Dec 6, 2009

می رقصم - شیخ عثمان مروَندی معروف بہ لال شہباز قلندر کی غزل - نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم

شیخ سید عثمان شاہ مروَندی علیہ الرحمہ معروف بہ لال شہباز قلندر ایک جلیل القدر صوفی ہیں اور انکے نامِ نامی کی شہرت عالم گیر ہے۔ انکی ایک غزل بہت مشہور ہے جس کی ردیف 'می رقصم' ہے، اس غزل کا کچھ تذکرہ مولانا رومی کی ایک غزل جس کی ردیف 'می گردم' ہے لکھتے ہوئے بھی آیا تھا۔ اس وقت سے میں اس غزل کی تلاش میں تھا لیکن افسوس کہ نیٹ پر مکمل غزل کہیں نہیں ملی بلکہ اکا دکا اشعار ادھر ادھر بکھرے ہوئے ملے۔ کتب میں بھی تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔

اس سلسلے میں ایک عرض یہ کرونگا کہ بعض مشہور و معروف غزلیات جو صدیوں سے زبان زد عام ہیں، کتب میں نہیں ملتیں، مثلاً امیر خسرو علیہ الرحمہ کی نعت، نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم، انکی غزلیات کے پانچوں دیوانوں میں نہیں ہے (بحوالہ خسرو شیریں بیاں از مسعود قریشی، لوک روثہ اشاعت گھر، اسلام آباد) اسی طرح مولانا رومی کی مذکورہ غزل، نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردم، انکی غزلیات کے دیوان 'دیوانِ شمس' میں موجود نہیں ہے، مولانا کے یہ کلیات ایران میں تصحیح کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں اور اسی دیوانِ سمش کا آن لائن ورژن ویب پر بھی موجود ہے، جس میں یہ غزل موجود نہیں ہے اور اسی طرح شیخ عثمان کی مذکورہ غزل بھی کہیں نہیں ملتی لیکن عام طور سے یہی مشہور ہے کہ یہ غزل شیخ عثمان کی ہے۔ اس غزل کے چار اشعار مجھے ویب سے ملے تھے، باقی اشعار نصرت فتح علی خان قوال کی گائی ہوئی ایک قوالی (امیر خسرو کی نعت نمی دانم) سے ملے ہیں اور یوں سات اشعار کی ایک غزل بہرحال بن گئی ہے جو احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، مجھے پورا یقین ہے کہ اس غزل کے مزید اشعار بھی ہونگے، بہرحال تلاش جاری ہے۔

غزل پیشِ خدمت ہے۔

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم


نہیں جانتا کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں رقص کر رہا ہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے رقص کر رہا ہوں۔

مزار لال شہباز قلندر, Mazar Lal Shahbaz Qalandar, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
مزار لال شہباز قلندر
 Mazar Lal Shahbaz Qalandar
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیَم اے یار می رقصم

تو جب بھی اور جس وقت بھی نغمہ چھیڑتا ہے میں اسی وقت اور ہر بار رقص کرتا ہوں، اور جس طرز پر بھی تو ہمیں رقص کرواتا ہے، اے یار میں رقص کرتا ہوں۔

تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم

تُو وہ قاتل کہ تماشے کیلیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خوں خوار خنجر کے نیچے رقص کرتا ہوں۔

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

آجا جاناں اور دیکھ کہ جانبازوں کے گروہ میں، میں رسوائی کے صد سامان لیے سر بازار رقص کر رہا ہوں۔

اگرچہ قطرۂ شبنم نہ پویَد بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم

اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں ٹھہرتا لیکن میں وہ قطرۂ شبنم ہوں کہ نوکِ خار پر رقص کرتا ہوں۔

خوش آں رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم

واہ وہ رندی کہ جس کیلیے میں سیکنڑوں پارسائیوں کو پامال کر دوں، مرحبا یہ تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ رقص کرتا ہوں۔

منم عثمانِ مروندی کہ یارے شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم

میں عثمان مروندی کہ شیخ منصور (حلاج) میرے دوست ہیں، مجھے خلق ملامت کرتی ہے اور میں دار پر رقص کرتا ہوں۔

اس شعر کیلیے ایک وضاحت یہ کہ شیخ عثمان کا نام شیخ عثمان مروَندی ہے لیکن یہ شعر نصرت فتح علیخان نے عثمان مروندی کی بجائے عثمان ہارونی کے نام کے ساتھ گایا ہے۔ میں نے اپنی سی کوشش ضرور کی کہ کہیں سے یہ علم ہو جائے کہ صحیح شعر کیا ہے اور یہ 'ہارونی' کیوں آیا ہے مصرعے میں لیکن افسوس کہ میرے پاس ذرائع محدود ہیں۔ بہرحال تحقیق کے دروازے کھلے ہیں، اس شعر بلکہ اس غزل کے دیگر اشعار کیلیے میں بھی سرگرداں ہوں اور دیگر اہلِ علم و فن و ہنر کو بھی دعوتِ عام ہے۔

متعلقہ تحاریر : شیخ عثمان مروندی, فارسی شاعری, لال شہباز قلندر

15 comments:

  1. کم از کم آدھی صدی قبل اپنے زمانہ طفلی میں یہ غزل میں نے کہیں پڑھی تھی مگر بھول چکا تھا اب میں نے اسے پڑھا ہے تو میرا ذہن کہہ رہا ہے کہ پہلے مصرعے میں کچھ کمی یا تغیّر ہے

