Sep 29, 2011

جس دن سے حرام ہو گئی ہے - ریاض خیر آبادی

ریاض خیرآبادی اردو شاعری میں خمریات کے امام ہیں، حالانکہ وہ انتہائی پابندِ شرع بزرگ تھے اور انکے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ساری زندگی میں مے نوشی تو دُور کی بات ہے انہوں نے شاید شراب دیکھی بھی نہ ہوگی۔ مولانا کی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔

جس دن سے حرام ہو گئی ہے
مے، خلد مقام ہو گئی ہے
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Maulana Riaz Khairabadi, مولانا ریاض خیر آبادی
مولانا ریاض خیر آبادی
Maulana Riaz Khairabadi
توبہ سے ہماری بوتل اچھّی
جب ٹوٹی ہے، جام ہو گئی ہے

قابو میں ہے ان کے وصل کا دن
جب آئے ہیں شام ہو گئی ہے

آتے ہی قیامت اس گلی میں
پامالِ خرام ہو گئی ہے

مے نوش ضرور ہیں وہ نا اہل
جن پر یہ حرام ہو گئی ہے

بجھ بجھ کے جلی تھی قبر پر شمع
جل جل کے تمام ہو گئی ہے

ہر بات میں ہونٹ پر ہے دشنام
اب حسنِ کلام ہو گئی ہے
-----

بحر - ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف

افاعیل - مفعول مفاعلن فعولن
اس بحر میں تسکین اوسط زخاف کی مدد سے ایک اور وزن بھی حاصل ہوتا ہے جو "مفعولن فاعلن فعولن"  ہے  اور بذاتِ خود ایک علیحدہ بحر ہے۔ اس بحر میں ان دونوں اوزان کا ایک شعر میں اجتماع جائز ہے۔

اشاری نظام - 122 2121 221
یا 222 212 221
دونوں کا اجتماع جائز ہے۔
ہندسوں کو اردو طررِ تحریر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے۔

تقطیع -
جس دن سے حرام ہو گئی ہے
مے، خلد مقام ہو گئی ہے

جس دن سِ - مفعول -122
حرام ہو - مفاعلن - 2121
گئی ہے - فعولن - 221

مے خلد - مفعول - 122
مقام ہو - مفاعلن - 2121
گئی ہے - فعولن - 221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 26, 2011

نوائے سروش

شعراء اور اُدَبا کرام کی لطیف اور دلچسپ باتوں، اور واقعات، کتب سے دلچسپ اقتباسات وغیرہ کے حوالے سے ایک مستقل سلسلہ "نوائے سروش" کے عنوان سے شروع کر رہا ہوں۔
------

مولانا عبدالرحمٰن جامی مشہور فارسی شاعر اور صوفی بزرگ تھے اور عوام الناس کے ساتھ ساتھ صوفی منش لوگ بھی انکی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ ایک مہمل گو شاعر جس کا حلیہ صوفیوں جیسا تھا، انکی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے سفرِ حجاز کی طویل داستان کے ساتھ ساتھ ان کو اپنے دیوان سے مہمل شعر بھی سنانے لگا، اور پھر بولا۔

"میں نے خانہٴ کعبہ پہنچ کر برکت کے خیال سے اپنے دیوان کو حجرِ اسود پر ملا تھا۔"

یہ سن کر مولانا جامی مسکرائے اور فرمایا۔

"حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ تم اپنے دیوان کو آبِ زم زم میں دھوتے۔"
--------

ایک شخص نے سر سید کو خط لکھا کہ "میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ہیں، جن کی لوگ تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کی ساری عمر قوم کی خیر خواہی اور بھلائی میں گزری، جب میری آنکھ کھلی تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ بزرگ آپ ہی ہیں، پس میری مشکل اگر حل ہوگی تو آپ ہی سے ہوگی۔"

سرسید نے اسے جواب لکھا کہ "جس باب میں آپ سفارش چاہتے ہیں اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جس کو آپ نے خواب میں دیکھا تھا وہ غالباً شیطان تھا"۔
--------

