Nov 9, 2008

مردِ قلندر

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے قبیلے، اپنی قوم، اپنی ملت، اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی علامت بن جاتا ہے، انکی پہچان اور تشخص بن جاتا ہے۔ یہ بلند رتبہ خدا جسے دے دے۔
حافظ شیرازی نے کہا تھا۔
ہزار نُکتۂ باریک تر ز مُو اینجاست
نہ ہر کہ سر بَتَراشَد قلندری دانَد
یہ وہ مقام ہے کہ یہاں ہزار ہا نازک اور لطیف اور بال سے باریک نکات ہیں، ہر کوئی سر ترشوانے سے قلندر تھوڑی بن جاتا ہے۔
اقبالِ کے قلندر ہونے سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ اپنی اردو و فارسی شاعری میں ان لطیف و عظیم اسرار و رموز کو فاش کیا ہے کہ کوئی سر ترشوانے والا قلندر بھی کیا بیان کرے گا۔
علامہ کے پیشِ نظر یقیناً حافظ کا شعر تھا جب علامہ نے اپنے متعلق کہا تھا، اور کیا خوب کہا ہے۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
 Allama Iqbal, علامہ اقبال
بیا بہ مجلَسِ اقبال و یک دو ساغر کَش
اگرچہ سَر نَتَراشَد قلندری دانَد
اقبال کی مجلس کی طرف آ اور ایک دو ساغر کھینچ، اگرچہ اس کا سر مُنڈھا ہوا نہیں ہے (لیکن پھر بھی) وہ قلندری رکھتا (قلندری کے اسرار و رموز جانتا) ہے۔
اے کاش کہ ہمیں بھی ایک آدھ جرعہ نصیب ہو جائے!
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 8, 2008

احمد ندیم قاسمی کی ایک غزل - ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے

احمد ندیم قاسمی مرحوم کی درج ذیل غزل مجھے بہت پسند ہے، اسے کم و بیش دو دہائیاں قبل ریڈیو پاکستان سے سلامت علی کی آواز میں سنا تھا اور تب سے یہ میری پسندیدہ غزلوں میں سے ہے۔
ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی
میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے

رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں
صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے

میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی
یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے میرے

میری آنکھوں میں چراغاں سا ہے مستقبل کا
اور ماضی کا ہیولٰی ہے سَرھانے میرے

تُو نے احسان کیا تھا تو جتایا کیوں تھا
اس قدر بوجھ کے لائق نہیں شانے میرے

راستہ دیکھتے رہنے کی بھی لذّت ہے عجیب
زندگی کے سبھی لمحات سہانے میرے

جو بھی چہرہ نظر آیا ترا چہرہ نکلا
تو بصارت ہے مری، یار پرانے میرے

Ahmed Nadeem Qasmi, احمد ندیم قاسمی. Ilm-Arooz, Taqtee, Urud Poetry, اردو شاعری
Ahmed Nadeem Qasmi,
 احمد ندیم قاسمی
سوچتا ہوں مری مٹّی کہاں اڑتی ہوگی
اِک صدی بعد جب آئیں گے زمانے میرے

صرف اِک حسرتِ اظہار کے پر تو ہیں ندیم
میری غزلیں ہوں کہ نظمیں کہ فسانے میرے
———–
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن یعنی فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فَعِلاتُن بھی آ سکتا ہے اور آخری رکن یعنی فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں گویا آٹھ اوزان اس بحر میں جمع ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
تقطیع
ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے
ٹوٹتے جا - فاعلاتن - 2212
تِ ہِ سب آ - فعلاتن - 2211
ء نَ خانے - فعلاتن - 2211
میرے - فعلن - 22
وقت کی زد - فاعلاتن - 2212
مِ ہِ یادو - فعلاتن - 2211
کِ خزانے - فعلاتن - 2211
میرے - فعلن - 22
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 6, 2008

