Dec 3, 2010

ایک خوبصورت بحر - بحرِ خفیف

یہ مضمون نومبر 2007ء میں لکھا تھا اور "اردو محفل" پر شائع کیا۔
------------------------
حصۂ اول ۔ بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع - تعارف اور اوزان
بڑی بحر ایک دریا کی مانند ہوتی ہے۔ طغیانی میں ہو تو ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے۔ موج میں ہو تو لہریں گنتے جاؤ اور ختم نہ ہوں اور اگر کہیں روانی میں کمی آ جائے تو جگہ جگہ جوہڑ بن جاتے ہیں، 'بڈھے' روای کی طرح۔ اس کے مقابلے میں چھوٹی بحر ایک گنگناتی، لہراتی، بل کھاتی، مچلتی ندی کی طرح ہے۔ اور جیسے کسی دیو ہیکل پہاڑ کی اوٹ سے جھرنا ایک دم آنکھوں کے سامنے خوشنما منظر لیے آجاتا ہے اسی طرح چھوٹی بحروں میں کہی ہوئی بات دھم سے آنکھوں کو چکا چوند کردیتی ہے اور دماغ بغیر سوچ و بچار میں پڑے فوراً روشن ہو جاتا ہے۔

چھوٹی بحروں میں شاعری کرنا ہر شاعر کا مشغلہ رہا ہے۔ اساتذہ سے لیکر موجودہ عصر تک ہر شاعر نے ان بحروں میں طبع آزمائی کی ہے، اور اصنافِ سخن میں سے غزل کو اس میں خاص امتیاز حاصل ہے۔ تھوڑے اور گنے چنے الفاظ میں غزل کی رنگینیٔ بیاں کو نبھاتے ہوئے دو مصرعوں میں بات مکمل کر دینا بلکہ سامع تک پوری بلاغت سے پہنچا دینا واقعتاً ایک معانی رکھتا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ چھوٹی بحروں میں کہی ہوئی اچھی غزلیں اردو ادب میں سدا بہار کا مقام رکھتی ہیں اور ان غزلوں کے اشعار اور مصرعے ضرب المثل کا مقام حاصل کرچکے ہیں۔

انہی چھوٹی بحروں میں ایک بحر، بحرِ خفیف ہے۔ بحرِ خفیف ایک مسدس (تین ارکان والی) بحر ہے اور تقریباً تمام مسدس بحریں چھوٹی ہیں کہ ان میں مثمن (چار ارکان والی) بحروں کے مقابلے میں ایک رکن کم ہوتا ہے اور پھر زحافات کا استعمال انہیں مزید مختصر کیے ہی چلا جاتا ہے۔ بحرِ خفیف کی ایک مزاحف شکل ،بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع' کا تعارف اور اس مخصوس بحر میں کہی ہوئی مشہور غزلیات کی ایک فہرست اس مضمون کا مقصود ہے۔

وجۂ تسمیہ
بحرِ خفیف کی وجۂ تسمیہ صاحبِ بحر الفصاحت، مولوی نجم الدین غنی رامپوری نے یہ بیان کی ہے۔
"خفیف کے معنی ہلکے ہیں۔ چونکہ اس بحر کے سب ارکان ہلکے ہیں بسب اس کے کہ دو سبب وتد مجموع کو گھیرے ہوئے ہیں، اس لئے اس بحر کا نام خفیف رکھا ہے۔ اس بحر کو متاخرین شعرائے ریختہ نے سوائے مسدس مزاحف کے اور کسی طرح استعمال نہیں کیا۔"

آخری جملے سے یہ بھی معلومات ملتی ہیں کہ اب سالم حالت میں، مثمن و مسدس و مربع، یہ بحر استعمال نہیں ہوتی اور مزاحف بھی صرف مسدس (یعنی جس بحر کے ایک مصرعے میں تین رکن ہوں) استعمال ہوتی ہے۔

اوزان
بحرِ خفیف سالم الاصل کے اوزان یہ ہیں۔

مثمن۔ فاعِلاتُن مُستَفعِلُن فاعِلاتُن مُستَفعِلُن
مسدس۔ فاعِلاتُن مُستَفعِلُن فاعِلاتُن


لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ مضمون بحر خفیف کی ایک مسدس مزاحف شکل 'بحر خفیف مسدس مخبون مخذوف مقطوع' کے متعلق ہے اور اسی بحر کے اوزان سے یہاں بحث کی جائے گی۔
بحر خفیف مسدس مخبون مخذوف مقطوع کا وزن 'فاعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن' ہے (فعلن میں ع کے سکون کے ساتھ)۔ اس بحر کا یہ وزن بحر خفیف مسدس سالم الاصل پر زحافات کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے، یہ زحافات بحر کے نام میں ہی شامل ہیں یعنی زحافات خبن، حذف اور قطع۔
اس بحر کے وزن میں میں کچھ رعائیتیں اور اجازتیں دی گئی ہیں جس سے اس بحر کا حسن بہت بڑھ جاتا ہے اور ایک ہی بحر میں رہتے ہوئے اپنی مرضی کے اور فصیح سے فصیح تر الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اجازتیں کچھ اسطرح سے ہیں۔

1- اس بحر یعنی خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع کو بحر خفیف مسدس کی ہی ایک اور مزاحف صورت 'خفیف مسدس مخبون محذوف' کے ساتھ جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس بحر کا وزن 'فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعِلُن' ہے (فعِلن میں ع کے کسرے یا زیر کے ساتھ)۔

2- ان دونوں مسدس بحروں یعنی مخبون محذوف مقطوع اور مخبون محذوف کے صدر و ابتدا (یعنی بالترتیب ہر شعر کے پہلے مصرعے کے پہلے رکن اور دوسرے مصرعے کے پہلے رکن) اور عروض و ضروب (یعنی بالترتیب ہر شعر کے پہلے مصرعے کے آخری رکن اور دوسرے مصرعے کے آخری رکن) میں ان اوزان کو جمع کرنے کی اجازت ہے۔

اول۔ صدو ابتدا میں جو اس بحر میں 'فاعلاتن' ہے کو اس رکن کی مخبون شکل یعنی 'فَعِلاتُن' کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ اور ایک شعر میں دونوں اوزان لا سکتے ہیں۔

دوم۔ عروض و ضروب میں جو اس بحر میں فَعلُن (عین کے سکون کے ساتھ) ہے کو فَعِلُن (عین کے کسرہ کے ساتھ) اور ان دونوں کی ہی مسبغ اشکال یعنی فَعلان (عین کے سکون کے ساتھ) اور فَعِلان (عین کے کسرہ کے ساتھ) کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔

3- حشو (یعنی صدر و ابتدا اور عروض و ضروب کے درمیان آنے والے تمام اراکین) جو اس بحر میں صرف 'مفاعِلن' ہے کو کسی اور رکن کے ساتھ تبدیل نہیں کر سکتے وگرنہ بحر بدل جائے گی۔
اوپر دئے گئے اصولوں کی مدد سے اگر اس بحر میں جمع کئے جانے والے اوازن کی ایک فہرست بنائی جائے تو اس بحر میں تکنیکی طور پر آٹھ اوزان کو ایک ہی غزل میں یا ان میں سے کسی دو کو ایک ہی شعر میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ یہ فہرست کچھ اسطرح سے ہے۔

1- فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن (فعلن میں عین کے سکون کے ساتھ)
2- فَعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
3- فاعِلاتن مفاعِلن فعلان (فعلان میں عین کے سکون کے ساتھ)
4- فَعِلاتن مفاعِلن فعلان
5- فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلُن (فعِلن میں عین کے کسرہ کے ساتھ)
6- فَعِلاتن مفاعلن فَعِلُن
7- فاعِلاتن مفاعلن فعِلان (فعِلان میں عین کے کسرہ کے ساتھ)
8- فَعِلاتن مفاعِلن فعِلان

یہاں پر ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ کلاسیکی عروض میں اوپر دیئے گئے آٹھوں اوزان کی بحروں کے علیحدہ علیحدہ نام تھے لیکن ان سب کو ایک ہی غزل میں جمع کرنے کی اجازت تھی لیکن جدید فارسی اور اردو عروض میں ان آٹھ اوزان کو تو علیحدہ مانا جاتا ہے اور جمع بھی کر سکتے ہیں لیکن آٹھ بحروں کی بجائے انھیں دو بحریں ہی تصور کیا جاتا ہے کہ عملی لحاظ سے یہ بات بالکل صحیح ہے۔

مختلف اوزان کو جمع کرنے کی امثال

اب ہم اوپر دیئے گئے اوزان کو ایک ہی غزل میں جمع کرنے کی دو مثالیں دیکھتے ہیں۔ یوں تو بے شمار غزلیں ہیں جن میں مندرجہ بالا اوزان کو جمع کیا گیا ہے لیکن میں نے اس کیلیے ایک غالب کی اور ایک فیض کی غزل منتخب کی ہے اور دیکھتے ہیں کہ ان دو عظیم شعرا نے کس مہارت کے ساتھ مختلف اوزان کو ایک ہی غزل میں جمع کیا ہے۔

غالب کی غزل کے اشعار

نے گُلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز

مصرع اول عروضی متن و وزن
نے گُ لے نغ (فاعلاتن) مَ ہو نَ پر (مفاعِلن) دَ ء ساز (فعِلان) یہ فاعلاتن مفاعلن فعِلان اوپر دی گئی فہرست میں وزن نمبر 7 ہے۔

مصرع ثانی عروضی متن و وزن
مے ہُ اپنی (فاعلاتن) شکست کی (مفاعلن) آواز (فعلان)۔ فاعلاتن مفاعلن فعلان۔ وزن نمبر 3۔

تُو اور آرائشِ خمِ کاکُل
میں اور اندیشہ ہائے دور و دراز

مصرع اول عروضی متن و وزن
تُو اَ را را (فاعلاتن) ء شے خَ مے (مفاعلن) کاکل (فعلن)۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن، وزن نمبر 1۔

مصرع ثانی عروضی متن و وزن
مے اَ رن دے (فاعلاتن) شَ ہاے دُو (مفاعلن) ر دراز (فعِلان) وزن نمبر 7۔

لافِ تمکیں فریب سادہ دلی
ہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز

مصرع اول عروضی متن و وزن
لاف تمکیں (فاعلاتن) فریب سا (مفاعلن) دَ دلی (فعِلن)۔ فاعلاتن مفاعلن فعِلن۔ وزن نمبر 5۔

مصرع ثانی۔ وزن نمبر 7 میں ہے۔

نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گل باز

مصرع اول عروضی متن و وزن
نَ ہِ دل میں (فعلاتن) مرے وُ قَط (مفاعلن) رَ ء خو (فعِلن)۔ فعلاتن مفاعلن فعِلن۔ وزن نمبر 6۔
مصرع ثانی وزن نمبر 3 میں ہے۔

یوں اس غزل میں غالب نے پانچ اوزان جمع کئے ہیں جو کہ اوپر والی فہرست کے مطابق اوزان نمبر 1، 3، 5، 6 اور 7 بنتے ہیں۔

فیض کی غزل کے اشعار

اب فیض احمد احمد فیض کی ایک غزل کے اشعار دیکھتے ہیں۔

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

مصرع اول عروضی متن و وزن
آے کچ اب (فاعلاتن) ر کچ شرا (مفاعلن) بائے (فعلن)۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن۔ وزن نمبر 1۔
مصرع ثانی عروضی متن و وزن

اس کِ بع دا (فاعلاتن) ء جو عذا (مفاعلن) بائے (فعلن)۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن۔ وزن نمبر 1۔

عمر کے ہر وَرق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

مصرع اول عروضی متن و وزن
عمر کے ہر (فاعلاتن) ورق پہ دل (مفاعلن) کُ نظر (فعِلن)۔ فاعلاتن مفاعلن فعِلن۔ وزن نمبر 5۔

مصرع ثانی، وزن نمبر 1 میں ہے۔

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

مصرع اول عروضی متن و وزن
کر رہا تھا (فاعلاتن) غَ مے جہا (مفاعلن) کَ حساب (فعِلان)۔ فاعلاتن مفاعلن فعِلان۔ وزن نمبر 7۔

مصرع ثانی، وزن نمبر 1 میں ہے۔

نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

مصرع اول عروضی متن و وزن
نَ گئی تے (فعلاتن) رِ غم کِ سر (مفاعلن) داری (فعلن)۔ فعلاتن مفاعلن فعلن۔ وزن نمبر 2۔

مصرع ثانی، وزن نمبر 1 میں ہے۔

جل اٹھے بزمِ غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

مصرع اول عروضی متن و وزن
جل اٹھے بز (فاعلاتن) مِ غیر کے (مفاعلن) در بام (فعلان)۔ فاعلاتن مفاعلن فعلان۔ وزن نمبر 3۔

مصرع ثانی، وزن نمبر 1 میں ہے۔

اس غزل میں فیض نے مجموعی طور پر پانچ اوزان جمع کئے ہیں جو اوپر والی اوزان کی فہرست کے مطابق وزن نمبر 1، 2، 3، 5 اور 7 ہیں۔

آٹھوں اوزان کی امثال (اوزان کے نمبر اوپر والی فہرست کے مطابق ہیں)

شعر فیض
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

دونوں مصرعے 'فاعلاتن مفاعلن فعلن' میں ہیں (وزن نمبر 1)

شعرِ فیض
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

اس شعر کا پہلا مصرع 'فعِلاتن مفاعلن فعلن' میں ہے (وزن نمبر 2)۔ دوسرا مصرع وزن نمبر 1 میں ہے۔

شعرِ فیض
جل اٹھے بزمِ غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

پہلا مصرع 'فاعلاتن مفاعلن فعلان' میں ہے (وزن نمبر 3)، دوسرا مصرع وزن نمبر 1 میں ہے۔

شعر مصحفی
نہ تو مے لعلِ یار کے مانند
نہ گل اس کے عذار کے مانند

دونوں مصرعے 'فعلاتن مفاعلن فعلان' میں ہیں (وزن نمبر 4)۔

شعرِ فیض
عمر کے ہر وَرَق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے

پہلا مصرع 'فاعلاتن مفاعلن فعِلن' میں ہے (وزن نمبر 5)۔

شعرِ غالب
نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گل باز

پہلا مصرع 'فعلاتن مفاعلن فعِلن' میں ہے (وزن نمبر 6)۔ دوسرا مصرع وزن نمبر 3 میں ہے۔

شعرِ فیض
کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

پہلا مصرع 'فاعلاتن مفاعلن فعِلان' وزن نمبر 7 میں ہے۔

شعرِ داغ
غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریق
کہ زمانے کے ہیں ہزار طریق

دوسرا مصرع 'فعلاتن مفاعلن فعِلان' میں ہے (وزن نمبر 8)۔ پہلا مصرع وزن نمبر 7 میں ہے۔