کنور مہندر سنگھ بیدی جن دنوں دہلی کے مجسڑیٹ تھے، ان کی عدالت میں چوری کے جرم میں گرفتار کئے گئے ایک نوجوان کو پیش کیا گیا۔

کنور صاحب نے نوجوان کی شکل دیکتھے ہوئے کہا۔

"میں ملزم کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، ہتھکڑیاں کھول دو، یہ بیچارہ تو ایک شاعر ہے، شعر چرانے کے علاوہ کوئی اور چوری کرنا اسکے بس کا روگ نہیں۔"
-----

"ایک شخص نے آپ [شاہ عبدالعزیز فرزند شاہ ولی اللہ] سے مسئلہ پوچھا کہ مولوی صاحب، یہ طوائف یعنی کسبی عورتیں مرتی ہیں تو انکے جنازے کی نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جو مرد انکے آشنا ہیں، انکی نمازِ جنازہ پڑھتے ہو یا نہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں پڑھتے ہیں۔ حضرت نے کہا تو پھر انکی بھی پڑھ لیا کرو۔"

(بحوالہ رودِ کوثر از شیخ محمد اکرام)
-----

مرزا غالب نے ایک کتاب "قاطع برہان" لکھی، اسکا جواب اکثر مصنفوں نے دیا، ان میں سے بعض کے جواب مرزا نے بھی لکھے اور ان میں زیادہ تر شوخی اور ظرافت سے کام لیا لیکن مولوی امین الدین کی کتاب "قاطع قاطع" کا جواب مرزا نے کچھ نہیں دیا کیونکہ اس میں فحش اور ناشائستہ الفاظ کثرت سے لکھے تھے۔

کسی نے کہا۔ "حضرت آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں لکھا۔"

مرزا نے جواب دیا۔ "اگر کوئی گدھا تمھارے لات مار دے تو کیا تم بھی اس کے لات مارو گے؟"
------

جوش ملیح آبادی کے صاحبزادے سجّاد کی شادی کی خوشی میں ایک بے تکلف محفل منقعد ہوئی جس میں جوش کے دیگر دوستوں کے ساتھ ساتھ انکے جگری دوست ابن الحسن فکر بھی موجود تھے۔

ایک طوائف نے جب بڑے سُریلے انداز میں جوش صاحب کی ہی ایک غزل گانی شروع کی تو فکر صاحب بولے:

"اب غزل تو یہ گائیں گی، اور جب داد ملے گی تو سلام جوش صاحب کریں گے۔"

--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 22, 2011

ثلاثی - حمایت علی شاعر

ثلاثی - حمایت علی شاعر

نیچے دیے گئے پہلے تین ثلاثی (شاعر، انتباہ اور ارتقا) "فنون" لاہور، اشاعت خاص نمبر 2، جولائی 1963ء میں حمایت علی شاعر صاحب کے اس نوٹ کے ساتھ شائع ہوئے تھے۔

"تین مصرعوں کی نظموں کے لیے میں نے ایک نیا نام "تثلیث"(مثلث کی رعایت سے) تجویز کیا تھا لیکن مدیرانِ "فنون" [احمد ندیم قاسمی اور حبیب اشعر دہلوی] کے مشوروں کی روشنی میں اس کا نام "ثلاثی" منتخب کیا ہے۔ شاعر"۔
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Himayat Ali Shair, حمایت علی شاعر, salasi, ثلاثی
حمایت علی شاعر - موجدِ  ثلاثی
Himayat Ali Shair
اس تحریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حمایت علی شاعر صنفِ ثلاثی کے موجد ہیں۔ دراصل صنفِ ثلاثی بہت حد تک اردو ہائیکو سے مماثلت رکھتی ہے لیکن ہائیکو میں کچھ بندشیں یا پابندیاں ہیں کہ وہ ہمیشہ ایک ہی وزن یا بحر میں کہے جاتے ہیں لیکن ثلاثی کسی بھی بحر میں کہے جا سکتے ہیں۔

