Oct 26, 2011

نوائے سروش - خواجہ دل محمد اور ڈپٹی نذیر احمد

مولانا عبدالمجید سالک نے اپنی خودنوشت سوانح "سرگزشت" میں انجمنِ حمایت اسلام، لاہور کے ایک جلسے کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، ملاحظہ کیجیے۔

"خواجہ دل محمد اور ڈپٹی نذیر احمد

اس اجلاس میں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا، جو مجھے اب تک یاد ہے۔ خواجہ دل محمد صاحب ان دنوں کوئی انیس بیس سال کے نوجوان تھے اور اسی سال انہوں نے ریاضی میں ایم - اے کر کے برادرانِ وطن کے اس طعنے کا مؤثر جواب مہیا کیا تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔ خواجہ صاحب کی ایک خصوصیت خاص طور پر حیرت انگیز تھی کہ وہ ریاضی جیسے خشک مضمون کے ساتھ ہی ساتھ بحرِ شاعری کے بھی شناور تھے۔ اس سال انہوں نے ایک پاکیزہ مسدس "کلک گہر بار" کے نام سے پڑھی جس پر بہت پُرشور داد ملی اور انجمن کو چندہ بھی خوب ملا۔

اس اجلاس میں شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد بھی دہلی سے آئے ہوئے تھے، سر پر چوگوشیہ ٹوپی، چہرے پر تعبّس، سفید ڈاڑھی، لمبا سیاہ چغہ جو غالباً ایل ایل ڈی کا گاؤن تھا۔ آپ نے تقریر شروع کی تو دل آویز اندازِ بیان کی وجہ سے سارا جلسہ ہمہ تن گوش ہوگیا۔ آپ نے فرمایا، خواجہ دل محمد بہت ذہین اور لائق نوجوان ہیں اور شاعری فی نفسہ بُری چیز نہیں۔ حسان (رض) بن ثابت حضرت رسولِ خدا (ص) کے شاعر تھے لیکن میں کہتا ہوں کہ جو دماغ زیادہ عملی علوم کے لیے موزوں ہے اسے شعر کے بیکار شغل میں کیوں ضائع کیا جائے۔ اِس پر حاجی شمس الدین اٹھے اور کہا کہ شعر چونکہ مسلمہ طور پر نثر سے زیادہ قلوب پر اثر کرتا ہے اس لیے یہ بھی مقاصدِ قومی کے حصول کے لیے مفید ہے۔ چنانچہ خواجہ صاحب کی نظم پر انجمن کو اتنے ہزار روپیہ چندہ وصول ہوا جو دوسری صورت میں شاید نہ ہوتا۔
Deputy Nazeer Ahmed, ڈپٹی نذیر احمد
ڈپٹی نذیر احمد ﴿تصویر میں نام غلط ہے﴾۔
Deputy Nazeer Ahmed
اس پر مولانا نذیر احمد کسی قدر تاؤ کھا گئے اور کہنے لگے۔ حاجی صاحب چندہ جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں جو شخص خدمت میں ثابت قدم رہتا ہے اس کی بات قوم پر ضرور اثر کرتی ہے۔ یہ کہا اور عجیب دردناک انداز سے اپنی چوگوشیہ ٹوپی اتاری اور فرمایا کہ یہ ٹوپی جو حضور نظام خلد اللہ ملکہ؛ کے سامنے بھی نہیں اتری محض اس غرض سے اتارے دیتا ہوں کہ اس کو کاسہٴ گدائی بنا کر قوم سے انجمن کے لیے چندہ جمع کیا جائے۔ فقیر آپ کے سامنے موجود ہے، کشکول اس کے ہاتھ میں ہے، دے دو بابا، تمھارا بھلا ہوگا۔

بس پھر کیا تھا، جلسے میں بے نظیر جوش پیدا ہو گیا۔ مولانا کی ٹوپی مولانا کے سر پر رکھی گئی اور ہر طرف سے روپیہ برسنے لگا۔ یہاں تک کہ حاجی شمس الدین کی آواز اعلان کرتے کرتے بیٹھ گئی اور جب ذرا جوش کم ہوا تو مولانا نے پھر تقریر شروع کی اور ہنس کر حاجی صاحب سے کہا۔ اس نظم کے بعد ہماری نثر بھی آپ نے سُنی۔"

