Jun 29, 2012

آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ - افتخار عارف

آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ

ہم بھی سوچیں گے دعائے بے اثر کے باب میں
اِک نظر تو بھی تضادِ منبر و محراب دیکھ

دوش پر ترکش پڑا رہنے دے، پہلے دل سنبھال
دل سنبھل جائے تو سوئے سینہٴ احباب دیکھ

موجہٴ سرکش کناروں سے چھلک جائے تو پھر
کیسی کیسی بستیاں آتی ہیں زیرِ آب دیکھ

بوند میں سارا سمندر آنکھ میں کل کائنات
ایک مشتِ خاک میں سورج کی آب وتاب دیکھ
Iftikhar Arif, افتخار عارف, Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، بحر، تقطیع
Iftikhar Arif, افتخار عارف

کچھ قلندر مشربوں سے راہ و رسمِ عشق سیکھ
کچھ ہم آشفتہ مزاجوں کے ادب آداب دیکھ

شب کو خطِّ نور میں لکھّی ہوئی تعبیر پڑھ
صبح تک دیوارِ آئیندہ میں کُھلتے باب دیکھ

افتخار عارف کے تند و تیز لہجے پر نہ جا
افتخار عارف کی آنکھوں میں اُلجھتے خواب دیکھ

افتخار عارف
------

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فاعلاتُن فاعلاتُن فاعلاتُن فاعلُن
(آخری رکن فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آسکتا ہے)

تقطیع-

آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ

آسمانو - فاعلاتن - 2212
پر نظر کر - فاعلاتن - 2212
انجمو مہ - فاعلاتن - 2212
تاب دیک - فاعلان - 1212

صبح کی بن - فاعلاتن - 2212
یاد رکھنی - فاعلاتن - 2212
ہے تُ پہلے - فاعلاتن - 2212
خاب دیک - فاعلان - 1212
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 27, 2012

رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ - 4

(21)

چیزے کہ من از جہاں بجاں می طلبم
جاں را بسلامت ز جہاں می طلبم
از مردمِ دنیا و ز دنیا شب و روز
دیگر ہوَسم نیست، اماں می طلبم

 وہ چیز کہ جو دنیا سے میں اپنی جان کیلیے چاہتا ہوں وہ یہی ہے کہ میری جان اس دنیا سے محفوظ رہے۔ دنیا والوں سے اور اس دنیا سے شب و روز مجھے کسی اور چیز کی ہوس اور طلب نہیں ہے مگریہ کہ میں (دنیا اور دنیا والوں کے شر سے) امان میں رہوں
------

(22)

دنیا بمرادِ خویشتن خواہی و بس
عقبیٰ تو نہ کردی ز خداوند ہوس
چوں است نہ دنیا و نہ عقبیٰ بدھند
افسوس، ندامت ز جہاں یابد و بس

تُو بس یہی چاہتا ہے کہ دنیا تجھے تیری خواہشات کے مطابق مل جائے، اور خدا سے آخرت نہیں مانگتا۔ اسطرح تو تجھے نہ دنیا ملے گی اور نہ ہی آخرت اور بس جو کچھ دنیا سے ملے گا وہ صرف ندامت ہے، افسوس۔
------

(23)

اے جانِ گرامی بخدا نادانی
در خانہٴ تن یک دو سہ دم مہمانی
بر چرخ اگر روی و خورشید شوی
آں ذرّہ کہ در شمار ناید، آنی

اے میری پیاری جان، بخدا تو نادان ہے اور نہیں جانتی کہ اس جسم میں تو فقط دو چار دم کی مہمان ہے۔ تُو اگر آسمان پر بھی چلی جائے اور خورشید بھی بن جائے پھر بھی تو وہی ذرہ رہے گی کہ جو شمار میں نہیں آتا۔
------

(24)

از فضلِ خدا ہمیشہ راحت دارم
با نانِ جویں قانع و ہمّت دارم
نے بیم ز دنیا و نہ اندیشہٴ دیں
در گوشہٴ مے خانہ فراغت دارم

خدا کے فضل و کرم سے مجھے ہمیشہ راحت ہی ملی ہے۔ میں اپنے نانِ جویں پہ قانع ہوں اور اسی سے مجھے ہمت ملتی ہے۔ نہ دنیا کا کوئی خوف ہے اور نہ دین کا کوئی اندیشہ، میخانے کے گوشے میں میں بہت فراغت سے ہوں۔
-----
Rubaiyat-e-Sarmad Shaheed, mazar Sufi sarmad shaheed, persian poetry with urdu translation, farsi poetry with urdu translation, rubai, ، رباعیات سرمد شہید مع اردو ترجمہ،  مزار صوفی سرمد شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی
Mazar Sufi Sarmad Shaheed, مزار صوفی سرمد شہید
(25)