سب سے پہلے حمایت علی شاعر کے وہ تین ثلاثی جو "فنون" میں شائع ہوئے تھے۔

شاعر
ہر موجِ بحر میں کئی طوفاں ہیں مشتعل
پھر بھی رواں ہوں ساحلِ بے نام کی طرف
لفظوں کی کشتیوں میں سجائے متاعِ دل

انتباہ
کہہ دو یہ ہوا سے کہ وہ یہ بات نہ بھُولے
جم جائیں تو بن جاتے ہیں اک کوہِ گراں بھی
ویرانوں میں اُڑتے ہوئے خاموش بگُولے

ارتقا
یہ اوج، بے فراز ہے آوارہ بادلو
کونپل نے سر اُٹھا کے بڑے فخر سے کہا
پاؤں زمیں میں گاڑ کے سُوئے فلک چلو

حمایت علی شاعر صاحب کے کچھ مزید ثلاثی

یقین
دشوار تو ضرور ہے، یہ سہل تو نہیں
ہم پر بھی کھل ہی جائیں گے اسرارِ شہرِ علم
ہم ابنِ جہل ہی سہی، بو جہل تو نہیں

ابن الوقت
سورج تھا سر بلند تو محوِ نیاز تھے
سورج ڈھلا تو دل کی سیاہی تو دیدنی
کوتاہ قامتوں کے بھی سائے دراز تھے

کرسی
جنگل کا خوں خوار درندہ کل تھا مرا ہمسایہ
اپنی جان بچانے میں جنگل سے شہر میں آیا
شہر میں بھی ہے میرے خون کا پیاسا اک چوپایہ

الہام
کوئی تازہ شعر اے ربّ ِ جلیل
ذہن کے غارِ حرا میں کب سے ہے
فکر محوِ انتظارِ جبرئیل

نمائش
قرآں، خدا، رسول ہے سب کی زبان پر
ہر لفظ آج یوں ہے معانی سے بے نیاز
لکھی ہو جیسے نام کی تختی مکان پر

----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 19, 2011

سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ

مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے اپنی شاہکار “کوثر سیریز” کی آخری کتاب “موجِ کوثر” میں سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل کے پانچ اشعار دیے ہیں سو وہ ترجمے کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب نے یہ اشعار سر سید کا مذہبی جوش و ولولہ دکھانے کیلیئے دیئے ہیں اور کیا سچ بات کہی ہے شیخ صاحب نے لیکن شاعرانہ نکتہ نظر سے بھی ان اشعار میں سر سید کا زورِ بیان اور صنعتوں کا کمال دیکھیئے، زور بیانِ میں تو یہ اشعار بڑے بڑے کلاسیکی فارسی اساتذہ کے کلام سے لگّا کھاتے ہیں۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Sir Syyed Ahmed Khan, سر سید احمد خان
Sir Syyed Ahmed Khan, سر سید احمد خان
فلاطوں طِفلَکے باشَد بہ یُونانے کہ مَن دارَم
مَسیحا رشک می آرَد ز دَرمانے کہ مَن دارَم


(افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں)
خُدا دارَم دِلے بِریاں ز عشقِ مُصطفٰی دارَم
نَدارَد ھیچ کافر ساز و سامانے کہ مَن دارَم


(میں خدا رکھتا ہوں کہ جلے ہوے دل میں عشقِ مصطفٰی (ص) رکھتا ہوں، کوئی کافر بھی ایسا کچھ ساز و سامان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے)

ز جبریلِ امیں قُرآں بہ پیغامے نمی خواھَم
ہمہ گفتارِ معشوق است قرآنے کہ مَن دارَم

(جبریلِ امین سے پیغام کے ذریعے قرآن کی خواہش نہیں ہے، وہ تو سراسر محبوب (ص) کی گفتار ہے جو قرآن کہ میں رکھتا ہوں)۔

فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ہزاراں ایں چُنیں دارَد گریبانے کہ مَن دَارم