--اقتباس از سرگزشت از عبدالمجید سالک--
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 24, 2011

صائب تبریزی کے کچھ متفرق اشعار -۲

مشہور فارسی شاعر مرزا محمد علی صائب تبریزی کے کچھ مزید متفرق اشعار

یادِ رخسارِ ترا در دل نہاں داریم ما
در دلِ دوزخ، بہشتِ جاوداں داریم ما

تیرے رخسار کی یاد دل میں چھپائے ہوئے ہیں یعنی دوزخ جیسے دل میں ایک دائمی بہشت بسائے ہوئے ہیں۔
-----

روزگارِ زندگانی را بہ غفلت مگزراں
در بہاراں مست و در فصلِ خزاں دیوانہ شو

زندگی کے دن غفلت میں مت گزار، موسمِ بہار میں مست ہو جا اور خزاں میں دیوانہ۔
-----
Saib Tabrizi, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
یادگار صائب تبریزی، ایران
مشکل است از کوئے اُو قطعِ نظر کردَن مرا
ورنہ آسان است از دنیا گزر کردن مرا

اُس کے کُوچے کی طرف سے میرا قطعِ نظر کرنا مشکل (نا ممکن) ہے، ورنہ دنیا سے گزر جانا تو میرے لیے بہت آسان ہے۔
-----

در چشمِ پاک بیں نبوَد رسمِ امتیاز
در آفتاب، سایۂ شاہ و گدا یکے است

نیک (منصف؟) نگاہیں ایک کو دوسرے سے فرق نہیں کرتیں (کہ) دھوپ میں بادشاہ اور فقیر کا سایہ ایک (جیسا ہی) ہوتا ہے۔

بے ساقی و شراب، غم از دل نمی روَد
ایں درد را طبیب یکے و دوا یکے است

ساقی اور شراب کے بغیر غم دل سے نہیں جاتا کہ اس درد (دردِ دل) کا طبیب بھی ایک ہی ہے اور دوا بھی ایک۔

صائب شکایت از ستمِ یار چوں کند؟
ھر جا کہ عشق ھست، جفا و وفا یکے است

صائب یار کے ستم کی شکایت کیوں کریں کہ جہاں جہاں بھی عشق ہوتا ہے وہاں جفا اور وفا ایک ہی (چیز) ہوتے ہیں۔
-----

ما را دماغِ جنگ و سرِ کارزار نیست
ورنہ دلِ دو نیم کم از ذوالفقار نیست

ہمیں جنگ کا دماغ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے سر میں لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کا سودا سمایا ہے وگرنہ ہمارا دو ٹکڑے (ٹکڑے ٹکڑے) دل (اللہ کی مہربانی سے) ذوالفقار سے کم نہیں ہے (ذوالفقار: مہروں والی تلور، حضرت علی (ع) کی تلوار کا نام)۔
--------

ز ہر کلام، کلامِ عرب فصیح تر است
بجز کلامِ خموشی کہ افصح از عرب است

عرب کا کلام، ہر کلام سے فصیح تر (خوش بیاں، شیریں) ہے ماسوائے کلامِ خموشی (خاموشی) کے کہ وہ عرب کے کلام سے بھی فصیح ہے (خاموشی کی فضیلت بیان فرمائی ہے)۔
--------

انتظارِ قتل، نامردی است در آئینِ عشق
خونِ خود چوں کوهکن مردانہ می ‌ریزیم ما

عشق کے آئین میں قتل ہونے (موت) کا انتظار نامردی ہے، ہم اپنا خون فرہاد کی طرح خود ہی مردانہ وار بہا رہے ہیں۔
-----

دنیا بہ اہلِ خویش تَرحّم نَمِی کُنَد
آتش اماں نمی دہد، آتش پرست را

یہ دنیا اپنے (دنیا میں) رہنے والوں پر رحم نہیں کھاتی، (جیسے کہ) آگ، آتش پرستوں کو بھی امان نہیں دیتی (انہیں بھی جلا دیتی ہے)۔
-----