اردو محفل لوگو اپنے بلاگ کیلیے

آج کچھ بلاگز دیکھتے ہوئے جب مختلف سائٹس کے لوگو دیکھے تو سوچا کہ "اردو محفل" کا بھی ایک لوگو ہونا چاہیئے جو کہ میرے بلاگ پر لگا ہو سو اردو محفل کا لوگو لیکر ایک چھوٹا سا ڈیزائن اپنے بلاگ کیلیے بنا ڈالا۔ پھر وضاحت کرتا ہوں کہ “اردو محفل” کا لوگو میرا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے میں نے اردو محفل ہی سے لیا ہے بس اسے اپنے بلاگ کیلیے “بلگوایا” ہے۔اردو محفلمجھے ڈیزائننگ وغیرہ کا کچھ تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی تعلیم حاصل کی ہے سو یقیناً اس میں “پروفیشنل ٹچز” کی کمی ہوگی۔ قتیلانِ اردو محفل اور دیگر ساتھی بلاگران سے استدعا ہے کہ اگر ہو سکے تو “اردو محفل” کا کوئی اپنی پسند کا ڈیزائن کردہ لوگو اپنے اپنے بلاگ پر ضرور لگائیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 5, 2008

جوش ملیح آبادی کی چند رباعیات

شبیر حسن خان جوش ملیح آبادی دنیائے اردو ادب میں اپنی لازوال خودنوشت “یادوں کی برات” کی وجہ سے امر ہو گئے ہیں لیکن وہ ایک اعلٰی پائے کے شاعر تھے بلکہ شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کو علامہ اقبال کے بعد سب سے بڑا شاعر بھی کہا جاتا ہے لیکن ان کی شاعری کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو فیض احمد فیض یا انکے بعد احمد فراز کو ملی۔

(1)
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے

(2)
زَردَار کا خَنّاس نہیں جاتا ہے
ہر آن کا وَسواس نہیں جاتا ہے
ہوتا ہے جو شدّتِ ہَوَس پر مَبنی
تا مَرگ وہ افلاس نہیں جاتا ہے

(3)
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, josh malihabad, جوش ملیح آبدی, rubai, تباعی
Josh Malihabad, جوش ملیح آبدی
(4)
اوہام کو ہر اک قَدَم پہ ٹھکراتے ہیں
اَدیان سے ہر گام پہ ٹکراتے ہیں
لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حُسین
ہم اہلِ خَرابات بھی جُھک جاتے ہیں

(5)
سینے پہ مرے نقشِ قَدَم کس کا ہے
رندی میں یہ اَجلال و حَشَم کس کا ہے
زاہد، مرے اس ہات کے ساغر کو نہ دیکھ
یہ دیکھ کہ اس سر پر عَلَم کس کا ہے

(6)
اِس وقت سَبُک بات نہیں ہو سکتی
توہینِ خرابات نہیں ہو سکتی
جبریلِ امیں آئے ہیں مُجرے کے لیے
کہہ دو کہ ملاقات نہیں ہو سکتی

(7)
لفظِ “اقوام” میں کوئی جان نہیں
اک نوع میں ہو دوئی، یہ امکان نہیں
جو مشرکِ یزداں ہے وہ ناداں ہے فَقَط
جو مشرکِ انساں ہے وہ انسان نہیں
_________



مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 4, 2008

ملک الشعراء ابوالفیض فیضی کے چند اشعار مع ترجمہ

دربارِ اکبری میں جن چند افراد نے بامِ عروج دیکھا ان میں علامہ مبارک ناگوری اور اسکے دو بیٹے، ابو الفضل علامی اور ملک الشعراء ابوالفیض فیضی بھی شامل ہیں۔ فیضی کا شمار، برصغیر کے عظیم ترین فارسی گو شعرا میں ہوتا ہے۔ اپنے باپ اور بھائی کی طرح وہ مذہب اور سیاست کی بجائے شعر و شاعری کا قتیل تھا اور نوعمری میں شروع کی گئی شاعری وہ آخری دم تک کرتا رہا۔
کلیاتِ فیضی میں سے اپنی پسند کے چند شعر درج کرتا پوں۔
قصّۂ عاشقی مَگو اے دل
بَگُذار ایں خَصُوص را بَعَمُوم
اے دل عاشقی کا قصہ مت کہہ، اس خاص ترین بات کو عمومی طور پر (سرسری) گزار دے۔
فیضی اسرارِ عشق را ھرگز
نَتَواں یافتَن بَکَسبِ علُوم
فیضی، عشق کے اسرار ہر گز (فقط) علوم میں مہارت سے نہیں ملتے (کھلتے)۔
————
حدیثِ عقل و دیں با ما مَگوئید
خِرَد مَنداں، سُخَن بے جا مَگوئید
عقل اور دین کی باتیں ہم سے مت کرو، اے خرد مندو یہ بے جا باتیں مت کرو۔
کُجَا عقل و کُجَا دین و کُجَا مَن
مَنِ دیوانہ را ایں ہا مَگوئید
کہاں عقل اور دین اور کہاں میں، مجھ دیوانے سے اسطرح کی باتیں مت کرو۔
مَرا دَر عشق پروائے کسے نیست
بَگوئید ایں حکایت یا مَگوئید
عشق میں مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے، یہ حکایت (کھل کر) بیان کروں یا کہ نہ کروں۔
————–
ساقی و جامِ مے و گوشۂ دیرست اینجا
للہِ الحمد کہ احوال بخیرست اینجا
ساقی ہے، مے کا جام ہے اور بتخانے کا گوشہ ہے، اللہ کا شکر ہے کہ یہاں سب کچھ خیریت سے ہے۔
نکتۂ عشق مَپُرسید کہ ھوشم باقیست
سُخَن از یار مَگوئید کہ غیرست اینجا
نکتۂ عشق مت پوچھو کہ ابھی ہوش باقی ہیں، ہم یار سے کلام نہیں کریں گے کہ ابھی اس جگہ غیر (ہوش) موجود ہے۔
———–
شوریست عَجَب در سَرَم از جامِ محبّت
سَرمَستم و جُز نعرۂ مَستانہ نَدارَم
میرے سر میں جامِ محبت سے عجب خمار ہے کہ (ہر وقت) سر مست ہوں اور مستانہ نعرے کے علاوہ اور کچھ نہیں رکھتا (کرتا)۔
فیضی ز غَم و شادیِ عالم خَبَرے نیست
شادَم کہ بَدِل جُز غمِ جانانہ نَدارَم
فیضی، مجھے دنیا کے غم و خوشی کی کوئی خبر نہیں ہے، میں (اسی میں) خوش ہوں کہ دل میں غمِ جاناں کے سوا اور کچھ نہیں رکھتا۔
——–
تو اے پروانہ، ایں گرمی ز شمعِ محفِلے داری
چو مَن دَر آتشِ خود سوز گر سوزِ دِلے داری
اے پروانے تُو نے یہ گرمی محفل کی شمع سے حاصل کی ہے، میری طرح اپنی ہی آگ میں جل (کر دیکھ) اگر دل کا سوز رکھتا ہے۔
اس شعر کو دوام علامہ اقبال نے بانگِ درا میں اس پر تضمین کہہ کر بخشا ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 3, 2008

احمد راہی کی ایک پنجابی نظم - نِمّی نِمّی وا وگدی

احمد راہی مرحوم جدید پنجابی شاعری کا ایک بہت بڑا نام ہیں اور جدید پنجابی شاعری کو مقبول عام بنانے میں انکی شاعری کا بہت ہاتھ ہے۔
احمد راہی کی شہرہ آفاق پنجابی نظموں کی کتاب “ترنجن” سے ایک نظم جو مجھے بہت پسند ہے۔
نِمّی نِمّی وا وگدی
Ahmed Rahi, احمد راہی, Punjabi Poetry, پنجابی شاعری
Ahmed Rahi, احمد راہی
رُکھ ڈول دے تے اکھ نئیں لگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی
ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی

راہواں تَک تَک، تَک تَک، تھک دیاں نہ
اکھاں اَک دیاں نہ
ہُن بِناں دیکھنے دے رہ سَک دیاں نہ
اوہدی تاہنگ تے نالے ڈری جَگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی
ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی

لوکاں کولوں تے لُکا لواں گی ہَس ہَس کے
جھوٹ سچ دَس کے
پَر دل کولوں میں جاواں گی کتھے نَس کے
لاٹ پیار والی لَٹ لَٹ جگ دی