سرمد تو ز خلق ہیچ یاری مَطَلب
از شاخِ برہنہ سایہ داری مَطَلب
عزّت ز قناعت است و خواری ز طمع
با عزّتِ خویش باش، خواری مَطَلب

اے سرمد خلقِ دنیا سے کسی قسم کے پیار محبت کی طلب نہ رکھ، یعنی برہنہ شاخ سے کسی سایہ کی توقع نہ رکھ۔ عزت قناعت میں ہے اور لالچ میں خواری ہے، پس عزت سے رہ اور خواری طلب نہ کر۔
-----

(26)

ایں ہستیِ موہوم حباب است بہ بیں
ایں بحرِ پُر آشوب، سراب است بہ بیں
از دیدہٴ باطن بہ نظر جلوہ گر است
عالم ہمہ آئینہ و آب است بہ بیں

یہ ہستیِ موہوم پانی کا ایک بلبلہ ہے ذرا دیکھ، یہ طوفانوں سے بھرا ہوا سمندر فقط ایک سراب ہے دیکھ تو، اگر دیدہٴ باطن سے دیکھو تو نظر آئے کہ یہ ساری دنیا ایک آئینہ اور چمک ہے یعنی خدا کا عکس اس میں ہے، ذرا غور سے دیکھ۔
------

(27)

انساں کہ شکم سیریِ اُو یک نان است
از حرص و ہوا شام و سحر نالان است
در بحرِ وجودش بنگر طوفان است
آخر چو حباب یک نفَس مہمان است

انسان کہ جس کی شکم سیری ایک نان سے ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے لالچ کی وجہ سے صبح و شام نالاں ہی رہتا ہے۔ اس کے وجود میں موجزن طوفانوں کو دیکھ اور یہ بھی دیکھ کہ وہ بلبلے کی طرح فقط ایک لمحے کا مہمان ہے۔
------

صوفی سرمد شہید کی مزید رباعیات
حصہٴ اول
حصہٴ دوم
حصہٴ سوم


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 25, 2012

کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں - قتیل شفائی

کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ  سچ بولیں

سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقعِ اظہار، آؤ سچ بولیں

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
بنامِ عظمتِ کردار، آؤ  سچ بولیں

سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے
پکار کر سرِ دربار، آؤ سچ بولیں
Qateel Shifai, قتیل شفائی, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Urdu Poetry, Urdu Shairy, Urdu Ghazl, Taqtee, Behr, علم عروض، تقطیع، اردو شاعری، اردو غزل
Qateel Shifai, قتیل شفائی

تمام شہر میں اب ایک بھی نہیں منصور
کہیں گے کیا رسن و دار، آؤ سچ بولیں

جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار، آؤ سچ بولیں

چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئنہ بردار، آؤ سچ بولیں

قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں

قتیل شفائی
------

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 2121 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

پہلے شعر کی تقطیع -

کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ  سچ بولیں

کُلا ہ جُو - مفاعلن -2121
ٹ کَ بازا - فعلاتن - 2211
ر آؤ سچ - مفاعلن - 2121
بولے - فعلن - 22

نَ ہو بلا - مفاعلن - 2121
سِ خریدا - فعلاتن - 2211
ر آؤ سچ - مفاعلن - 2121
بولے - فعلن - 22
------


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 20, 2012

دستِ زردار ترے درہم و دینار پہ خاک - عرفان صدیقی

عرفان صدیقی کی ایک انتہائی خوبصورت غزل، جس کا ایک اک شعر لاجواب ہے، انتہائی مشکل زمین میں کیسے خوبصورت شعر کہے ہیں۔

جب یہ عالم ہو تو لکھیے لب و رخسار پہ خاک
اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک

تُو نے مٹّی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک

ہم نے مدّت سے اُلٹ رکھّا ہے کاسہ اپنا
دستِ زردار ترے درہم و دینار پہ خاک
Irfan Siddiqui, عرفان صدیقی, Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behr, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع
Irfan Siddiqui, عرفان صدیقی