سیہ مستِ جنونم، وادی و منزِل نمی دانم
کنارِ دشت را، از دامنِ محمِل نمی دانم

میرا جنون ایسا سیہ مست ہے (اس نے مجھے وہ مدہوش کر رکھا ہے) کہ میں وادی اور منزل کچھ نہیں جانتا، میں دشت کے کنارے اور (محبوب کے) محمل کے دامن میں بھی کوئی فرق نہیں رکھتا، یعنی ان تمام منزلوں سے گذر چکا ہوں۔

من آں سیلِ سبک سیرَم کہ از ہر جا کہ برخیزم
بغیر از بحرِ بے پایاں دگر منزِل نمی دانم

میں ایسا بلاخیز طوفان ہوں کہ جہاں کہیں سے بھی اُٹھوں، بحرِ بے کنار کے علاوہ میری کوئی منزل نہیں ہوتی۔

اگر سحر ایں بُوَد صائب کہ از کلکِ تو می ریزد
تکلف بر طرف، من سحر را باطِل نمی دانم

صائب، اگر جادو یہ ہے جو تیرے قلم کی آواز (شاعری) میں ہے تو تکلف برطرف میں اس سحر کو باطل (کفر) نہیں سمجھتا۔
-----

نہ من از خود، نے کسے از حالِ من دارد خبر
دل مرا و من دلِ دیوانہ را گم کردہ ام

نہ مجھے اپنی اور نہ کسی کو میرے حال کی خبر ہے کہ میرے دل نے مجھے اور میں نے اپنے دیوانے دل کو گم کر دیا ہے۔
---------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 20, 2011

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا - غزل مجروح سلطانپوری

مجروح سلطانپوری کی ایک خوبصورت غزل

جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا
Majrooh Sultanpuri, مجروح سلطانپوری, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
مجروح سلطانپوری
Majrooh Sultanpuri
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

میں تو جب جانوں کہ بھر دے ساغرِ ہر خاص و عام
یوں تو جو آیا وہی پیرِ مغاں بنتا گیا

جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایانِ شوق
خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا

شرحِ غم تو مختصر ہوتی گئی اس کے حضور
لفظ جو منہ سے نہ نکلا داستاں بنتا گیا

دہر میں مجروح کوئی جاوداں مضموں کہاں
میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا

(مجروح سلطانپوری)
--------

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فاعلاتُن فاعلاتُن فاعلاتُن فاعلُن
(آخری رکن فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آسکتا ہے)

تقطیع -

جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

جب ہوا عر - فاعلاتن - 2212
فا تُ غم آ - فاعلاتن - 2212
رام جا بن - فاعلاتن - 2212
تا گیا - فاعلن - 212

سوز جانا - فاعلاتن - 2212
دل مِ سوزے - فاعلاتن - 2212
دیگرا بن - فاعلاتن - 2212
تا گیا - فاعلن - 212

-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 17, 2011

نوائے سروش - ۳

ایک روز خواجہ ہمام الدین تبریزی، تبریز کے ایک حمام میں غسل کیلیے گئے تو اتفاقاً وہاں شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بھی موجود تھے۔ خواجہ ہمام نے غسل کی ابتدا کی تو شیخ سعدی نے بوجۂ ادب لوٹے سے انکے سر پر پانی ڈالنا شروع کردیا۔ خواجہ ہمام نے استفسار کیا۔

میاں درویش کہاں سے آ رہے ہو۔

شیخ سعدی نے عرض کی۔ قبلہ شیراز سے حاضر ہوا ہوں۔

خواجہ ہمام نے کہا، یہ عجیب بات ہے کہ میرے شہر ﴿تبریز﴾ میں شیرازی کتوں سے بھی زیادہ ہیں ( یعنی تعداد میں)۔

شیخ سعدی نے مسکرا کر کہا۔ مگر میرے شہر میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ شیراز میں تبریزی کتوں سے بھی کم ہیں ( یعنی درجہ میں)۔
--------

ایک روز کا واقعہ ہے، مرزا غالب اور انکی بیگم بعد از موت عاقبت اور مغفرت کے مسائل پر بحث کر رہے تھے، مرزا کی بیگم بولیں۔

