Dec 19, 2011

غزل - سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ - شبنم شکیل

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ

ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے
اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ

تارہ بن کے دور افق پر کانپے، لرزے، ڈولے
کچی ڈور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Shabnam Shakeel
شبنم شکیل Shabnam Shakee
دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی
روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ

انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسان
میرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ

سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیر
کبھی نہ ہوگی پوری تیرے دل کی ایک امنگ

شبنم کوئی جو تجھ سے ہارے، جیت پہ مان نہ کرنا
جیت وہ ہوگی جب جیتو گی اپنے آپ سے جنگ

(شبنم شکیل)

--------

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو غزل, شبنم شکیل

10 comments:

  1. وارث بھائی بہت خوب صورت انتخاب ہے

    ReplyDelete
  2. بہت خوب صورت غزل کا انتخاب کیا ہے وارث بھائی آپ نے۔

    ReplyDelete
  3. ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے
    اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ
    بہت خوب ۔۔ بہت اچھا انتخاب ہے
    امید

    ReplyDelete
  4. آپکے انتخاب کی تو بات ہی الگ ہے اور یہ نایاب گوہر جانے کہاں کہاں سے اکٹھے کر کے لاتے رہتے ہیں بہت عمدہ کام ہے آپکا ۔ ۔ سلامت رہیے

    ReplyDelete