مشابہت

بحروں میں مشابہت کے حوالے سے محمد حسین آزاد کا آبِ حیات میں تحریر کردہ ایک واقعہ یاد آگیا جو انہوں انشاءاللہ خان انشا کے تذکرے میں بیان کیا ہے۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان میں مرزا عظیم بیگ تھے کہ سودا کے دعوٰی شاگردی اور پرانی مشق کے گھمنڈ نے انکا دماغ بہت بلند کر دیا تھا۔ وہ فقط شد بود کا علم رکھتے تھے مگر اپنے تئیں ہندوستان کا صائب کہتے تھے اور خصوصاً ان معرکوں میں سب سے بڑھ کر قدم مارتے تھے۔ چنانچہ وہ ایک دن میر ماشاءاللہ خاں کے پاس آئے اور غزل سنائی کہ بحر رجز میں تھی مگر ناواقفیت سے کچھ شعر رمل میں جا پڑے تھے۔ سید انشاءاللہ بھی موجود تھے، تاڑ گئے۔ حد سے زیادہ تعریف کی اور اصرار سے کہا کہ مرزا صاحب اسے آپ مشاعرے میں ضرور پڑھیں۔ مدعی کمال کہ مغز سخن سے بے خبر تھا اس نے مشاعرہ عام میں غزل پڑھ دی۔ سید انشاءاللہ نے وہیں تقطیع کی فرمائش کی۔ اس وقت اس غریب پر جو گزری سو گزری مگر سید انشاءاللہ نے اس کے ساتھ سب کو لے ڈالا اور کوئی دم نہ مار سکا۔ بلکہ ایک مخمس بھی پڑھا، جس کا مطلع یہ ہے۔

گر تو مشاعرے میں صبا آج کل چلے
کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
اتنا بھی حد سے اپنی نہ باہر نکل چلے
پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے"

اس واقعے کا ذکر مولوی نجم الدین غنی نے عیوبِ عروض کے تحت کیا ہے اور شعراء کرام کو متنبہ کیا ہے جو بحریں آپس میں متشابہ ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔

اور یہ بات ہماری مذکورہ بحر کیلیے بھی حرف بحرف صحیح ہے کہ اس بحر کی مشابہت یوں تو کئی بحروں کے ساتھ ہے لیکن بحر 'رمل مسدس مخبون محذوف مقطوع' کے ساتھ تو حد سے زیادہ متشابہ ہے۔ اس دوسری بحر کا وزن 'فاعلاتن فعِلاتن فعلن' ہے اور اسکے صدر و ابتدا اور عروض و ضروب میں بھی وہی اور اتنے ہی اوزان آ سکتے ہیں جو کہ بحرِ خفیف کے ہیں یعنی اس میں بھی مجموعی طور پر آٹھ اوزان جمع ہو سکتے ہیں لیکن خفیف اور رمل مقطوع میں فرق یہ ہے کہ خفیف کا حشو 'مفاعلن' جب کہ رمل کا حشو 'فعِلاتن' ہے۔ اگر آپ اوپر دیئے گئے آٹھ اوزان کی فہرست دیکھیں تو نوٹ کریں گے کہ ان آٹھ اوزان میں صدر و ابتدا اور عروض و ضروب تو تبدیل ہو رہے ہیں لیکن حشو تبدیل نہیں ہو رہا بعینہ اسی طرح 'رمل' میں حشو 'فعِلاتن' تبدیل نہیں ہوتا اور صدر و ابتدا اور عروض و ضروب وہی ہیں جو 'خفیف' کے ہیں۔

یہ ایک انتہائی لطیف اور کم فرق ہے، یہ ایسے ہی جیسے آپ کہیں 'دعا یہ ہے' تو یہ بر وزن 'مفاعلن' ہے لیکن اگر کہیں 'یہ دعا ہے' تو یہ 'فعِلاتن' کے وزن پر ہے اور صرف ایک حرف کی جگہ تبدیل کرنے سے بحر بدل جائے گی۔

حصۂ دوم - بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع میں کہی گئی کچھ مشہور غزلیات

اس مضمون کا عنوان "ایک خوبصورت بحر" میرے ذہن میں اس بحر میں کہی گئی مشہور غزلیات کو دیکھ کر آیا تھا۔ اور دوسری بات یہ تھی کہ اس بحر میں کہی گئی غزلیات ہمارے گلوکاروں میں بھی مقبول رہی ہیں اور بعضوں نے تو بہت اچھے انداز میں انہیں گایا ہے۔ انہی غزلیات میں سے کچھ غزلیات نیچے دی جا رہی ہیں۔ فہرست بالکل اور مکمل تاریخی ترتیب سے نہیں ہے لیکن بہرحال زمانے کا میں نے خیال رکھا ہے۔ ایک التزام میں نے یہ کیا ہے کہ ہر غزل کا مطلع دیا ہے اور اسکے ساتھ کچھ مشہور یا اپنی پسند کے اشعار بھی دے دیئے ہیں۔

ولی دکنی
دل ہوا ہے مرا خرابِ سخن
دیکھ کر حسن بے حجابِ سخن

راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن

اے ولی دردِ سر کبھو نہ رہے
جب ملے صندل و گلابِ سخن

ولہ
خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ میں غلام کرتے ہیں

دل لجاتے ہیں اے ولی میرا
سرو قد جب خرام کرتے ہیں

ولہ
عارفاں پر ہمیشہ روشن ہے
کہ فنِ عاشقی عجب فن ہے

مجکوں روشن دلاں نے دی ہے خبر
کہ سخن کا چراغ روشن ہے

ولہ
عشق بے تاب جاں گدازی ہے
حسن مشتاقِ دل نوازی ہے

اے ولی عیشِ ظاہری کا سبب
جلوۂ شاہدِ مجازی ہے

میر تقی میر
یہ بحر میر کی مرغوب ترین بحروں میں سے لگتی ہے کہ میر کے اس بحر میں سو کے قریب غزلیات صرف دیوانِ اول ہی میں ہیں۔

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

ولہ
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میر بھاری پتھّر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

ولہ
قصد اگر امتحان ہے پیارے
اب تلک نیم جان ہے پیارے

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے

میر عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے

ولہ
بار ہا گور دل جھکا لایا
اب کی شرطِ وفا بجا لایا

ابتدا ہی میں مر گئے سب یار
عشق کی کون انتہا لایا

اب تو جاتے ہیں بتکدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا

ولہ
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا

ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا

عشق کو حوصلہ ہے شرط ورنہ
بات کا کسو ڈھب نہیں آتا

دور بیٹھا غبارِ میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

ولہ
ہے غزل میر یہ شفائی کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی

وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میر
کس بھروسے پہ آشنائی کی

ولہ
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں
ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے

ولہ
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پر خوں کی اک گلابی سے

کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

ولہ
گل و بلبل بہار میں دیکھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا

