Feb 14, 2009

شیخ ابو سعید ابو الخیر کی چند رباعیات

شیخ ابوسعید فضل اللہ بن ابوالخیر احمد بن محمد بن ابراہیم، چوتھی اور پانچویں صدی ہجری (دسویں و گیارہویں صدی عیسوی) کے ایک نامور عارف اور معروف شاعر ہیں۔ فارسی شاعری میں آپ کا مقام انتہائی بلند سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے ہی فارسی شاعری میں تصوف کا پرچار کیا اور تصوف کی تعلیمات کو شاعری کے رنگ میں پیش کیا اور شاعری میں تصوف کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی جس پر آج تک، ہزار سال گزرنے کے بعد بھی، بلند و بالا و پُر شکوہ عمارات تعمیر کی جا رہی ہیں۔ شیخ ابوسعید ابوالخیر کو مشہور صوفی حضرت بایزید بسطامی اور منصور حلاج کی تعلیمات بہت پسند تھیں اور اپنی شاعری میں منصور کی تعریف جا بجا کی ہے۔ آپ کی شاعری کے اثرات بعد کے صوفی شعراء پر کافی گہرے ہیں جیسے شیخ فرید الدین عطار آپ کو اپنا روحانی استاد کہا کرتے تھے۔

شیخ ابوسعید، مشہور عالم ابنِ سینا کے ہم عصر تھے، ان دونوں کی ایک ملاقات بہت مشہور ہے جس میں دونوں حضرات تین دن تک تخلیے میں گفت و شنید کرتے رہے، ملاقات کے بعد ابنِ سینا کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے شیخ سے کیا حاصل کیا، انہوں نے کہا کہ میں جو کچھ بھی جانتا ہوں وہ اس کو دیکھ سکتے ہیں، دوسری طرف شیخ کے مریدین نے آپ سے سوال کیا کہ آپ نے ابنِ سینا سے کیا حاصل کیا آپ نے کہا کہ میں جو کچھ بھی دیکھ سکتا ہوں وہ اسے جانتا ہے۔ ایک صوفی اور ایک عالم کی ایک دوسرے کیلیے یہ کلمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔


شاعری میں شیخ ابوسعید کی خاص پہچان انکی رباعیات ہیں، جو تصوف و عرفان و معرفت و حقیقت کے اسرار سے پر ہیں اور چہار دانگ شہرت حاصل کر چکی ہیں، انہی میں سے چند رباعیاں ترجمہ کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

(1)

ابوسعید ابوالخیر, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Abu Saeed Abul Kheir, Rubai, رباعی
ابوسعید ابوالخیر ایک خاکہ
Abu Saeed Abul Kheir
اے واقفِ اسرارِ ضمیرِ ھمہ کَس
در حالتِ عجز دستگیرِ ھمہ کس
یا رب تو مرا توبہ دہ و عذر پذیر
اے توبہ دہ و عذر پذیرِ ھمہ کس


اے سب کے دلوں کے حال جاننے والے، ناتوانی اور عاجزی میں سب کی مدد کرنے والے، یا رب تو مجھے توبہ (کی توفیق) دے اور میرے عذر کو قبول کر، اے سب کو توبہ کو توفیق دینے والے اور سب کے عذر قبول کرنے والے۔
(2)
خواہی کہ ترا دولتِ ابرار رسَد
مپسند کہ از تو بہ کس آزار رسَد
از مرگ مَیَندیش و غمِ رزق مَخور
کایں ھر دو بہ وقتِ خویش ناچار رسَد
اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے نیک لوگوں کی دولت مل جائے (تو پھر) نہ پسند کر کہ تجھ سے کسی کو آزار پہنچے، موت کی فکر نہ کر اور رزق کا غم مت کھا، کیوں کہ یہ دونوں اپنے اپنے وقت پر چار و ناچار (لازماً) پہنچ کر رہیں گے۔
(3)
در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
ور دل بہ خدا و ساکنِ میکده ‌ای
مے نوش کہ عاقبت بخیرست ترا

