Mar 13, 2009

ماما (انگریزی والا)۔۔۔۔۔

پہلے واضح کر دوں کہ یہ 'ماما' پنجابی والا نہیں ہے بلکہ انگریزی والا لفظ ہے اور اس وضاحت کی یوں ضرورت محسوس ہوئی کہ پنجابی والا 'ماما' جو کہ اب ایک گالی بن چکا ہے (نہ جانے کیوں) اور چونکہ ڈر ہے کہ گالیوں کے عنوان والے بلاگز کی رسم ہی نہ چل نکلے، آغاز تو الا ماشاءاللہ ہو ہی چکا، تو واضح کر دوں، اور یہ بھی کہ میں گالی پر نہیں گل پر لکھنا چاہ رہا ہوں۔ گُل جو چمن میں کھلتا ہے تو بہار آ جاتی ہے، ہر طرف نغمۂ ہزار گونجتا ہے، اور پژمُردہ دلوں میں جان پڑ جاتی ہے۔


اور اب شاید یہ واضح کرنا بھی ضروری ہو کہ یہ وہ گُل نہیں ہیں جن کے بارے میں علامہ فرماتے ہیں کہ تصویرِ کائنات میں رنگ انہی 'گلوں' کے وجود سے ہے بلکہ یہ تو وہ گل ہیں جو ان سنگلاخ چٹانوں کے سینوں پر کھلتے ہیں جن کی آبیاری تیشۂ فرہاد سے ہوتی ہے، وہ نرم و نازک گل جو سخت بلکہ کرخت سینوں میں دھڑکتے ہیں۔ خونِ جگر سے سینچ کر غنچہ امید وا کرنا حاشا و کلا آسان کام نہیں ہے۔


نہ جانے کیوں زکریا اجمل المعروف بہ 'زیک' کی طرف میرا دھیان جب بھی جاتا ہے تو ذہن میں ایک ماں کا تصور ہی ابھرتا ہے، اس بات کی کوئی وجہ میرے ذہن میں نہیں آتی بجز اسکے کہ اردو، اردو ویب، اور اردو محفل کیلیے اللہ نے انہیں ایک ماں کا دل ہی عطا کیا ہے، اپنے بچے کی ذرا سی پریشانی پر بے اختیار ہو ہو جانا اور اس کی نگہداشت و پرداخت ہمیشہ نگاہ میں رکھنا اور اسکی ترقی و کامیابی کو ہمیشہ دل میں رکھنا اور اس کے مستقبل کی طرف سے ہمیشہ پریشان رہنا، میں نے تو زیک کو جب بھی دیکھا انہی حالتوں میں دیکھا۔ اب اگر انہیں اردو ویب کی 'ماما' نہ لکھوں تو کیا لکھوں اور کیا کہوں۔


دل اگر ماں کا ہے تو دماغ اللہ نے انہیں ایسا حکیمانہ عطا کیا ہے کہ انکی خاموشی بہت ساروں کے لیے سند ہے، مطلب ہے آپ کسی ایسے خشک موضوع پر لکھیئے جس میں حقائق ہیں یا اعداد و شمار ہیں (نہ کہ ایسے گل و بلبل کی باتوں مگر صرف باتوں والے موضوعات جن پر ہم بزعمِ خود طبع آزمائی کرتے ہیں) اور اگر کوئی غلطی ہے تو زیک ضرور اس کو درست کریں گے، گویا زیک انہی اساتذہ کی لڑی میں سے ہیں جن کی خاموشی سند سمجھی جاتی تھی۔ علامہ اقبال کسی مشاعرے کی صدارت فرما رہے تھے اور مبتدی پڑھ رہے تھے، علامہ اپنے مشہورِ زمانہ اسٹائل میں ہتھیلی پر سر ٹکائے بیزار سے بیٹھے تھے اور انکی خاموشی ہی اس بات کی سند تھی کہ اشعار ٹھیک ہی ہیں کہ دفعتہً ایک شعر پر علامہ بے اختیار 'ہُوں' پکار اٹھے، اور وہ شاعر یہ بات اپنی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ سمجھتا رہا کہ علامہ انکے اشعار پر نہ صرف خاموش رہے تھے بلکہ ایک شعر پر 'ہُوں' بھی کہا تھا، اور میں نے نہیں دیکھا زیک کو کبھی 'ہُوں' بھی کہتے ہوئے۔