جن بلاؤں کو میر سنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا

ولہ
تا بہ مقدور انتظار کیا
دل نے پھر زور بے قرار کیا

یہ توہّم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

سخت کافر تھا جن نے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کیا

ولہ
گل کو محبوب میں قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا

صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
ولہ
خوب رو سب کی جان ہوتے ہیں
آرزوئے جہان ہوتے ہیں
کیا رہا ہے مشاعرے میں اب
لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
میر و مرزا رفیع و خواجہ میر
کتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
ولہ
ہو گئی شہر شہر رسوائی
اے مری موت تو بھلی آئی
میر جب سے گیا ہے دل تب سے
میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
ولہ
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاسِ ناموسِ عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
میر صاحب رولا گئے سب کو
کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
ولہ
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
حق شناسوں کا ہاں خدا ہے عشق
کوہ کن کیا پہاڑ کاٹے گا
پردے میں زور آزما ہے عشق
کون مقصد کو عشق بنِ پہنچا
آرزو عشق، مدّعا ہے عشق
خواجہ میر درد
جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تُو ہی آیا نظر، جدھر دیکھا
اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سَو سَو طرح سے مر دیکھا
زور عاشق مزاج ہے کوئی
درد کو قصّہ مختصر دیکھا
ولہ
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
کہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا
ان نے قصداً بھی میرے نالے کو
نہ سنا ہوگا، گر سنا ہوگا
دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا جو رہ گیا ہوگا
دل بھی اے درد قطرۂ خوں تھا
آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
ولہ
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے
اِن دنوں کچھ عجب حال ہے مرا
دیکھتا کچھ ہوں، دھیان میں کچھ ہے
انشاءاللہ خاں انشا
ضعف آتا ہے، دل کو تھام تو لو
بولیو مت، مگر سلام تو لو
انھیں باتوں پہ لوٹتا ہوں میں
گالی پھر دے کے میرا نام تو لو
یک نگہ پر بِکے ہے انشا آج
مفت میں مول اک غلام تو لو
حیدر علی آتش
غیرتِ مہر، رشک ماہ ہو تم
خوبصورت ہو، بادشاہ ہو تم
کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤ
کیسے خوش چشم، خوش نگاہ ہو تم
غلام ہمدانی مصحفی
خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا
ہجر تھا یا وصال تھا کیا تھا
جس کو ہم روزِ ہجر سمجھے تھے
ماہ تھا یا وہ سال تھا کیا تھا
مصحفی شب جو چپ تُو بیٹھا تھا
کیا تجھے کچھ ملال تھا کیا تھا
ولہ
یوں تو دنیا میں کیا نہیں ملتا
پر دلِ با صفا نہیں ملتا
بت پرستی سے باز آ اے دل
بت کے پوجے سے خدا نہیں ملتا
ہو کے روکھا وہ یوں لگا کہنے
کیا کرے گا بے، جا نہیں ملتا
ولہ
نہ تو مے لعلِ یار کے مانند
نہ گل اس کے عذار کے مانند
پھر گئیں ہم سے یار کی آنکھیں
گردشِ روزگار کے مانند
تربتِ مصحفی کو دیکھا کل
ڈھیر تھا اک مزار کے مانند
میرزا غالب
غالب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کے انتہائی مختصر سے دیوان میں جتنی مشہور غزلیں ہیں شاید ہی کسی اور شاعر کی ہوں۔ اور یہی معاملہ اس بحر کے ساتھ ہے کہ کل ملا کر کوئی دس کے لگ بھگ غزلیں اس بحر میں ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک، اور ہر غزل کا تقریباً ہر شعر ہی لا جواب ہے۔ غزلوں کے علاوہ کچھ قطعات اور مثنوی 'در صفتِ انبہ' بھی اسی بحر میں ہے۔
درد منّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچّھا ہوا، بُرا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گِلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا
ولہ
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
فکرِ دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
ولہ
کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معیّن ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
ولہ
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امّید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
ولہ
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
سینہ جویائے زخمِ کاری ہے
پھر اُسی بے وفا پہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
ولہ
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو، جو کچھ ہو
کاشکے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی، یا رب کئی دیے ہوتے
ولہ
پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے، باد پیمائی
ولہ
نے گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
تُو اور آرائشِ خمِ کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دور و دراز
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
میں غریب اور تُو غریب نواز
ولہ
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
جب توقّع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گِلا کرے کوئی
ولہ
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
توبہ توبہ، خدا خدا کیجے
رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہوگی
پہلے دل درد آشنا کیجے
موت آتی نہیں کہیں غالب
کب تک افسوس زیست کا کیجے
مومن خاں مومن
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج، راحت فزا نہیں ہوتا
اس نے کیا جانے، کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومن
صنم آخر خدا نہیں ہوتا
ولہ
قہر ہے، موت ہے، قضا ہے عشق
سچ تو یہ ہے بری بلا ہے عشق
دیکھئے کس جگہ ڈبو دے گا
میری کشتی کا نا خدا ہے عشق
آپ مجھ سے نباہیں گے، سچ ہے
با وفا حسن، بے وفا ہے عشق
قیس و فرہاد و وامق و مومن
مر گئے سب ہی، کیا وبا ہے عشق
ولہ
مجھ کو تیرے عتاب نے مارا
یا مرے اضطراب نے مارا
مومن از بس ہیں بے شمار گناہ
غمِ روزِ حساب نے مارا
ولہ
امتحاں کے لئے جفا کب تک
التفاتِ ستم نما کب تک
مر چلے اب تو اس صنم سے ملیں
مومن اندیشۂ خدا کب تک
ولہ
عشق نے یہ کیا خراب ہمیں
کہ ہے اپنے سے اجتناب ہمیں
اے تپِ ہجر دیکھ مومن ہیں
ہے حرام آگ کا عذاب ہمیں
ابراہیم ذوق
وقتِ پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسی خواب کی باتیں
پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو
دلِ خانہ خراب کی باتیں
تجھ کو رسوا کرئینگی خوب اے دل
تیری یہ اضطراب کی باتیں
ولہ
خوب روکا شکایتوں سے مجھے
تُو نے مارا عنایتوں سے مجھے
واجب القتل اس نے ٹھرایا
آیتوں سے روایتوں سے مجھے
ولہ
آنکھ اس پر جفا سے لڑتی ہے
جان کُشتی قضا سے لڑتی ہے
شعلہ بھڑکے گا کیا بھلا سرِ بزم
شمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے
ذوق دنیا ہے مکر کا میداں
نگہ اس کی دغا سے لڑتی ہے
بہادر شاہ ظفر
ہم نے دنیا میں آ کے کیا دیکھا
دیکھا جو کچھ سو خواب سا دیکھا
ہے تو انسان خاک کا پُتلا
لیک پانی کا بلبلا دیکھا
نہ ہوئے تیری خاکِ پا، ہم نے
خاک میں آپ کو ملا دیکھا
ولہ
میں ہوں عاصی کہ پُر خطا کچھ ہوں
تیرا بندہ ہوں، اے خدا کچھ ہوں
سمجھے وہ اپنا خاکسار مجھے
خاکِ رہ ہوں کہ خاکِ پا کچھ ہوں
داغ دہلوی
ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
ولہ
نا روا کہئے، نا سزا کہئے
کہئے کہئے مجھے بُرا کہئے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی دوسرا کہئے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور بے وفا کہئے
ولہ
جالِ زُلفِ سیاہ نے مارا
تیرِ کافر نگاہ نے مارا
کھا گیا مغز ناصحِ ناداں
مجھکو اس خیر خواہ نے مارا
دیکھا اے داغ اہلِ دنیا کو
ہوسِ عزّ و جاہ نے مارا
ولہ
سبق ایسا پڑھا دیا تُو نے
دل سے سب کچھ بھلا دیا تُو نے
نارِ نمرود کو کیا گُل زار
دوست کو یوں بچا دیا تُو نے
داغ کو کون دینے والا تھا
جو دیا، اے خدا دیا تُو نے
ولہ
بات میری کبھی سُنی ہی نہیں
جانتے وہ بُری بھلی ہی نہیں
لطفِ مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کم بخت تُو نے پی ہی نہیں
داغ کیوں تم کو بے وفا کہتا
وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں
ولہ
غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریق
کہ زمانے کے ہیں ہزار طریق
داغ اب فاقہ مست بن بیٹھے
مانگ کھانے کے ہیں ہزار طریق
مولانا حالی
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کس سے آشنائی کی
منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی
دل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سے
رکھئے امّید دل ربائی کی
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالی
انتہا ہے یہ بے حیائی کی
ولہ
حق وفا کے جو ہم جتانے لگے
آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیم
ہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
جی میں ہے، لُوں رضائے پیرِ مغاں
قافلے پھر حرم کو جانے لگے
اکبر الہ آبادی
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہیں
میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں
یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبر
دل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں
ولہ
اس میں عکس آپ کا اتاریں گے
دل کو اپنے یونہی سنواریں گے
پند اکبر کو دیں گے کیا ناصح
گل کو کیا باغباں سنواریں گے
حسرت موہانی
خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں
دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں
شب کی اختر شماریاں نہ گئیں
طرزِ مومن میں مر جا حسرت
تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں
ولہ
نہ کیا بارِ غم کسی نے قبول
غیرِ انساں کہ تھا ظُلُوم و جہُول
بھیجئے تحفۂ درود و سلام
بجنابِ رسول و آلِ رسول
خاصہ بر روح پُر فتوح حسین
نورِ چشمِ علی و جانِ بتول
نوجوانانِ خلد کے سردار
گُلبنِ دوحۂ رسول کے پھول
ولہ
حور و غلماں پہ کیوں فدا ہوتے
اہلِ ظاہر جو پارسا ہوتے
کس قدر سہل ہے حصولِ بقا
دیر لگنی نہیں فنا ہوتے
ولہ
لطف کی اُن سے التجا نہ کریں
ہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں
مل رہے گا جو اُن سے ملنا ہے
لب کو شرمندۂ دعا نہ کریں
جگر مراد آبادی
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
سلسلہ فتنۂ قیامت کا
تیری خوش قامتی سے ملتا ہے
ولہ
عاشقی امتیاز کیا جانے
فرقِ ناز و نیاز کیا جانے
سینۂ نے پہ جو گزرتی ہے
وہ لبِ نے نواز کیا جانے
راہرو راہِ بے خودی ہے جگر
وہ نشیب و فراز کیا جانے
ولہ
عشق کو بے نقاب ہونا تھا
آپ اپنا جواب ہونا تھا
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
ہو چکا روزِ اوّلیں ہی جگر
جس کو جتنا خراب ہونا تھا
ولہ
پھر وہ ہم سے خفا ہے کیا کہیئے
زندگی بے حیا ہے کیا کہیئے
چاندنی ہے، ہوا ہے کیا کہیئے
مفلسی کیا بلا ہے کیا کہیئے
ولہ
زندگی ہے مگر پرائی ہے
مرگِ غیرت تری دہائی ہے
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے
فانی بدایونی
ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا
موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا نہ رہا
مہرباں یہ مزارِ فانی ہے
آپ کا جاں نثار تھا نہ رہا
ولہ
نظر آج ان سے رہ گئی مل کے
آخری کچھ پیام تھے دل کے
خاک ہے تو اُسی گلی کی خاک
اللہ اللہ یہ حوصلے دل کے
مرگِ فانی میں اب تُو دیر نہ کر
سہل فرمانے والے مشکل کے
ولہ
آپ سے شرحِ آرزو تو کریں
آپ تکلیفِ گفتگو تو کریں
وہ اُدھر، رخ اِدھر ہے میّت کا
لوگ فانی کو قبلہ رُو تو کریں
یگانہ چنگیزی
کس کی آواز کان میں آئی
دور کی بات دھیان میں آئی
علم کیا، علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
بات ادھوری مگر اثر دونا
اچھی لکنت زبان میں آئی
میں پیمبر نہیں یگانہ سہی
کیا کمی اس سے شان میں آئی
ولہ
لذّتِ زندگی مبارک باد
کل کی کیا فکر ہر چہ بادا باد
دل سلامت ہے دردِ دل نہ سہی
درد جاتا رہا کہ درد کی یاد
صلح کر لو یگانہ غالب سے
وہ بھی استاد، تم بھی اک استاد
حفیظ جالندھری
دل ابھی تک جوان ہے پیارے
کس مصیبت میں جان ہے پیارے
میں تجھے بے وفا نہیں کہتا
دشمنوں کا بیان ہے پیارے
تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ
ہر زمیں آسمان ہے پیارے
ولہ
کہہ گئے الفراق یارانے
رہ گئے نا تمام افسانے
ماتمِ اہلِ ظرف کے دن ہیں
اِحتراماً بند ہیں مے خانے
ہم نے روکا حفیظ کو ورنہ
اور بھی کچھ لگے تھے فرمانے
نوح ناروی
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں
ظلم سہہ کر جو اُف نہیں کرتے
ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں
نوح کی قدر کوئی کیا جانے
کہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں
ولہ
آپ ہیں، ہم ہیں، مے ہے، ساقی ہے
یہ بھی ایک امرِ اتّفاقی ہے
بے پئے نام تک نہیں لیتا
مجھ کو یہ احترامِ ساقی ہے
اثر لکھنوی
جب نظر سوئے ذات جاتی ہے
تا محیطِ صفات جاتی ہے
ہستی ہوتی ہے اتنی ہی مبہم
جتنی بھی دور بات جاتی ہے
جس کو آنا ہے وہ نہیں آتا
رات آتی ہے رات جاتی ہے
زندگی کا اثر الم کیسا
شے تھی اک بے ثبات جاتی ہے
خمار بارہ بنکوی
ہنسنے والے اب ایک کام کریں
جشنِ گریہ کا اہتمام کریں
ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں
پھر اندھیرے کہاں قیام کریں
اک گذارش ہے حضرتِ ناصح
آپ اب اور کوئی کام کریں
ہاتھ ہٹتا نہیں ہے دل سے خمار
ہم انھیں کس طرح سے سلام کریں
چراغ حسن حسرت
دل بلا سے نثار ہو جائے
آپ کو اعتبار ہو جائے
قہر تو بار بار ہوتا ہے
لطف بھی ایک بار ہو جائے
یا خزاں جائے اور بہار آئے
یا خزاں ہی بہار ہو جائے
دل پہ مانا کہ اختیار نہیں
اور اگر اختیار ہو جائے؟
جوش ملیح آبادی
ہٹ گئے دل سے تیرگی کے حجاب
آفریں اے نگاہِ عالم تاب
آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں
مشورے دے کے ہٹ گئے احباب
جوش کھلتی تھی جن سے دل کی کلی
کیسے وہ لوگ ہو گئے نایاب
ولہ
جب گجر کی صدا جگاتی تھی
ہائے کچھ اور نیند آتی تھی
ہائے وہ زندگی نہیں ملتی
جب ہمیں روز موت آتی تھی
یاد سا ہے کہ اس خرابے میں
کبھی بَرکھا رُت بھی آتی تھی
جوش اب وہ قدم ہیں خاک آلود
جن پہ اکثر وہ سر جھکاتی تھی
فیض احمد فیض
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اترے
دستِ ساقی میں آفتاب آئے
کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
ولہ
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
شکر ہے زندگی تباہ نہ کی
تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی
تیرے دستِ ستم کا عجز نہیں
دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی
ولہ
عشق منّتِ کشِ قرار نہیں
حسن مجبورِ انتظار نہیں
اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں
فیض زندہ رہیں وہ ہیں تو سہی
کیا ہوا گر وفا شعار نہیں
ولہ
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
کافروں کی نماز ہو جائے
عشق دل میں رہے تو رُسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہو جائے
عمر بے سُود کٹ رہی ہے فیض
کاش افشائے راز ہو جائے
ولہ
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمھارے تھے
رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
عمر جاوید کی دعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
ولہ
رازِ الفت چُھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
ولہ
پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی مگر اتنی رائگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
ناصر کاظمی
نیّتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تُو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تُو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
ولہ
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
ساغر صدیقی
وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو
یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
تیری صورت جو اتّفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو
وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو
ولہ
چاندنی کو رسول کہتا ہوں
بات کو با اصول کہتا ہوں
جگمگاتے ہوئے ستاروں کو
تیرے پاؤں کی دھول کہتا ہوں
اتّفاقاً تمھارے ملنے کو
زندگی کا حصول کہتا ہوں
جب میّسر ہوں ساغر و مینا
برق پاروں کو پھول کہتا ہوں
ولہ
مُدّعا کچھ نہیں فقیروں کا
درد ہے لا دوا فقیروں کا
منزلوں کی خبر خدا جانے
عشق ہے راہنما فقیروں کا
میکدے کی حدود میں ہونگے
کیا بتائیں پتا فقیروں کا
ولہ
غم کے مجرم، خوشی کے مجرم ہیں
لوگ اب زندگی کے مجرم ہیں
دشمنی آپ کی عنایت ہے
ہم فقط دوستی کے مجرم ہیں
ہم فقیروں کی صورتوں پہ نہ جا
خدمتِ آدمی کے مجرم ہیں
احمد فراز
زندگی سے یہی گِلہ ہے مجھے
تُو بڑی دیر سے ملا ہے مجھے
تو محبّت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
ہمسفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کوہکن ہو کہ قیس ہو کہ فراز
سب میں اِک شخص ہی ملا ہے مجھے
ولہ
جن کے دم سے تھیں بستیاں آباد
آج وہ لوگ ہیں کہاں آباد
ہم نے دیکھی ہے گوشۂ دل میں
ایک دنیائے بے کراں آباد
کتنے تارے فراز ٹوٹ چکے
ہے ابھی تک یہ خاکداں آباد
ولہ
جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی
نہ توقّع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی
وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی
ولہ
جان سے عشق اور جہاں سے گریز
دوستوں نے کیا کہاں سے گریز
میں وہاں ہوں جہاں جہاں تم ہو
تم کرو گے کہاں کہاں سے گریز
جنگ ہاری نہ تھی ابھی کہ فراز
کر گئے دوست درمیاں سے گریز
سیف الدین سیف
راہ آسان ہوگئی ہوگی
جان پہچان ہوگئی ہوگی
پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہوگئی ہوگی
دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ
ہاں مری جان ہوگئی ہوگی
مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں
موت آسان ہوگئی ہوگی
ولہ
پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں
مدّعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں
کہہ رہا ہے سُکوتِ لالہ و گُل
زخم خوردہ زباں کے ہم بھی ہیں
ساتھ مثلِ غبار ہو لیں گے
منتظر کارواں کے ہم بھی ہیں
ولہ
روز غم آشکار ہوتے ہیں
کیا یہی رازدار ہوتے ہیں
کیا قیامت ہے ہجر کے دن بھی
زندگی میں شمار ہوتے ہیں
سیف اُمّید کے سہارے بھی
کتنے بے اعتبار ہوتے ہیں
منیر نیازی
خلشِ ہجرِ دائمی نہ گئی
تیرے رُخ سے یہ بے رُخی نہ گئی
پوچھتے ہیں کہ کیا ہُوا دل کو
حسن والوں کی سادگی نہ گئی
اور سب کی حکائتیں کہہ دیں
بات اپنی کبھی کہی نہ گئی
ہم بھی گھر سے منیر تب نکلے
بات اپنوں کی جب سہی نہ گئی
ولہ
اور ہیں کتنی منزلیں باقی
جان کتنی ہے جسم میں باقی
زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
مُردہ لوگوں کی عادتیں باقی
وہ تو آ کے منیر جا بھی چکا
اک مہک سی ہے باغ میں باقی
احمد ندیم قاسمی
اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
میں بشر تھا، بشر کے کام آیا
سیم و زر آدمی کے چاکر تھے
آدمی سیم و زر کے کام آیا
فقر و فاقہ میں مر گیا شاعر
شعر، اہلِ نظر کے کام آیا
ولہ
دل نے صدمے بہت اٹھائے ہیں
آپ لیکن ابھی پرائے ہیں
آپ کیوں سامنے نہیں آتے
آپ کیوں روح میں سمائے ہیں
مختصر یہ ہے داستانِ حیات
پھول ڈھونڈے ہیں خار پائے ہیں
کہکشاں ہے غبارِ راہ ندیم
کس نے یہ راستے سُجھائے ہیں
ولہ
اس سے پہلے کہ حشر آنے لگے
کاش انسان مسکرانے لگے
ظلم صدیوں کے رنگ لانے لگے
وہ جو جلتے رہے، جلانے لگے
چاند پر جب سے لوگ جانے لگے
صرف پتھّر زمیں پہ لانے لگے
احسان دانش
اب کہو کارواں کدھر کو چلے
راستے کھو گئے چراغ جلے
عشق غم کو عبور کر نہ سکا
راستے کارواں کے ساتھ چلے
ہم پہ گزری ہیں ہجر کی راتیں
ہم جہنّم میں تھے مگر نہ جلے
ولہ
جو ترے آستاں سے لوٹ آئے
جنّتِ دو جہاں سے لوٹ آئے
بندگی کے مقام سے آگاہ
سرحدِ لامکاں سے لوٹ آئے
اب تو کعبے میں روشنی کر دو
اب تو کُوئے بتاں سے لوٹ آئے
ولہ
جب جوانی کی دھوپ ڈھلتی ہے
خود سری سر جھکا کے چلتی ہے
تجربہ ہے کہ دشمنی اکثر
دوستی کے لہو سے پلتی ہے
دورِ حاضر کی دوستی احسان
کس قدر جلد رُخ بدلتی ہے
راغب مراد آبادی
بزمِ ہستی میں روشنی کیسی
بجھ گیا دل تو زندگی کیسی
زندگی نام ہے محبّت کا
یہ نہیں ہے تو زندگی کیسی
آج میرے سیاہ خانے میں
اللہ اللہ روشنی کیسی
عبدالحمید عدم
بے سبب کیوں گناہ ہوتا ہے
فکرِ فردا گناہ ہوتا ہے
مجھ کو تنہا نہ چھوڑ کر جاؤ
یہ خلا بے پناہ ہوتا ہے
تجھ کو کیا دوسروں کے عیبوں سے
کیوں عبث روسیاہ ہوتا ہے
اُس گھڑی اُس سے مانگ لو سب کچھ
جب عدم بادشاہ ہوتا ہے
ولہ
عہدِ مستی ہے لوگ کہتے ہیں
مے پرستی ہے لوگ کہتے ہیں
غمِ ہستی خریدنے والو
موت سستی ہے لوگ کہتے ہیں
شاید اک بار اُجڑ کے پھر نہ بسے
دل کی بستی ہے لوگ کہتے ہیں
ولہ
جام کھنکے تو بات پیدا ہو
فرقِ موت و حیات پیدا ہو
پہلی دنیا خراب ہے یا رب
دوسری کائنات پیدا ہو
اور ابلیس اک مسلّط کر
تا کہ امن و ثبات پیدا ہو
بشیر بدر
پھول سا کچھ کلام اور سہی
اک غزل اس کے نام اور سہی
کرسیوں کو سنائیے غزلیں
قتل کی ایک شام اور سہی
ولہ
اس کی چاہت کی چاندنی ہوگی
خوب صورت سی زندگی ہوگی
نیند ترسے گی میری آنکھوں کو
جب بھی خوابوں سے دوستی ہوگی
ہم بہت دور تھے مگر تم نے
دل کی آواز تو سنی ہوگی
واصف علی واصف
سوز و ساز و سخن علی مولا
سایۂ ذوالمنن علی مولا
ردّ ِ رنج و محن علی مولا
زینتِ انجمن علی مولا
میرے من کی لگن علی مولا
رازِ خیبر شکن علی مولا
ولہ
رازِ دل آشکار آنکھوں میں
حشر کا انتظار آنکھوں میں
وہ بھی ہوگا کسی کا نورِ نظر
جو کھٹکتا ہے خار آنکھوں میں
رات کیسے بسر ہوئی واصف
دن کو کیوں ہے خمار آنکھوں میں
ولہ
دوستو، دوستی کا نام نہ لو
ہو چکی، دل لگی کا نام نہ لو
مار ڈالے گی شاعری واصف
بھول کر شاعری کا نام نہ لو
ولہ
کب اڑا لے گئی ہوا مت پوچھ
چار تنکوں کا ماجرا مت پوچھ
تُو نے جو کچھ کہا، تجھے معلوم
میں نے دنیا سے کیا سُنا، مت پوچھ
بے گناہی بھی جرم ہے واصف
اور اس جرم کی سزا مت پوچھ
پروین شاکر
زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی
ترکِ الفت کے بعد امیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی
اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی
اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی
ولہ
نیند تو خواب ہو گئی شاید
جنسِ نایاب ہو گئی شاید
ہجر کے پانیوں میں عشق کی ناؤ
کہیں غرقاب ہو گئی شاید
چند لوگوں کی دسترس میں ہے
زیست کم خواب ہو گئی شاید
حبیب جالب
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں
پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں، ان مکینوں میں
دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں
وہ محبّت نہیں رہی جالب
ہم صفیروں میں، ہم نشینوں میں
عبدالعزیز خالد
خانہ برباد و گل بداماں ہے
عشق بارِ نشاطِ حرماں ہے
چور، منہ زور، بور، رشوت خور
دل برَہمن ہے، لب مسلماں ہے
انقلابات ہیں زمانے کے
خالدِ نظم گو، غزل خواں ہے
ولہ
شرم گرچہ ہے مانعِ گفتار
رنگِ چہرہ ہے کاشفِ اسرار
دل کا گھونگھٹ اٹھے تو جب جانیں
اے تہجّد گذار و شب بیدار
کب وہ دن آئے گا کہ جب ہوگا
کسی آزاد مرد کا دیدار
رئیس امروہوی
میں جو تنہا رہِ طلب میں چلا
ایک سایہ مرے عقب میں چلا
صبح کے قافلوں سے نبھ نہ سکی
میں اکیلا سوادِ شب میں چلا
میں کبھی حیرتِ طلب میں رکا
اور کبھی شدّتِ غضب میں چلا
ولہ
گرد میں اَٹ رہے ہیں احساسات
دھیمے دھیمے برس رہی ہے رات
صبح جاگا تو یاد بھی نہ رہا
رات تھی چاندنی کہ چاندنی رات
کیا یہی ہے رئیس امروہی؟
اُڑ کے آئے ہیں دُور سے ذرّات
جون ایلیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
ولہ
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
صحن میں دھوپ پھیل جاتی ہے
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
صہبا اختر
فردِ عصیاں کو وہ سیاہی دے
جس کی وہ زلف بھی گواہی دے
دل کے اجڑے نگر کو کر آباد
اس ڈگر کو بھی کوئی راہی دے
مجھ کو نانِ جویں بنامِ علی
میرے دشمن کو مرغ و ماہی دے
مجرمِ عشق ہوں، مجھے صہبا
جو سزا دے وہ بے گناہی دے
---------
کتابیات
حصۂ اول
1-بحر الفصاحت، مولوی نجم الغنی رامپوری، حصہ دوم علمِ عروض۔ مرتب سید قدرت نقوی۔ مجلسِ ترقی ادب، لاہور۔ 2001