آسمان اس تمام شان و شوکت کے ساتھ فقط سورج کا ایک مطلع رکھتا ہے جب کہ اس (مطلع خورشید) جیسے ہزاروں میرے گریبان میں ہیں۔

ز بُرہاں تا بہ ایماں سنگ ھا دارَد رہِ واعظ
نَدارَد ھیچ واعظ ہمچو بُرہانے کہ مَن دارَم

واعظ کی دلیل و عقل سے ایمان تک کی راہ پتھروں سے بھری پڑی ہے لیکن کوئی واعظ اس جیسی برہان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔

(سر سید احمد خان)
——–
بحر - بحر ہزج مثمن سالم

افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن

اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221

تقطیع -
فلاطوں طفلکے باشد بہ یُونانے کہ من دارَم
مسیحا رشک می آرد ز درمانے کہ من دارم
فلاطو طف - مفاعیلن - 2221
لَکے باشد - مفاعیلن - 2221
بَ یونانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221
مسیحا رش - مفاعیلن - 2221
ک می آرد - مفاعیلن - 2221
ز درمانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221

-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 14, 2011

مولانا رُومی کے کچھ متفرق اشعار

وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال
گر ایں کمال نَداری، کمال نقصان است


آدمی کا وجود عشق سے ہی کمال تک پہنچتا ہے، اور اگر تو یہ کمال نہیں رکھتا تو کمال (حد سے زیادہ) نقصان ہے۔
--------

مردہ بُدم زندہ شُدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم


میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔
--------
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Maulana Rumi,  مولانا جلال الدین رومی، قونیہ، ترکی
مزار مولانا جلال الدین رُومی علیہ الرحمہ، قونیہ تُرکی
Mazar Maulana Rumi
حاصلِ عُمرَم سہ سُخَن بیش نیست
خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم

میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں ہے، خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔
--------

ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر
ہر کہ اُو آگاہ تر، رُخ زرد تر


ہر وہ کہ جو زیادہ بیدار ہے اسکا درد زیادہ ہے، ہر وہ کہ جو زیادہ آگاہ ہے اسکا چہرہ زیادہ زرد ہے۔

--------

خرد نداند و حیراں شَوَد ز مذہبِ عشق
اگرچہ واقفِ باشد ز جملہ مذہب ھا


خرد، مذہبِ عشق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سو (مذہب عشق کے معاملات سے) حیران ہو جاتی ہے۔ اگرچہ خرد اور تو سب مذاہب کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے۔
--------

خدایا رحم کُن بر من، پریشاں وار می گردم
خطا کارم گنہگارم، بہ حالِ زار می گردم


اے خدا مجھ پر رحم کر کہ میں پریشان حال پھرتا ہوں، خطار کار ہوں، گنہگار ہوں اور اپنے اس حالِ زار کی وجہ سے ہی گردش میں ہوں۔

گہے خندم گہے گریم، گہے اُفتم گہے خیزم
مسیحا در دلم پیدا و من بیمار می گردم


اس شعر میں ایک بیمار کی کیفیات بیان کی ہیں جو بیم و رجا میں الجھا ہوا ہوتا ہے کہ کبھی ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں، کبھی گرتا ہوں اور کبھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ان کیفیات کو گھومنے سے تشبیہ دی ہے کہ میرے دل میں مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں بیمار اسکے گرد گھومتا ہوں۔ دل کو مرکز قرار دے کر اور اس میں ایک مسیحا بٹھا کر، بیمار اسکا طواف کرتا ہے۔

بیا جاناں عنایت کُن تو مولانائے رُومی را
غلامِ شمس تبریزم، قلندر وار می گردم


اے جاناں آ جا اور مجھ رومی پر عنایت کر، کہ میں شمس تبریز کا غلام ہوں اور دیدار کے واسطے قلندر وار گھوم رہا ہوں۔ اس زمانے میں ان سب صوفیا کو قلندر کہا جاتا تھا جو ہر وقت سفر یا گردش میں رہتے تھے۔
--------

