Feb 21, 2009

عبدالحمید عدم کی ایک غزل - ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں

ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں
کتنا سودائی ہوں، کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں

مے چُھٹی، پر گاہے گاہے اب بھی بہرِ احترام
دعوتِ آب و ہوا تسلیم کر لیتا ہوں میں

بے وفا میں نے، محبّت سے کہا تھا آپ کو
لیجیئے اب با وفا تسلیم کر لیتا ہوں میں

Abdul Hameed Adam, عبدالحمید عدم, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Abdul Hameed Adam, عبدالحمید عدم
جو اندھیرا تیری زلفوں کی طرح شاداب ہو
اُس اندھیرے کو ضیا تسلیم کر لیتا ہوں میں

جُرم تو کوئی نہیں سرزد ہوا مجھ سے حضور
با وجود اِس کے سزا تسلیم کر لیتا ہوں میں

جب بغیر اس کے نہ ہوتی ہو خلاصی اے عدم
رہزنوں کو رہنما تسلیم کر لیتا ہوں میں

(رُسوائیِ نقاب - عبدالحمید عدم)
--------
بحر - بحر رمل مثمن محذوف
افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(آخری رکن فاعلن میں فاعِلان بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں
کتنا سودائی ہوں، کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں
ہر پری وش - فاعلاتن - 2212
کو خدا تس - فاعلاتن - 2212
لیم کر لے - فاعلاتن - 2212
تا ہُ مے - فاعلن - 212
کتنَ سودا - فاعلاتن - 2212
ئی ہُ کا تس - فاعلاتن - 2212
لیم کر لے - فاعلاتن - 2212
تا ہُ مے - فاعلن - 212

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو غزل, بحر رمل, بحر رمل مثمن محذوف, تقطیع, عبدالحمید عدم

4 comments:

  1. جی هان جی یه عدم صاحب همارے هی گاؤں کے تھے
    تلونڈی موسے خان وهاں گوجرانواله کے قریب هے جی همارا گاؤں

    ReplyDelete
  2. بہت خوشی ہوئی خاور صاحب یہ جان کر اور نئے بلاگ پر خوش آمدید محترم۔

    ReplyDelete
  3. مے چُھٹی، پر گاہے گاہے اب بھی بہرِ احترام
    دعوتِ آب و ہوا تسلیم کر لیتا ہوں میں

    جب بغیر اس کے نہ ہوتی ہو خلاصی اے عدم
    رہزنوں کو رہنما تسلیم کر لیتا ہوں میں

    سبحان اللہ! سبحان اللہ!
    کیا بات ہے وارث صاحب آپ کے انتخاب کی

    ReplyDelete
  4. نوازش قبلہ فاتح صاحب

    ReplyDelete