نِمّی نِمّی وا وگدی
ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی

جاواں پانی بھَرنے نوں تَڑکے تَڑکے
میرا دل دھڑکے
جے بُلا لیا اوہنے کِتے بانہہ پھَڑ کے
ڈھیری بھَخ پئو دَبی ہوئی اَگ دی

نِمّی نِمّی وا وگدی
ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی

رُکھ ڈول دے تے اکھ نئیں لگ دی
نِمّی نِمّی وا وگدی
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 2, 2008

آٹھ سال بعد

“سَر، وہ دراصل میری فیملی میں ایک شادی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں وہ مَنڈے کو چُھٹی پر ہوں۔۔۔۔۔۔”
“ہیں، اوہ ٹھیک ہے۔”
“تھینک یو، سر”
“ہاں وہ اپنے کام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی سر، ضرور”
اسطرح اور اس سے ملتے جلتے نہ جانے کتنے مکالمے ہونگے جو میرے اور میرے باس یا میرے اور میرے کسی ماتحت کے درمیان پچھلے بارہ سالوں میں ہوئے ہیں۔
دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ کامل آٹھ سال بعد، پچھلے اتوار کو میں نے کسی شادی کی تقریب میں شرکت کی ہے اور وہ بھی باامر مجبوری، کیا کرتا کہ گھر میں شادی تھی۔ مجھ سے چھوٹے بھائی کی شادی نومبر 2000 میں ہوئی تھی اور اب اس سے چھوٹے کی۔
تقریبات میں شرکت کرنے سے اور گھر سے باہر نکلنے میں میری جان جاتی ہے، جنازے وغیرہ تو پھر چند ایک پڑھ لیے ہیں لیکن شادی کی تقریبات کے بارے میں میں یہی سوچتا ہوں کہ وہاں میرے نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ میرے والد صاحب مرحوم میری اس عادت سے بہت نالاں تھے اور اب زوجہ محترمہ لیکن کچھ عادات بڑی مشکل سے تبدیل ہوتی ہیں سو آپ کے ارد گرد رہنے والوں کو ان سے سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے۔
خیر، بات چھٹی سے ذہن میں آئی تھی کہ اس دفع جب حقیقتاً دفتر سے چھٹی لینی پڑی تو عجیب سا احساس ہوا۔ سرکاری دفاتر کے متعلق تو میرا علم بس شنیدہ ہے لیکن پرائیوٹ نوکری میں “چھٹی مافیا” کے متعلق میرا علم حق الیقین کے درجے پر ہے۔ زندگی کے اس رخ میں مشقت زیادہ ہے اور چھٹی کرنا ایک نازیبا اور غیر پیشہ وارانہ حرکت تصور ہوتی ہے اور اسی وجہ سے پرائیوٹ نوکری میں آرام سے چھٹی حاصل کر لینا ایک “آرٹ” تصور ہوتا ہے اور ہزاروں لطائف بھی لوگوں کو یاد ہونگے۔
بڑی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چھوڑیئے، چھوٹی اور درمیانی درجے کی پاکستانی اور پھر ہمارے شہر سیالکوٹ کی تمام کمپنیوں میں اپنے ملازمین کو انکی سالانہ چھٹیاں دینا یا چھٹی نہ کرنے پر ان کو ان چھٹیوں کے پیسے دینا خال خال نظر آتا ہے جسکا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ بہانے بازی سے چھٹیاں حاصل کی جاتی ہیں۔
بہرحال، شادی کی گہما گہمی نے چند دن تک کافی تنگ کیے رکھا، نہ وہ تنہائی میسر تھی اور نہ وہ کنارِ کتب، دعا تو یہی کر رہا ہوں کہ مزید آٹھ سال بغیر کسی تقریب کے گزر جائیں لیکن پھر اس بیچارے غریب چوتھے بھائی کا چہرہ سامنے آ جاتا ہے جسکی شادی شاید چند ماہ کے دوران متوقع ہے۔
ع - مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 1, 2008

