Feb 14, 2012

سرمد شہید کی رباعیات - ١

سرمد شہید کا اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں قتل مذہب کے پردے میں ایک سیاسی قتل تھا، جیسا کہ مؤرخین اور صوفیاء کا خیال ہے اور علماء میں سے بھی امامِ الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ایسا ہی لکھا ہے اور مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے بھی "رودِ کوثر" میں سرمد شہید کے حالات کے تحت اس واقعے پر روشنی ڈالی ہے۔ سرمد شہید کے قتل کی اصل وجہ انکی اورنگ زیب عالمگیر کے صوفی منش بھائی شہزادہ دارا شکوہ سے مصاحبت تھی لیکن الزام کفر اور زندقہ کا لگا۔ خیر یہاں مقصودِ نظر مذہب اور سیاست نہیں ہے بلکہ سرمد شہید کی شاعری ہے۔ سرمد شہید ایک انتہائی اچھے شاعر تھے۔ انکی رباعیات انتہائی پُر لطف اور پُر کیف ہیں اور سوز و مستی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

سرمد شہید کی کچھ رباعیات اپنے ٹوٹے پھوٹے ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں، امید ہے اہلِ علم ترجمے کی فروگزاشات سے صرفِ نظر کریں گے کہ خاکسار ترجمے کی جرات فقط اپنے قارئین کیلیے کرتا ہے۔

(1)
سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند
سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند

اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا۔ پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا۔ عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے، یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔
--------

(2)
سرمد تو حدیثِ کعبہ و دیر مَکُن
در کوچۂ شک چو گمرہاں سیر مَکُن
ہاں شیوہٴ بندگی ز شیطان آموز
یک قبلہ گزیں و سجدۂ غیر مَکُن

سرمد تو کعبے اور بُتخانے کی باتیں مت کر، شک و شبہات کے کوچے میں گمراہوں کی طرح سیر مت کر، ہاں تو بندگی کا شیوہ شیطان سے سیکھ کہ ایک قبلہ پسند کر لے (پکڑ لے) اور ﴿پھر ساری زندگی﴾ غیر کو سجدہ مت کر۔
--------

mazar, sarmad, shaheed, mazar sarmad shaheed, persian, persian poetry, farsi, farsi poetry, rubai, مزار، مزار سرمد شہید، سرمد، شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی
مزار سرمد شہید mazar sarmad shaheed
(3)
سرمد گلہ اختصار می باید کرد
یک کار ازیں دو کار می باید کرد
یا تن برضائے یار می باید داد
یا قطع نظر ز یار می باید کرد

سرمد گلے شکوے کو مختصر کر دے اور ان دو کاموں میں سے ایک کام کر، یا اپنے آپ کو یار کی رضا پر چھوڑ دے، یا (اگر ہو سکے تو) یار سے قطع نظر کر لے۔
--------

(4)
انتہائی خوبصورت نعتیہ رباعی

اے از رُخِ تو شکستہ خاطر گُلِ سُرخ
باطن ہمہ خونِ دل و ظاہِر گُلِ سرخ
زاں دیر برآمدی ز یُوسُف کہ بباغ
اوّل گُلِ زرد آمد و آخِر گُلِ سُرخ

اے کہ آپ (ص) کے رخ (کے جمال) سے گُلِ سرخ شکستہ خاطر ہے، اُس کا باطن تو سب دل کا خون ہے اور ظاہر گل سرخ ہے۔ آپ (ص) یوسف (ع) کے بعد اس لیئے تشریف لائے کہ باغ میں، پہلے زرد پھول آتا (کھلتا) ہے اور سرخ پھول بعد میں۔
--------

(5)
از منصبِ عشق سرفرازَم کردند
وز منّتِ خلق بے نیازَم کردند
چو شمع در ایں بزم گدازم کردند
از سوختگی محرمِ رازم کردند

مجھے منصبِ عشق سے سرفراز کر دیا گیا، اور خلق کی منت سماجت سے بے نیاز کر دیا گیا، شمع کی طرح اس بزم میں مجھے پگھلا دیا گیا اور اس سوختگی کی وجہ سے مجھے محرمِ راز کر دیا گیا۔
--------

متعلقہ تحاریر : رباعی, سرمد شہید, فارسی شاعری

13 comments:

  1. بہت خوبصورت رباعیات ہیں- سیاست کو مگر سارا الزام دے کر تنگ نظر اہلِ ظاہر کو بری کر دیا آپ نے سرمد کی شہادت سے- جن ملاؤں نے قتل کے فتوے کی تائید کی ان کا جھگڑا تو تصوف کے ساتھ انا الحق کے دنوں سے چل رہا تھا -

    ReplyDelete
  2. شکریہ حمید صاحب۔ اور درست فرمایا آپ نے۔ ملّاؤں کے ایسے فتوے ہمیشہ سے سیاست بلکہ بادشاہوں کے زیر اثر رہے ہیں تبھی تو سرمد شہید پر کفر و الحاد و زندقہ کا الزام لگا۔

    ReplyDelete
  3. گستاخی معاف ۔ ميں صرف اپنی معلومات ميں اضافہ چاہتا ہوں ۔ مولانا ابوالکلام آزاد کيا وہی شخص ہيں جو ہندوستان آزاد ہونے کے بعد بھارت کی حکومت ميں وزير رہے ؟ اور کيا يہ درست ہے کہ انہوں نے کسی وقت شراب نوشی کو حرام قرار دينے سے اجتناب کيا تھا ؟

    ReplyDelete
  4. جی بھوپال صاحب، یہ وہی مولانا ابوالکلام آزاد ہیں جو ہندوستان آزاد ہونے سے پہلے کانگرس کے صدر تھے اور آزادی کے بعد ہندوستان کے وزیرِ تعلیم اور جن کے الہلال اور البلاغ اور تفسیر کا شہرہ چہار دانگ عالم تھا اور جنہیں دنیا امام الہند کے نام سے جانتی ہے۔ باقی رہی شراب نوشی کو حرام قرار دینے والی بات تو ایک مفسرِ قرآن نے ایسی کوئی بات کی ہو، کم از کم میرے دل و دماغ تو نہیں مانتے ہاں دنیا میں پراپیگنڈہ بہت ہوتا ہے۔

    ReplyDelete
  5. فاروق اعظمFebruary 14, 2012 at 5:31 PM

    افتخار اجمل بھوپال صاحب آپ حوالہ دیں کہ آپ نے کہاں پڑھا ہے کہ امامِ الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے ایسا کیا؟

    ReplyDelete
  6. فاروق اعظم صاہب
    حوالہ ميں نے لکھنے سے قبل بھی سوچا تھا ليکن ذہن ميں نہ آ سکا ۔ آدھی صدی سے زيادہ قبل ميں نے پڑھا تھا ۔ صرف اتنا ياد ہے کہ لکھنے والا کوئی ايسا ويسا نہيں تھا

    ReplyDelete
    Replies
    1. ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین ۔۔ القرآن
      میں نے تو آج تک کہیں بھی نہیں پڑھا ایسا اور میرا ابوالکلامیات کے حوالے سے کافی وسیع مطالعہ ہے۔

      Delete
  7. وارث بھائی
    رباعی کے اوزان کے بارے میں آپ کے بلاگ پر کوئی بحث میری نظر سے نہیں گذری ۔۔۔۔
    براہ کرم رباعی کے اوزان پر مفصل روشنی ڈالیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  8. جی اعوان صاحب رباعی لے اوزان پر مفصل بحث موجود ہے آپ رباعی کا ٹیگ دیکھ لیں، ربط بھی دے رہا ہوں۔

    http://muhammad-waris.blogspot.com/2011/02/blog-post.html

    ReplyDelete
  9. یار آپ صوفیا کا فارسی کلام ترجمہ کے ساتھ عوام کے سامنے لا کر بہت بڑی خدمت کر رہے ہیں اللہ آپ کو جزائے خیر عطاکرے اآمین

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ آپ کا احسن صاحب، نوازش آپ کی۔

      Delete
  10. سبحان اللہ کیا اشعار ہیں. سلاست اور روانگی کا کیا عالم ہے. مجھے تو وہ لوگ مجنون لگتے ہیں جو ایسے قادر الکلام شاعر کو مجنون کہتے یا سمجھتے تھے. پھر نعتیہ رباعی کی تو کیا ہی بات ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. درست فرمایا محترم آپ نے اور تبصرے کے لیے شکریہ۔

      Delete