زیک اور اپنے آپ میں کوئی مماثلت ڈھونڈنے نکلتا ہوں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا بجز ایک دُور کی کوڑی کے، کہ بقولِ زیک انہیں اردو بلاگ لکھنے کا خیال ایک فارسی بلاگ کو دیکھ کر آیا تھا اور میں شاید اردو بلاگ لکھتا ہی اس لیے ہوں کہ اپنی پسند کے فارسی اشعار کسی طرح محفوظ کر سکوں۔ زیک کو اللہ تعالیٰ نے بہت بردبار اور ٹھنڈے دل و دماغ کا مالک بھی بنایا ہے اور فی زمانہ یہ ایک اتنی بڑی خوبی ہے کہ انسان ہونے کی نشانی ہے اور شاید یہی اوصاف رکھنے والے کسی انسان کے بارے میں مولانا جلال الدین رومی نے فرمایا تھا، (دیکھیے فارسی کا ذکر زبان پر آیا نہیں اور میں ہر پھر کر فارسی اشعار پر اتر آیا)۔


دی شیخ با چراغ ھمی گشت گردِ شہر

کز دیو و دَد ملولَم و انسانَم آرزوست


کل رات ایک بزرگ ہاتھ میں چراغ لیے سارے شہر میں گھوما کیا اور کہتا رہا کہ میں شیطانوں اور درندوں سے تنگ آ گیا ہوں اور کسی انسان کو دیکھنے کا آرزومند ہوں۔


بات انسان تک پہنچی ہے تو خدا تک بھی ضرور پہنچے گی کہ زیک کی زندگی کے اس رخ کے بارے میں کوئی بات کرنا میں معیوب سمجھتا ہوں مگر یہ کہ زیک میں اگر کہیں میری رُوح ہوتی تو رات کی کیا تخصیص، وہ ہر وقت شہر کی گلیوں میں غالب کا یہ نعرۂ مستانہ لگا کر مجنونانہ گھومتے۔


ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی

جس کو ہوں دین و دل عزیز، اُس کی گلی میں جائے کیوں


اور چلتے چلتے یہ بھی عرض کردوں کہ بات ایک وضاحت سے شروع ہوئی تھی اور ایک وضاحت پر ہی ختم ہو رہی ہے کہ یہ خاکہ، یا اگر بلاگ کے حوالے سے مجھے ایک بدعت کی اجازت دیں تو کہوں کہ یہ 'بلاخاکہ' میں نے زیک کی اجازت لیے بغیر لکھ مارا اور وہ یہ سوچ کر کہ اگر اجازت لیکر ہی خاکے لکھے جاتے تو "گنجے فرشتے" کبھی تخلیق نہ ہو پاتی۔

متعلقہ تحاریر : محمد وارث, میری تحریریں

15 comments:

  1. دلچسپ۔ اچھا لکھا ہے وارث۔
    ----
    زیک کو اللہ تعالیٰ نے بہت بردبار اور ٹھنڈے دل و دماغ کا مالک بھی بنایا ہے اور فی زمانہ یہ ایک اتنی بڑی خوبی ہے کہ انسان ہونے کی نشانی ہے
    ----
    لیکن زیک کے بارے میں یہ بہت خوب کہا۔اور فارسی شعر بہت بہترین ہے۔

    ReplyDelete
  2. اب کیا تعریف کروں ؟؟؟
    تعارف آپ اپنا ہوا بہار کی ہے
    (اگر مصرع میں کوئی غلطی ہے تو معذرت)
    زبردست خاکہ ہے۔ اگرچہ میں ان صاحب کو جانتا نہیں ہوں۔ اب ان کے بلاگ پر جانا بھی فرض ہوگیا ہے۔
    :smile:

    ReplyDelete
  3. بہت شکریہ جعفر صاحب، نوازش۔ زکریا اجمل معروف بلاگر محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب کے بڑے صاحب زادے ہیں اور اردو ویب کے قتیل۔ اور ہاں، فراز کا شعر
    میں ترا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
    کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

