Oct 13, 2011

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں - شعیب بن عزیز

اس خاکسار کا یہ خیال تھا اور اب بھی بہت حد تک ہے کہ یہ بلاگ جنگل میں مور کے ناچ جیسا ہے لیکن اس خیال میں کچھ شبہ تین چار ماہ پہلے پیدا ہوا جب مشہور کالم نویس اور شاعر جناب عطا الحق قاسمی صاحب کے صاحبزادے یاسر پیرزادہ صاحب کی ایک ای میل ملی۔ اس میں انہوں نے اس بلاگ کی توصیف فرمائی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ انہیں اس بلاگ کے متعلق شعیب بن عزیز صاحب نے بتایا تھا۔ خیر ان کا مقدور بھر شکریہ ادا کیا اور کچھ معلومات کا تبادلہ ہوا۔

آپ نے ایک بہت خوبصورت شعر سنا ہوگا

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں

یہ شعر بہت مشہور ہے لیکن اس کے خالق کا نام بہت کم لوگوں کے علم میں ہے، جی ہاں اس کے خالق شعیب بن عزیز صاحب ہیں۔

جس دن کا یہ ذکر ہے اسی دن شام کو شعیب بن عزیز صاحب کا فون آیا، یہ میرے لیے واقعی ایک بہت اہم اور عزت افزائی کی بات تھی کیونکہ کہاں یہ خاکسار اور کہاں جناب شعیب بن عزیز صاحب۔ میں ذاتی طور پر شعیب بن عزیز صاحب کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا بجز انکی ایک غزل کے جو آج پوسٹ کر رہا ہوں لیکن اب اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آپ ایک درویش منش، اعلیٰ ظرف اور صاحبِ دل انسان ہیں۔ اگر آپ میں یہ خصوصیات نہ ہوتیں تو ایک اکیسویں گریڈ کے آفیسر اور حکومتِ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کو کیا ضرورت تھی کہ اس خاکسار کو نہ صرف یاد کرتے بلکہ بلاگ کی توصیف بھی فرماتے اور مزید اور مسلسل لکھنے کی تاکید فرماتے۔ تین چار ماہ قبل یہ وہ دن تھے جب میں اپنے بلاگ کی طرف سے بالکل ہی لاتعلق تھا لیکن شعیب صاحب کی تاکید نے مہمیز کا کام کیا۔

اور اب کچھ بات انکی مذکورہ غزل کے بارے میں۔ اس غزل کا مطلع اتنا جاندار اور رواں ہے کہ سالہا سال سے زبان زدِ عام ہے، ہر کسی کی زبان پر ہے اور ہر موقعے پر استمعال ہوتا ہے لیکن اس مطلع کی اس پذیرائی نے اس غزل کے دیگر اشعار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے حالانکہ میرے نزدیک اس غزل کا تیسرا شعر بیت الغزل ہے اور دیگر سبھی اشعار بھی بہت خوبصورت ہیں۔

خوبصورت غزل پیش خدمت ہے، پڑھیے اور سن دھنیے

اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں

اب تو اُس کی آنکھوں کے، میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے، ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں

Shoaib Bin Aziz, شعیب بن ٕعزیز, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
شعیب بن عزیز
Shoaib Bin Aziz
زندگی بکھرتی ہے، شاعری نکھرتی ہے
دل بروں کی گلیوں میں، دل لگی کے کاموں میں

جس طرح شعیب اس کا، نام چُن لیا تم نے
اس نے بھی ہے چُن رکھّا، ایک نام ناموں میں

اور اب یہی غزل جناب شعیب بن عزیز صاحب کی اپنی آواز میں۔



--------
بحر - بحر ہزج مثمن اَشتر

افاعیل - فاعلن مفاعیلن / فاعلن مفاعیلن
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )

اشاری نظام - 212 2221 / 212 2221
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔

تقطیع -
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں

اب اُدا - فاعلن - 212
س پرتے ہو - مفاعیلن - 2221
سردیو - فاعلن - 212
کِ شامو مے - مفاعیلن 2221

اس طرح - فاعلن - 212
تُ ہوتا ہے - مفاعیلن - 2221
اس طرح - فاعلن - 212
کِ کامو مے - 2221

-------

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو غزل, بحر ہزج, بحر ہزج مثمن اشتر, تقطیع, شعیب بن عزیز

10 comments:

