سید جعفر طاہر مرحوم کی ایک غزل
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
صد آسماں بدامن و صد کہکشاں بدوش
بامِ بلندِ یار ترے آستاں کی راہ
ملکِ عدم میں قافلۂ عمر جا بسا
ہم دیکھتے ہی رہ گئے اُس بدگماں کی راہ
جعفر طاہر Jafar Tahir |
اب کیا رہا ہے پاس، جو ہم لیں وہاں کی راہ
اے زلفِ خم بہ خم تجھے اپنا ہی واسطہ
ہموار ہونے پائے نہ عمرِ رواں کی راہ
گُلہائے رنگ رنگ ہیں افکارِ نو بہ نو
یہ رہگزارِ شعر ہے کس گلستاں کی راہ
طاہر یہ منزلیں، یہ مقامات، یہ حرَم
اللہ رے یہ راہ، یہ کوئے بُتاں کی راہ
جعفر طاہر کے متعلق ایک خوبصورت مضمون اس ربط پر پڑھیے۔
-----
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
کوئے حَ - مفعول - 122
رم سِ نک لِ - فاعلات - 1212
ہِ کوئے بُ - مفاعیل - 1221
تا کی راہ - فاعلان - 1212
ہائے کَ - مفعول - 122
ہا پہ آ کِ - فاعلات -1212
ملی ہے کَ - مفاعیل - 1221
ہا کی راہ - فاعلان - 1212
-----
متعلقہ تحاریر : اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر مضارع,
تقطیع,
جعفر طاہر
اس قدر خوبصورت غزل شئر کرنے کا شکریہ جناب
ReplyDelete’’گُلہائے رنگ رنگ ہیں افکارِ نو بہ نو
ReplyDeleteیہ رہگزارِ شعر ہے کس گلستاں کی راہــ
سبحان اللہ گلشنِ شعرو سخن کی کیا خوب تعریف کی ہے۔
شکریہ
غلام مرتضیٰ علی
بہت شکریہ خلیل الرحمٰن صاحب اور غلام مرتضیٰ علی صاحب۔
ReplyDeleteبہت ہی عمدہ غزل ہے۔
ReplyDeleteکوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
واہ واہ واہ۔ کیا بات ہے
بہت شکریہ علی صاحب اور بلاگ پر خوش آمدید۔
ReplyDeleteواہ واہ واہ۔ کیا بات ہے
ReplyDeleteشکریہ شاداب انصاری صاحب اور بلاگ پر خوش آمدید۔
ReplyDelete