Mar 25, 2009

مرزا رفیع سودا کی ایک غزل - گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

Mirza Rafi Sauda, مرزا رفیع سودا, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Mirza Rafi Sauda, مرزا رفیع سودا
مرزا رفیع سودا کا شمار ان خوش قسمت شعراء میں ہوتا ہے جنہیں میر تقی میر شاعر بلکہ "مکمل شاعر" سمجھتے تھے۔ اردو شاعری کی بنیادوں کو مضبوط تر بنانے میں سودا کا نام لازوال مقام حاصل کر چکا ہے اور جب تک اردو اور اردو شاعری رہے گی انکا نام بھی رہے گا۔
سودا کی ایک غزل جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی

کیا ضد ہے مرے ساتھ، خدا جانئے ورنہ
کافی ہے تسلّی کو مرے ایک نظر بھی

اے ابر، قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے
تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لختِ جگر بھی

اے نالہ، صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے
پایا نہ تنک دیکھنے تَیں رُوئے اثر بھی

کس ہستیٔ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار
کچھ اپنے شب و روز کی ہے تجھ کو خبر بھی

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش
رہتا ہے سدا چاک، گریبانِ سحر بھی

سودا، تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات
آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی
--------
بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولُن
(آخری رکن فعولن کی جگہ فعولان یا مفاعیل بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی
گل پے کِ - مفعول - 122
ہِ اورو کِ - مفاعیل - 1221
طرف بلکہ - مفاعیل - 1221
ثمر بی - فعولن - 221
اے خانہ - مفعول - 122
بَ رَندازِ - مفاعیل - 1221 (الفِ وصل ساقط ہوا ہے)۔
چمن کچ تُ - مفاعیل - 1221
اِدَر بی - فعولن - 221

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو غزل, بحر ہزج, بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف, تقطیع, کلاسیکی اردو شاعری, مرزا رفیع سودا

3 comments:

  1. جناب کیا آپ "ب رنداز" کی تشریح کرنا پسند کریں گے۔ یہ "بر نداز" کیوں نہیں ہو سکتا؟
    اگر آپ یونہی بلاگ لکھتے رہے تو ایک دن ہم باقاعدہ علم عروض کیساتھ غزل کہنا شروع کر دیں گے۔

    ReplyDelete
  2. بہت عمدہ ۔۔۔ کبھی شکیب جلالی کے بارے میں بھی کچھ لکھئے۔۔۔

    ReplyDelete
  3. شکریہ افضل صاحب اور جعفر صاحب، جعفر صاحب انشاءاللہ شکیب جلالی کے بارے میں بھی لکھنے کی کوشش کرونگا۔

    افضل صاحب، دراصل الفاظ میں ایک الف ایسا ہوتا ہے کہ جو اگر ختم بھی کر دیں تو تلفظ میں فرق نہیں پڑتا جیسے

    "آج اُس" اس کو اگر "آ جُس" بھی بولیں تو آواز وہی ہے اسی طرح "رات اب کو رَ تَب یا رات آئی کو 'را تائی' وغیرہ۔

    لیکن شعری پیمانے میں اس کا وزن پر فرق پڑتا ہے جیسے 'بر انداز' کو بَ رَنداز کرنے سے۔

    دراصل اس بحر میں یہ لفظ 'مفاعیل' کے مقابل آ رہا ہے یعن 'مَ فا عی ل' اب اگر اس کو 'بر ان دا ز' سمجھیں تو یہ مفاعیل کے پیمانے سے باہر ہو جائے گا، لیکن اگر اس کو 'بَ رن دا ز' سمجھیں تو یہ 'م فا عی ل' کے وزن پر ہے اور اس لیے اس شعر میں شاعر نے یہ لفظ استعمال کیا ہے اور باقی سب جان گئے کہ شاعر نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔

    یعنی الف کو ساقط کرنے کا عمل شاعر کی کیلیے ایک 'رعایت' ہے اور وہ اس لیے کہ چونکہ تلفظ پر تو فرق پڑے گا نہیں سو شاعر کو الف ساقط کر کے اپنی مرضی کے الفاظ لانے کی اجازت ہے۔

    وقت کی قلت کی وجہ سے میرا ایک دیرینہ خواب "آسان علم عروض" نامی کتاب لکھنے کا ادھورا ہے لیکن شاید اسی نام کا میں کبھی بلاگ لکھنا شروع کر دوں، باقی جو اللہ کو منظور۔

    ReplyDelete