May 17, 2012

کرد تاراج دِلَم، فتنہ نگاہے عَجَبے - فارسی غزل سید نصیر الدین نصیر مع اردو ترجمہ

سید نصیر الدین نصیر شاہ مرحوم کی یہ غزل، امیر خسرو علیہ الرحمہ کی خوبصورت غزل "چشمِ مستے عجَبے، زلف درازے عجَبے" کی زمین میں ہے، ترجمے کے ساتھ لکھ رہا ہوں

کرد تاراج دِلَم، فتنہ نگاہے عَجَبے
شعلہ روئے عجَبے، غیرتِ ماہے عَجَبے

میرا دل (دل کی دنیا) تاراج کر دیا، اُس کی نگاہ میں عجب فتنہ ہے، اس کے چہرے کا شعلہ عجب ہے، اس ماہ کی غیرت عجب ہے۔

Persian poetry with Urdu Translation, Farsi poetry with Urdu Translation, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Pir Syyed Naseer-ud-Din Naseer, علم عروض، تقطیع، پیر سید نصیر الدین نصیر شاہ، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ
Naseer-Ud-Din Naseer
 سید نصیر الدین نصیرشاہ
با ہمہ نامہ سیاہی نہ ہراسَم از حشر
رحمتِ شافعِ حشر است، پناہے عجبے

میں اپنے اعمال نامے کی اس تمام تر سیاہی کے باوجود حشر سے نہیں ڈرتا کہ حشر کے دن کے شافع (ص) کی رحمت کی پناہ بھی عجب ہے۔

رُوئے تابانِ تو در پردۂ گیسوئے سیاہ
بہ شبِ تار درخشانیِ ماہے عجبے

تیرا تاباں چہرہ تیرے سیاہ گیسوؤں کے پردے میں ایسے ہی ہے جیسے تاریک شب میں چاند کی درخشانی،  اور یہ عجب ہی سماں ہے۔

رہزنِ حُسن ربایَد دل و دیں، ہوش و خرَد
گاہ گاہے سرِ راہے بہ نگاہے عجبے

راہزنِ حسن دل و وین اور ہوش و خرد کو لوٹ کر لے جاتا ہے، کبھی کبھی سرِ راہے اپنی عجب نگاہ سے۔

نقدِ جاں باختہ و راہِ بَلا می گیرَند
ہست عشاقِ ترا رسمے و راہے عَجَبے

نقدِ جان فروخت کر دیتے ہیں اور راستے کی بلاؤں کو لے لیتے ہیں، تیرے عاشقوں کی راہ و رسم بھی عجب ہے۔

خواستَم رازِ دِلَم فاش نہ گردَد، لیکن
اشک بر عاشقیم گشت گواہے عجَبے

میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کا راز فاش نہ ہو، لیکن ہم عاشقوں پر (ہمارے) آنسو عجب گواہ بن جاتے ہیں۔

ذرّۂ کوچۂ آں شاہِ مدینہ بُودَن
اے نصیر از پئے ما شوکت و جاہے عَجَبے

اُس شاہِ مدینہ (ص) کے کوچے کا ذرہ بننا، اے نصیر میرے لیے ایک عجب ہی شان و شوکت ہے۔

پیر سیّد نصیر الدین نصیر شاہ مرحوم
--------


بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 / 2211 / 2211 / 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

کرد تاراج دِلَم، فتنہ نگاہے عَجَبے
شعلہ روئے عجَبے، غیرتِ ماہے عَجَبے

کرد تارا - فاعلاتن - 2212
ج دلم فت - فعلاتن - 2211
نَ نگاہے - فعلاتن - 2211
عَجَبے - فَعِلن - 211

شعلَ روئے - فاعلاتن - 2212
عَجَبے غے - فعلاتن - 2211
رَتِ ماہے - فعلاتن - 2211
عَجَبے - فَعِلن - 211
------

متعلقہ تحاریر : بحر رمل, بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع, تقطیع, فارسی شاعری, نصیر الدین نصیر

8 comments:

  1. جزاک اللہ۔
    بہت ہی عمدہ کلام ہے ۔

    ReplyDelete
  2. شکریہ علی عامر صاحب

    ReplyDelete
  3. کلام کے ساتھ ساتھ آپ کی کاوش کو عاجزانہ سلام

    ReplyDelete
  4. نوازش آپ کی جناب صاحبزادہ صاحب، اور بلاگ ہر خوش آمدید۔

    ReplyDelete
  5. واہ واہ۔کلام زیبا۔ خدا خوش رکھے آپ کو۔

    ReplyDelete
  6. بہت خوب اللہ آپ کو دارین کی سعادت سے نوازے

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ جناب، نوازش آپ کی۔

      Delete