Oct 24, 2011

صائب تبریزی کے کچھ متفرق اشعار -۲

مشہور فارسی شاعر مرزا محمد علی صائب تبریزی کے کچھ مزید متفرق اشعار

یادِ رخسارِ ترا در دل نہاں داریم ما
در دلِ دوزخ، بہشتِ جاوداں داریم ما

تیرے رخسار کی یاد دل میں چھپائے ہوئے ہیں یعنی دوزخ جیسے دل میں ایک دائمی بہشت بسائے ہوئے ہیں۔
-----

روزگارِ زندگانی را بہ غفلت مگزراں
در بہاراں مست و در فصلِ خزاں دیوانہ شو

زندگی کے دن غفلت میں مت گزار، موسمِ بہار میں مست ہو جا اور خزاں میں دیوانہ۔
-----

Saib Tabrizi, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
یادگار صائب تبریزی، ایران
مشکل است از کوئے اُو قطعِ نظر کردَن مرا
ورنہ آسان است از دنیا گزر کردن مرا

اُس کے کُوچے کی طرف سے میرا قطعِ نظر کرنا مشکل (نا ممکن) ہے، ورنہ دنیا سے گزر جانا تو میرے لیے بہت آسان ہے۔
-----

در چشمِ پاک بیں نبوَد رسمِ امتیاز
در آفتاب، سایۂ شاہ و گدا یکے است

نیک (منصف؟) نگاہیں ایک کو دوسرے سے فرق نہیں کرتیں (کہ) دھوپ میں بادشاہ اور فقیر کا سایہ ایک (جیسا ہی) ہوتا ہے۔

بے ساقی و شراب، غم از دل نمی روَد
ایں درد را طبیب یکے و دوا یکے است

ساقی اور شراب کے بغیر غم دل سے نہیں جاتا کہ اس درد (دردِ دل) کا طبیب بھی ایک ہی ہے اور دوا بھی ایک۔

صائب شکایت از ستمِ یار چوں کند؟
ھر جا کہ عشق ھست، جفا و وفا یکے است

صائب یار کے ستم کی شکایت کیوں کریں کہ جہاں جہاں بھی عشق ہوتا ہے وہاں جفا اور وفا ایک ہی (چیز) ہوتے ہیں۔
-----

ما را دماغِ جنگ و سرِ کارزار نیست
ورنہ دلِ دو نیم کم از ذوالفقار نیست

ہمیں جنگ کا دماغ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے سر میں لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کا سودا سمایا ہے وگرنہ ہمارا دو ٹکڑے (ٹکڑے ٹکڑے) دل (اللہ کی مہربانی سے) ذوالفقار سے کم نہیں ہے (ذوالفقار: مہروں والی تلور، حضرت علی (ع) کی تلوار کا نام)۔
--------

ز ہر کلام، کلامِ عرب فصیح تر است
بجز کلامِ خموشی کہ افصح از عرب است

عرب کا کلام، ہر کلام سے فصیح تر (خوش بیاں، شیریں) ہے ماسوائے کلامِ خموشی (خاموشی) کے کہ وہ عرب کے کلام سے بھی فصیح ہے (خاموشی کی فضیلت بیان فرمائی ہے)۔
--------

انتظارِ قتل، نامردی است در آئینِ عشق
خونِ خود چوں کوهکن مردانہ می ‌ریزیم ما

عشق کے آئین میں قتل ہونے (موت) کا انتظار نامردی ہے، ہم اپنا خون فرہاد کی طرح خود ہی مردانہ وار بہا رہے ہیں۔
-----

دنیا بہ اہلِ خویش تَرحّم نَمِی کُنَد
آتش اماں نمی دہد، آتش پرست را

یہ دنیا اپنے (دنیا میں) رہنے والوں پر رحم نہیں کھاتی، (جیسے کہ) آگ، آتش پرستوں کو بھی امان نہیں دیتی (انہیں بھی جلا دیتی ہے)۔
-----

سیہ مستِ جنونم، وادی و منزِل نمی دانم
کنارِ دشت را، از دامنِ محمِل نمی دانم

میرا جنون ایسا سیہ مست ہے (اس نے مجھے وہ مدہوش کر رکھا ہے) کہ میں وادی اور منزل کچھ نہیں جانتا، میں دشت کے کنارے اور (محبوب کے) محمل کے دامن میں بھی کوئی فرق نہیں رکھتا، یعنی ان تمام منزلوں سے گذر چکا ہوں۔

من آں سیلِ سبک سیرَم کہ از ہر جا کہ برخیزم
بغیر از بحرِ بے پایاں دگر منزِل نمی دانم

میں ایسا بلاخیز طوفان ہوں کہ جہاں کہیں سے بھی اُٹھوں، بحرِ بے کنار کے علاوہ میری کوئی منزل نہیں ہوتی۔

اگر سحر ایں بُوَد صائب کہ از کلکِ تو می ریزد
تکلف بر طرف، من سحر را باطِل نمی دانم

صائب، اگر جادو یہ ہے جو تیرے قلم کی آواز (شاعری) میں ہے تو تکلف برطرف میں اس سحر کو باطل (کفر) نہیں سمجھتا۔
-----

نہ من از خود، نے کسے از حالِ من دارد خبر
دل مرا و من دلِ دیوانہ را گم کردہ ام

نہ مجھے اپنی اور نہ کسی کو میرے حال کی خبر ہے کہ میرے دل نے مجھے اور میں نے اپنے دیوانے دل کو گم کر دیا ہے۔
---------

متعلقہ تحاریر : صائب تبریزی, فارسی شاعری

2 comments:

  1. السلام علیکم

    ماشاء اللہ ،ماشاءاللہ آپ کا بلاگ دیکھا بہت خوب جناب بہت ساری اچھی اچھی چیزوں کو ایک جگہ کردیا ہے ایک دو دن میں آپ کا بلاگ کا مطالعہ کرنا تو ناممکن ہے لگتا ہے بار بار آنا پڑھے گا۔
    بہت ہی با ذوق بھائی ہو اور بہت ہی خوبی سے اردو کی تدوین کا کام انجام دے رہے ہیں آپ جس کو دیکھکر طبیعت خوش ہوگئی۔مجھے نہیں معلوم مجھے یہ باتیں یہاں لکھنی چاہیے تھی یا کہیں اور غلط جگہ لکھا ہو تو سوری اتنی دعا ضرور کرونگی
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔

    بہت شکریہ بھائی فارسی کلام کا ترجمہ کرکے آپ نے ہمیں ایک فارسی شاعر کے کلام سے متعارف کروایا ہے

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ آپ کا کوثر بیگ صاحبہ، اور بلاگ پر خوش آمدید، امید ہے تشریف لاتی رہیں گی۔

    ReplyDelete