رباعیاتِ حافظ شیرازی مع اردو ترجمہ

حافظ شیرازی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، ایران اور برصغیر پاک و ہند کی شاعری پر جتنے اثرات حافظ نے چھوڑے ہیں شاید ہی کسی اور شاعر نے چھوڑے ہوں اور جتنے شاعر حافظ سے متاثر ہوئے ہیں شاید ہی کسی اور سے ہوئے ہوں۔ اور صدیاں گزرنے کے باوجود وہ آج بھی ایران میں مقبول ترین شاعر ہیں۔
یوں تو حافظ شیرازی اپنی غزلیات کے لیے زیادہ مشہور ہیں لیکن انکی رباعیات بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں انہی میں سے چند رباعیاں:
(1)
ہر روز دِلَم بَزیرِ بارے دِگرست
دَر دیدۂ من ز ہجر خارے دگرست
مَن جہد ہَمی کُنَم، قضا می گویَد
بیروں ز کفایتِ تو کارے دِگرست
ہر روز میرا دل ایک نئے بوجھ کے تلے ہے، (ہر روز) میری آنکھ میں ہجر کا ایک نیا کانٹا ہے۔ میں جد و جہد کرتا ہوں اور تقدیر کہتی ہے، تیرے بس سے باہر ایک اور کام ہے۔
(2)
با مَردَمِ نیک بَد نَمی بایَد بُود
در بادیہ دیو و دَد نَمی بایَد بُود
مَفتُونِ معاشِ خود نَمی بایَد بُود
مغرور بَعقلِ خود نَمی بایَد بُود
نیک لوگوں کے ساتھ برا نہیں بننا چاہیئے، جنگل میں شیطان اور درندہ نہیں بننا چاہیئے، اپنی روزی کا دیوانہ نہیں بننا چاہیئے، (اور) اپنی عقل پر مغرور نہیں بننا چاہیئے۔
(3)
گُفتی کہ بہ مہ نَظَر کُن و انگار مَنَم
روئے تو ام آرزوست، مہ را چہ کُنَم
مہ چُوں تو کُجا بُود کہ اندر ماھے
یک شب چو رُخَت باشد و باقی چو تَنَم
تو نے کہا کہ چاند کو دیکھ لوں اور سمجھ لے کہ میں ہوں۔ (لیکن) مجھے تو تمھارے چہرے کی آرزو ہے میں چاند کو کیا کروں۔ چاند تجھ جیسا کہاں ہو سکتا ہے کہ وہ تو ایک مہینے میں، (صرف) ایک رات (چودھویں کی) تمھارے چہرے کی طرح ہوتا ہے اور باقی راتوں میرے جسم کی طرح (نحیف و نزار و لاغر)۔
(4)
اوّل بہ وفا جامِ وصالَم دَر داد
چُوں مست شُدَم دامِ جفا را سَر داد
با آبِ دو دیدہ و پُر از آتشِ دل
خاکِ رہِ اُو شُدَم بہ بادَم دَر داد
پہلے تو وفا سے مجھے وصال کا جام دیا، جب میں مست ہو گیا تو جفا کا جال ڈال دیا، Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Mazar Hafiz Sheerazi, مزار حافظ شیرازیدو روتی ہوئی آنکھوں اور آگ بھرے دل کے ساتھ، جب میں اس کی راہ کی خاک بنا تو مجھے ہوا میں اڑا دیا۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 31, 2008

حکیم مومن خان مومن کی ایک خوبصورت غزل - ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے

تابِ نظّارہ نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر، جو حیراں ہوں گے

تو کہاں جائے گی، کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہوں گے

ہم نکالیں گے سن اے موجِ ہوا، بل تیرا
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
مومن خان مومن, Momin Khan Momin, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
مومن خان مومن
منّتِ حضرتِ عیسٰی نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے؟

چاکِ پردہ سے یہ غمزے ہیں، تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
پھر وہی پاؤں، وہی خارِ مُغیلاں ہوں گے