"روزہ رکھنا تو دور کی بات ہے آپ نے تو کبھی نماز بھی نہیں پڑھی اور عاقبت سنوارنے کے لئے کم از کم نماز روزہ کی پابندی ہے، ادائیگی اختیار کرنی ہی پڑتی ہے۔"

مرزا نے جواب دیا۔ "آپ بلا شبہ درست فرما رہی ہیں لیکن یہ بھی دیکھ لینا کہ آپ سے ہمارا حشر اچھا ہی ہوگا۔"

بیگم بولیں۔ "وہ کیونکر؟ کچھ ہمیں بھی تو بتائیے۔"

"بھئی بات تو بالکل سیدھی ہے۔" مرزا نے کہا۔ "آپ تو انہی نیلے تہبند والوں کے ساتھ ہونگی جن کے تہبند کے پلو میں مسواک بندھی ہوگی، ہاتھ میں ایک ٹونٹی دار بدھنی ہوگی اور انہوں نے اپنے سر بھی منڈوا رکھے ہونگے۔ آپ کے برعکس ہمارا حشر یہ ہوگا کہ ہماری سنگت بڑے بڑے غیر فانی، شہرت یافتہ بادشاہوں کے ساتھ ہوگی۔ مثلاً ہم فرعون، نمرود اور شداد کے ساتھ ہونگے۔ ہم اپنی مونچھوں کو بل دے کر اکڑتے ہوئے زمین پر قدم دھریں گے تو ہماری دائیں اور بائیں اطراف چار چار فرشتے ہمارے جلو میں چل رہے ہونگے۔"
--------

میر تقی میر کی عادت تھی کہ جب گھر سے باہر جاتے تو تمام دروازے کھلے چھوڑ دیتے تھے اور جب گھر واپس آتے تو تمام دروازے بند کر لیتے تھے۔ ایک دن کسی نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا۔

"میں ہی تو اس گھر کی واحد دولت ہوں۔"
--------

ایک محفل میں کچھ شاعر بیخود دہلوی اور سائل دہلوی کا ذکر کر رہے تھے۔ ایک شاعر نے شعر سنائے جس میں دونوں کے تخلص نظم ہوئے تھے۔ وہاں حیدر دہلوی بھی موجود تھے۔ شعر سن کر کہنے لگے ۔

"اس شعر میں سائل اور بیخود تخلص صرف نام معلوم ہوتے ہیں۔ کمال تو یہ تھا کہ شعر میں تخلص بھی نظم ہو اور محض نام معلوم نہ ہو۔"

کسی نے کہا یہ کیسے ممکن ہے۔؟ حیدر نے وہیں برجستہ یہ شعر کہہ کر سب کو حیران کر دیا:

پڑا ہوں میکدے کے در پہ اس انداز سے حیدر
کوئی سمجھا کہ بے خود ہے کوئی سمجھا کہ سائل ہے
--------

ایک مشاعرے کی نظامت کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کر رہے تھے۔ جب فنا نظامی کی باری آئی تو مہندر سنگھ نے کہا کہ حضرات اب میں ملک کے چوٹی کے شاعر حضرت فنا نظامی کو زحمت کلام دے رہا یہوں۔ فنا صاحب مائک پر آئے سحر کی پگڑی کی طرف مسکرا کر دیکھا اور اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے: حضور چوٹی کے شاعر تو آپ ہیں میں تو داڑھی کا شاعر ہوں۔
--------
ایک مولوی صاحب نے سر سید کو خط لکھا کہ معاش کی طرف سے بہت تنگ ہوں، عربی جانتا ہوں، انگریزی سے ناواقف ہوں، کسی ریاست میں میری سفارش کر دیں۔

سر سید نے جواب دیا کہ "سفارش کی میری عادت نہیں اور معاش کی تنگی کا آسان حل یہ ہے کہ میری تفسیرِ قرآن کا رد لکھ کر چھپوائیں، کتاب خوب بِکے گی اور آپ کی تنگی دور ہو جائے گی۔"
--------