  1. بہت عمدہ، جناب یہ تو آپ کی کسر نفسی ہی ہے کہ جنگل کے مور سا ہے آپ کا بلاگ۔ ہم سے پوچھ کر دیکھیں اگر اپنے بلاگ کے علاوہ کوئی پسند ہے تو وہ آپکا بلاگ ہی ہے۔
    مذاق سے ہٹ کر واقعی آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں ، خدا آپکو مزید ہمت عطا کرے کہ آپ ہم جیسے کم علموں کے لیے اچھی اچھی غزلیں اور اعلیٰ شعرا کرام جنکو ہم بھولتے جا رہے ہیں ہمارے سامنے لا رہے ہیں۔ میں کوئی مشہور شخصیت تو نہیں جس کی تعریف بڑی اہمیت رکھتی ہو پر آپکے بلاگ کا مستقل قاری اور چاہنے والا ضرور ہوں۔
    خدا آپکو خوش رکھے۔

    ReplyDelete
  2. ذرّہ نوازی ہے آپ کی علی حسن صاحب۔ شکریہ آپ کا، محبت آپ کی۔ بس اپنے بلاگ کے متعلق وقعتاً فوقتاً جو"شطحات" کہتا رہتا ہوں تو انہیں قہرِ درویش بر جانِ درویش ہی سمجھیے۔ آپ کی اور آپ جیسے دیگر قارئین و مبصروں کی پسندیدگی میرے لیے باعثِ صد عزّ و شرف اور مایۂ افتخار ہے اور یہی چیز مجھے مسلسل اکساتی رہتی ہے کہ یہاں کچھ نہ کچھ پیش کرتا رہوں۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو شاد و آباد رکھیں۔
    والسلام

    ReplyDelete
  3. شعیب بن عزیز جتنے اچھے پی آر مینجر ہیں
    اس سے کہیں اچھے شاعر ہیں
    اور اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ اپنی افسری کو انہوں نے اپنی شاعری پروموٹ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اچھی شاعری بھی عشق اور مشک کی طرح ہوتی ہے ، جتنا مرضی چھپا لیں ، چھُپتی نہیں۔
    آپ کا بلاگ جنگل کا مور نہیں ہے جناب
    صرف ہم جیسوں کےلیے تبصرہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے، حد ادب کی وجہ سے۔

    ReplyDelete
  4. بجا کہا آپ نے جعفر صاحب، شعیب بن عزیز واقعی بہت اچھے شاعر ہیں لیکن نام و نمود کے خواہشمند نہیں، شعرا و ادبا میں یہ چیز بھی نادر و نایاب ہے۔ بلاگ کی پذیرائی اور پسندیدگی کیلیے آپ کا ممنون ہوں، یہ "حدِ ادب" بھی آپ نے خوب کہا برادرم۔
    :)

    ReplyDelete
  5. آپ کی ادب کی تدویج کے لۓ مساعی قابل _ ستائش و تقلید ہیں،

    ReplyDelete
  6. بہت شکریہ جناب، نوازش۔

    ReplyDelete
  7. محمد اصغر ۔ ۔ ۔ تلمیذDecember 2, 2011 at 4:15 PM

    جناب وارث صاحب، دیر سے تبصرہ کرنے کے لئے معذرت۔ آپ کے تمام بلاگوں کی طرح یہ بلاگ بھی میرے لئے معلومات افزا ہے جن میں یہ کہ یاسر پیزادہ صاحب عطاالحق قاسمی صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے تحاریر بلاشبہ پڑھنے کے لائق ہوتی ہیں۔۔ان معلومات کے لئے شکریہ۔

    ReplyDelete
  8. بہت شکریہ اصغر صاحب، نوازش ّآپ کی۔

    ReplyDelete
  9. محمد وارث بھائی میں آپ کا فیس بک معتقد بلال احمد ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے بلاگ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آپ کی منکسر مزاجی ہے کہ اس بلاگ کو جنگل میں ناچنے والے مور سے تشبیہہ دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ اس کی خوشبو سے تو ہر اردو سے عشق رکھنے والے کی حس شامہ شناسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور یہ بلاگ مجھے بہت پسند آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعیب بن عزیز بلاشبہ کمال کے شاعر اور نفیس انسان ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا گو دعا جُو بلال احمد

    ReplyDelete
  10. بہت شکریہ بلال صاحب، خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔ نوازش آپ کی برادرم۔

    ReplyDelete