حافظ شیرازی کی ایک غزل کے تین اشعار
نیکیِ پیرِ مُغاں بیں کہ چو ما بَدمستاں
ہر چہ کردیم، بچشمِ کَرَمش زیبا بُود
پیرِ مغاں کی نیکی تو دیکھ کہ ہم جیسے بد مستوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اسکی نگاہِ کرم میں اچھا (مناسب) تھا۔
مُطرب از دردِ مَحبّت غزلے می پرداخت
کہ حکیمانِ جہاں را مژہ خوں پالا بود
مطرب محبت کے درد سے ایسی غزل گا رہا تھا کہ دنیا کے حکیموں (عقل مندوں) کی پلکیں خون سے آلودہ تھیں۔
قلبِ اندودۂ حافظ برِ او خرج نَشُد
کہ معامل بہمہ عیبِ نہاں بینا بود
حافظ کے دل کا کھوٹا سکہ اُسکے سامنے نہ چلا (چل سکا)، اس لئے کہ معاملہ کرنیوالا تمام پوشیدہ عیبوں کا دیکھنے والا تھا۔
----------
بیک تبسّمِ مینا، شکست و بست و کُشاد
(مخلص خان عالمگیری)
ہمارا خمار، توبہ کا دروازہ اور ساقی کا دل، مینا کے ایک تبسم سے، ٹوٹ گیا (خمار) اور بند ہو گیا (توبہ کا دروازہ) اور کِھل اٹھا (دلِ ساقی)۔
کہ ما باشیم فردا یا نہ باشیم
(ابوالفیض فیضی)
اے پیماں شکن آج کی رات ہمارے ساتھ رہ، کہ کل ہم ہوں یا نہ ہوں۔
ما ز آغاز و ز انجامِ جہاں بے خبریم
اوّل و آخرِ ایں کہنہ کتاب افتادہ است
ابو طالب کلیم کاشانی (ملک الشعرائے شاہجہانی)۔
ہم اس جہان کے آغاز اور انجام سے بے خبر ہیں کہ یہ ایک ایسی پرانی (بوسیدہ) کتاب ہے کہ جس کے شروع اور آخر کے ورق گر گئے ہیں۔
-----
اگرچہ وعدۂ خوباں وفا نمی دانَد
خوش آں حیات کہ در انتظار می گذرَد
(صائب تبریزی)
اگرچہ خوباں کا وعدہ، وفا ہونا نہیں جانتا (وفا نہیں ہوتا، لیکن) وہ زندگی بہت خوب ہے جو انتظار میں گزرتی ہے۔
اہلِ ہمّت را نباشد تکیہ بر بازوئے کس
خیمۂ افلاک بے چوب و طناب استادہ است
(ناصر علی سرہندی)
ہمت والے لوگ کسی دوسرے کے زورِ بازو پر تکیہ نہیں کرتے، (دیکھو تو) آسمانوں کا خیمہ چوب اور طنابوں کے بغیر ہی کھڑا ہے۔
دل خاکِ سرِ کوئے وفا شُد، چہ بجا شُد
سر در رہِ تیغِ تو فدا شُد، چہ بجا شُد
(عبدالقادر بیدل)
ہمارا دل، کوئے وفا کی خاک ہوگیا، کیا ہی خوب ہوا، اور سر تیری تلوار کی راہ میں فدا ہوگیا، کیا ہی اچھا ہوا۔
---
گُل کسے جوید کہ او را گوشۂ دستار ہست
(غالب )
ہم ہیں اور اپنے ننگے سر (فرقِ عریاں) پر رہگزر کی خاک ڈالنا، پُھول تو وہ تلاش کرے کہ جس کے پاس دستار ہو۔
حق اگر سوزی ندَارَد حکمت است
شعر میگردَد چو سوز از دل گرفت
(اقبال)
سچائی میں اگر سوز نہیں ہے تو وہ (فقط عقل و) حکمت ہے، لیکن وہی سچائی جب دل سے سوز حاصل کر لیتی ہے تو شعر بن جاتی ہے۔
بیا بیا کہ ہماں شوق و آرزو باقی است
یہ گمان نہ کر کہ تُو نے مجھ پر ستم کیئے ہیں تو میں وفا نہیں کرونگا، آجا، آجا کہ (اب بھی میرا) وہی شوق اور وہی آرزو باقی ہیں۔
فدائے صُورَتِ زیبا رُخے کہ فانی نیست
نثارِ حُسنِ حسینے کہ حُسنِ اُو باقی است
میں اس خوبصورت چہرے والی صورت پر فدا ہوں کہ (جسکی خوبصورتی) فانی نہیں ہے، میں اس حسین کے حسن پر قربان ہوں کہ جسکا حسن باقی (رہنے والا) ہے۔
(اکبر الٰہ آبادی - دیوان)
-----
بہت عمدہ انتخاب ہے آپ کا. چہ خوب!
ReplyDeleteنوازش آپ کی، بہت شکریہ جناب
DeleteMasha Allah. Very Good Job
ReplyDeleteAllah Tala Apko Sada Khush Rakhey - Amin
بہت شکریہ جناب، نوازش آپ کی۔ ان کلماتِ خیر کیلیے ممنون ہوں۔
Deleteوالسلام
تصویر کھنچ گئی ہے ناز و نیاز کی
ReplyDeleteمیں سر جھکائے اور وہ خنجر لیے ہوئے
حضرت مولانا اصغر حیسن گونڈوی
عمران علی چنگیزی
تصویر ہے کِھنْچی ہُوئی، ناز و نیاز کی!
Deleteمیں سرجُھکائے اور وہ خنجرلئے ہوئے
Plz urdu translation b.a 2 farsi book nazm
ReplyDelete