یک دست جامِ بادہ و یک دست زلفِ یار
رقصے چنیں میانۂ میدانم آرزوست


ایک ہاتھ میں شراب کا جام ہو اور دوسرے ہاتھ میں یار کی زلف، اور اسطرح بیچ میدان کے رقص کرنے کی آرزو ہے۔

دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست


کل (ایک) شیخ چراغ لیئے سارے شہر کے گرد گھوما کیا (اور کہتا رہا) کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کا آزرو مند ہوں۔

واللہ کہ شہر بے تو مرا حبس می شوَد
آوارگی و کوہ و بیابانم آرزوست


واللہ کہ تیرے بغیر شہر میرے لئے حبس (زنداں) بن گیا ہے، (اب) مجھے آوارگی اور دشت و بیابانوں کی آرزو ہے۔
--------

شاد باش اے عشقِ خوش سودائے ما
اے طبیبِ جملہ علّت ہائے ما

اے دوائے نخوت و ناموسِ ما
اے تو افلاطون و جالینوسِ ما


(مثنوی)

خوش رہ اے ہمارے اچھے جنون والے عشق، (تُو جو کہ) ہماری تمام علّتوں کا طبیب ہے۔

(تو جو کہ) ہماری نفرت اور ناموس (حاصل کرنے کی ہوس) کی دوا ہے، تو جو ہمارا افلاطون اور جالینوس ہے۔
--------

-انتہا-
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 10, 2011

غزل - جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر

جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو
سنگِ مرمر، اُودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو

بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگر
گلشن خوشبو، کوئل کُو کُو، مستی دارُو، میں اور تُو
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Javaid Akhter, جاوید اختر
جاوید اختر Javaid Akhter
بانبی ناگن، چھایا آنگن، گنگھرو چھن چھن، آشا من
آنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو

راتیں مہکی، سانسیں دہکی، نظریں بہکی، رُت لہکی
پریم کھلونا، سَپَن سلونا، پھول بچھونا، وہ پہلو

تم سے دوری، یہ مجبوری، زخمِ کاری، بیداری
تنہا راتیں، سپنے کاتیں، خود سے باتیں میری خُو

(جاوید اختر)

اور یہ غزل استاد نصرت فتح علی خان کی خوبصورت آواز میں



----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 8, 2011

نظم - میرے گھر میں روشن رکھنا - امجد اسلام امجد

میرے گھر میں روشن رکھنا

چینی کی گُڑیا سی جب وہ
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی
میری جانب آتی ہے تو
اُس کے لبوں پر ایک ستارہ کِھلتا ہے
"پاپا"
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Amjad Islam Amjad, امجد اسلام امجد
امجد اسلام امجد
Amjad Islam Amjad
اللہ۔ اس آواز میں کتنی راحت ہے
ننھے ننھے ہاتھ بڑھا کر جب وہ مجھ سے چُھوتی ہے تو
یوں لگتا ہے
جیسے میری رُوح کی ساری سچّائی
اس کے لمس میں جاگ اٹھتی ہے
اے مالک، اے ارض و سما کو چُٹکی میں بھر لینے والے
تیرے سب معمور خزانے
میری ایک طلب
میرا سب کچھ مجھ سے لے لے
لیکن جب تک
اس آکاش پہ تارے جلتے بُجھتے ہیں
میرے گھر میں روشن رکھنا
یہ معصوم ہنسی

اے دنیا کے رب
کوئی نہیں ہے اس لمحے تیرے میرے پاس
سچ سچ مجھ سے کہہ
تیرے ان معمور خزانوں کی بے انت گرہ میں
بچے کی معصوم ہنسی سے زیادہ پیاری شے
کیا کوئی ہے؟

(امجد اسلام امجد)
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 6, 2011

علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل - ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے

زبورِ عجم میں سے علامہ اقبال کی درج ذیل غزل ایک خوبصورت غزل ہے۔ اس غزل میں ترنم ہے، شعریت ہے، اوجِ خیال ہے اور علامہ کا وہ روایتی اسلوب ہے جو اول و آخر صرف انہی سے منسوب ہے۔ اسی اسلوب کی وجہ سے ایران میں علامہ ہندوستان کے سب سے اہم فارسی شاعر سمجھے جاتے ہیں۔

ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے


میں تو (حقیقی) سلطان ہی سے نگاہ کی آرزو رکھتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں مٹی سے معبود نہیں بناتا۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
علامہ محمد اقبال
Allama Iqbal
دلِ بے نیازے کہ در سینہ دارَم
گدا را دھَد شیوۂ پادشاہے


وہ بے نیاز دل جو میں اپنے سینے میں رکھتا ہوں، گدا کو بھی بادشاہ کا انداز عطا کر دیتا ہے۔

ز گردوں فتَد آنچہ بر لالۂ من
فرَوریزَم او را بہ برگِ گیاہے


آسمان سے جو کچھ بھی میرے پھول (دل) پر نازل ہوتا ہے میں اسے گھاس کے پتوں پر گرا دیتا ہوں (عام کر دیتا ہوں)۔

چو پرویں فرَو ناید اندیشۂ من
بَدریوزۂ پر توِ مہر و ماہے


میرا فکر ستاروں کی طرح نیچے نہیں آتا کہ چاند اور سورج سے روشنی کی بھیک مانگے۔

اگر آفتابے سُوئے من خرَامَد
بشوخی بگردانَم او را ز راہے


اگر سورج میری طرف آتا ہے (مجھے روشنی کی بھیک دینے) تو میں شوخی سے اسے راستہ میں ہی سے واپس کر دیتا ہوں۔

بہ آں آب و تابے کہ فطرت بہ بَخشَد
درَخشَم چو برقے بہ ابرِ سیاہے


اس آب و تاب سے جو مجھے فطرت نے بخشی ہے، میں سیاہ بادلوں پر بجلی کی طرح چمکتا ہوں۔

رہ و رسمِ فرمانروایاں شَناسَم
خراں بر سرِ بام و یوسف بچاہے


میں حکمرانوں (صاحبِ اختیار) کے راہ و رسم کو پہچانتا ہوں کہ (ان کی کج فہمی سے) گدھے چھت (سر) پر ہیں اور یوسف کنویں میں۔
--------

بحر - بحر متقارب مثمن سالم
افاعیل - فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن

اشاری نظام - 221 221 221 221

تقطیع -

ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے

ز سُل طا - فعولن - 221
کُ نَم آ - فعولن - 221
ر زو اے - فعولن - 221
نِ گا ہے - فعولن - 221

مُ سل ما - فعولن - 221
نَ مز گِل - فعولن - 221 (الفِ وصل استعمال ہوا ہے)
نَ سا زم - فعولن - 221
اِ لا ہے - فعولن - 221

-----

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 3, 2011

یہ بھی سُنو ۔۔۔۔۔۔

قلتِ سامعین و قارئین کا شور ہر طرف ہے، کسی سے بات کر کے دیکھ لیں، کسی عالم فاضل سے، کسی خطیب مقرر سے، کسی ادیب سے، کسی شاعر کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیں، حتٰی کہ کسی بلاگر کا حالِ دل پوچھ لیں، یہی جواب ملے گا کہ جناب اب اچھے قاری یا سامع کہاں ملتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ قارئین اور سامعین کا جواب بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

دوسروں تک اپنی آواز پہنچانا اور کچھ نہ کچھ سنانا شاید بہت ضروری ہے، لیکن ضروری تو نہیں کہ ہر کسی کی اس نقار خانے میں سنی جائے مرزا غالب فرماتے ہیں۔

کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری

ہاں مرزا کے 'روگ' کچھ ایسے ہی تھے لیکن یہ بھی چنداں ضروری نہیں کہ ہر کسی کا مرزا والا حشر ہی ہو، مولانا رومی علیہ الرحمہ ایسی آواز سنا گئے کہ صدیاں گزر گئیں لیکن آج تک ہر طرف صاف صاف اور واضح سنائی دیتی ہے، 'مثنوی' کا آغاز اسی سننے سنانے سے کیا ہے اور کیا خوب آغاز کیا ہے، فرماتے ہیں۔

