May 13, 2008

اقبال کی ایک فارسی غزل - فریبِ کشمَکَشِ عقل دیدنی دارَد

فریبِ کشمَکَشِ عقل دیدنی دارَد
کہ میرِ قافلہ و ذوقِ رہزنی دارد
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے کی چیز ہے کہ یہ قافلہ کی امیر ہے لیکن رہزنی کا ذوق رکھتی ہے، یعنی راہنمائی کا دعوٰی کرتی ہے اور غلط راستہ پر ڈالتی ہے۔

نشانِ راہ ز عقلِ ہزار حیلہ مپرس
بیا کہ عشق کمالے ز یک فنی دارد
راستے کا نشان ہزار حیلے بنانے والی عقل سے مت پوچھ۔ آ اور عشق سے پوچھ کہ یہ ایک فن کا کمال رکھتا ہے، یعنی منزل کا نشان اور راستہ عشق ہی بتا سکتا ہے۔

Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
علامہ اقبال, Allama Muhammad Iqbal
فرنگ گرچہ سخن با ستارہ میگویَد
حذر کہ شیوۂ اُو رنگِ جوزنی دارَد
فرنگ اگرچہ ستاروں سے گفتگو رکھتا ہے لیکن اس سے بچو کہ اسکا طریقہ جاودگری کا رنگ رکھتا ہے۔

ز مرگ و زیست چہ پرسی دریں رباطِ کہن
کہ زیست کاہشِ جاں، مرگ جانکنی دارَد
موت اور حیات کے بارے میں کیا پوچھتے ہو کہ اس پرانی سرائے یعنی دنیا میں زندگی، جان کے آہستہ آہستہ گھلنے کا اور موت جسم سے جان کو نکالنے کا نام ہے۔

سرِ مزارِ شہیداں یکے عناں درکش
کہ بے زبانیِ ما حرفِ گفتنی دارد
ہم شہیدوں کے مزار کے پاس ذرا باگ روک کہ ہماری بے زبانی بھی گفتگو کا حرف رکھتی ہے۔

دگر بدشتِ عرب خیمہ زن کہ بزمِ عجم
مٔے گذشتہ و جامِ شکستنی دارد
ایک دفعہ پھر عرب کے صحرا میں خیمہ لگا کہ عجم کی بزم وہ شراب ہے جو فرسودہ ہوچکی اور اسکے جام توڑنے کے قابل ہیں۔

نہ شیخِ شہر، نہ شاعر، نہ خرقہ پوش اقبال
فقیر راہ نشین است و دل غنی دارد
اقبال نہ شیخِ شہر ہے، نہ شاعر اور نہ ہی خرقہ پوش صوفی وہ تو راستے میں بیٹھنے والا فقیر ہے لیکن دل غنی رکھتا ہے۔
(پیامِ مشرق)
——–

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن میں فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

تقطیع -
فریبِ کشمکشِ عقل دیدنی دارد
کہ میرِ قافلہ و ذوقِ رہزنی دارد

فَریب کش - مفاعلن - 2121
مَ کَ شے عق - فعلاتن - 2211
ل دیدنی - مفاعلن - 2121
دارَد - فعلن - 22

کِ میر قا - مفاعلن - 2121
ف لَ او ذو - فعلاتن - 2211
قِ رہ زَ نی - مفاعلن - 2121
دارَد - فعلن - 22

متعلقہ تحاریر : اقبالیات, بحر مجتث, پیامِ مشرق, تقطیع, علامہ اقبال, فارسی شاعری

2 comments:

  1. حضرت یہ غزل بمعہ اردو آپ کا احسان ہے۔ تشکر

    ReplyDelete