Nov 16, 2011

کون کسی کا یار ہے سائیں - راغب مراد آبادی

کون کسی کا یار ہے سائیں
یاری بھی بیوپار ہے سائیں

یہ بھی جھوٹا، وہ بھی جھوٹا
جھوٹا سب سنسار ہے سائیں

راغب مرادآبادی
ہم تو ہیں بس رمتے جوگی
آپ کا تو گھر بار ہے سائیں

کب سے اُس کو ڈھونڈ رہا ہوں
جس کو مجھ سے پیار ہے سائیں

کرودھ کپٹ ہے جس کے من میں
مفلس اور نادار ہے سائیں

ڈول رہی ہے پریم کی نیا
داتا کھیون ہار ہے سائیں

بات کبھی ہے پھول کی ڈالی
بات کبھی تلوار ہے سائیں

گاؤں کی عزت کا رکھوالا
گاؤں کا لمبردار ہے سائیں

راغب مراد آبادی

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو غزل, راغب مراد آبادی

2 تبصرے:

  1. واہ واہ واہ
    اگر اچھی ہو تو اردو غزل سی کوئی شے نہیں۔

    ReplyDelete