Apr 30, 2009

چاندنی راتیں

ملکۂ ترنم نورجہاں جب اپنی دلکش اور پُر سوز آواز میں گاتی ہیں۔ 'تیرے لیے میری طرح جاگے رے، چاندنی رات' تو دل پر تو قیامت سی گزر جاتی ہے لیکن دماغ بھی نہ جانے کیوں ماننے لگ جاتا ہے کہ چاندنی رات کے ساتھ ساتھ ملکۂ ترنم بھی ہمارے لیے جاگ رہی ہیں، سحر شاید اس قسم کی صورتحال کو کہا جاتا ہے۔
چاند اور چاندنی رات، کون دیوانہ ہے جو انکے سحر میں کبھی گم نہ ہوا ہو، یادش بخیر بچپن کے دنوں کی وہ سہانی یادیں ذہن میں تازہ ہیں جب رات کو چھت پر سونے سے پہلے، چارپائی پر لیٹ کر چاند اور بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھا کرتا تھا اور پندرہ سال پہلے لاہور میں بتائے ہوئے وہ دن بھی یاد ہیں جب سارا دن سورج آتش برساتا تھا اور چوتھی منزل پر ہمارے پرائیوٹ ہوسٹل کا کمرہ ایک 'مِنی' جہنم کا نقشہ پیش کیا کرتا تھا۔ ہم اور ہمارے دوست، کمرے سے اٹھ کر مین مارکیٹ گلبرگ کے 'راؤنڈ اباؤٹ' کی گھاس پر آ کر لیٹ رہتے تھے اور کبھی بادلوں سے بنی تصاویر میں عکسِ یار ڈھونڈتے تھے اور کبھی چاند کی طرف ٹکٹکی لگائے، دنیا و مافیہا سے بے خبر، اُس سے راز و نیاز میں غلطاں و پیچاں۔ تعلیم مکمل کر کے واپس سیالکوٹ پہنچا اور سنگ و خشت میں ایسا قید ہوا کہ کبھی چاند، اچانک، چلتے چلتے سرِ راہ نظر آ گیا ہو تو علیحدہ بات وگرنہ اُس وقت سے میں اسکے دائمی ہجر میں ہوں۔
زندگی کی ہر کروٹ، حشر ساماں ہوتی ہے اور ہر انگڑائی قیامت خیز اور اب زندگی کی ایک اور کروٹ مجھ سے بہت کچھ اگر لے گئی ہے تو بہت کچھ دے بھی گئی ہے۔ ہفتہ ہونے کو آیا کہ مجھ سے وہ میرا وہ کمرہ چُھوٹ گیا ہے جس میں "بلا شرکتِ غیرے" میں نے اپنی زندگی کے سینتیس سال بتا دیئے، اس کمرے کے ساتھ اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ سوچنے لگوں تو بیکار ہو جاؤں اور وہ گھر چھوٹ گیا جس میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور جوان ہوا۔ ہمارا وہ چھوٹا سا آبائی گھر جس کی تین منزلہ عمارت میں، میں ایک طرح سے تہہ خانے میں رہ رہا تھا اب اس سے ہجرت کر کے ساتھ والے گھر میں اٹھ آیا ہوں جس میں کبھی میرے نانا جان مرحوم رہا کرتے تھے اور انکے وہاں سے چلے جانے کے بعد میرے والد صاحب مرحوم نے وہ مکان ان سے خرید لیا تھا۔ ہجرت تو یہ چند ہی قدم کی ہے لیکن فاصلہ شاید اس میں اتنا طے ہو گیا جتنا کبھی انسان نے زمین سے چاند کی جانب طے کیا تھا۔ ایک تین منزلہ عمارت کے سب سے نچلے حصے سے نکل کر ایک دوسری تین منزلہ عمارت کے سب سے اوپر والے حصے میں منتقل ہو گیا ہوں اور سالہا سال بلکہ مدت مدید کے بعد اپنے بچپن کے آشنا 'دُبِ اکبر' کو دیکھا تو ایک عجب ہی جہان میں تھا، لیکن چاند کو نہ دیکھ کر افسوس سا ہوا لیکن کب تلک، اماوس کی راتیں گزر گئیں اور آج کل جمادی الاوّل کا نیا چاند اپنی بہار دکھا رہا ہے، چند دن بعد یہ جب مستعار کی روشنی سے بھر پور چمک اٹھے گا تو منظر دیدنی ہوگا۔
چاندنی راتوں کے کیف و سرور سے بات چلی تو چاند کی مستعار کی روشنی تک پہنچ گئی، سوچ رہا تھا کہ اپنی اس ہجرت پر کچھ شعر وعر کہونگا لیکن چھت پر لیٹ کر آسمان کو تکتے رہنے سے کچھ فرصت نہیں۔ چاند پر بہت سی شاعری ہو چکی لیکن نہ جانے کیوں مجھے 'پروانے' پر کہا ہوا ابوالفیض فیضی کا یہ شعر برابر یاد آ رہا ہے۔
تو اے پروانہ ایں گرمی ز شمعِ محفِلے داری
چو من در آتشِ خود سوز گر سوزِ دلِے داری