سنگ اور ہاتھ وہی، وہ ہی سر و داغِ جنوں
وہی ہم ہوں گے، وہی دشت و بیاباں ہوں گے

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

(حکیم مومن خان مومن)
——-
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن یعنی فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فَعِلاتُن بھی آ سکتا ہے اور آخری رکن یعنی فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں گویا آٹھ اوزان اس بحر میں جمع ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
تقطیع
ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے
ناوکن دا - فاعلاتن - 2212 (الفِ وصل استعمال ہوا ہے)
ز جدر دی - فعلاتن - 2211
دَ ء جانا - فعلاتن - 2211
ہو گے - فعلن - 22
نیم بسمل - فاعلاتن - 2212
کَ ء ہو گے - فعلاتن - 2211
کَ ء بے جا - فعلاتن - 2211
ہو گے - فعلن - 22
-----

اور یہ خوبصورت غزل مہدی حسن کی آواز میں








مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 28, 2008

فارسی رباعیاتِ غالب مع تراجم

(1)
رباعی غالب
غالب آزادۂ موحد کیشَم
بر پاکی خویشتن گواہِ خویشَم
گُفتی بہ سُخَن بَرفتگاں کس نَرَسد
از باز پَسیں نُکتہ گزاراں پیشَم
ترجمہ
اے غالب، میں ایک آزاد منش اور موحد کیش انسان ہوں، اپنی پاک فطرتی پر خود ہی اپنا گواہ ہوں۔ تو نے کہا کہ کوئی بھی (آج کا شاعر) شاعری میں گذشتہ دور کے شعرا تک نہیں پہنچتا، میں‌ بہرحال آخر میں آنے والے نکتہ آفرینوں سے آگے ہوں۔
منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی
غالب آزاد ہوں، موحد ہوں میں
ہاں پاک دلی کا اپنی شاہد ہوں میں
کہتے ہیں کہ سب کہہ گئے پچھلے شعرا
اب طرزِ سخن کا اپنی موجد ہوں میں
Mirza Ghalib, مرزا غالب, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Rubai, رباعی
Mirza Ghalib, مرزا غالب
(2)
رباعی غالب
غالب بہ گُہَر ز دودۂ زاد شَمَم
زاں رو بہ صفائے دمِ تیغست دَمَم
چوں رفت سپہبدی، زدم چنگ بہ شعر
شد تیر شکستہ نیا کانِ قَلَمَم
ترجمہ
غالب، میں نسل کے لحاظ سے ایک اچھے اور صاف خاندان کا فرد ہوں، اسی لئے میرا دم تلوار کے دم کی طرح صاف ہے۔ جب خاندان سے سپہ گری ختم ہوگئی تو میں نے ہاتھ میں‌ قلم پکڑ لیا، چنانچہ میرے اسلاف کا ٹوٹا ہوا تیر میرا قلم بن گیا۔
منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی
غالب ہے نسب نامہ مرا تیغِ دو دم
تلوار کی دھار ہے نفس سے مرے کم
اب شاعری ہے سپہ گری کے بدلے
ٹوٹے ہوئے نیزوں کو بنایا ہے قلم
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Rubai, رباعی
Saba Akbar Abadi, صبا اکبرآبادی
(3)
رباعیِ غالب
در عالمِ بے زَری کہ تلخ است حیات
طاعت نَتَواں کرد بہ امیدِ نجات
اے کاش ز حق اشارتِ صوم صلوٰت
بودے بَوَجُود مال چوں حج و زکوٰت
ترجمہ
مفلسی کی حالت میں جبکہ زندگی تلخ ہوتی ہے، نجات کی امید میں عبادت کیونکر کی جاسکتی ہے۔ کاش کہ خدا کی طرف سے، روزے اور نماز کے سلسلے میں بھی حج اور زکوٰت کی طرح مال کی شرط ہوتی، یعنی نماز اور روزہ بھی صاحبِ استطاعت و صاحبِ نصاب پر فرض ہوتے۔
منظوم ترجمہ صبا اکبر آبادی
افلاس کے عالم میں ہوئی تلخ حیات
طاعت بھی نہیں ہوتی بہ امید نجات
اے کاش نماز اور روزہ ہوتے
مشروط بہ مال جیسے حج اور زکوٰت
مزید پڑھیے۔۔۔۔