2 - A practical handbook of Urdu Meter, F.W. Pritchett and Kh.A. Khaliq (online version).

حصۂ دوم
1- نقوش غزل نمبر۔ ادارۂ فروغِ اردو، لاہور۔ اکتوبر 1985
2- نقوش میر تقی میر نمبر۔ ادارۂ فروغِ اردو، لاہور۔ اکتوبر 1980
3-بیسویں صدی کی اردو شاعری۔ مرتب اوصاف احمد۔ بُک ہوم، لاہور۔ ستمبر 2003
4- البم، مرتب آغا ذوالفقار خان۔ الحمد پبلی کیشنز، لاہور۔ اکتوبر 1992
5-جب میرا انتخاب نکلے، مرتب محمد آصف بھلی۔ عمر پبلشرز، سیالکوٹ۔ ستمبر 1995
6- غزل در غزل، مرتب یوسف مثالی۔ جہانگیر بُک ڈپو، لاہور۔ 1990
7- احمد فراز سے وصی شاہ تک، مرتب حسن عباسی۔ نستعلیق مطبوعات، لاہور۔ جنوری 2005
8- ساحر لدھیانوی سے بشیر بدر تک، مرتب سید امتیاز احمد۔ نستعلیق مطبوعات، جنوری 2005
9- نسخہ ہائے وفا، فیض احمد فیض۔ مکتبہ کارواں، لاہور۔
10- کلیاتِ احمد فراز، ماورا پبلشرز، لاہور
11- کلیات منیر نیازی، ماورا پبلشرز، لاہور
12- ندیم کی غزلیں، احمد ندیم قاسمی۔ سنگِ میل، لاہور۔ 1991
13- کلیات ساغر صدیقی، مشتاق بُک کارنر، لاہور
14- خم کاکل، سیف الدین سیف۔ الحمد پبلی کیشنز، لاہور، اپریل 1992
15- خوشبو، پروین شاکر۔ مراد پبلی کیشنز، اسلام آباد
16- شب چراغ، واصف علی واصف۔ کاشف پبلی کیشنز، لاہور۔ اکتوبر 1994
17- رسوائی نقاب، عبدالحمید عدم۔ آئینۂ ادب، لاہور
18- دواوین شعرائے کرام (ولی دکنی، میر تقی میر، میر درد، آتش، مصحفی، غالب، مومن، ذوق، بہادر شاہ ظفر، داغ، حسرت موہانی، اکبر الہ آبادی، جگر مراد آبادی، ساحر لدھیانوی)


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 28, 2010

اقبال - از دیرِ مغاں آیم بے گردشِ صہبا مست

علامہ اقبال، سر راس مسعود اور سید سلیمان ندوی نے 1933ء میں اس وقت کے افغان بادشاہ، نادر شاہ کی دعوت پر افغانستان کا سفر کیا، جس کا بنیادی مقصد افغانستان کے نظامِ تعلیم کا مطالعہ اور اسکے متعلق سفارشات مرتب کرنا تھیں۔ علامہ نے اس سفر کی رُوداد ایک فارسی مثنوی "مسافر" کی صورت میں لکھی جو 1934ء میں پہلی بار الگ حیثیت سے شائع ہوئی اور پھر 1936ء میں انکی ایک اور مثنوی "پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق" کے ساتھ شائع ہوئی اور تب سے ایسے ہی چھپ رہی ہے۔

اس مثنوی "مسافر" میں زیادہ تر زیارات کا احوال قلمبند ہے، مثلاً کابل میں شہنشاہ بابر کے مزار پر حاضری، غزنی میں مشہور فارسی شاعر حکیم سنائی اور سلطان محمود غزنوی کے مزارات پر حاضری اور قندھار میں احمد شاہ ابدالی کے مزار پر علامہ کی حاضری۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال, Music
حکیم الامت علامہ محمد اقبال
Allama Iqbal

قندھار میں ایک خانقاہ میں رسولِ پاک (ص) کا ایک خرقۂ مبارک محفوظ ہے، علامہ نے اس خانقاہ پر بھی حاضری دی اور خرقۂ مبارک کی زیارت کی اور اپنے تاثرات کو قلمبند کیا اور اس کیلیے انہوں نے مثنوی کی بجائے غزل کا سہارا لیا کہ اس طرح کے تاثرات و کیفیات و احساسات غزل میں ہی صحیح طور پر قلمبند ہو سکتے تھے۔

اور یہی غزل درج کر رہا ہوں۔

از دیرِ مغاں آیم بے گردشِ صہبا مست
در منزلِ لا بودم از بادۂ الّا مست


میں دیرِ مغاں (لفظی معنی شراب کشید کرنے والے کے مندر، مجازی معنی مرشد کی خانقاہ) سے شراب کو گردش میں لائے بغیر یعنی شراب پیے بغیر ہی مست ہو کر آیا ہوں۔ میں ابھی لا (نفی) کی ہی منزل میں تھا لیکن الّا (اثبات) کی شراب سے مست تھا۔ نفی اور اثبات صوفیا کا خاص شغل ہے اور علامہ نے اسی رنگ میں یہ شعر کہا ہے۔


دانم کہ نگاہِ اُو ظرفِ ھمہ کس بیند
کرد است مرا ساقی از عشوہ و ایما مست


میں جانتا ہوں کہ اُس (ساقی) کی نگاہ ہر بادہ خور کا ظرف پہچانتی ہے (اور اسکے ظرف کے مطابق ہی ساقی اسے شراب دیتا ہے) لیکن میرے ساقی نے مجھے صرف اپنے ناز و انداز سے ہی (بغیر شراب پلائے) ہی مست کر دیا ہے یعنی ہمیں ہمارے محبوب کی نگاہ ہی نے مست کر دیا ہے اور کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور یہ بات ہماری اعلیٰ ظرفی پر دلیل ہے۔


وقت است کہ بکشائم میخانۂ رُومی باز
پیرانِ حرم دیدم در صحنِ کلیسا مست


یہ وقت ہے کہ مرشدِ رومی کا میخانہ دوبارہ کھولوں کیونکہ میں نے حرم کے پیروں کو کلیسا کے صحن میں مست دیکھا ہے۔ یعنی متاثرینِ فرنگ کا علاج رومی کی شراب میں ہے۔


ایں کارِ حکیمے نیست، دامانِ کلیمے گیر
صد بندۂ ساحل مست، یک بندۂ دریا مست


یہ کام(یعنی مسلمانوں میں دینِ اسلام کا صحیح فہم پیدا کرنا) عقل و دانش و حکمت کا کام نہیں ہے بلکہ اس کیلیے کسی کلیم اللہ (موسیٰ) کا دامن تھامنا چاہیے کیونکہ ساحل پر سرمستی اور باتیں کرنے والے سو آدمی بھی اس ایک کے برابر نہیں ہو سکتے جو سمندر کے اندر اتر کر مست ہے۔ حکیموں (فلسفیوں) کو "سبکسارانِ ساحل" سے تشبیہ دی ہے کہ فقط ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر کی باتیں کرتے ہیں جب کہ موسیٰ سمندر کے اندر اتر کر اس کو پار کر جاتے ہیں سو ایسے ہی کسی "ایک" آدمی ضرورت ہے نہ کہ سو سو آدمیوں کی جو سو سو باتیں کرتے ہیں۔


دل را بہ چمن بردم از بادِ چمن افسرد
میرد بہ خیاباں ہا ایں لالۂ صحرا مست


میں اپنے دل کو چمن یعنی محفلوں میں لے گیا لیکن وہ بادِ چمن (محفل کی رونقوں) سے اور افسردہ ہو گیا، (اور ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ) صحرا میں مست رہنے والا لالہ جب شہر کے چمن کی کیاریوں میں جاتا ہے تو مرجھا جاتا ہے۔


از حرفِ دل آویزش اسرارِ حرم پیدا
دی کافرَکے دیدم در وادیٔ بطحا مست


اسکی دل آویز باتوں سے حرم کے اسرار پیدا ہو رہے تھے، وہ چھوٹا سا (عشق کا) کافر جسے کل میں نے وادیٔ بطحا میں مست دیکھا۔


سینا است کہ فاران است؟ یا رب چہ مقام است ایں؟
ہر ذرّۂ خاکِ من، چشمے است تماشا مست


یا رب یہ مقام (جہاں خرقۂ مبارک رکھا ہے) سینا ہے یا فاران ہے کیا مقام ہے کیونکہ میرے جسم کا ذرّہ ذرّہ اور بال بال نظارے میں مست رہنے والی آنکھ بن گئی ہے، یعنی سینا میں موسیٰ پر تجلیات وارد ہوئیں اور فاران سے حضور پاک (ص) کا نورِ نبوت چمکا سو علامہ یہ فرما رہے ہیں کہ یا رب یہاں اس مقام پر بھی تیری تجلیات نازل ہو رہی ہیں۔


اس غزل کو منشی رضی الدین قوّال نے گایا بھی ہے (سوائے پانچویں شعر کے) اور کیا خوبصورت گایا ہے، ملاحظہ فرمائیے۔



مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 31, 2010

کیا حال سناواں دل دا - کافی خواجہ غلام فرید

اس کافی میں کوئی سحر ہے اور میں بھی اسکے سحر میں لڑکپن کے زمانے سے گم ہوں جب پی ٹی وی پر اسے پٹھانے خان کی آواز میں پہلی بار سنا تھا، سمجھ تب بھی نہیں آئی تھی اور اب بھی نہیں آتی تھی کیونکہ سرائیکی میں ہے، تاوقتیکہ چند دن پہلے میرے ہاتھوں بی۔اے پنجابی کی ایک کتاب لگی اور اس میں یہ کافی ترجمے سمیت مل گئی۔ اس کافی کے ساتھ میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں، ان کو دہرانے کا یہ محل نہیں ہے لیکن اپنے دل و دماغ میں تو تازہ کر ہی سکتا ہوں سو کر رہا ہوں، آپ بھی کیجیے۔

کیا حال سُناواں دِل دا
کوئی محرم راز نہ مِل دا

دلِ زار کا حال کیا سناؤں کہ کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا۔

مونہہ دُھوڑ مٹی سر پایم
سارا ننگ نموج ونجایم
کوئی پُچھن نہ ویہڑے آیم
ہتھوں اُلٹا عالم کِھل دا

ننگ نموج - عزت و شرم، ونجایم - گم کرنا، ہتھوں - بلکہ، کھل دا - ہنستا ہے
اس عشق نے میرے چہرے اور سر میں مٹی ڈال دی ہے اور ساری عزت و شرم و وقار برباد ہو گیا ہے، اور کوئی بھی میرا یہ حال دیکھنے میرے گھر نہیں آیا بلکہ الٹا لوگ ٹھٹھا اور مذاق کرتے ہیں۔

آیا بھار برہوں سِر باری
لگی ہو ہو شہر خواری
روندے عمر گذاریم ساری
ناں پایم ڈس منزل دا