بِشنو، از نَے چوں حکایت می کُنَد
وَز جدائی ہا شکایت می کُنَد
بانسری کی سنو، کیا حکایت بیان کرتی ہے، اور (ازلی) جدائیوں کی کیا شکایت کرتی ہے۔

اور داستان سنانے والا، اللہ کا ایک بندہ ایسا گزرا ہے کہ سلطانِ وقت نے اسے ایک ایک شعر کے بدلے ایک ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا اور اس نے چالیس ہزار ایسے اشعار سنائے کہ ابد تک اشرفیوں میں تلتے رہیں گے۔ لیکن وائے اس شاہ پر کہ اپنے وعدے سے مکر گیا اور سونے کی اشرفیوں کو چاندی کے سکوں سے بدل دیا، خود دار فردوسی نے سلطان محمود غزنوی کی اس وعدہ خلافی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، 'شاہنامہ' کو بغل میں دابا اور اسکے پایہ تخت سے بھاگ گیا۔ 'زود پشیماں' سلطان کو سالہا سال کے بعد احساس ہوا اور جب اس شاعرِ بے مثال کے شہر پہنچا تو اسکے گھر چالیس ہزار اشرفیاں لیکر حاضر ہوا لیکن درویش شاعر دنیا سے کوچ کر چکا تھا، خوددار باپ کی خوددار بیٹی نے سلطان سے اشرفیاں لینے سے بھی انکار کر دیا۔

سلطان کی یہ ناگفتنی کہانی بھی ہمیشہ سنائی جاتی رہے گی لیکن کہاں دنیا کا سلطان اور کہاں اقلیم سخن کا فرمارواں، فردوسی پورے جوش و جذبے سے فرماتے ہیں

ع- دگرہا شنیدستی ایں ھَم شَنَو
دیگر تو بہت کچھ سن چکے اب یہ بھی سنو۔

خیر کہاں یہ بزرگ 'بزورِ بازو' سنانے والے کہ اتنا زورآور قلم کسی کو ہی نصیب ہوا ہوگا اور کہاں ہم جیسے طفلانِ مکتب جو کسی کا یہ شعر گنگنا کر ہی دل خوش کر لیتے ہیں۔

وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا آج کہانی اپنی

اب سننے سنانے کی بات 'پرانی کہانیوں' تک پہنچ ہی گئی ہے تو اس طفلِ مکتب کی ایک رباعی بھی سن لیں جو کچھ سال پرانی ہے اور میری پہلی رباعی ہے۔

بکھرے ہوئے پُھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی سُن لے

سنایا تو ظاہر ہے اپنے آپ کو ہی ہے، ہاں اگر کسی قاری کو لگے کہ ان کو سنا رہا ہوں تو انہیں مبارک باد کہ ابھی تک جوان ہیں یا کم از کم اپنے آپ کو جوان سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 2, 2011

ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا - مرتضیٰ برلاس

ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا

میں چپ ہُوا تو زخم مرے بولنے لگے
سب کچھ زبانِ حال سے لب بستہ کہہ دیا

خورشیدِ صبحِ نو کو شکایت ہے دوستو
کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا

چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا
ٹھہرا ذرا تو آپ نے پا بستہ کہہ دیا

دیکھا تو ایک آگ کا دریا تھا موجزن
اس دورِ نا سزا نے جسے رستہ کہہ دیا

دیکھی گئی نہ آپ کی آزردہ خاطری
کانٹے ملے تو ان کو بھی گلدستہ کہہ دیا


(مرتضٰی برلاس)

----

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا

ملتے ہِ - مفعول - 122
خُد کُ آپ - فاعلات - 1212
سِ وابستہ - مفاعیل - 1221
کہہ دیا - فاعلن - 212

محسوس - مفعول - 122
جو کیا وَ - فاعلات - 1212
ہِ برجستہ - مفاعیل - 1221
کہہ دیا - فاعلن - 212

مزید پڑھیے۔۔۔۔