Dec 24, 2012

رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ - 6

(36)

چوں پیر شدم گناہ گردید جواں
بشگفت گُلِ داغ بہنگامِ خزاں
ایں لالہ رخاں، طفل مزاجم کردند
گہ متّقیَم، گاہ سراپا عصیاں

جب میں بوڑھا ہوا تو میرے گناہ جوان ہو گئے۔ گویا عین خزاں میں گلِ داغ کھل اٹھا۔ ان لالہ رخوں نے میرا مزاج بچوں جیسا کر دیا ہے کہ کبھی تو میں متقی ہوں اور کبھی سراپا گنہگار۔
------

(37)

گہ شہر و دیار، گہ بصحرا رفتی
در راہِ ہوس بصد تمنّا رفتی
ایں قافلہ نزدیک سرِ منزل شد
اتمامِ سفر گشت، کجا ہا رفتی

کبھی تو شہروں شہروں گھومتا رہا اور کبھی صحرا میں۔ ہوس کی راہ میں تُو سینکڑوں تمناؤں کے ساتھ چلتا رہا۔ یہ (زندگی کا)ا قافلہ منزل کے نزدیک آ پہنچا اور سفر تمام ہونے کو آیا، (خود ہی سوچ کہ) تُو کہاں کہاں (بے فائدہ ہی) گھومتا رہا۔
-----

(38)

بنگر کہ عزیزاں ہمہ در خاک شدند
در صید گہِ فنا بفتراک شدند
آخر ہمہ را خاک نشیں باید شد
گیرم کہ برفعت ہمہ افلاک شدند

دیکھو کہ سب عزیز و اقارب خاک میں چلے گئے۔ فنا کی شکار گاہ میں فتراک میں چلے گئے۔ آخر سبھی کو خاک نشیں ہی ہونا ہے، چاہے وہ رفعتوں میں افلاک ہی کیوں نہ ہو جائیں، میں نے جان لیا۔
------

Rubaiyat-e-Sarmad Shaheed, mazar Sufi sarmad shaheed, persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, rubai, ، رباعیات سرمد شہید مع اردو ترجمہ،  مزار صوفی سرمد شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی
Mazar Sufi Sarmad Shaheed, مزار صوفی سرمد شہید

(39)

ہر کس بہوس باغِ جہاں دید و گذشت
خار و گُلِ پژمردہ بہم چید و گذشت
ایں صورتِ ہستی کہ تمامش معنیست
افسوس بر آں کس کہ نہ فہمید و گذشت

ہر کسی نے اس باغِ جہاں کو ہوس اور چاہ سے دیکھا اور چلا گیا، کانٹوں اور مرجھائے ہوئے ہھولوں کے سوا کچھ بھی نہ چنا اور چلا گیا۔ یہ زندگی کہ تمام کی تمام (سمجھ میں آ جانے والی اور کھلی کھلی نشانیوں کے ساتھ) معنی ہے، افسوس اُس پر کہ جس نے اسے نہ سمجھا اور چلا گیا۔
-----

(40)

از کارِ جہاں عقدہ کشودم ہمہ را
در محنت و اندوہ ربودم ہمہ را
حق دانی و انصاف نہ دیدم ز کسے
دیدم ہمہ را و آزمودم ہمہ را

اس کارِ جہاں میں میں نے سب کے عقدے وا کیے، اور سب کسی کے محن و رنج و غم دُور کیے لیکن میں نے کسی میں بھی حق شناسی اور انصاف نہ دیکھا گو میں نے سب کو دیکھا اور سب کو آزمایا۔
-----

متعلقہ تحاریر : رباعی, سرمد شہید, فارسی شاعری

4 comments:

  1. Ameer jama hen ahbab derd-e-dil kehle phir iltefaat-e-dil-e-doostaan rahe na rahe!

    ReplyDelete
  2. صاحب!
    مرزا غالب کے خطوط تلاش کرتے کرتے "صریر خامہ" پہ نظر ٹہری ہے.
    کاش ہمیں بہی غالب کے خطوط غیب سے نزول ہو جائیں!! آپ کے تعاون کا طالب

    پرستار غالب.

    ReplyDelete
    Replies
    1. جی غالب کے خطوط شاید نیٹ پر موجود ہوں، یہاں ان کو لکھنا شاید مشکل کام ہے۔

      والسلام

      Delete