کعبہ میں اگر تیرا دل غیر کی طرف ہے، (تو پھر) تیری ساری طاعت بھی سب فسق ہے اور کعبہ بھی تیرے لیے بتخانہ ہے۔ اور (اگر) تیرا دل خدا کی طرف ہے اور تو (چاہے) میکدے میں رہتا ہے تو (بے فکر) مے نوش کر کہ (پھر) تیری عاقبت بخیر ہے۔
(4)
تسبیح مَلَک را و صفا رضواں را
دوزخ بد را، بہشت مر نیکاں را
دیبا جم را و قیصر و خاقاں را
جاناں ما را و جانِ ما جاناں را

تسبیح (و تمحید وتحلیل) فرشتوں کیلیے اور معصومیت و پاکیزگی رضواں (فرشتے) کیلیے ہے، دوزخ بد اور جنت نیک مردوں کیلیے ہے، دیبا (و حریر یعنی قیمتی ساز و سامان) جمشید و قیصر و خاقان (بادشاہوں) کیلیے ہے اور جاناں ہمارے لیے ہے اور ہماری جان جاناں کیلیے۔
(5)
وصلِ تو کجا و مَنِ مَہجُور کجا
دُردانہ کجا، حوصلۂ مُور کجا
ہرچند ز سوختَن ندارَم باکی
پروانہ کجا و آتشِ طُور کجا

تیرا وصال کہاں اور ہجر کا مارا کہاں، گوہرِ نایاب کہاں اور چیونٹی کہاں، ہر چند کہ میں جل جانے سے نہیں ڈرتا لیکن پروانہ کہاں اور آتشِ طور کہاں۔
(6)
مجنونِ تو کوہ را، ز صحرا نَشَناخت
دیوانۂ عشقِ تو سر از پا نَشَناخت
ہر کس بہ تو رہ یافت ز خود گم گردید
آں کس کہ ترا شناخت خود را نَشَناخت
تیرے مجنوں کو پہاڑ و صحرا کی پہچان نہیں ہے (اس کیلیے دونوں ایک برابر ہیں)، تیرے عشق کا دیوانہ سر اور پاؤں میں فرق نہیں جانتا، ہر کوئی جسے تیری راہ ملی اسے نے خود کو گم کر دیا، ہر کوئی جس نے تجھے پہچان لیا وہ اپنی شناخت بھول گیا۔
(7)
باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ
گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
ایں درگۂ ما درگۂ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی، باز آ
(اے میرے بندے) واپس آ، واپس آ، توجو کوئی بھی ہے، لوٹ آ، چاہے تو کافر ہے، یہودی ہے یا بت پرست ہے، لوٹ آ، یہ ہماری بارگاہ ناامید و مایوس ہونے کی جگہ نہیں ہے، تُو نے اگر سو بار بھی توبہ توڑی ہے پھر بھی لوٹ آ۔
(8)
من بے تو دمے قرار نتوانَم کرد
احسان ترا شمار نتوانم کرد
گر بر سرِ من زباں شَوَد ہر موئے
یک شکر تو از ہزار نتوانم کرد
مجھے تیرے بغیر ایک پل بھی قرار نہیں ہے، میں تیرے احسانات کا شمار ہی نہیں کر سکتا، اگر میرے سر کا ہر بال زبان بن جائے تو میں پھر بھی تیرے ہزاروں احسانوں میں سے ایک احسان کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔
(9)
گفتَم، چشمَم، گفت، بہ راہَش می دار
گفتم، جگرم، گفت، پُر آہَش می دار
گفتم، کہ دِلَم، گفت، چہ داری در دل
گفتم، غمِ تو، گفت، نگاہَش می دار

میں نے کہا کہ میری آنکھیں، اس نے کہا انہیں راہ پر لگائے رکھ، میں نے کہا کہ میرا جگر، اس نے کہا اسے آہوں سے بھرا ہوا رکھ، میں نے کہا کہ میرا دل، اس نے کہا دل میں کیا ہے، میں نے کہا کہ تیرا غم، اس نے کہا کہ اس کی (غم کی) دیکھ بھال کر۔

