Sep 19, 2011

سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ

مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے اپنی شاہکار “کوثر سیریز” کی آخری کتاب “موجِ کوثر” میں سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل کے پانچ اشعار دیے ہیں سو وہ ترجمے کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب نے یہ اشعار سر سید کا مذہبی جوش و ولولہ دکھانے کیلیئے دیئے ہیں اور کیا سچ بات کہی ہے شیخ صاحب نے لیکن شاعرانہ نکتہ نظر سے بھی ان اشعار میں سر سید کا زورِ بیان اور صنعتوں کا کمال دیکھیئے، زور بیانِ میں تو یہ اشعار بڑے بڑے کلاسیکی فارسی اساتذہ کے کلام سے لگّا کھاتے ہیں۔

Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Sir Syyed Ahmed Khan, سر سید احمد خان
Sir Syyed Ahmed Khan, سر سید احمد خان
فلاطوں طِفلَکے باشَد بہ یُونانے کہ مَن دارَم
مَسیحا رشک می آرَد ز دَرمانے کہ مَن دارَم


(افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں)
خُدا دارَم دِلے بِریاں ز عشقِ مُصطفٰی دارَم
نَدارَد ھیچ کافر ساز و سامانے کہ مَن دارَم


(میں خدا رکھتا ہوں کہ جلے ہوے دل میں عشقِ مصطفٰی (ص) رکھتا ہوں، کوئی کافر بھی ایسا کچھ ساز و سامان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے)

ز جبریلِ امیں قُرآں بہ پیغامے نمی خواھَم
ہمہ گفتارِ معشوق است قرآنے کہ مَن دارَم

(جبریلِ امین سے پیغام کے ذریعے قرآن کی خواہش نہیں ہے، وہ تو سراسر محبوب (ص) کی گفتار ہے جو قرآن کہ میں رکھتا ہوں)۔

فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ہزاراں ایں چُنیں دارَد گریبانے کہ مَن دَارم

آسمان اس تمام شان و شوکت کے ساتھ فقط سورج کا ایک مطلع رکھتا ہے جب کہ اس (مطلع خورشید) جیسے ہزاروں میرے گریبان میں ہیں۔

ز بُرہاں تا بہ ایماں سنگ ھا دارَد رہِ واعظ
نَدارَد ھیچ واعظ ہمچو بُرہانے کہ مَن دارَم

واعظ کی دلیل و عقل سے ایمان تک کی راہ پتھروں سے بھری پڑی ہے لیکن کوئی واعظ اس جیسی برہان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔

(سر سید احمد خان)
——–
بحر - بحر ہزج مثمن سالم

افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن

اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221

تقطیع -
فلاطوں طفلکے باشد بہ یُونانے کہ من دارَم
مسیحا رشک می آرد ز درمانے کہ من دارم
فلاطو طف - مفاعیلن - 2221
لَکے باشد - مفاعیلن - 2221
بَ یونانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221
مسیحا رش - مفاعیلن - 2221
ک می آرد - مفاعیلن - 2221
ز درمانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221

-----

متعلقہ تحاریر : بحر ہزج, بحر ہزج مثمن سالم, تقطیع, سر سید احمد خان, شیخ محمد اکرام, فارسی شاعری

8 comments:

  1. سبحان اللہ، خوب است۔

    ReplyDelete
  2. صریرِ خامۂ وارث ہے لاجواب بلاگ
    میں پیش کرتا ہوں اس کے لئے مبارکباد
    احمد علی برقی اعظمی

    ReplyDelete
    Replies
    1. ذرہ نوازی ہے آپ کی محترم، بہت شکریہ آپ کا۔

      Delete
  3. دل پُر از درد و دیدہ پُر خونست
    حالم ایں است، حالِ تو چونست؟

    درویش ناصر بخاری

    منظوم اردو ترجمہ
    احمد علی برقی اعظمی
    دیدہ و دل ہیں خونچکاں میرے
    تو بتا تیرا حال کیسا ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. نوازش آپ کی ڈاکٹر صاحب محترم

      Delete
  4. محترم! غلطی درست فرما لیں۔ لفظ بریاں: اس کا معنی جلا ہوا نہیں ہے بلکہ بھنا ہوا ۔ بھنا ہوا جلنے کے عمل سے مختلف ہوتا ہے۔ جلنے کے بعد کسی چیز کا اپنا وجود ختم ہوجاتا ہے، لیکن بھننے کے عمل کا مطلب اس میں کسی قسم کی سختی کو ختم کرکے اس کو موڑنے اور نئے سانجچے میں ڈھالنے کے ہیں اور یہ ایک "طبی اصطلاح" بھی ہے۔ جس سے چیزوں کوآسانی سے پیسا جاسکتا ہے جو سخت ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں اس شعر کا درست مطلب کچھ یوں ہے۔
    "میں خدا رکھتا ہوں اور عشقِ مصطفیٰ میں بھنا ہوا دل رکھتا ہوں اور جو سامانِ زیست میرے پاس ہے وہ کسی بھی کافر کے پاس نہیں ہے"
    درحقیقت یہ شعر سیر سید احمد خان کو جب مولویوں نے "کافر" کہا تھا تو انہوں نے یہ جواباً لکھا۔
    ویسے آپ کا یہ سلسلہ نہایت ہی کارآمد ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ محترم، میں جانتا ہوں کہ بریاں کا کیا مطلب ہے، اس شعر میں دل جلے کی مناسبت سے جلا ہوا دل لکھ دیا تھا، بھنا ہوا دل تو کوئی کھانے پینے کی چیز جیسا مطلب دیتا ہے۔

      سلسلہ پسند فرمانے کے لیے آپ کا شکریہ۔

      Delete