    ReplyDelete
  4. گالیاں دینے کی رسم چلے نہ چلے، امید ہے بلاگروں میں خاکہ لکھنے کی رسم چل پڑے گی۔۔۔
    اچھا لکھا ہے وارث بھائی۔

    ReplyDelete
  5. شکریہ عمار نوازش، اور مجھے بہت خوشی ہوگی اگر اردو بلاگرز خاکے لکھنے بھی شروع کر دیں۔

    ReplyDelete
  6. نوازش زیک اور بلاگ پر خوش آمدید۔

    ReplyDelete
  7. اسلام علیکم
    امید ہے خیریت سے ہونگے ۔ میں نے اردو محفل میں اردو محفل کی چار سالہ تقریبات کے سلسلے میں ماوراء کے انٹرویو کے زمرے میں آپ کے تاثرات پڑھے ۔ اپنے بارے میں آپ کی حد درجہ محبت اور دوستی کا اظہار پڑھا ۔ یقین مانیٖیئے بہت خوشی اور فخر ہوا کہ آپ جیسا قابل آدمی مجھے اپنی نظر میں کوئی اہمیت دیتا ہے ۔ آپ کی دوستی و محبت پر ہمیشہ مان رہے گا ، اصولا یہ تاثرات مجھے اردو محفل پر لکھنے چاہیئے تھے ، مگر اردو محفل میرے لیئے اب شجرِ ممنوعہ بن چکی ہے ۔ لہذا آپ کے بلاگ پر آپ کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوگیا ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ انشاء اللہ بات ہوتی رہے گی ۔
    والسلام

    ReplyDelete
  8. ہاں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ میں ظفر علی خان درانی نہیں ۔۔۔ بلکہ ظفر احمد درانی ہوں ۔ میں چھوٹا آدمی ہوں اس لیئے اتنے بڑے نام کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ تصحیح کر لجیئے گا ۔

    ReplyDelete
  9. سب سے پہلے تو بہت معذرت ظفری بھائی کہ آپ کا نام غلط لکھ گیا، آپ کے اس تبصرے کے بعد ہی اردو محفل والی والی بحث میں دیکھ سکا، بہت افسوس ہوا، امید کرتا ہوں کہ جلد ہی اسکا کوئی اچھا حل نکل آئے گا۔

    ReplyDelete
  10. خیر ۔۔۔ جو ہوا سو ہوا ۔ اس کا کوئی قعلق نہیں ۔ اس بہانے آپ اور دیگر دوستوں کے بلاگز پر آن جانا شروع ہوجائے گا ۔ آپ اور چند اور دوستوں کی خاطر وہاں جاتا تھا ۔ ماشاءاللہ اب تقریباً سبھی نے اپنے بلاگز تخیلیق کر رکھے ہیں ۔ لہذا بات چیت کا سلسلہ چلتا رہے گا ۔ اور دوسرے یہ کہ میرے بلاگ پر کافی عرصے سے قفل پڑا ہوا تھا ۔ اس کو کھولا ہے ۔ جھاڑ پونجھ کی ہے ۔ اور ہاں نئی دری بھی لاکر بچھائی ہے ۔ امید ہے کبھی وہاں تشریف لاکر بندے کی عزت افزائی کریں گے ۔
    آپ کے بلاگ کے حوالے سے میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں آپ نے ادب کے خزانے مہیا کردیئے ہیں ۔ آج کل میرا اکثر وقت آپ کے علمِ عروض کو پڑھتے ہوئے گذرتا ہے ۔ اللہ آپ کو جزا دے ۔ ہوسکتا ہے اس بار مجھے علم ِ عروض سے کچھ واقفیت ہو ہی جائے ۔ انشاء اللہ بات ہوتی رہے گی ۔ اپنا خیا ل رکھئے گا ۔
    والسلام

    ReplyDelete
  11. شکریہ ظفری بھائی، انشاءاللہ آپ کے بلاگ پر آپ سے رابطہ رہے گا، خوشی ہوئی آپ کو دوبارہ سے بلاگ پر فعال دیکھ کر۔

    ReplyDelete
  12. بہت اچھی تحریر ہے۔۔۔ اچھا لگا پرھ کر بہت


    امید

    ReplyDelete