض احمد فیض, Faiz Ahmed Faiz
ہاں نکتہ وَرَو لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاں نغمہ گَرَو ساز صدا کیوں نہیں دیتے

پیمانِ جنوں ہاتھوں کو شرمائے گا کب تک
دل والو، گریباں کا پتا کیوں نہیں دیتے

بربادیٔ دل جبر نہیں فیض کسی کا
وہ دشمنِ جاں ہے تو بُھلا کیوں نہیں دیتے
———————
غزلِ فراز
خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee، Ahmed Faraz, احمد فراز
احمد فراز, Ahmed Faraz
اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے


منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے

کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
———————
بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
(دونوں غزلیں ایک ہی بحر میں ہیں)
افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولَن
(آخری رکن فعولن کی جگہ فعولان یعنی مفاعیل بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچّھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
بے دم ہُ - مفعول - 122
ء بیمار - مفاعیل - 1221
دوا کو نَ - مفاعیل - 122
ہِ دیتے - فعولن - 221
تم اچ چ - مفعول - 122
مسیحا ہُ - مفاعیل - 1221
شفا کو نَ - مفاعیل - 1221
ہِ دیتے - فعولن - 221
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 11, 2008

علامہ اقبال کی ایک فارسی نظم - تنہائی

“پیامِ مشرق” سے علامہ اقبال کی یہ نظم مجھے بہت پسند ہے، علامہ نے انسان کی (ابھی تک کی) ازلی تنہائی کو اپنے مخصوص دل نشیں انداز میں بیان کیا ہے۔

تنہائیبہ بحر رَفتَم و گُفتَم بہ موجِ بیتابے
ہمیشہ در طَلَب استی چہ مشکلے داری؟
ہزار لُولُوے لالاست در گریبانَت
درونِ سینہ چو من گوھرِ دِلے داری؟
تَپید و از لَبِ ساحِل رَمید و ہیچ نَگُفت
(میں سمندر پر گیا اور بیتاب، بل کھاتی ہوئی لہر سے پوچھا، تُو ہمیشہ کسی طلب میں رہتی ہے تجھے کیا مشکل درپیش ہے؟ تیرے گریبان میں ہزاروں چمکدار اور قیمتی موتی ہیں لیکن کیا تو اپنے سینے میں میرے دل جیسا گوھر بھی رکھتی ہے؟ وہ تڑپی اور ساحل کے کنارے سے دور چلی گئی اور کچھ نہ کہا)۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
علامہ اقبال, Allama Muhammad Iqbal
بہ کوہ رَفتَم و پُرسیدَم ایں چہ بیدردیست؟
رَسَد بگوشِ تو آہ و فغانِ غم زدئی؟
اگر بہ سنگِ تو لعلے ز قطرۂ خون است
یکے در آ بَسُخن با مَنِ ستم زدئی
بخود خَزید و نَفَس در کَشید و ہیچ نَگُفت
(میں پہاڑ پر گیا اور اس سے پوچھا، یہ کیا بیدردی ہے، (تیری اتنی اونچائی ہے کہ) کیا کبھی تیرے کان تک کسی غم زدہ کی آہ و فخان بھی پہنچی ہے؟ اگر تیرے بے شمار قیمتی پتھروں میں میرے دل جیسا کوئی لعل ہے تو پھر ایک بار مجھ ستم زدہ سے کوئی بات کر۔ وہ اپنے آپ میں چھپا، سانس کھینچی اور کچھ نہ کہا)۔

رَہِ دَراز بَریدَم ز ماہ پُرسیدَم
سَفَر نصیب، نصیبِ تو منزلیست کہ نیست
جہاں ز پرتوِ سیماے تو سَمَن زارے
فروغِ داغِ تو از جلوۂ دلیست کہ نیست
سوئے ستارہ رقیبانہ دید و ہیچ نَگُفت
(میں نے لمبا سفر کیا اور چاند سے پوچھا، تیرے نصیب میں سفر ہی سفر ہے لیکن کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں۔ جہان تیری چاندنی سے سمن زار بنا ہوا ہے لیکن تیرے اندر جو داغ ہے اسکی چمک دمک کسی دل کی وجہ سے ہے یا نہیں ہے؟ اس نے ستارے کی طرف رقیبانہ نظروں سے دیکھا اور کچھ نہ کہا)۔

