Dec 4, 2011

علی کے گل رُخوں سے بُوئے زھرائی نہیں جاتی - سلام از سیّد نصیر الدین نصیر

سیّد نصیر الدین نصیر مرحوم کا ایک خوبصورت سلام

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی
زباں پر کربلا کی داستاں لائی نہیں جاتی

حسین ابنِ علی کے غم میں ہوں دنیا سے بیگانہ
ہجومِ خلق میں بھی میری تنہائی نہیں جاتی

اداسی چھا رہی ہے روح پر شامِ غریباں کی
طبیعت ہے کہ بہلانے سے بہلائی نہیں جاتی

urdu poetry, ilm-e-arooz, taqtee, salam, karbala, syyed naseer-ud-din naseer
سیّد نصیر الدین نصیر مرحوم
Syyed Naseer-ud-Din Naseer
کہا عبّاس نے افسوس، بازو کٹ گئے میرے
سکینہ تک یہ مشکِ آب لے جائی نہیں جاتی

جتن ہر دور میں کیا کیا نہ اہلِ شر نے کر دیکھے
مگر زھرا کے پیاروں کی پذیرائی نہیں جاتی

دلیل اس سے ہو بڑھ کر کیا شہیدوں کی طہارت پر
کہ میّت دفن کی جاتی ہے، نہلائی نہیں جاتی

طمانچے مار لو، خیمے جلا لو، قید میں رکھ لو
علی کے گل رُخوں سے بُوئے زھرائی نہیں جاتی

کہا شبّیر نے، عبّاس تم مجھ کو سہارا دو
کہ تنہا لاشِ اکبر مجھ سے دفنائی نہیں جاتی

حُسینیّت کو پانا ہے تو ٹکّر لے یزیدوں سے
یہ وہ منزل ہے جو لفظوں میں سمجھائی نہیں جاتی

وہ جن چہروں کو زینت غازۂ خاکِ نجف بخشے
دمِ آخر بھی ان چہروں کی زیبائی نہیں جاتی

نصیر آخر عداوت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
کسی بیمار کو زنجیر پہنائی نہیں جاتی

(سید نصیر الدین نصیر)
-------

بحر - بحر ہزج مثمن سالم

افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن

اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
(ہندسوں کو دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 1 پہلے اور 222 بعد میں)

تقطیع -

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی
زباں پر کربلا کی داستاں لائی نہیں جاتی

تڑپ اٹھتا - مفاعیلن - 2221
ہِ دل لفظو - مفاعیلن - 2221
مِ دہرائی - مفاعیلن - 2221
نہی جاتی - مفاعیلن - 2221

زبا پر کر - مفاعیلن - 2221
بلا کی دا - مفاعیلن - 2221
س تا لائی - مفاعیلن - 2221
نہی جاتی - مفاعیلن - 2221

--------

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, بحر ہزج, بحر ہزج مثمن سالم, تقطیع, سلام, نصیر الدین نصیر

15 comments:

  1. کیا ہی بات ہے پیر نصیرالدین نصیر کی شاعری کی
    بہت خوبصورت انتخاب ہے بہت بہت شکریہ

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ محمد یاسر علی صاحب اور الف نظامی صاحب۔

    ReplyDelete
  3. راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں
    ہم تو محفل کو سجاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اہل دل گیت یہ گاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں
    آنکھیں راہوں میں بچھاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    انکی آمد کے پیامی ہیں صـــبــــا کے جھونکے
    پھول شاخوں کو ہلاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    مرحبا صلی علی کی صدائیں ہیں لب پر
    ہم تو صدقے ہوے جاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اہل ایماں کے لبوں پر ہے درود اور سلام
    یوم میلاد مناتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    دل کو جلووں کی طلب آنکھ کو طیبہ کی لگن
    دیکھئیے مجھ کو بلاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اپنے شاہکار پے خلاق دو عالم کو ہے ناز
    انبیا جھومتے جاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    چاند تاروں میں نــــصــــیـــــر آج بڑی ہلچل ہے
    یہی آثار بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    ReplyDelete
  4. نصیر آخر عداوت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
    کسی بیمار کو زنجیر پہنائی نہیں جاتی

    سبحان اللہ۔
    وارث پیر نصیر الدین نصیر کا مزید کلام کہاں پڑھا جا سکتا ہے؟ مطلب اگر ان کا کوئی مجموعہ کلام چھپاہے؟ ۔

    ReplyDelete
  5. شکریہ فرحت، پیر صاحب کا کافی کلام تو اردو محفل پر بھی موجود ہے، انکے اردو، فارسی، سرائیکی، وغیرہ زبانوں کے کافی مجموعے چھپ چکے ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں

    آغوشِ حیرت(فارسی رباعیات)

    پیمانِ شب (اردو غزلیات)

    دیں ہمہ اوست (عربی ، فارسی ، اردو ، پنجابی نعتیں )

    فیضِ نسبت (عربی ، فارسی ، اردو ، پنجابی مناقب)

    رنگِ نظام ( قرآن و حدیث کی روشنی میں اردو مجموعہ رباعیات )

    عرشِ ناز (فارسی ، اردو ، پوربی ، پنجابی اور سرائیکی میں ‌متفرق کلام)

    دستِ نظر (اردو غزلیات)

    تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی

    اسکے علاوہ کئی ایک علمی تخلیقات بھی ہیں۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ وارث۔ میں دراصل اپنا سیٹ خریدنا چاہ رہی تھی۔ اب ان شاءاللہ ان میں سے کم از کم دو تین کتابیں میری وش لسٹ میں شامل ہو گئیں۔
      جزاک اللہ ۔ :(

      Delete
  6. نوازش آپ کی محترم صاحبزادہ صاحب۔

    ReplyDelete
  7. جزاک اللہ
    بہت بہت خوبصورت شیئرنگ۔
    کاشفین

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ کاشفین صاحب اور بلاگ پر خوش آمدید۔

      Delete