سہارن پور میں عیدن ایک گانے والی تھی، بڑی باذوق، سخن فہم اور سیلقہ شعار، شہر کے اکثر ذی علم اور معززین اسکے ہاں چلے جایا کرتے تھے، ایک دن مولانا فیض الحسن سہارنپوری بھی پہنچے، وہ پرانے زمانے کی عورت نئی تہذیب سے ناآشنا، بیٹھی نہایت سادگی سے چرخہ کات رہی تھی۔

مولانا اس کو اس ہیت میں دیکتھے ہی واپس لوٹے، اس نے آواز دی، "مولانا آیئے، تشریف لایئے، واپس کیوں چلے؟"

مولانا یہ فرما کر چل دیئے کہ "ایسی تو اپنے گھر بھی چھوڑ آئے ہیں۔"
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 13, 2011

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں - شعیب بن عزیز

اس خاکسار کا یہ خیال تھا اور اب بھی بہت حد تک ہے کہ یہ بلاگ جنگل میں مور کے ناچ جیسا ہے لیکن اس خیال میں کچھ شبہ تین چار ماہ پہلے پیدا ہوا جب مشہور کالم نویس اور شاعر جناب عطا الحق قاسمی صاحب کے صاحبزادے یاسر پیرزادہ صاحب کی ایک ای میل ملی۔ اس میں انہوں نے اس بلاگ کی توصیف فرمائی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ انہیں اس بلاگ کے متعلق شعیب بن عزیز صاحب نے بتایا تھا۔ خیر ان کا مقدور بھر شکریہ ادا کیا اور کچھ معلومات کا تبادلہ ہوا۔

آپ نے ایک بہت خوبصورت شعر سنا ہوگا

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں

یہ شعر بہت مشہور ہے لیکن اس کے خالق کا نام بہت کم لوگوں کے علم میں ہے، جی ہاں اس کے خالق شعیب بن عزیز صاحب ہیں۔

جس دن کا یہ ذکر ہے اسی دن شام کو شعیب بن عزیز صاحب کا فون آیا، یہ میرے لیے واقعی ایک بہت اہم اور عزت افزائی کی بات تھی کیونکہ کہاں یہ خاکسار اور کہاں جناب شعیب بن عزیز صاحب۔ میں ذاتی طور پر شعیب بن عزیز صاحب کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا بجز انکی ایک غزل کے جو آج پوسٹ کر رہا ہوں لیکن اب اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آپ ایک درویش منش، اعلیٰ ظرف اور صاحبِ دل انسان ہیں۔ اگر آپ میں یہ خصوصیات نہ ہوتیں تو ایک اکیسویں گریڈ کے آفیسر اور حکومتِ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کو کیا ضرورت تھی کہ اس خاکسار کو نہ صرف یاد کرتے بلکہ بلاگ کی توصیف بھی فرماتے اور مزید اور مسلسل لکھنے کی تاکید فرماتے۔ تین چار ماہ قبل یہ وہ دن تھے جب میں اپنے بلاگ کی طرف سے بالکل ہی لاتعلق تھا لیکن شعیب صاحب کی تاکید نے مہمیز کا کام کیا۔

اور اب کچھ بات انکی مذکورہ غزل کے بارے میں۔ اس غزل کا مطلع اتنا جاندار اور رواں ہے کہ سالہا سال سے زبان زدِ عام ہے، ہر کسی کی زبان پر ہے اور ہر موقعے پر استمعال ہوتا ہے لیکن اس مطلع کی اس پذیرائی نے اس غزل کے دیگر اشعار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے حالانکہ میرے نزدیک اس غزل کا تیسرا شعر بیت الغزل ہے اور دیگر سبھی اشعار بھی بہت خوبصورت ہیں۔

خوبصورت غزل پیش خدمت ہے، پڑھیے اور سن دھنیے

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں

اب تو اُس کی آنکھوں کے، میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے، ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں
Shoaib Bin Aziz, شعیب بن ٕعزیز, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
شعیب بن عزیز
Shoaib Bin Aziz
زندگی بکھرتی ہے، شاعری نکھرتی ہے
دل بروں کی گلیوں میں، دل لگی کے کاموں میں