شُدَم بَحَضرَتِ یزداں گُذَشتَم از مہ و مہر
کہ در جہانِ تو یک ذرّہ آشنایَم نیست
جہاں تہی ز دِل و مُشتِ خاکِ من ہمہ دل
چَمَن خوش است ولے درخورِ نوایَم نیست
تَبَسّمے بَلَبِ اُو رَسید و ہیچ نَگُفت
(میں چاند اور سورج سے گزر کر خدا کے حضور پہنچا اور کہا کہ تیرے جہان میں ایک بھی ذرہ میرا آشنا نہیں ہے۔ تیرا جہان دل سے خالی ہے اور میں (مشتِ خاک) تمام کا تمام دل ہوں۔ تیرا دنیا کا چمن تو اچھا ہے لیکن میری نوا کے لائق نہیں کہ میرا کوئی ہمزباں نہیں۔ اسکے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیلی اور اس نے کچھ نہ کہا)۔
———–

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن میں فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
تقطیع -
بہ بحر رَفتَم و گُفتَم بہ موجِ بیتابے
ہمیشہ در طلب استی چہ مشکلے داری؟
بَ بحر رف - مفاعلن - 2121
تَ مُ گُفتم - فعلاتن - 2211
بَ موجِ بے - مفاعلن - 2121
تابے - فعلن - 22
ہمیشَ در - مفاعلن - 2121
طَلَ بستی - فعلاتن - 2211
چ مشکلے - مفاعلن - 2121
داری - فعلن - 22
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 10, 2008

پرتو روہیلہ کی ایک غزل - دکھ تو مضمر ہی میری جان میں تھے

دکھ تو مضمر ہی میری جان میں تھے
میرے دشمن مرے مکان میں تھے

ناخدا سے گِلہ نہ موسم سے
میرے طوفاں تو بادبان میں تھے

سب شکاری بھی مل کے کیا کرتے
شیر بیٹھے ہوئے مچان میں تھے

یہ قصیدے جو تیری شان میں ہیں
یہ قصیدے ہی اس کی شان میں تھے

یہ جو تیری وفا کے گاہک ہیں
یہ ابھی دوسری دکان میں تھے

تیشۂ وقت ہی بتائے گا
کتنے چہرے ابھی چٹان میں تھے

میں ہی اپنا رقیب تھا پرتو
میرے جذبے ہی درمیان میں تھے
(پرتو روہیلہ)
———
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مَفاعِلُن فعلُن
(اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں، تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)
اشاری نظام - 2212 2121 22
تقطیع
دکھ تو مضمر ہی میری جان میں تھے
میرے دشمن مرے مکان میں تھے
دک تُ مضمر - فاعلاتن - 2212
ہِ میرِ جا - مفاعلن - 2121
ن م تھے - فَعِلن - 211
میرِ دشمن - فاعلاتن - 2212
مرے مکا - مفاعلن - 2121
ن م تھے - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 3, 2008

بیدل حیدری کی ایک غزل - بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچّے

ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچّے

کیا بھروسہ ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچّے

ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچّے

یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچّے
(بیدل حیدری)
———
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُنپہلے رکن یعنی فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فَعِلاتُن بھی آ سکتا ہے اور آخری رکن یعنی فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں گویا آٹھ اوزان اس بحر میں جمع ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
تقطیع
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچّے
بھوک چہرو - فاعلاتن - 2212
پ لِ یے چا - فعلاتن - 2211
د سِ پارے - فعلاتن - 2211
بچ چے - فعلن - 22
بیچتے پر - فاعلاتن - 2212
تِ ہِ گلیو - فعلاتن - 2211
مِ غبارے - فعلاتن - 2211
بچ چے - فعلن - 22
مزید پڑھیے۔۔۔۔