متعلقہ تحاریر : ابوسعید ابوالخیر, رباعی, فارسی شاعری

21 comments:

  1. بہت ہی خوبصورت جناب

    در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
    طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
    ور دل بہ خدا و ساکنِ میکده ‌ای
    مے نوش کہ عاقبت بخیرست ترا

    میرے لیے تو اس سے بہتر کوئی توجیہ ملنا نا ممکن تھی

    ReplyDelete
  2. بجا فرمایا فاتح صاحب واقعی لاجواب رباعی ہے۔

    ReplyDelete
  3. بہت خوب جناب وارث صاحب نہایت اعلیٰ پاءے کا کلام منتخب کیا ہے

    ReplyDelete
  4. صد بار اگر توبہ شکستی، باز آ

    واہ۔ بہترین انتخاب۔

    ReplyDelete
  5. شکریہ شاہ صاحب اور فرحت

    ReplyDelete
  6. Thank you for this post. I shall also put this treasure on my blog. May God bless you!

    ReplyDelete
  7. بہت شکریہ محترم بلاگ پر تشریف لانے اور اس پوسٹ کو پسند کرنے کیلیے، میں نے آپ کے بلاگ پر اس کو دیکھ لیا ہے آپ نے انگریزی ترجمہ بھی اچھا کیا ہے۔

    ReplyDelete
  8. ما شاٗ اللہ بہت عمدہ انتخاب ہے۔
    صد بار اگر توبہ شکستی باز آ والی رباعی آج تک مولائے روم کے حوالے سے پڑھی تھی۔ آج آپ کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ در حقیقت حضرت ابوالخیر کا کلام ہے۔
    شکریہ
    غلام مرتضیٰ علی

    ReplyDelete
  9. بہت شکریہ جناب غلام مرتضیٰ علی صاحب، امید ہے بلاگ پر تشریف لاتے رہیں گے۔

    ReplyDelete
  10. جزاک اللہ خیرا وارث صاحب ماشاٗاللہ بہت عمدہ انتخاب ہے۔

    ReplyDelete
  11. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    وارث صاحب جناب کی کاوش جو بالخصوص فارسی کلام کے حوالے سے آبِ زریں سے لِکھنے کے قابل ہے اللہ آپ کو اِس کا نعم البدل عطا فرمائےآمین اور فارسی کا شعر کِسی نے آپ ہی کے لئے کہا تھا
    جزاک اللہ کہ چشمم باز کر دی
    مرا بہ جانِ جہاں ہمراز کر دی

    ReplyDelete
    Replies
    1. نوازش آپ کی ملک حبیب اللہ صاحب، بہت شکریہ آپ کا ان کلماتِ خیر کے لیے، امید ہے بلاگ پر تشریف لاتے رہیں گے۔
      والسلام

      Delete


  12. دلخسته و سینه چاک می‌باید شد

    وز هستی خویش پاک می‌باید شد

    آن به که به خود پاک شویم اول کار

    چون آخر کار خاک می‌باید شد ابوسعید ابوالخیر

    ReplyDelete
  13. در دل همه شرک و روی بر خاک چه سود

    با نفس پلید جامهٔ پاک چه سود

    زهرست گناه و توبه تریاک وی است

    چون زهر به جان رسید تریاک چه سود ابوسعید ابوالخیر


    ReplyDelete
  14. یا رب به محمد و علی و زهرا
    یا رب به حسین و حسن و آل‌عبا
    کز لطف برآر حاجتم در دو سرا
    بی‌منت خلق یا علی الاعلا

    ***

    ای شیر سرافراز زبردست خدا
    ای تیر شهاب ثاقب شست خدا
    آزادم کن ز دست این بی‌دستان
    دست من و دامن تو ای دست خدا

    ReplyDelete
  15. رباعیات حضرت ابوالسعید ابو الخیر

    ReplyDelete
  16. بہت شکریہ قبلہ محترم، نوازش آپ کی۔

    ReplyDelete