جس طرح شعیب اس کا، نام چُن لیا تم نے
اس نے بھی ہے چُن رکھّا، ایک نام ناموں میں

اور اب یہی غزل جناب شعیب بن عزیز صاحب کی اپنی آواز میں۔



--------
بحر - بحر ہزج مثمن اَشتر

افاعیل - فاعلن مفاعیلن / فاعلن مفاعیلن
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )

اشاری نظام - 212 2221 / 212 2221
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔

تقطیع -
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں

اب اُدا - فاعلن - 212
س پرتے ہو - مفاعیلن - 2221
سردیو - فاعلن - 212
کِ شامو مے - مفاعیلن 2221

اس طرح - فاعلن - 212
تُ ہوتا ہے - مفاعیلن - 2221
اس طرح - فاعلن - 212
کِ کامو مے - 2221

-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 10, 2011

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے - زہرہ نگاہ

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
اے تغافل تجھے پہچان گئے

خوب ہے صاحبِ محفل کی ادا
کوئی بولا تو برا مان گئے

کوئی دھڑکن ہے نہ آنسو نہ امنگ
وقت کے ساتھ یہ طوفان گئے
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Zehra Nigah, زہرا نگاہ
زہرا نگاہ Zehra Nigah
اس کو سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن
گردشِ دہر تجھے جان گئے

تیری اک ایک ادا پہچانی
اپنی اک ایک خطا مان گئے

اس جگہ عقل نے دھوکا کھایا
جس جگہ دل ترے فرمان گئے

(زہرہ نگاہ)
-----

بحر - بحر رمل مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعلاتن فعلاتن فعلن
پہلے رکن میں فاعلاتن کی جگہ فعلاتن اور آخری رکن میں فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آ سکتا ہے یوں اس بحر میں آٹھ اوزان جمع ہو سکتے ہیں۔

اشاری نظام - 2212 2211 22
پہلے رکن میں 2212 کی جگہ 2211 اور آخری رکن میں 22 کی جگہ 122 اور 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے۔

تقطیع -

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
اے تغافل تجھے پہچان گئے

خُش جُ آئے - فاعلاتن - 2212
تِ پشیما - فعلاتن - 2211
ن گئے - فَعِلن - 211

اے تغافل - فاعلاتن - 2212
تُ جِ پہچا - فعلاتن - 2211
ن گئے - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 8, 2011

نوائے سروش - ۲

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو اپنی بیٹی زیب النساء کیلئے استاد درکار تھا۔ یہ خبر سن کر ایران اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے بیسیوں قادر الکلام شاعر دہلی آگئے کہ شاید قسمت یاوری کرے اور وہ شہزادی کے استاد مقرر کر دیئے جائیں۔

ان ایام میں دہلی میں اس زمانہ کے نامور شاعر بھان چندر برہمن اور میر ناصر علی سرہندی بھی موجود تھے۔ نواب ذوالفقار علی خان، ناظمِ سرہند کی سفارش پر برہمن اور میر ناصر کو شاہی محل میں اورنگزیب کے روبرو پیش کیا گیا۔ سب سے پہلے برہمن کو اپنا کلام سنانے کا حکم ہوا، برہمن نے تعمیلِ حکم میں جو غزل پڑھی، اسکا مقطع تھا۔

مرا دلیست بکفر آشنا کہ چندیں بار
بکعبہ بُردم و بازم برہمن آوردم

(میرا دل اسقدر کفر آشنا ہے کہ میں جتنی بار بھی کعبہ گیا برہمن کا برہمن ہی واپس آیا۔)

گو یہ محض شاعرانہ خیال تھا اور تخلص کی رعایت کے تحت کہا گیا تھا لیکن عالمگیر انتہائی پابند شرع اور سخت گیر بادشاہ تھا، اسکی تیوری چڑھ گئی اور وہ برہمن کی طرف سے منہ پھیر کے بیٹھ گیا۔

میر ناصر علی نے اس صورتِ حال پر قابو پانے کیلئے اٹھ کر عرض کی کہ جہاں پناہ اگر برہمن مکہ جانے کے باوجود برہمن ہی رہتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، شیخ سعدی بھی تو یہی کہہ گئے ہیں۔۔