    ReplyDelete
  2. بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
    میں نے اس شعر کی تلاش میں ایک دن سارا نیٹ چھان مارا مگر نہیں ملا . آپ کے بلاگ پر مل گیا . خدا جزائے خیر دے اور آپ کو اسی طرح شعروحکمت کے موتی دوسروں کو پیش کرنے کی توفیق عطا کرے . شکریہ

    ReplyDelete
  3. نوازش ریاض شاہد صاحب اور بلاگ پر خوش آمدید محترم۔

    ReplyDelete
  4. حمید نیازیMarch 27, 2010 at 11:27 PM

    بہت خوب صورت غزل ہے اور آپ کی تحریر بھی اچھی ہے‘لگے رہو وارث صاحب

    ReplyDelete
  5. Syed muhammad ali shahMay 18, 2010 at 11:53 PM

    Waris sahb i really ur work and tauseef about farso qawalies with translation ..
    i,m sending u link of qawali of Farid ayaz qawal son of great munshi razi ud deen qawal who recite this kalam very very very beautiful
    app shamil kr dain isko aur tauseef sahb translation k sath video bana dain..
    Allah apko Kush rakhay
    http://www.youtube.com/watch?v=_QjbdN982Dk

    ReplyDelete
  6. waris sahab, ye usman harooni nam kay bhi aik bazurg guzray hain jo khwaja moinuddin chisti kay murshad thay. ye bat ghaur talab hai?

    ReplyDelete
  7. آپ نے درست فرمایا جناب، خواجہ معین الدین چشتی رح کے مرشد کا نام عثمان ہارونی ہے، لیکن کچھ محققین کے مطابق یہ "ہارونی" نہیں بلکہ "ہرونی" ہے جس سے مصرعہ بے وزن ہو جائے گا۔ ویسے مشہور یہی ہے کہ یہ غزل شیخ عثمان مروندی یعنی لال شہباز قلندر ہی کی ہے۔

    ReplyDelete
  8. I think it was written by Usman e Haroonipir o murshid of khawaja Moeen ud din Christi R.A. and the last line has manam usman e harooni k yar e ... Mudassir Syed

    ReplyDelete
    Replies
    1. جی اس غزل کے بارے میں واقعی مختلف روایات ہیں۔

      Delete
    2. واہ. واہ آپ خوب تلاش کی یہ غزل

      Delete
  9. نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
    مگر نازم بایں ذوق کہ پیشِ یار می رقصم

    نہیں واقف کہ آخر کیوں دم دیدار ہوں رقصاں
    مگر اس سوچ سے خوش ہوں حضور ِ یار ہوں رقصاں

    تو ھر دم می سرائی نغمہ و ھر بار می رقصم
    بہر طرزِ كہ می رقصانیم اے یار می رقصم

    تیرے ہر نغمہ پر ہوں وجد میں ہر بار ہوں رقصاں
    تیری ہر اک ادا ہر طرز پر اے یار ہوں رقصاں

    کہ عشقِ دوست ہر ساعت درون نار می رقصم
    گاہےبر خاک می غلتم , گاہے بر خار می رقصم

    دلوں میں پھول مہکا کر سر گلزار ہوں رقصاں
    کبھی میں خاک ہوجاوں کبھی بر خار ہوں رقصاں


    بیا جاناں تماشا کن کہ درانبوہ جانبازاں
    بصد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

    اب آو دیکھ لو تم یہ تماشا ، دلفگاروں کا
    میری رسوائیاں ہیں اور میں سر بازار ہوں رقصاں

    خوش آ رندی کہ پامالش کُنم صد پارسائی را
    زہے تقوٗی کہ من با جبّہ و دستار می رقصم

    یہ مستی ہے میں ساری پارسائی وار دو اس پر
    یہ تقوی ہے کہ میں با جبّہ و دستار ہوں رقصاں

    تو آں قاتل کہ از بہرِ تماشہ خون من ریزی
    منم بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم

    تو وہ قاتل تماشے کو جو میرا خوں بہاتا ہے
    میں وہ بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار ہوں رقصاں

    منم عثمان مروندیؔ كہ یارِ شیخ منصورم
    ملامت می کُند خلقِ و من بردار می رقصم

    میں ہوں عثمان مروندیؔ ، مرید شیخ منـــــصوری
    عتاب خلق سے کیا ڈر، میں سوئے دار ہوں رقصـــاں

    منظوم ترجمہ از رامش عثمانی

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ عثمانی صاحب منظوم ترجمہ ارسال فرمانے کے لیے۔

      Delete
  10. میں نے اس کلام کا اردو منظوم ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پیشِ خدمت ہے:

    نہ جانوں کیوں کہ وقتِ آخری دیدار میں ناچوں
    ہوں نازاں ذوق پہ ایسے کہ پیشِ یار میں ناچوں
    تو قاتل وہ جو میرا خوں بہاتا ہے تماشے کو
    میں بسمل وہ جو زیرِ خنجرِ خونخوار میں ناچوں
    ادھر تو دیکھ اے جاناں ہجومِ جان بازاں میں
    سنگِ سامانِ رسوائی سرِ بازار میں ناچوں
    اگرچہ قطرہُ شبنم نہیں گرتا ہے خاروں پر
    مگر ایسا میں قطرہ ہوں بہ نوکِ خار میں ناچوں
    میں ہوں عثمان ِ مروندی، حلاج اپنا ہی بیلی ہے
    ملامت خلق کرتی ہے اور سوئے دار میں ناچوں

    ReplyDelete