Aug 13, 2011

ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا - فانی بدایونی

ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا

دلِ مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غم گسار تھا، نہ رہا

موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا، نہ رہا

اب گریباں کہیں سے چاک نہیں
شغلِ فصلِ بہار تھا، نہ رہا

آ، کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا
نالہ نا خوش گوار تھا، نہ رہا

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Fani Badayuni, فانی بدایونی
فانی بدایونی Fani Badayuni

ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم
کوئی اُمّیدوار تھا، نہ رہا

آہ کا اعتبار بھی کب تک
آہ کا اعتبار تھا، نہ رہا

کچھ زمانے کو سازگار سہی
جو ہمیں سازگار تھا، نہ رہا

مہرباں، یہ مزارِ فانی ہے
آپ کا جاں نثار تھا، نہ رہا

(فانی بدایونی)

-----


بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن

اشاری نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔

تقطیع -

ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا

ضبط اپنا - فاعلاتن - 2212
شعار تھا - مفاعلن - 2121
نَ رہا - فَعِلن - 211

دل پ کچ اخ - فاعلاتن - 2212
تیار تھا - مفاعلن - 2121
نَ رہا - فَعِلن - 211

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو غزل, بحر خفیف, تقطیع, فانی بدایونی

4 comments:

  1. واہ حضور لا جواب۔
    کیا مجھے کہیں سے جوش، حفیظ جالندھری اور فانی کا کلام مل سکتا ہے۔ یہاں ملتان میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکا ہوں۔

    ReplyDelete
  2. شکریہ علی صاحب۔ میرے خیال میں آپ کا مطلوبہ کلام لاہور ہی سے مل سکے گا۔
    والسلام

    ReplyDelete
  3. السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کا بلاگ بہت ہی معلومات افزا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
    ناصر محمود

    ReplyDelete