خرِ عیسٰی اگر بمکہ رود
چوں بیاید ہنوز خر باشد

(عیسٰی کا گدھا اگر مکہ بھی چلا جائے وہ جب واپس آئے گا، گدھے کا گدھا ہی رہے گا۔)

عالمگیر یہ شعر سن کر خوش ہوگیا اور برہمن کو معاف کردیا۔
--------

جوش ملیح آبادی ایک دفعہ علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے، ملاقاتی کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ علامہ اقبال کے سامنے قرآن پاک رکھا ہے اور وہ زار و قطار رو رہے ہیں۔

یہ دیکھ کر جوش نے بڑی معصومیت سے کہا۔

"علامہ صاحب، کیا کوئی وکیل قانون کی کتاب پڑھتے ہوئے بھی روتا ہے۔"

یہ سن کر علامہ ہنس پڑے۔
--------

اخبار "وطن" کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان کے علامہ اقبال سے دوستانہ تعلقات تھے، اور وہ علامہ کی اس دور کی قیام گاہ واقع انار کلی بازار لاہور اکثر حاضر ہوا کرتے تھے، اس دور میں انارکلی بازار میں گانے والیاں آباد تھیں۔ انہی دنوں میونسپل کمیٹی نے گانے والیوں کو انارکلی سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔

ان ایام میں جب بھی مولوی صاحب، علامہ سے ملاقات کے لئے آئے، اتفاقاً ہر بار یہی پتہ چلا کہ علامہ گھر پر تشریف نہیں رکھتے، باہر گئے ہوئے ہیں۔

ایک روز مولوی انشاء اللہ پہنچے تو علامہ گھر پر موجود تھے، مولوی صاحب نے ازراہِ مذاق کہا۔

"ڈاکٹر صاحب جب سے گانے والیاں انارکلی سے دوسری جگہ منتقل ہوئی ہیں، آپ کا دل بھی اپنے گھر میں نہیں لگتا۔"

علامہ نے فوراً جواب دیا۔

"مولوی صاحب، آخر انکا کیوں نہ خیال کیا جائے، وہ بھی تو "وطن" کی بہنیں ہیں۔"
--------

غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔

مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔

مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو

مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔
--------

سعادت حسن منٹو کے ایک دوست نے ایک دن ان س کہا۔

"منٹو صاحب، پچھلی بار جب آپ سے ملاقات ہوئی تھی تو آپ سے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی تھی کہ آپ نے مے نوشی سے توبہ کرلی ہے، لیکن آج مجھے یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے کہ آج آپ نے پھر پی ہوئی ہے۔"

منٹو نے جواب دیا۔

"بھئی تم درست کہہ رہے ہو، اُس دن اور آج کے دن میں فرق صرف یہ ہے کہ اُس دن تم خوش تھے اور آج میں خوش ہوں۔"
--------

آغا حشر کاشمیری کے شناساؤں میں ایک ایسے مولوی صاحب بھی تھے جنکی فارسی دانی کو ایرانی بھی تسلیم کرتے تھے، لیکن یہ اتفاق تھا کہ مولوی صاحب بیکاری کے ہاتھوں سخت پریشان تھے، اچانک ایک روز آغا صاحب کو پتہ چلا کہ ایک انگریز افسر کو فارسی سیکھنے کیلئے اتالیق درکار ہے۔ آغا صاحب نے بمبئی کے ایک معروف رئیس کے توسط سے مولوی صاحب کو اس انگریز کے ہاں بھجوا دیا، صاحب بہادر نے مولوی صاحب سے کہا۔

"ویل مولوی صاحب ہم کو پتہ چلتا کہ آپ بہت اچھا فارسی جانتا ہے۔"

مولوی صاحب نے انکساری سے کام لیتے ہوئے کہا۔ "حضور کی بندہ پروری ہے ورنہ میں فارسی سے کہاں واقف ہوں۔"

صاحب بہادر نے یہ سنا تو مولوی صاحب کو تو خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے رخصت کر دیا، لیکن اس رئیس سے یہ شکایت کی انہوں نے سوچے سمجھے بغیر ایک ایسے آدمی کو فارسی پڑھانے کیلئے بھیج دیا جو فارسی کا ایک لفظ تک نہیں جانتا تھا۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 3, 2011

