Jan 29, 2009

ابھی تو میں جوان ہوں - حفیظ جالندھری

ابو الاثر حفیظ جالندھری نے اپنی شاعری کے بارے میں کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا۔

تشکیل و تکمیلِ فن میں جو بھی حفیظ کا حصّہ ہے

Hafeez Jalandhari, حفیظ جالندھری, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Hafeez Jalandhari, حفیظ جالندھری
نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں
پاکستان میں عام طور پر حفیظ جالندھری، ترانۂ پاکستان کے خالق ہونے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور اردو شاعری کی دنیا میں اپنی مثنوی “شاہنامہ اسلام” کے حوالے سے، لیکن ان کی کچھ غزلیں اور نظمیں بھی ایسی ہیں جو اردو ادب میں زندہ جاوید ہو چکی ہیں اور انہی میں سے ایک “ابھی تو میں جوان ہوں” ہے۔
ابھی تو میں جوان ہوں

ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پُر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا
سبُو اٹھا، پیالہ بھر
پیالہ بھر کے دے اِدھر
چمن کی سمت کر نظر
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اک ہجومِ مے کشاں
ہے سوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بد گماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں

خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں

عبادتوں کا ذکر ہے
نجات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا
خیال ہے عذاب کا
مگر سنو تو شیخ جی
عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوائیں عطر بیز ہوں
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر
کوئی اِدھر کوئی اُدھر
ابھارتے ہوں عیش پر
تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر
تمھارا نقطۂ نظر

درست ہے تو ہو مگر
ابھی تو میں جوان ہوں

نہ غم کشود و بست کا
بلند کا نہ پست کا
نہ بود کا نہ ہست کا
نہ وعدۂ الست کا
امید اور یاس گم
حواس گم، قیاس گم
نظر کے آس پاس گم
ہمہ بجز گلاس گم
نہ مے میں کچھ کمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطربا
طرَب فزا، الَم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا
نہ ہاتھ روک ساقیا

پلائے جا پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

یہ گشت کوہسار کی
یہ سیر جوئبار کی
یہ بلبلوں کے چہچہے
یہ گل رخوں کے قہقہے
کسی سے میل ہو گیا
تو رنج و فکر کھو گیا
کبھی جو بخت سو گیا
یہ ہنس گیا وہ رو گیا
یہ عشق کی کہانیاں
یہ رس بھری جوانیاں
اِدھر سے مہربانیاں
اُدھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں
نظارہ ہائے دل نشیں
انھیں حیات آفریں
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں

نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں
——–
بحر - بحر ہزج مربع مقبوض
(مربع یعنی ایک شعر میں چار رکن یا ایک مصرع میں دو رکن)

افاعیل - مَفاعِلُن مَفاعِلُن
(آخری رکن میں مسبغ شکل یعنی مفاعلن کی جگہ مفاعلان بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 2121 2121
(آخری 2121 کی جگہ 12121 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -
ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پر بہار ہے

ہوا بھی خُش - مفاعلن - 2121
گوار ہے - مفاعلن - 2121
گلو پِ بی - مفاعلن - 2121
نکار ہے - مفاعلن - 2121
تَرَن نُ مے - مفاعلن - 2121
ہزار ہے - مفاعلن - 2121
بہار پر - مفاعلن - 2121
بہار ہے - مفاعلن - 2121



اور یہ نظم ملکہ پکھراج اور طاہرہ سیّد کی آواز میں




متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو نظم, بحر ہزج, بحر ہزج مربع مقبوض, تقطیع, حفیظ جالندھری, طاہرہ سید, ملکہ پکھراج, موسیقی

8 comments:

  1. وارث صاحب ،
    طارق راحیل صاحب نے اپنے اظہاریہ کے ماتھے پر یہ عبارت لگا رکھی ہے جو لگتا ہےان کے بارے میں راشد کامران اور آپ کی بات کے پیشِ نظر بعد میں شامل کی گئی ہے ، بلاگ کا عنوان بھی اب میری پسند کردیا گیا ہے ،
    متن یہ ہے:

    میری پسند آپ کے لئے یہ میرے بلاگ کا ٹائٹل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کے اس میں آپ کو وہ تحریر ملیں گی کہ جو مجھے پسند ہیں میں اس بات کا حتمی اعلان کرتا ہوں کے اس بلاگ میں زیادہ تر وہ تحریرشامل ہیں جو دوسرے بلاگ اور فورم سے کاپی کی گئی ہیں لہذا اس بلاگ میں موجود تحریر کو ہر گز میری تحریر نہ سمجھا جائے شکریہ۔۔۔ محمد طارق راحیل

    ReplyDelete
  2. یہ ‘عقل‘ ان کو شاید، سیارہ پر بین ہونے کے بعد آئی ہے۔

    ReplyDelete
  3. واہ وارث صاحب، یہ جالندھری صاحب کا وہ کلام ہے جو ملکہ پکھراج کی گائیکی کی صورت میں ہمیشہ کے لیے امر ہو چکا ہے۔ بہت خوب۔ اگر ملکہ کی گائیکی کی وڈیو بھی شیئر ہو جاتی تو مزا دو آتشہ ہو جاتا۔
    بہرحال یہاں چند مصرعوں میں مجھے غلطیاں ملی ہیں۔ امید ہے ناچیز کی اس نشاندہی پر توجہ فرمائیں گے۔
    ادائیں عطر بیز ہوں کی جگہ "ہوائیں عطر بیز ہوں" ہوگا۔ جبکہ نہ غم کشود بست کا کی جگہ "نہ غم کشود و بست کا" لکھا جائے گا۔
    علاوہ ازیں طرب فزا، الم ربا اور جگر میں آگ دے لگا کے مصرعوں کے درمیان ایک مصرعہ مزید آئے گا "اثر صدائے ساز کا"۔ جبکہ ہر ایک لپ پہ ہو صدا کی جگہ "ہر ایک لب پہ ہو صدا" لکھا جائے اور اس کے بعد ایک مصرعہ غائب ہے جو یوں ہے "نہ ہاتھ روک ساقیا"۔
    امید ہے کہ درستگیاں کر دیں گے۔ شاعری کے حوالے سے آپ بے مثال خدمت کر رہے ہيں، اس لیے مجھے اچھا نہیں لگا کہ آپ کی بلاگ پر کچھ غلطیاں رہ جائیں۔ امید ہے اس جسارت کو معاف کریں گے۔ والسلام

    ReplyDelete
  4. بہت شکریہ فہد صاحب، دراصل یہ نظم ایک انتخاب کی کتاب ‘بیسویں صدی کی اردو شاعری‘ سے دیکھ کر لکھی تھی اور اس میں یقیناً غلطیاں رہ گئی ہیں جو میری پوسٹ میں بھی آ گئیں، آپ نے بالکل درست نشاندہی کی ہے، میں نے ساری غلطیاں بشمول ٹائپنگ کی غلطیوں کے درست کر دی ہیں۔
    امید ہے آئندہ بھی نظرِ کرم فرماتے رہیں گے اور کوئی غلطی نظر آئے گی تو مطلع فرمائیں گے کہ شاعری میں غلطیاں میرے اپنے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہوتی ہیں۔ ایک بار پھر بہت شکریہ برادرم۔

    ReplyDelete
  5. مقبول عامر کی ایک غزل کا مصرعہ ہے آپ سے تصحیح چاہوں گا کہ کیا یہ غزل بھی اسی بحر میں ہے

    ہوائے دہر سے اماں ملی ہے کس کو جانِ جاں
    تمہارا رنگ اڑ گیا تو ہم ہیں کس شمار میں

    مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن

    جبکہ ناصر کاظمی کی یہ غزل

    دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا.

    ReplyDelete
  6. آپ نے افاعیل کی درست نشاندہی کی ہے وہاب صاحب، دونوں غزلیں اسی بحر میں ہیں، مفاعلن چار بار، چونکہ چار بار ہے سو اسکا نام ہزج مسدس مقبوض ہے، حفیظ کی نظم مربع بحر میں ہے جس میں مفاعلن دو بار ہے

    ReplyDelete