برہوں - ہجر، ڈس - سراغ
میرے سر پر ہجر کا بھاری بوجھ آن پڑا ہے، اور شہر شہر رسوائی اور خواری ہو رہی ہے، اور اسی حالت میں ساری عمر روتے روتے گزر گئی ہے لیکن پھر بھی منزل کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

دل یار کِتے کُرلاوے
تڑپاوے تے غم کھاوے
دُکھ پاوے سُول نبھاوے
ایہو طَور تینڈے بیدل دا

میرا دل یار کی جدائی میں روتا ہے، تڑپتا ہے اور غم کھاتا ہے، دکھ سہتا ہے اور درد برداشت کرتا ہے، تیرے عاشق کی یہی حالت ہے۔

مزار خواجہ غلام فرید, Punjabi Poetry, پنجابی شاعری, Khawaja Ghulam Farid
Mazar Khawaja Ghulam Farid, مزار خواجہ غلام فرید
کئی سہنس طبیب کماون
سے پڑیاں گھول پیاون
مینڈے دل دا بھید نہ پاون
پوے فرق نہیں ہِک تِل دا

سہنس - تجربہ کار، سے - سو
کئی سیانے اور تجربہ کار طبیب مرا علاج کر رہے ہیں، سو سو دوائیں گھول گھول کر پلا رہے ہیں، لیکن وہ میرے دل کا راز نہیں پاتے اور انکے اس درمان سے مجھے کوئی ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔

پُنوں ہُوت نہ کھڑ موکلایا
چھڈ کلہڑی کیچ سدھایا
سُوہنے جان پچھان رُلایا
کُوڑا عذر نبھایم گِھل دا

نہ کھڑ موکلایا - ساتھ نہ لے کے گیا، کُوڑا - جھوٹا، گِھل دا، کچی نیند کا
پنوں مجھے ساتھ نہیں لے کے گیا اور اکیلی چھوڑ کر کیچ چلا گیا ہے، اس کی جان پہچان نے رلایا ہے اور اس نے سب کچھ بھلا دیا ہے اور میں نے اس حالتِ زار میں کچی نیند کا جھوٹا بہانہ کر لیا ہے۔

سُن لیلیٰ دھانہہ پکارے
تینڈا مجنوں زار نزارے
سُوہنا یار توڑیں ہک وارے
کدی چا پردہ محمِل دا

دھانہہ -فریاد، زار نزار - غموں کا مارا ہوا، کمزور
اے لیلیٰ میری فریاد سن لے، تیرا یہ مجنوں غموں کا مارا ہوا ہے۔ اے دوست کبھی ایک بار محمل کا پردہ اٹھا کر مجھے اپنا دیدار عطا کر دے۔

دل پریم نگر ڈوں تانگھے
جتھاں پینڈے سخت اڑانگے
نہ یار فرید نہ لانگھے
ہے پندھ بہوں مشکِل دا

ڈوں - طرف، تانگھے - چاہے، اڑانگے - دشوار، لانگھے - رستے، پندھ - سفر
دل پریم نگر کی طرف جانے کی چاہ رکھتا ہے، لیکن وہاں کے راستے بڑے دشوار ہی ہیں اور فرید ادھر کی راہوں سے واقف نہیں ہے، یہ سفر بہت ہی مشکل ہے۔

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ مِل دا


اور پٹھانے خان کی خوبصورت گائیکی


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 14, 2010

اندھے

پنجابی کا ایک بڑا پیارا محاورہ ہے، "لیروں لیر کرنا"، پنجابی دوست اس محاورے کی روح تک پہنچ گئے ہوں گے، اردو میں اس کا قریب ترین مترادف شاید دھجیاں اڑانا ہوگا لیکن جو "لیروں لیر" کرنے میں مولوی مدن کی سی بات ہے وہ دھجیاں اڑانے میں کہاں۔ نہ جانے کیوں جب بھی "لیروں لیر" میرے ذہن میں آتا ہے تو ساتھ ہی "لیگوں لیگ" بھی آ جاتا ہے۔ اردو کے حروفِ تہجی گنتے جایئے ختم ہو جائیں گے لیکن مسلم لیگ کے ساتھ جڑے ہوئے حروف ختم نہیں ہونگے۔ لیگ کی تقسیم تو تقسیم سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی، جناح لیگ اور شفیع لیگ تاریخ پر نظر رکھنے والے احباب سے پوشیدہ نہیں ہونگی لیکن وہ دونوں واقعی لیڈر تھے اور پھر ان کے درمیان "بائنڈنگ فورس" کے طور پر علامہ بھی حیات تھے سو اتحاد ہو گیا، لیکن تقسیم کے بعد الامان و الحفیظ، لیگ نے باندیوں والا روپ دھار لیا اور اسکا حشر بھی ویسا ہی ہوا۔

اس معروضے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ خاکسار پیپلز پارٹی کا حامی ہے، حامی ہونا تو دور کی بات مجھے تو اس پارٹی کے نام کا مطلب ہی ایک زمانے کے بعد سمجھ میں آیا، یادش بخیر، بچپن کے دن تھے، بھٹو مرحوم کو پھانسی دی گئی تو والدہ نے رو رو کر بُرا حال کر لیا، ماموں مرحوم انکے غم میں برابر کے شریک تھے لیکن اللہ جنت نصیب کرنے والدِ مرحوم، کہ "جماعتیے" تھے، برابر اپنے موقف پر اڑے رہے کہ جو بھی ہوا صحیح ہوا۔ نتیجتہً گھر کی فضا مکدر رہنے لگی لیکن پھر ایک جادو گر نے ایسا جادو کیا اور "اِس لام اُس لام" کا ایسا جنتر منتر کیا کہ والدہ اور ماموں بھی پکے لام لیگیے ہو گئے، لیکن گھر میں "پپل پارٹی پپل پارٹی" کی تکرار برابر ہوتی رہتی تھی اور یہ خاکسار انہی الفاظ کی جھنکار و تکرار میں پروان چڑھا۔

پپل پارٹی سے ہمیشہ میرے ذہن میں پپل (پیپل) کا درخت آتا تھا جو گھر کے باہر سڑک کے کنارے موجود تھا اور سارا دن اسکی چھاؤں میں کھیلتے گذر جاتا تھا۔ وہ بھی کیا دن تھے، گاؤں میں گھر کے اندر درخت ہوتے تھے اور محلوں میں گھر کے باہر، کہیں پیپل، کہیں ٹاہلی، کہیں کیکر اور کہیں "دریک" (نہ جانے اس کو اردو میں کیا کہتے ہیں)، اب تو مدت ہو گئی "دریک" کا درخت دیکھے ہوئے گو ٹاہلی اور کیکر پھر کہیں نظر آ جاتے ہیں۔ دریک پر جب اسکے "درکونے" لگتے تھے تو ان سے جیبیں بھر لی جاتی تھیں اور ہر آتے جاتے لڑکے کے سر میں چھپ کر "درکونا" مارنے کا لطف لیا جاتا تھا۔ درکونے، غلیلے کے طور پر بھی کام آتے تھے اور چھوٹی موٹی چڑیا اس سے مر بھی جاتی تھی، ہزاروں بار غلیل چلائی ہوگی لیکن مجھ سے تو آج تک ایک چڑیا بھی زخمی نہ ہوئی کہ ہمیشہ نشانہ خطا ہی ہوا بلکہ الٹا غلیل کا گوپیا اور اسکی ربر میرے دوسرے ہاتھ پر زور سے لگتی تھی اور میں "سی سی" کر اٹھتا تھا۔ لیکن آفرین ہے ان بندوقوں والوں پر، دہائیوں سے بندوقیں چلا رہے ہیں، شکار پر شکار کرتے چلے جا رہے ہیں، کبھی کوئی نشانہ خطا نہیں ہوا اور کبھی "بیک فائر" بھی نہیں ہوا۔

اسی پیپل کی چھاؤں میں اکثر بنٹے کھیلا کرتا تھا، دو یا چار حریف جب آمنے سامنے بیٹھ کر بنٹے کھیلتے تھے تو اکثر ایک یا دو یا عموماً چاروں ہی ایک نعرہ لگاتے تھے" یا بے ایمانی تیرا ہی آسرا"، یہ اس بات کی علامت ہوتا تھا کہ اس جنگ میں سب جائز ہے، کھیلتے سب تھے لیکن ہاتھ ایک مار جاتا تھا۔ ہڑبونگ اس وقت مچتی تھی جب کہیں سے اچانک بوڑھا ماما محمد حسین چھاپا مارتا تھا اور لڑکوں سے سارے بنٹے چھین کر قریب بہنے والی بڑی سی بدرو میں پھینک دیتا تھا۔

اپنے "اِس لامی جمہور (یا) پاکستان" کا بھی اس وقت کچھ یہی حال ہے، چاروں طرف سے "یا بے ایمانی تیرا ہی آسرا، یا بے ایمانی تیرا ہی آسرا" کے نعرے بلند ہو رہے ہیں اور ادھر ماما محمد حسین کہیں تاک میں لگا ہوا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا ہے، بہتر ہے اندھے ہی ہو جائیں۔ کہتے ہیں، ایک دفعہ میانوالی کے کسی دُور افتادہ گاؤں کے دو مُلّے کسی کام سے کراچی گئے اور وہاں ہاکس بے چلے گئے، کچھ دیر تو وہ دونوں مبہوت کھڑے وہاں کے "نظارے" دیکھتے رہے، پھر ایک دوسرے سے کہنے لگا، "اُوئے مام دینا میں تے انّاں ہو گیاں تُوں اکھاں بند کر لے"۔

----------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 4, 2010

در حلقۂ فقیراں، قیصر چہ کار دارد؟ - شیخ فخرالدین عراقی کی ایک غزل

در حلقۂ فقیراں، قیصر چہ کار دارد؟
در دستِ بحر نوشاں، ساغر چہ کار دارد؟

فقیروں کی مجلس میں قیصر (و کسریٰ، بادشاہوں) کا کیا کام، دریا نوشوں کے ہاتھ میں ساغر کا کیا کام۔

در راہِ عشق بازاں، زیں حرف ہا چہ خیزد؟
در مجلسِ خموشاں، منبر چہ کار دارد؟

عشاق کی راہ میں، یہ الفاظ سے کیا اٹھتے ہیں ( ان کو عقل و دانش و وعظ و پند سے کیا واسطہ) کہ خاموشوں کی مجلس میں منبر کا کیا کام۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Fakhruddin Iraqi, شیخ فخرالدین عراقی ایک خاکہ
شیخ فخرالدین عراقی ایک خاکہ
Fakhruddin Iraqi
جائے کہ عاشقاں را درسِ حیات باشد
ایبک چہ وزن آرد؟ سنجر چہ کار دارد؟

اس جگہ جہاں عاشقوں کو درس حیات ملتا ہے، ایبک کا کیا وزن اور سنجر (یعنی بادشاہوں) کا کیا کام۔

جائے کہ ایں عزیزاں جامِ شراب نوشند
آبِ زلال چبود؟ کوثر چہ کار دارد؟

اور یہ عزیز (عشاق) جہاں جامِ شراب پیتے ہیں وہاں آب حیات کیا اور (آبِ) کوثر کیا۔

در راہِ پاکپازاں، ایں حرف ہا چہ خیزد؟
بر فرقِ سرفرازاں، افسر چہ کار دارد؟

پاکبازوں کی راہ میں یہ الفاظ سے کیا اٹھتے ہیں (انکی بے سر و سامانی پر) کہ کامیاب لوگوں کے سر پر تاج کا کیا کام ہے۔

دائم تو اے عراقی، می گوئی ایں حکایت
با بوئے مشکِ معنی، عنبر چہ کار دارد؟

اے عراقی تو ہمیشہ ہی ایسی حکایتیں کہتا رہ، کہ تیرے کلام کے معنی میں جو خوشبو ہے اسکے آگے عنبر کی خوشبو کیا۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 12, 2010

امیر خسرو کی ایک غزل - از من آں کامیاب را چہ غمست - مع تراجم

امیر خسرو کی اس غزل کا شمار غزلِ مسلسل میں ہوتا ہے، اور ایک ہی خیال کو مختلف حقیقتوں سے واضح کیا ہے اور کیا خوب تشبیہات و استعارات اس غزل میں بیان کئے ہیں۔

شعرِ خسرو
از من آں کامیاب را چہ غمست
زیں شبِ ماہتاب را چہ غمست


ترجمہ
اس کامیاب (محبوب) کو مجھ سے کیا غم ہے، ماہتاب کو رات کا غم کب ہوتا ہے۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
میرا اس کامیاب کو غم کیا
رات کا ماہتاب کو غم کیا
Amir Khusro, امیر خسرو, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
Amir Khusro, امیر خسرو
شعرِ خسرو
ذرّہ ہا گر شوند زیر و زبر
چشمۂ آفتاب را چہ غمست


ترجمہ
اگر تمام ذرے زیر و زبر بھی ہو جائیں تو سورج کے چشمے کو انکے زیر و زبر ہونے کا کیا غم ہے۔

قریشی
ذرّے زیر و زبر جو ہوں تو ہوں
چشمۂ آفتاب کو غم کیا

شعرِ خسرو
گر بسوزد ہزار پروانہ
مشعلِ خانہ تاب را چہ غمست


ترجمہ
اگر ہزار پروانے بھی جل مریں تو گھر کو روشن کرنے والی مشعل کو اسکا کیا غم ہے۔

قریشی
جل مریں گو ہزار پروانے
مشعلِ خانہ تاب کو غم کیا

شعرِ خسرو
خرمنِ من کہ گشت خاکستر
آتشِ پُر عذاب را چہ غمست


ترجمہ
میری جان کی کھیتی جل کر راکھ ہوگئی مگر عذاب سے پُر آگ کو اس کا کیا غم ہے۔

قریشی
خرمنِ جاں جو جل کے راکھ ہوا
آتشِ پر عذاب کو غم کیا

شعرِ خسرو
گر مرا نیست خوابے اندر چشم
چشمِ آں نیم خواب را چہ غمست


ترجمہ
اگر میری آنکھوں میں نیند نہیں رہی تو اسکا اس نیم خواب آنکھوں (والے) کو کیا غم ہے۔

قریشی
رتجگے ہیں اگر نصیب مرا
دیدۂ نیم خواب کو غم کیا

شعرِ خسرو
خسرو ار جاں دہد تو دیر بہ ذی
ماہی ار میرد آب را چہ غمست


ترجمہ
خسرو تو جان دیتا ہے لیکن تو دیر تک زندہ رہ کہ مچھلی کے مرنے کا پانی کو کیا غم۔

قریشی
جان خسرو نے دی، تُو جُگ جُگ جی
مرگِ ماہی پہ آب کو غم کیا

----------
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
(مسعود قریشی کا منظوم ترجمہ بھی اسی بحر میں ہے)

افاعیل - فاعِلاتُن مفاعِلُن فعلُن
(اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں، تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