پُتلیاں گرمیٔ نظّارہ سے جل جاتی ہیں
آنکھ کی خیر میاں رونقِ بازار پہ خاک

جو کسی اور نے لکھّا ہے اسے کیا معلوم
لوحِ تقدیر بجا، چہرۂ اخبار پہ خاک

پائے وحشت نے عجب نقش بنائے تھے یہاں
اے ہوائے سرِ صحرا تری رفتار پہ خاک

یہ بھی دیکھو کہ کہاں کون بلاتا ہے تمھیں
محضرِ شوق پڑھو، محضرِ سرکار پہ خاک

آپ کیا نقدِ دو عالم سے خریدیں گے اسے
یہ تو دیوانے کا سر ہے سرِ پندار پہ خاک

یہ غزل لکھ کے حریفوں پہ اُڑا دی میں نے
جم رہی تھی مرے آئینۂ اشعار پہ خاک

عرفان صدیقی
------

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 / 2211 / 2211 / 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

جب یہ عالم ہو تو لکھیے لب و رخسار پہ خاک
اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک

جب ی عالم - فاعلاتن - 2212
ہُ تُ لکھیے - فعلاتن - 2211
لَ بُ رخسا - فعلاتن - 2211
ر پ خاک - فَعِلان - 1211

اڑتِ ہے خا - فاعلاتن - 2212
نَ ء دل کے - فعلاتن - 2211
دَ رُ دیوا - فعلاتن - 2211
ر پ خاک - فَعِلان - 1211
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 18, 2012

یہ عشق نے دیکھا ہے، یہ عقل سے پنہاں ہے - غزل اصغر گونڈوی

یہ عشق نے دیکھا ہے، یہ عقل سے پنہاں ہے
قطرہ میں سمندر ہے، ذرّہ میں بیاباں ہے

ہے عشق کہ محشر میں، یوں مست و خراماں ہے
دوزخ بگریباں ہے، فردوس بہ داماں ہے

ہے عشق کی شورش سے، رعنائی و زیبائی
جو خون اچھلتا ہے، وہ رنگِ گلستاں ہے

پھر گرمِ نوازش ہے، ضو مہرِ درخشاں کی
پھر قطرہٴ شبنم میں، ہنگامہٴ طوفاں ہے

اے پیکرِ محبوبی میں کس سے تجھے دیکھوں
جس نے تجھے دیکھا ہے، وہ دیدہٴ حیراں ہے

سو بار ترا دامن، ہاتھوں میں مرے آیا
جب آنکھ کھلی دیکھا، اپنا ہی گریباں ہے
Asghar Gondvi, اصغر گونڈوی, Urdu Poetry, Urdu Ghazal, Urdu Shairi, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Classical Urdu Poetry, Behr, اردو شاعری، اردو غزل، کلاسیکی اردو شاعری، علم عروض، بحر، تقطیع
Asghar Gondvi, اصغر گونڈوی

اک شورشِ بے حاصل، اک آتشِ بے پروا
آفت کدہٴ دل میں، اب کفر نہ ایماں ہے

دھوکا ہے یہ نظروں کا، بازیچہ ہے لذّت کا
جو کنجِ قفس میں تھا، وہ اصلِ گلستاں ہے

اک غنچہٴ افسردہ، یہ دل کی حقیقت تھی
یہ موج زنی خوں کی، رنگینیِ پیکاں ہے

یہ حسن کی موجیں ہیں یا جوشِ تبسّم ہے
اس شوخ کے ہونٹوں پر، اک برق سی لرزاں ہے

اصغر سے ملے لیکن، اصغر کو نہیں دیکھا
اشعار میں سنتے ہیں، کچھ کچھ وہ نمایاں ہے

اصغر گونڈوی
------

بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )

افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن / مَفعُولُ مَفَاعِیلُن

اشاری نظام - 122 2221 / 122 2221
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق یعنی دائیں سے بائیں پڑھیں یعنی  122 پہلے ہے اور اس میں بھی 2 پہلے ہے۔

تقطیع -

یہ عشق نے دیکھا ہے، یہ عقل سے پنہاں ہے
قطرہ میں سمندر ہے، ذرّہ میں بیاباں ہے

یہ عشق - مفعول - 122
نِ دیکا ہے - مفاعیلن - 2221
یہ عقل - مفعول - 122
سِ پنہا ہے - مفاعیلن - 2221

قطرہ مِ - مفعول - 122
سمندر ہے - مفاعیلن - 2221
ذر رہ مِ - مفعول - 122
بیابا ہے - مفاعیلن - 2221
------


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 15, 2012

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت - واصف علی واصف

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
احباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت

سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی
اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صورت

 جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اس کے سوا کیا ترے دیدار کی صورت