اے پروانے تو نے یہ تب و تاب محفل کی شمع سے (مستعار) لی ہے (اور اسی کی آگ میں جل رہا ہے)، میری طرح اپنی ہی آگ میں جل کر دیکھ اگر کچھ سوزِ دل رکھتا ہے تو۔

متعلقہ تحاریر : محمد وارث, میری یادیں

11 comments:

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ محمد وارث صاحب۔
    مجھے کچھ الفاظ غلط محسوس ہوئے ہیں تو آپکو بتانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ (ویسے آپکے تحریر کے کافی سارے الفاظ کے معانی مجھے معلوم بھی نہیں )
    دنیا و مافیا =دنیا ومافیھا
    وہ کمرو چُھوٹ =وہ کمرہ چھوٹ

    شکریہ

    ReplyDelete
  2. بچپن کی ہر اس چیز سے لگاو ہو جاتا ہے جس کے ساتھ تھورا سا بھی وقت گزارا ہو۔ اور جو بچپن سے جوانی تک ساتھ رہی ہو وہ تو وجود کا حصہ لگتی ہے
    اللہ تعالٰی نئے گھر کو آپ کے اور آپکے گھر والوں کے لئے مبارک کرے

    ReplyDelete
  3. اچھا لکھا ہے ۔ ملکہ ترنم ایسے ہی نہیں کہا گیا ۔ سب جگ سوئے ہم جاگیں کو سُن کر تو کوئی انسان متاءثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اس کانے میں نورجہاں نے پہلے ہی مصرع میں عامعین کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا ۔

    ReplyDelete
  4. یہ اچھا نہیں کیا آپ نے۔۔۔
    زخم ہرے کردئیے پردیسیوں کے
    آپ نے تو ساتھ والے گھر میں ہجرت کی
    ہم ہجرت کرکے ہزاروں میل دور آگئے ہیں
    اتنا اچھا لکھنا آپ ہی کا خاصہ ہے۔۔۔

    ReplyDelete
  5. نئے دروبام میں منتقلی مبارک ہو۔۔ ایسے موقع پر سمجھ نہیں آتی کے نئی چیز کی مبارک دیں یا پرانی یادیں چھن جانے کا پرسہ لیکن کیونکہ امید پر دنیا قائم ہے تو امید ہے کہ چاند کی صحبت بہترین شاعری اور اعلی پائے کی نثر باعث بنے گی۔۔ سوچنے کی بات یہ کہ جب تہہ خانے میں‌ میعار اتنا بلند تھا تو اب بلندی پر تو بہتری کی توقع ہی رکھ سکتے ہیں۔

    ReplyDelete
  6. بہت شکریہ آپ سب کا۔
    جناب ‘محبِ پاکستان‘ شکریہ بہت املاء کی اغلاط کی نشاندہی کیلیے، جن الفاظ کے معنی آپ کو سمجھ نہیں آئے وہ بھی لکھ دیتے تو بہتر ہوتا۔
    بہت شکریہ ڈفر اور اجمل صاحب۔
    جعفر، ہجرت تو ہجرت ہوتی ہے چاہے ایک قدم کی ہو یا ہزاروں میلوں کی، اور آپ کے زخم تو پرانے ہو گئے میرے بالکل تازہ ہیں :)
    شکریہ غفران علی قریشی صاحب اور بلاگ پر خوش آمدید۔
    نوازش ہے آپ کی بندہ پرور راشد صاحب، وگرنہ من آنم کہ من دانم۔

    ReplyDelete
  7. وارث جی پہلے تبصرہکیا تھا جانے کہاں گیا ۔ چلو پھر کرتی ہوں ، چاند اور چاندنی رات مجھے بہت پسند ہے ، آپ کو شاہد یقین آجائے ۔ کہ جب پورا چاند ہوتا ہے تو میں نہیں جانتی وہ کون سی طاقت ہے جو مجھے خودبخود کھڑکی یا باہر جانے پر مجبور کرتی ہے پہلے میں نے اپنا وہم سمجھا ۔ لیکن یہ کئی سالوں سے ہوتا آرہا ہے میں نے چاند کو بادلوں کی اوٹ میں اپنے کیمرے کی انکھ میں محفوظ کیا ہوا ہے ۔ پورا چاند ہو اور اس کے اردگرد ہلکے بادل وہ منظر نا بھولنے والا

    ReplyDelete
  8. بہت شکریہ تانیہ رحمان آپ کے تبصرے کیلیے اور معذرت خواہ بھی ہوں کہ آپ کو ہمیشہ میرے بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی نہ کسی پریشانی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے، خیر نوازش آپ کی۔

    ReplyDelete
  9. تنہا ۔ ، اداس ، خاموش چاند چاہے کہیں بھی ہو ایسے ہی محصور کرتا ہے اور چاند سے باتیں کرنے کی عادت کی خوبصورتی صرف محسوس کی جاسکتی ہے


    امید

    ReplyDelete
  10. بہت شکریہ امید تبصرے کیلیے، نوازش۔

    ReplyDelete