اشاری نظام - 2212 2121 22
(ہندسوں کا اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیں یعنی پہلے 2 پھر 1 پھر 2)

تقطیع

از من آں کامیاب را چہ غمست
زیں شبِ ماہتاب را چہ غمست

از مَ نا کا - 2212- فاعلاتن (من اور آں میں الف کا وصال ہوا)۔
م یا ب را - 2121 - مفاعلن
چ غَ مست - 1211 - فَعِلان (فعلن کی جگہ فَعِلان اس بحر میں جائز ہے)۔

زی شَ بے ما - 2212 - فاعلاتن
ہ تا ب را - 2121 - مفاعلن
چ غَ مست - 1211 - فعلان
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jul 15, 2010

مظلوم الشعرا - میرزا یاس یگانہ عظیم آبادی

یگانہ ایک قادر الکلام شاعر تھے لیکن جب وہ پچھلی صدی کے اوائل میں عظیم آباد سے ہجرت کر کے لکھنؤ آئے تو لکھنؤ والوں نے ان کی بالکل ہی قدر نہ کی۔ اس وقت لکھنؤ والے اپنے برے سے برے شاعر کو بھی باہر والے اچھے سے اچھے شاعر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یگانہ چونکہ "باہر والے" تھے سو لکھنؤ والوں کو ایک آنکھ نہ بھائے۔ بقول مجنوں گورکھپوری، "لکھنؤ کے لوگوں میں اتنا ظرف کبھی نہ تھا کہ کسی باہر کے بڑے سے بڑے شاعر کو لکھنؤ کے چھوٹے سے چھوٹے شاعر کے مقابلے میں کوئی بلند مقام دے سکیں۔" (غزل سرا، نئی دہلی 1964ء بحوالہ چراغِ سخن از یگانہ، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1996ء)۔

اور یہیں سے یگانہ اور لکھنؤ کے شعرا کے درمیان ایک ایسی چشمک شروع ہو گئی جو یگانہ کی موت پر بھی ختم نہ ہوئی، مزید برآں یہ کہ اس وقت لکھنؤ کے شعرا غالب کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور اپنے ہر اس شاعر کو مسندِ علم و فضل پر بٹھا دیتے تھے جو غالب کے رنگ میں کہتا تھا چاہے جتنا بھی برا کہتا تھا سو یگانہ کی اپنی محرومی کے سبب غالب سے بھی دشمنی پیدا ہو گئی اور آخری عمر تک غالب کے کلام میں نقص تلاش کرتے رہے اور انکا اظہار کرتے رہے۔

لیکن ہمیشہ کی طرح، ادبی چشمکوں میں صرف دھول ہی نہیں اڑتی اور کاغذ سامنے رکھ کر ایک دوسرے کے منہ پر صرف سیاہی ہی نہیں ملی جاتی بلکہ ان چشمکوں سے کچھ ایسے نوادر کا بھی ظہور ہوتا ہے جو شاید عام حالات میں کبھی مسندِ شہود پر نہ آتے اور انہی میں یگانہ کی علمِ عروض پر لازوال اور "اتھارٹی" کا درجہ حاصل کرنے والی کتاب "چراغِ سخن" ہے جو انہیں معرکوں کی یادگار ہے جس کے سرورق پر مرحوم نے لکھا تھا۔

مزارِ یاس پہ کرتے ہیں شُکر کے سجدے
دعائے خیر تو کیا اہلِ لکھنؤ کرتے

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Yas Yagana Changezi, یاس یگانہ چنگیزی
Yas Yagana Changezi,
یاس یگانہ چنگیزی

کاغذوں پر سیاہی خیر ملی ہی جاتی ہے، لیکن اس مظلوم الشعرا کے ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی ہوا کہ کسی اہلِ قلم کے ساتھ نہ ہوا ہوگا۔ انہوں نے ایک اخبار میں ایک مضمون لکھا جس میں ایک فرقے کے خلاف کچھ تند و تیز و متنازعہ جملے تھے سو قلم کی پاداش میں دھر لیے گئے، جس محلے میں رہتے تھے وہاں اسی فرقے کی اکثریت تھی، اور چونکہ تھے بھی بے یار و مددگار، سو اہلیانِ محلہ نے پکڑ لیا، منہ پر سیاہی ملی، جوتوں کا ہار پہنایا، گدھے پر سوار کیا اور شہر میں جلوس نکال دیا۔

مدیر نقوش، محمد طفیل نے یگانہ سے ان کے آخری دنوں میں ملاقات کی تھی، اس ملاقات کی روداد انہوں نے اپنی کتاب "جناب" میں یگانہ پر خاکہ لکھتے ہوئی لکھی ہے، مذکورہ واقعہ کا ذکر کچھ یوں آیا ہے۔

"بیٹھے بیٹھے ہنسنے لگے اور پھر مجھ سے پوچھا۔ "آپ نے میرا جلوس دیکھا تھا؟"
"کیسا جلوس؟"
"اجی وہی جس میں مجھے جوتوں کے ہار پہنائے گئے تھے، میرا منہ بھی کالا کیا گیا تھا اور گدھے پر سوار کر کے مجھے شہر بھر میں گھمایا گیا تھا۔"
"اللہ کا شکر ہے کہ میں نے وہ جلوس نہیں دیکھا۔"
"واہ صاحب وا، آپ نے تو ایسے اللہ کا شکر ادا کیا ہے جیسے کوئی گھٹیا بات ہو گئی ہو، سوچو تو سہی کہ آخر کروڑوں آدمیوں میں سے صرف مجھی کو اپنی شاعری کی وجہ سے اس اعزاز کا مستحق کیوں سمجھا گیا؟ جب کہ یہ درجہ غالب تک کو نصیب نہ ہوا، میر تک کو نصیب نہ ہوا۔"
میں چاہتا تھا کہ میرزا صاحب اس تکلیف دہ قصہ کو یہیں ختم کر دیں مگر وہ مزے لے لے کر بیان کر رہے تھے جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہو اور اسکے بدلے یہ گراں قدر انعام پایا ہو۔

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فوراً دو غزلہ کے مُوڈ میں آ گئے۔ "جی ہاں جناب، آپ کے لاہور میں بھی گرفتار ہوئے تھے۔"
"وہ قصہ کیا تھا۔"
"جناب قصہ یہ تھا کہ میرزا یگانہ چنگیزی یہاں سے کراچی کا پاسپورٹ لے کے چلے تھے اور لاہور پہنچ کر اپنے ایک دوست کے ساتھ پنجاب سے نکل کر سرحد پہنچ گئے تھے، واپسی پر گرفتار کر لیا گیا۔ (ایک دم جمع سے واحد کے صیغے پر آ گئے)۔ اکیس روز جیل میں بند رہا، ہتھکڑی لگا کر عدالت میں لایا گیا، پہلی پیشی پر مجسٹریٹ صاحب نے نام پوچھا۔ میں نے بڑھی ہوئی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بڑی شان سے بتایا۔ "یگانہ"۔
ساتھ کھڑے ہوئے ایک وکیل صاحب نے بڑی حیرت سے مجھ سے سوال کیا۔ "یگانہ چنگیزی؟"۔
"جی ہاں جناب۔"
یہ سنتے ہی مجسٹریٹ صاحب نے (غالباً آفتاب احمد نام بتایا تھا) میری رہائی کا حکم صادر فرما دیا۔
جب رہا ہو گیا تو جاتا کدھر؟ اور پریشان ہو گیا، مجسٹریٹ صاحب نے میری پریشانی کو پڑھ لیا، میں نے ان سے عرض کیا، میرے تمام روپے تو تھانے والوں نے جمع کر لیے تھے، اب مجھے دلوا دیجیئے۔ اس پر مجسٹریٹ صاحب نے کہا، درخواست لکھ دیجیئے۔ میرے پاس پھوٹی کوڑی نہ تھی، کاغذ کہاں سے لاتا اور کیسے درخواست لکھتا، اس پر بہ کمالِ شفقت مجسٹریٹ صاحب نے مجھے ایک آنہ دیا اور میں نے کاغذ خرید کر درخواست لکھی جس پر مجھے فوراً روپے مل گئے۔ آپ لاہور جائیں تو آفتاب احمد صاحب کے پاس جا کر میرا سلام ضرور عرض کریں۔
اور ہاں آپ بھی لاہور جا کر اب یہ کہیں گے کہ یگانہ سے ملے تھے، آپ یگانہ سے کہاں ملے ہیں؟ یگانہ کو گوشت پوست کے ڈھانچے میں دیکھنا غلط ہے، یگانہ کو اس کے شعروں میں دیکھنا ہوگا، یگانہ کو اس ٹوٹی ہوئی چارپائی پر دیکھنے کی بجائے اس مسند پر دیکھنا ہوگا جس پر وہ آج سے پچاس برس بعد بٹھایا جائے گا۔"
یگانہ کی مظلومیت یہیں ختم نہیں ہوتی، ان کو موت کے بعد بھی نہ بخشا گیا، ان کا جنازہ پڑھنا حرام قرار دے دیا گیا اور کہا جاتا ہے کہ فقط کچھ لوگ ہی انکے جنازے میں شامل تھے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔


شہرہ ہے یگانہ تری بیگانہ روی کا
واللہ یہ بیگانہ روی یاد رہے گی


تخلیقاتِ یگانہ
(بحوالہ چراغِ سخن، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1996ء)

- نشترِ یاس (شعری مجموعہ)، لکھنؤ، 1914ء
- چراغِ سخن (رسالہ عروض و قوافی)، لکھنؤ، 1914ء
- شہرتِ کاذبہ المعروف بہ خرافاتِ عزیز (عزیز لکھنؤی کی شاعری پر اعتراضات)، لکھنؤ۔ 1923ء
- آیاتِ وجدانی مع محاضرات (شعری مجموعہ)، لاہور، 1927ء
- ترانہ (مجموعۂ رباعیات)، لاہور، 1934ء
- غالب شکن (مکتوبِ یگانہ بنام مسعود حسن رضوی ادیب)، حیدرآباد دکن، 1934ء
- گنجینہ (مجموعۂ غزلیات و رباعیات)، لاہور، 1948

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Yas Yagana Changezi, یاس یگانہ چنگیزی


کلامِ یگانہ

(1)
کس کی آواز کان میں آئی
دُور کی بات دھیان میں آئی

ایسی آزاد رُوح اس تن میں
کیوں پرائے مکان میں آئی

آپ آتے رہے بلاتے رہے
آنے والی اک آن میں آئی

ہائے کیا کیا نگاہ بھٹکی ہے
جب کبھی امتحان میں آئی

علم کیا، علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی

یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی
کہیے کیا بات دھیان میں آئی

حُسن کیا خواب سے ہوا بیدار
جان تازہ جہان میں آئی

جان لیوا ہے یہ کڑی تیوری
یہ کشش کس کمان سے آئی

بات ادھوری مگر اثر دونا
اچھی لکنت زبان میں آئی

آنکھ نیچی ہوئی، ارے یہ کیا؟
کیوں غرض درمیان میں آئی

میں پیمبر نہیں یگانہ سہی
اس سے کیا کسر شان میں آئی
------

(2)
لذّتِ زندگی مُبارک باد
کل کی کیا فکر؟ ہر چہ بادا باد

اے خوشا زندگی کہ پہلوئے شوق
دوست کے دم قدم سے ہے آباد

دل سلامت ہے، دردِ دل نہ سہی
درد جاتا رہا کہ درد کی یاد؟

زیست کے ہیں یہی مزے واللہ
چار دن شاد، چار دن ناشاد

کون دیتا ہے دادِ ناکامی
خونِ فرہاد برسرِ فرہاد

صبر اتنا نہ کر کہ دشمن پر
تلخ ہو جائے لذّتِ بیداد

صلح کر لو یگانہ غالب سے
وہ بھی استاد، تم بھی اک استاد

----

(3)
خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

پیامِ زیرِ لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی، رہا نہ گیا

ہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والو
لو دیکھ لو وہی کل آج جن کے آ نہ گیا

گناہِ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری
کسی پہ ہنس لئے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا

سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانۂ درد
سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیا

کروں تو کس سے کروں دردِ نا رسا کا گلہ
کہ مجھ کو لے کے دلِ دوست میں سما نہ گیا

بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

کرشن کا ہوں پجاری، علی کا بندہ ہوں
یگانہ شانِ خدا دیکھ کر رہا نہ گیا

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Yas Yagana Changezi, یاس یگانہ چنگیزی
مرزا یاس یگانہ چنگیزی عظیم آبادی
Yas Yagana Changezi,
----

(4)
مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

بُرا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتا
کبھی گمراہ ہو کرراہ پر آنا نہیں آتا

مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
بہانہ کر کے تنہا پار اُتر جانا نہیں آتا

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

اسیرو، شوقِ آزادی مجھے بھی گدگداتا ہے
مگر چادر سے باہر پاؤں پھیلانا نہیں آتا

دلِ بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں
وہ آنسو کیا پئے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا

سراپا راز ہوں، میں کیا بتاؤں کون ہوں، کیا ہوں
سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا

-----

(5)
حُسن پر فرعون کی پھبتی کہی
ہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی

دامنِ یوسف ہی بھڑکاتا رہا
عشق اور ترکِ ادب اچھی کہی

کوئی ضد تھی یا سمجھ کا پھیر تھا
من گئے وہ، میں نے جب اُلٹی کہی

درد سے پہلے کروں فکرِ دوا
واہ یہ اچھی الٹوانّسی کہی

دوست سے پردہ کیا یہ کیا کیا
آپ بیتی چھوڑ جگ بیتی کہی

شک ہے کافر کو مرے ایمان میں
جیسے میں نے کوئی منہ دیکھی کہی

کیا خبر تھی یہ خدائی اور ہے
ہائے میں نے کیوں خدا لگتی کہی

مفت میں سُن لی یگانہ کی غزل
ان سُنی کر دی جو مطلب کی کہی

----

(6)
کارگاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
اک طرف اُجڑتی ہے، ایک سمت بستی ہے

بے دلوں کی ہستی کیا، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
خواب ہے نہ بیداری، ہوش ہے نہ مستی ہے