پہچان لیا تجھ کو تری شیشہ گری سے
آتی ہے نظر فن ہی سے فنکار کی صورت
Urdu Poetry, Urdu Shairy, Urdu Ghazal, Wasif Ali Wasif, واصف علی واصف, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Behar, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع، بحر
Wasif Ali Wasif, واصف علی واصف
اشکوں نے بیاں کر ہی دیا رازِ تمنّا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت

اس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے
مٹّی سے نکلتے ہیں جو گلزار کی صورت

دل ہاتھ پہ رکھّا ہے کوئی ہے جو خریدے؟
دیکھوں تو ذرا میں بھی خریدار کی صورت

صورت مری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صورت

واصف کو سرِدار پکارا ہے کسی نے
انکار کی صورت ہے نہ اقرار کی صورت

واصف علی واصف

غزل بشکریہ اردو محفل
------

بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف

 افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولُن
(آخری رکن فعولن کی جگہ مسبغ رکن فعولان بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)
ہندسوں کو اردو رسم الخظ کے مطابق یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی  122 پہلے ہے اور اس میں بھی 2 پہلے ہے۔

 تقطیع -

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
احباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت

ہر چہرِ - مفعول - 122
مِ آتی ہِ - مفاعیل - 1221
نظر یار - مفاعیل - 1221
کِ صورت - فعولن - 221

احباب - مفعول - 122
کِ صورت ہُ - مفاعیل - 1221
کِ اغیار - مفاعیل - 1221
کِ صورت - فعولن - 221
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 11, 2012

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی - سیّد سبطِ علی صبا

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی
کلوں کے شہر میں بھی نوکری نہیں ملتی

جو سوت کاتنے میں رات بھر رہی مصروف
اسی کو سر کے لئے اوڑھنی نہیں ملتی

رہِ حیات میں کیا ہو گیا درختوں کو
شجر شجر کوئی ٹہنی ہری نہیں ملتی

غنودگی کا کچھ ایسا طلسم طاری ہے
کوئی بھی آنکھ یہاں جاگتی نہیں ملتی
Syed Sibte Ali Saba, سید سبط علی صبا, Urdu Poetry, Urdu Shairy, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, ااردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع، taqtee
Syed Sibte Ali Saba, سید سبط علی صبا
یہ راز کیا ہے کہ دنیا کو چھوڑ دینے سے
خدا تو ملتا ہے پیغمبری نہیں ملتی

گزر رہی ہے حسیں وادیوں سے ریل صبا
ستم ہے یہ کوئی کھڑکی کھلی نہیں ملتی

سبطِ علی صبا
---


بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 2121 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

پہلے شعر کی تقطیع -

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی
کلوں کے شہر میں بھی نوکری نہیں ملتی


یہا وہا - مفاعلن - 2121
کَ ہِ آسو - فعلاتن - 2211
دگی نہی - مفاعلن - 2121
ملتی - فعلن - 22

کلو کِ شہ - مفاعلن - 2121
ر مِ بی نو - فعلاتن - 2211
کری نہی - مفاعلن - 2121
ملتی - فعلن - 22
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 6, 2012

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے - غزل عبدالحمید عدم

عبدالحمید عدم کی ایک انتہائی معروف اور مشہور غزل

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

بس اک داغِ سجدہ مری کائنات
جبینیں تری ، آستانے ترے

بس اک زخمِ نظّارہ، حصّہ مرا
بہاریں تری، آشیانے ترے

فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی
شرابیں تری، بادہ خانے ترے

ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے
Abdul Hameed Adam, عبدالحمید عدم, Urdu Poetry, Urdu Shairi, Urdu Ghazal, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, اردو شاعری، اردو غزل، علم عروض، تقطیع
Abdul Hameed Adam, عبدالحمید عدم
بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم
برے یا بھلے، سب زمانے ترے

عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے

-------

بحر - بحر متقارب مثمن محذوف

افاعیل - فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعِل
آخری رکن میں فَعِل کی جگہ فعول بھی آ سکتا ہے۔

اشاری نظام - 221 221 221 21
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 221 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں‌ 21 کی جگہ 121 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -


وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

وُ باتے - فعولن - 221
تری وہ - فعولن - 221
فسانے - فعولن - 221
ترے - فَعِل - 21

شگفتہ - فعولن - 221
شگفتہ - فعولن - 221
بہانے - فعولن - 221
ترے - فَعِل - 21
---------

اور یہ غزل طاہرہ سیّد کی آواز میں



مزید پڑھیے۔۔۔۔