سنگِ مرمر، اُودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو
بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگر
گلشن خوشبو، کوئل کُو کُو، مستی دارُو، میں اور تُو
![]() |
جاوید اختر Javaid Akhter |
آنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو
راتیں مہکی، سانسیں دہکی، نظریں بہکی، رُت لہکی
پریم کھلونا، سَپَن سلونا، پھول بچھونا، وہ پہلو
تم سے دوری، یہ مجبوری، زخمِ کاری، بیداری
تنہا راتیں، سپنے کاتیں، خود سے باتیں میری خُو
(جاوید اختر)
اور یہ غزل استاد نصرت فتح علی خان کی خوبصورت آواز میں
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