کیمیائے دل کیا ہے، خاک ہے مگر کیسی؟
لیجیے تو مہنگی ہے، بیچیے تو سستی ہے

خضرِ منزل اپنا ہوں، اپنی راہ چلتا ہوں
میرے حال پر دنیا، کیا سمجھ کے ہنستی ہے

کیا کہوں سفر اپنا، ختم کیوں نہیں ہوتا
فکر کی بلندی یا حوصلہ کی پستی ہے

حُسنِ بے تماشہ کی، دھوم کیا معمّہ ہے
کان بھی ہیں نا محرم، آنکھ بھی ترستی ہے

چتونوں سے ملتا ہے، کچھ سراغ باطن کا
چال سے تو کافر پر، سادگی برستی ہے

ترکِ لذّتِ دنیا، کیجیے تو کس دل سے
ذوقِ پارسائی کیا فیضِ تنگ دستی ہے

دیدنی ہے یاس اپنے رنج و غم کی طغیانی
جھوم جھوم کر کیا کیا یہ گھٹا برستی ہے

-----

(7)
ہنوز زندگیٔ تلخ کا مزا نہ ملا
کمالِ صبر ملا صبر آزما نہ ملا

مری بہار و خزاں جس کے اختیار میں ہے
مزاج اس دلِ بے اختیار کا نہ ملا

جواب کیا، وہی آوازِ بازگشت آئی
قفس میں نالۂ جانکاہ کا مزا نہ ملا

امیدوارِ رہائی قفس بدوش چلے
جہاں اشارۂ توفیقِ غائبانہ ملا

ہوا کے دوش پہ جاتا ہے کاروانِ نفَس
عدم کی راہ میں کوئی پیادہ پا نہ ملا

ہزار ہا اسی جانب ہے منزلِ مقصود
دلیلِ راہ کا غم کیا، ملا ملا نہ ملا

امید و بیم نے مارا مجھے دوراہے پر
کہاں کے دیر و حرم گھر کا راستہ نہ ملا

خوشا نصیب جسے فیضِ عشقِ شور انگیز
بقدرِ ظرف ملا، ظرف سے سوا نہ ملا

سمجھ میں آ گیا جب عذرِ فطرتِ مجبور
گناہگارِ ازل کو نیا بہانہ ملا

------

(8)
رنگ لاتی ہے آخر ایک جُنبشِ لب کیا
دیکھئے دکھاتا ہے وعدۂ مذبذب کیا

چُلّو بھر میں متوالی، دو ہی گھونٹ میں خالی
یہ بھری جوانی کیا، جذبۂ لبالب کیا

ہاں دعائیں لیتا جا، گالیاں بھی دیتا جا
تازگی تو کچھ پہنچے، چابتا رہوں لب کیا

شامت آ گئی آخر کہہ گیا خدا لگتی
راستی کا پھل پاتا، بندۂ مقرّب کیا

اُلٹی سیدھی سنتا رہ، اپنی کہہ تو اُلٹی کہہ
سادہ ہے تو کیا جانے، بھانپنے کا ہے ڈھب کیا

سب جہاد ہیں دل کے، سب فساد ہیں دل کے
بے دِلوں کا مطلب کیا اور ترکِ مطلب کیا

ہو رہے گا سجدہ بھی جب کسی کی یاد آئی
یاد جانے کب آئے، زندہ داریٔ شب کیا

کارِ مرگ کے دن کا تھوڑی دیر کا جھگڑا
دیکھنا ہے یہ ناداں جینے کا ہے کرتب کیا

پڑ چکے بہت پالے، ڈس چکے بہت کالے
موذیوں کے موذی کو، فکرِ نیشِ عقرب کیا

میرزا یگانہ واہ، زندہ باد زندہ باد
اک بلائے بے درماں جب تو کیا تھے اور اب کیا

------

(9)
جب تک خلشِ دردِ خدا داد رہے گی
دنیا دلِ ناشاد کی آباد رہے گی

دنیا کی ہوا راس نہ آئے گی کسی کو
ہر سر میں ہوائے عدم آباد رہے گی

چونکائے گی رہ رہ کے تو غفلت کا مزہ کیا
ساتھ اپنے اجل صورتِ ہمزاد رہے گی

دل اور دھڑکتا ہے ادب گاہِ قفس میں
شاید یہ زباں تشنۂ فریاد رہے گی

جو خاک کا پُتلا، وہی صحرا کا بگولا
مٹنے پہ بھی اک ہستیِ برباد رہے گی

ہر شام ہوئی صبح کو اک خوابِ فراموش
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

شہرہ ہے یگانہ تری بیگانہ روی کا
واللہ یہ بیگانہ روی یاد رہے گی

-----
(10)
مزاج آپ کا دنیا سے کچھ کشیدہ سہی
فریب کھاؤ گے پھر بھی، فریب دیدہ سہی

یہ سبز باغ کا عالم، یہ رنگِ لیل و نہار
بہل ہی جائے گا دل، آپ سے رمیدہ سہی

یہ غنچہ کیسا کہ دیکھے سے دل دھڑکتا ہے
ارے یہ ایک ہی فتنہ ہے، نو دمیدہ سہی

نگاہِ شوق کی گرمی خدا کی قدرت ہے
مزے پہ آ ہی گیا حُسن، نارسیدہ سہی

کھٹکتی رہتی ہے دل میں نگاہِ دُزدیدہ
خطائے حُسن کہے کون، چشم دیدہ سہی

نگاہِ حُسن سے اب تک وفا ٹپکتی ہے
ستم رسیدہ سہی، پیرہن دریدہ سہی

فریبِ ابرِ کرم بھی بڑا سہارا ہے
بلا سے نخلِ تمنّا خزاں رسیدہ سہی

پتے کی کہیے تو ظالم کا رنگ اُڑتا ہے
زبانِ حال سے اک حرف ناشنیدہ سہی

قریب ہوں مگر اتنا کہ جیسے کوسوں دُور
مجھے نہ دیکھ سکو گے، زمانہ دیدہ سہی

مری نظر کی خطا ہوگی یا گُلوں کی خطا
تمھارے راج میں کانٹا ہی برگزیدہ سہی

یگانہ ٹھن گئی بیڈھب تو سوچتے کیا ہو
شریکِ کار نہیں تو نہیں جریدہ سہی

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 23, 2010

خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں ۔ جمیل الدین عالی کی ایک غزل

جمیل الدین عالی یوں تو اردو شاعری میں اپنے دوہوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، اور انکے چند دوہے پہلے لکھ چکا ہوں لیکن انہوں نے خوبصورت غزلیں بھی کہی ہیں اور انہی میں ایک غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔

خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں
پکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمھیں

مری پسند مرے نام پر نہ حرف آئے
بہت حسین بہت با وفا کہوں گا تمھیں
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Jamil-ud-Din Aali, جمیل الدین عالی
Jamil-ud-Din Aali, جمیل الدین عالی
ہزار دوست ہیں، وجہِ ملال پوچھیں گے
سبب تو صرف تمھی ہو، میں کیا کہوں گا تمھیں

ابھی سے ذہن میں رکھنا نزاکتیں میری
کہ ہر نگاہِ کرم پر خفا کہوں گا تمھیں

ابھی سے اپنی بھی مجبوریوں کو سوچ رکھو
کہ تم ملو نہ ملو مدعا کہوں گا تمھیں

الجھ رہا ہے تو الجھے گروہِ تشبیہات
بس اور کچھ نہ کہوں گا ادا کہوں گا تمھیں

قسم شرافتِ فن کی کہ اب غزل میں کبھی
تمھارا نام نہ لوں گا صبا کہوں گا تمھیں

----

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
پہلے شعر کی تقطیع -

خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیں
پکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمھیں

خُدا کہو - مفاعلن - 2121
گَ تُ مے نا - فعلاتن - 2211
خدا کہو - مفاعلن -2121
گَ تُ مے - فعلن - 211
پکارنا - مفاعلن - 2121
ہِ پَ ڑے گا - فعلاتن - 2211
تُ کا کہو - مفاعلن - 2121
گَ تُ مے - فعلن - 211


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 18, 2010

مجلسِ خدایانِ اقوامِ قدیم - جاوید نامہ از علامہ اقبال سے ایک اقتباس

زندہ رود (علامہ اقبال) کا افلاک کا سفر پیر رومی کی معیت میں جاری ہے اور انکے ساتھ ساتھ ہمارا بھی۔ اس سے پہلے کی دو پوسٹس میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ فلکِ قمر پر علامہ نبوت کی چار تعلیمات (طواسین) دیکھتے ہیں اور وہیں علامہ نے "طاسینِ محمد (ص)" کے تحت حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ لکھا ہے۔

فلکِ قمر سے رومی و علامہ، فلکِ عطارد پر پہنچتے ہیں اور وہاں سید جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کی ارواح کی زیارت کرتے ہیں۔ کافی دلچسپ حصہ ہے اور علامہ ان دونوں مصلحان سے اسلامی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہیں جیسے اشتراکیت و ملوکیت، محکماتِ عالمِ قرآنی، خلافتِ آدم، حکومت الٰہی وغیرہ۔ اسکے علاوہ روسی قوم کے نام جمال الدین افغانی کا ایک پیغام بھی اس حصے میں شامل ہے۔

فلکِ عطارد سے علامہ اور انکے راہبر پیرِ رومی، فلکِ زہرہ کی طرف پرواز کر جاتے ہیں، اور یہی حصہ ہماری اس پوسٹ کا موضوع ہے۔ فلکِ زہرہ کا تعارف کرواتے ہوئے، رومی علامہ سے فرماتے ہیں۔

اندروں بینی خدایانِ کہن
می شناسم من ہمہ را تن بہ تن

یہاں، زہرہ کے اندر، تُو قدیم خداؤں کو دیکھے گا اور میں ان سب کو ایک ایک کر کے پہچانتا ہوں۔

اور وہ خدا کون کون سے تھے

بعل و مردوخ و یعوق و نسر و فسر
رم خن و لات و منات و عسر و غسر

یہ سب بتوں کے نام ہیں جو قدیم عرب، بابل اور مصر کے معبود و خدا تھے

رومی، علامہ کی معلومات میں مزید اضافہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ

بر قیامِ خویش می آرد دلیل
از مزاجِ ایں زمانِ بے خلیل

یہ سارے مرے اور مٹے ہوئے معبود ایک بار پھر اپنے قیام یعنی زندہ ہونے پر موجودہ زمانے کے مزاج سے جو کہ بغیر خلیل (ع) کے ہے، دلیل لاتے ہیں یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں کوئی بُت شکن نہیں ہے سو ہم پھر سے زندہ ہو گئے ہیں۔

اس تمہید کے بعد رومی علامہ کو زہرہ کے اندر لے جاتے ہیں، اس موقع پر علامہ نے زہرہ کی فضا کی نقشہ کشی دلپذیر انداز میں کی ہے، اور وہاں وہ ایک مجلس دیکھتے ہیں، "مجلسِ خدایانِ اقوامِ قدیم" یعنی قدیم اقوام کے خداؤں کے مجلس۔ علامہ مجلس کی نقشہ کشی کرنے کے بعد اس مجلس کے اراکین کا تعارف کچھ یوں کرواتے ہیں۔

اندریں وادی خدایانِ کہن
آں خدائے مصر و ایں رب الیمن

اس وادی کے اندر پرانے خدا تھے، وہ اگر مصر والوں کا خدا تھا تو یہ یمن والوں کا رب۔

آں ز اربابِ عرب ایں از عراق
ایں الہ الوصل و آں رب الفراق

کوئی عرب والوں کے خداؤں میں سے تھا تو کوئی عراق والوں کے، کوئی وصال (صلح و امن) کا الہ تھا تو کوئی فراق (جنگ و جدل) کا خدا۔

ایں ز نسلِ مہر و دامادِ قمر
آں بہ زوجِ مشتری دارد نظر

کوئی سورج کی نسل میں سے تھا (سوریہ ونشی) تو کوئی چاند کا داماد تھا اور کسی نے مشتری سے شادی کرنے پر نظر رکھی ہوئی تھی یعنی مشتری کا چاہنے والا دیوتا تھا۔

آں یکے در دستِ اُو تیغِ دو رو
واں دگر پیچیدہ مارے در گلو

ایک کے ہاتھ میں دو منہ والی تلوار تھی تو دوسرے نے سانپ اپنے گلے میں لٹکائے ہوئے تھے۔

ہر یکے ترسندہ از ذکرِ جمیل
ہر یکے آزردہ از ضربِ خلیل

لیکن یہ سب کے سب ذکرِ جمیل یعنی ذکرِ حق سے ڈرے ہوئے تھے اور ضربِ خلیل (ع) ) سے آزردہ خاطر تھے کہ اس ضرب نے ان کو پاش پاش کر دیا تھا۔

اسی منظر کی نقشہ کشی جمی انجنیئر نے بھی کی ہے، جو کہ اقبال اکادمی کے شائع کردہ جاوید نامہ ڈیلکس ایڈیشن میں شامل ہے، وہ ملاحظہ کیجیئے، بڑی تصویر دیکھنے کیلیے اس پر کلک کیجیے۔

Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال, Javiad Nama, جاوید نامہ, Maulana Rumi, مولانا رومی

اب اس تعارف کے بعد، اس مجلس کی کچھ روداد بھی سنیے۔

گفت مردوخ، آدم از یزداں گریخت
از کلیسا و حرم نالاں گریخت

مردوخ نے کہا، (آج کا آدمی) خدا سے دُور بھاگ گیا ہے، وہ کلیسا اور حرم یعنی مذہب سے نالہ و فریاد (یعنی اسکی برائیاں) کرتا ۔ہوا نکل آیا ہے

تا بیَفزایَد بہ درّاک و نظر
سوئے عہدِ رفتہ باز آید نگر

یہ آدمی (اس امید میں کہ) اپنے ادراک و عقل و سمجھ و نطر کو فزوں کرے یعنی بڑھائے، دیکھو گزرے ہوئے یعنی ہمارے عہد کی طرف دوبارہ واپس آ رہا ہے۔

می برد لذّت ز آثارِ کہن
از تجلی ہائے ما دارد سخن

وہ پرانے آثار سے لذت حاصل کر رہا ہے، اور ہماری تجلیوں کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔

روزگار افسانۂ دیگر کشاد
می وزد زاں خاکداں بادِ مراد

اس زمانے نے ایک اور افسانے کا باب کھولا ہے، اور اس خاکدان سے ہمارے لیے بادِ مراد آ رہی ہے یعنی یہ زمانہ ہمارے لیے سازگار ہو رہا ہے۔

بعل از فرطِ طرب خوش می سرود
بر خدایاں راز ہائے ما کشود

بعل (مرودوخ کی یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا اور) فرطِ خوشی میں نغمہ گانے لگا اور ان خداؤں پر ہمارے یعنی موجودہ انسان کے راز کھولنے لگا۔

اب نغمۂ بعل بھی سن لیجیے

نغمۂ بعل
پہلا پند

آدم ایں نیلی تتق را بر درید
آں سوئے گردوں خدائے را ندید

انسان نے اس آسمان کو تو پھاڑ ڈالا ہے یعنی ستاروں تک پہنچ رہا ہے لیکن اُس نے آسمان کی دوسری طرف خدا کو نہیں دیکھا۔

در دلِ آدم بجز افکار چیست
ہمچو موج ایں سر کشید و آں رمید

انسان کے دل میں افکار کے سوا اور کچھ نہیں ہے، اور بھی سب عارضی کہ موج کی طرح سر اٹھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

جانش از محسوس می گیرد قرار
بو کہ عہدِ رفتہ باز آید پدید

اُس کی جان صرف محسوسات یعنی حواسِ خمسہ ہی سے چین و قرار پاتی ہے اور اس وجہ سے پوری امید ہے کہ گزرا ہوا دور یعنی ہمارا عہد واپس آ جائے گا۔