مولانا ابوالکلام آزاد کے چند اشعار اور ایک نایاب تصویر

امام الہند مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد کا عہد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا نازک ترین عہد تھا اور اسی عہد کی "نازک مزاجیوں" کی وجہ سے مولانا کی مذہبی و علمی و ادبی حیثیت پس پردہ چلی گئی حالانکہ مولانا کو سولہ سترہ برس کی عمر ہی میں مولانا کہا جانا شروع ہو گیا تھا۔ خیر یہ مولانا کی سیاست پر بحث کرنے کا محل نہیں ہے کہ مقصود نظر مولانا کے چند اشعار پیش کرنا ہیں۔

مولانا لڑکپن میں اشعار کہا کرتے تھے اور آزاد تخلص کرتے تھے، شاید بعد میں اشعار کہنا ترک فرما دیے تھے یا انکی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ شاعری کیلیے وقت نہیں ملا لیکن تخلص انکے نام کا جزوِ لاینفک ضرور بن گیا۔ مولانا کی خودنوشت سوانح "آزاد کی کہانی، آزاد کی زبانی" میں انکے چند اشعار شامل ہیں وہی لکھ رہا ہوں، اگر دوستوں کے علم میں مولانا آزاد کے مزید اشعار ہو تو لکھ کر شکریہ کا موقع دیں۔

سب سے پہلے مولانا کی ایک رباعی جو مذکورہ کتاب کے مرتب مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے دیباچے میں لکھی ہے اور کیا خوبصورت رباعی ہے۔

تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی
اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ و روپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی

اور ایک غزل کے تین اشعار جو اسی کتاب کے متن میں مولانا نے خود تحریر فرمائے ہیں۔

نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی

گنبد ہے گرد بار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ مری قبر نہیں سائبان کی

آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی

ایک مزید شعر اسی کتاب میں سے

سب لوگ جدھر ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

اور اب مولانا کی ایّامِ جوانی کی  ایک تصویر۔ یہ تصویر انکی کتاب "تذکرہ " کی اشاعتِ اوّل 1919ء میں شامل ہوئی تھی، مولانا اس تصویر کی اشاعت کیلیے راضی نہیں تھے لیکن کتاب کے مرتب فضل الدین احمد مرزا نے مولانا کی اجازت کے بغیر اس تصویر کو مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کر دیا تھا۔

"بہرحال مولانا کے اس حکم کی میں تعمیل نہ کر سکا اور کتاب کے ساتھ اُن کا سب سے آخری فوٹو شائع کر رہا ہوں، یہ فوٹو رانچی میں لیا گیا ہے اور مولانا کی بریّت کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ کم سے کم اس کے کھنچوانے میں خود مولانا کے ارادے کو کچھ دخل نہ تھا، وہ بالکل مجبور تھے۔"

اس داخلی شہادت سے اس تصویر میں مولانا کی عمر کا بھی تعین ہو جاتا ہے۔ مولانا 1916ء میں رانچی گئے تھے اور یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی جبکہ مولانا وہیں تھے سو اس تصویر میں مولانا کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے۔

تصویر ملاحظہ کیجیے۔ مولانا آزاد کی کتب اس ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہیں۔ اور اسی ویب سائت سے  یہ تصویر حاصل کی ہے۔

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Maulana Abul Kalam Azad, مولانا ابوالکلام آزاد
مولانا آزاد ایّامِ جوانی میں
Maulana Abul Kalam Azad

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Maulana Abul Kalam Azad, مولانا ابوالکلام آزاد
مولانا ابوالکلام آزاد - تصویر شائع شدہ "تذکرہ" اشاعتِ اوّل 1919ء
Maulana Abul Kalam Azad

tazkira by abul kalam azad, تذکرہ از مولانا ابوالکلم آزاد, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Maulana Abul Kalam Azad, مولانا ابوالکلام آزاد
سرورق "تذکرہ" اشاعتِ اوّل - 1919ء

مزید پڑھیے۔۔۔۔