زندہ باد افرنگیِ مشرق شناس
آں کہ ما را از لحد بیروں کشید

مشرق کے مزاج کو پہچانچے والا فرنگی زندہ رہے کہ اس نے ہمیں ہماری قبروں سے باہر کھینچ لیا ہے یعنی پھر سے زندہ کر دیا ہے۔

اے خدایانِ کہن وقت است وقت
اے پرانے خداؤ (یہی) وقت ہے وقت ہے (تمھارے عروج کا)۔

دوسرا بند

در نگر آں حلقۂ وحدت شکست
آلِ ابراہیم بے ذوقِ الست

دیکھو، وہ توحید کا حلقہ ٹوٹ گیا ہے، آلِ ابراہیم الست کے ذوق کے بغیر ہے، تلمیح ہے آیت الست بربکم (کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں) کی طرف۔

صحبتش پاشیدہ، جامش ریز ریز
آن کہ بود از بادۂ جبریل مست

اُس کی محفل پراگندہ اور اسکے جام ریزہ ریزہ ہیں، وہ کہ جو کبھی بادۂ جبریل سے مست تھا۔

مردِ حر افتاد در بندِ جہات
با وطن پیوست و از یزداں گسست

آزاد مرد جہات (حواسِ خمسہ) کی قید میں جکڑا ہوا ہے، وہ وطن سے جڑ گیا ہے اور خدا سے جدا ہو گیا ہے۔

خونِ اُو سرد از شِکوہِ دیریاں
لا جرم پیرِ حرم زنار بست

اُس کا خون دیر والوں (کافروں) کی شان و شوکت سے سرد ہو چکا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ پیرِ حرم نے زنار پہن لیا ہے۔

اے خدایانِ کہن وقت است وقت
اے پرانے خداؤ (یہی) وقت ہے وقت ہے (تمھارے عروج کا)۔

تیسرا بند

در جہاں باز آمد ایّامِ طرب
دیں ہزیمت خوردہ از ملک و نسب

دنیا میں ہماری خوشی کا دور پھر واپس آ گیا ہے، دین نے ملک و نسب سے شکست کھا لی ہے۔

از چراغِ مصطفیٰ اندیشہ چیست؟
زاں کہ او را پف زند صد بولہب

اب ہمیں چراغِ مصطفیٰ (یعنی اسلام سے) کیا ڈر اور خطرہ کہ اس چراغ کو بجھانے کیلیے سینکڑوں ابولہب پھونکیں مار رہے ہیں۔

گرچہ می آید صدائے لا الہٰ
آں چہ از دل رفت کے ماند بہ لب

اگرچہ ابھی تک لا الہٰ کی صدا آ رہی ہے لیکن جو دل سے چلا گیا ہے وہ لب پر بھی کب تک رہے گا۔

اہرمن را زندہ کرد افسونِ غرب
روزِ یزداں زرد رو از بیمِ شب

مغرب کے جادو نے اہرمن (شیطان) کو زندہ کر دیا ہے، اور خدا کا دن رات کے خوف سے زرد ہے۔

اے خدایانِ کہن وقت است وقت
اے پرانے خداؤ (یہی) وقت ہے وقت ہے (تمھارے عروج کا)۔

چوتھا بند

بندِ دیں از گردنش باید کشود
بندۂ ما بندۂ آزاد بود

اُس یعنی مسلمانوں کی گردن سے دین کا پھندا کھول دینا چاہیئے کیونکہ ہمارا بندہ تو آزاد بندہ تھا اور یہ مخلتف قیود و حدود میں جکڑے ہوئے ہیں۔

تا صلوٰۃ او را گراں آید ہمے
رکعتے خواہیم و آں ہم بے سجود

چونکہ اس کیلیے نماز ایک کارِ گراں اور بوجھ بن چکی ہے سو ہم چاہتے ہیں کہ اس کیلیے ایک ہی رکعت ہو اور وہ بھی بغیر سجدے کے۔

جذبہ ہا از نغمہ می گردد بلند
پس چہ لذت در نمازِ بے سرود

چونکہ نغمہ و موسیقی سے جذبات بلند ہوتے ہیں سو اس نماز میں کیا لذت ہوگی جس میں راگ رنگ نہ ہو (سو ہماری نماز میں راگ رنگ بھی شامل ہوگا)۔

از خداوندے کہ غیب او را سزد
خوشتر آں دیوے کہ آید در شہود

اُس خدا سے جو غیب میں رہنا پسند کرتا ہے، (انسانوں کیلیے) وہ دیوتا زیادہ بہتر ہے جو سامنے اور مشاہدے میں ہو۔

اے خدایانِ کہن وقت است وقت
سو اے پرانے خداؤ (یہی) وقت ہے وقت ہے (تمھارے عروج کا)۔

یہاں علامہ اور انکے راہبر پیر رومی اس مجلس کو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور فلکِ زہرہ کے دریا میں اترتے ہیں اور وہاں حضرت موسیٰ والے فرعون اور فیلڈ مارشل ہربرٹ کچنر کی روحوں کو دیکھتے ہیں اور ان سے گفتگو کرتے ہین۔ لارڈ کچنر ایک مشہور اور متنازعہ انگریز جنرل تھا جس نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشہور مجاہد مہدی سوڈانی کی قبر کھود ڈالی اور لاش کو سزا دی۔

اس ملاقات میں اسی واقعے کے متعلق باتیں ہیں لیکن ہم یہاں اس خوبصورت مجلس سے جدا ہوتے ہیں اس وعدے کے ساتھ کہ اس محفل میں پھر حاضر ہونگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 15, 2010

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری - آتش کی ایک غزل

خواجہ حیدر علی آتش کی ایک غزل

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری
خوشا دماغ جسے تازہ رکھّے بُو تیری

پھرے ہیں مشرق و مغرب سے تا جنوب و شمال
تلاش کی ہے صنم ہم نے چار سُو تیری
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Khwaja Haider Ali Aatish, خواجہ حیدر علی آتش, classical urdu poetry, کلاسیکی اردو شاعری
خواجہ حیدر علی آتش
Khwaja Haider Ali Aatish
شبِ فراق میں اک دم نہیں قرار آیا
خدا گواہ ہے، شاہد ہے آرزو تیری

دماغ اپنا بھی اے گُلبدن معطّر ہے
صبا ہی کے نہیں حصّے میں آئی بُو تیری

مری طرف سے صبا کہیو میرے یوسف سے
نکل چلی ہے بہت پیرہن سے بو تیری

شبِ فراق میں، اے روزِ وصل، تا دمِ صبح
چراغ ہاتھ میں ہے اور جستجو تیری

جو ابر گریہ کناں ہے تو برق خندہ زناں
کسی میں خُو ہے ہماری، کسی میں خُو تیری

کسی طرف سے تو نکلے گا آخر اے شہِ حُسن
فقیر دیکھتے ہیں راہ کو بہ کو تیری

زمانے میں کوئی تجھ سا نہیں ہے سیف زباں
رہے گی معرکے میں آتش آبرو تیری

------

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
پہلے شعر کی تقطیع -

خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں‌ آرزو تیری
خوشا دماغ جسے تازہ رکھّے بُو تیری

خُ شا وُ دل - مفاعلن - 2121
ک ہُ جس دل - فعلاتن - 2211
مِ آ ر زو - مفاعلن - 2121
تے ری - فعلن - 22
خُ شا د ما - مفاعلن - 2121
غ جِ سے تا - فعلاتن - 2211
زَ رک کِ بُو - مفاعلن - 2121
تے ری - فعلن - 22

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 9, 2010

شورشِ زنجیر بسم اللہ - فیض

فیض احمد فیض کی ایک نظم جو مجھے بہت پسند ہے۔

شورشِ زنجیر بسم اللہ

ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ
ہر اک جانب مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ
گلی کوچوں میں بکھری شورشِ زنجیر بسم اللہ

درِ زنداں پہ بُلوائے گئے پھر سے جنوں والے
دریدہ دامنوں والے، پریشاں گیسوؤں والے
جہاں میں دردِ دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ
ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ
Faiz Ahmed Faiz, فیض احمد فیض, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Faiz Ahmed Faiz, فیض احمد فیض

گِنو سب داغ دل کے، حسرتیں شوقیں نگاہوں کی
سرِ دربار پُرسش ہو رہی ہے پھر گناہوں کی
کرو یارو شمارِ نالۂ شبگیر بسم اللہ

ستم کی داستاں، کشتہ دلوں کا ماجرا کہیے
جو زیرِ لب نہ کہتے تھے وہ سب کچھ برملا کہیے
مُصر ہے محتسب رازِ شہیدانِ وفا کہیے
لگی ہے حرفِ نا گفتہ پر اب تعزیر بسم اللہ

سرِ مقتل چلو بے زحمتِ تقصیر بسم اللہ
ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ

لاہور جیل
جنوری 1959ء
------

بحر - بحر ہزج مثمن سالم
افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
(ہندسوں کو اردو طریقے سے پڑھیں یعنی دائیں سے بائیں یعنی 1 پہلے ہے)
تقطیع -
ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ
ہر اک جانب مچا کہرام دار و گیر بسم اللہ
گلی کوچوں میں بکھری شورشِ زنجیر بسم اللہ

ہُ ئی پر ام - مفاعیلن - 2221
تِ حا نے عش - مفاعیلن - 2221
ق کی تد بی - مفاعیلن - 2221
ر بس مِل لا - مفاعیلن - 2221
ہَ رِک جا نب - مفاعیلن - 2221 (الف کا وصال نوٹ کریں)۔
مچا کہرا - مفاعیلن - 2221
مِ دا رو گی - مفاعیلن - 2221
ر بس مِل لا - مفاعیلن - 2221
گلی کو چو - مفاعیلن - 2221
مِ بکری شو - مفاعیلن - 2221
ر شے زن جی - مفاعیلن - 2221
ر بس مِل لا - مفاعیلن - 2221

لفظ 'اللہ' کے وزن کے بارے میں ایک وضاحت یہ کہ اسکا صحیح وزن تو ال لا ہ یعنی مفعول یا 2 2 1 ہے اور کچھ ماہرینِ عروض اس لفظ کی آخری 'ہ' کو گرانا جائز نہیں سمجھتے لیکن شعرا عموماً اسکی پروا نہیں کرتے اور بلا تکلف اس کو 'ال لا' یعنی فعلن 2 2 باندھتے ہیں۔ لیکن اس نظم میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے گو میں نے تقطیع میں ہ کو حذف کر دیا ہے لیکن اگر ہ کو نہ بھی گرایا جائے تو آخری رکن مفاعیلن کی جگہ مفاعیلان بنے گا جو کے اسے بحر میں جائز ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 6, 2010

شیخ فخر الدین عراقی کی ایک غزل - دلے یا دلبرے، یا جاں و یا جاناں، نمی دانم

شیخ فخر الدین عراقی نامور صوفی شاعر تھے، انکے کچھ حالات اور ایک غزل پہلے لکھ چکا ہوں، انکی ایک اور خوبصورت غزل لکھ رہا ہوں۔

دلے یا دلبرے، یا جاں و یا جاناں، نمی دانم
ہمہ ہستی تو ای فی الجملہ ایں و آں نمی دانم

تُو دل ہے یا دلبر، تُو جان ہے یا جاناں، میں نہیں جانتا۔ ہر ہستی و ہر چیز تو تُو ہی ہے، میں یہ اور وہ کچھ نہیں جانتا۔

بجز تو در ہمہ عالم دگر دلبر نمی دانم
بجز تو در ہمہ گیتی دگر جاناں نمی دانم

سارے جہان میں تیرے علاوہ میں اور کسی دلبر کو نہیں جانتا، ساری دنیا میں تیرے علاوہ میں اور کسی جاناں کو نہیں پہچانتا۔

بجز غوغائے عشقِ تو، درونِ دل نمی یابم
بجز سودائے وصلِ تو، میانِ جاں نمی دانم

تیرے عشق کے جوش و خروش کے علاوہ میں اپنے دل میں کچھ اور نہیں پاتا، تیرے وصل کے جنون کے علاوہ میں اپنی جان میں کچھ اور نہیں دیکھتا۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Fakhruddin Iraqi, شیخ فخرالدین عراقی ایک خاکہ
شیخ فخرالدین عراقی ایک خاکہ
Fakhruddin Iraqi
مرا با توست پیمانے، تو با من کردہ ای عہدے
شکستی عہد، یا ہستی بر آں پیماں؟ نمی دانم
میرے ساتھ تیرے پیمان ہیں اور تو نے میرے ساتھ عہد کیے، تُو نے اپنے عہد توڑ دیے یا ابھی تک انہی پر ہے، میں کچھ نہیں جانتا، یعنی مجھے اس سے غرض نہیں ہے، عشق میں عہد و پیمان کچھ معنی نہیں رکھتے۔

بہ اُمّیدِ وصالِ تو دلم را شاد می دارم
چرا دردِ دلِ خود را دگر درماں نمی دانم؟

تیرے وصال کی امید سے اپنے دل کو شاد رکھتا ہوں، میں اسی لیے اپنے دل کے درد کیلیے کوئی اور درمان نہیں ڈھونڈتا، یعنی صرف اور صرف تیرے وصل کی امید ہی دردِ دل کا پہلا اور آخری علاج ہے۔

نمی یابم تو را در دل، نہ در عالم، نہ در گیتی
کجا جویم تو را آخر منِ حیراں؟ نمی دانم

مجھ (ہجر کے مارے) کو نہ تُو دل میں ملتا ہے اور نہ جہان و کائنات میں، میں حیران (و پریشان) نہیں جانتا کہ آخر تجھ کو کہاں ڈھونڈوں؟ شاعر کا حیران ہونا ہی اس شعر کا وصف ہے کہ یہیں سے سارے راستے کھلیں گے۔

عجب تر آں کہ می بینم جمالِ تو عیاں، لیکن
نمی دانم چہ می بینم منِ ناداں؟ نمی دانم

یہ بھی عجیب ہے کہ تیرا جمال ہر سُو اور ہر طرف عیاں دیکھتا ہوں، اور میں نادان یہ بھی نہیں جانتا کہ کیا دیکھ رہا ہوں۔

ھمی دانم کہ روز و شب جہاں روشن بہ روئے توست
و لیکن آفتابے یا مہِ تاباں؟ نمی دانم

یہ جانتا ہوں کہ جہان کے روز و شب تیرے ہی جمال سے روشن ہیں لیکن یہ نہیں جانتا کہ تو سورج ہے یا تابناک چاند۔ یہ شعر اور اس سے قبل کے دو اشعار قطعہ محسوس ہوتے ہیں۔

بہ زندانِ فراقت در عراقی پائے بندم شد
رہا خواہم شدن یا نے؟ ازیں زنداں، نمی دانم

عراقی کے پاؤں ہجر کے قید خانے میں بندھے ہوئے ہیں، اور اس قید سے رہا ہونا بھی چاہتا ہوں یا نہیں، نہیں جانتا۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