May 31, 2009

ایک نعت کے کچھ اشعار اور انکی تقطیع

محمد افضل صاحب (میرا پاکستان) نے خاکسار کی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی مشہور و معروف نعت کے کچھ اشعار کی تقطیع لکھوں، سو لکھ رہا ہوں۔ پہلے اس وجہ سے نہیں لکھی تھی کہ اس وقت میں چاہ رہا تھا کہ پہلے علمِ عروض پر کچھ ضروری باتیں لکھ دوں تا کہ تقطیع کو پڑھتے ہوئے اس بلاگ کے قارئین اسے سمجھ بھی سکیں۔ اور اب جب کہ علمِ عروض اور تقطیع پر کچھ بنیادی باتیں لکھ چکا ہوں سو امید کرتا ہوں کہ وہ قارئین جو ان تحاریر کو 'فالو' کر رہے ہیں ان کو اس تقطیع کے سمجھنے میں کچھ آسانی ضرور ہوگی۔
تقطیع لکھنے سے پہلے کچھ بات اس بحر کی جس میں یہ خوبصورت سلام ہے۔ اس بحر کا نام 'بحرِ مُتَدارِک' ہے اور یہ ایک مفرد بحر ہے۔ مفرد بحریں وہ ہوتی ہیں جن کے وزن میں ایک ہی رکن کی تکرار ہوتی ہیں جب کہ مرکب بحروں کے وزن میں مختلف ارکان ہوتے ہیں۔ بحروں کے ارکان پر تفصیلی بحث ایک علیحدہ پوسٹ کی مقتضی ہے سو بعد میں، فی الحال اتنا کہ جیسے اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ بحرِ ہزج میں 'مفاعیلن' چار بار آتا ہے یعنی مفاعیلن رکن ہے بحرِ ہزج کا اور بحرِ ہزج بھی ایک مفرد بحر ہے۔
اسی طرح ہماری آج کی مذکورہ بحر، بحرِ متدارک کا رکن 'فاعِلُن' ہے اور ایک مصرعے میں چار بار آتا ہے۔ فاعلن کو ذرا غور سے دیکھتے ہیں یعنی فا عِ لُن یعنی ایک ہجائے بلند، ایک ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند یعنی 2 1 2 فاعلن کی علامتیں ہیں اور اس بحر کے ایک مصرعے کا وزن ہوگا۔

فاعِلُن فاعِلُن فاعِلُن فاعِلُن
212 212 212 212

اس بحر بلکہ عموماً ہر بحر کے آخری رکن میں تھوڑی سی تبدیلی کی اجازت ماہرین نے دے رکھی ہے اور وہ یہ کہ بحر کے آخری رکن یعنی یہاں پر آخری فاعلن یا آخری 212 کے آخر میں ایک ہجائے کوتاہ کی اضافے کی اجازت ہے یعنی آخری رکن 212 ہے تو اس پر ایک ہجائے کوتاہ بڑھایا تو یہ 1212 ہو گیا اور رکن فاعِلان ہو گیا یعنی فا2، ع1، لا2، ن1 یوں ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں یہ وزن اگر اکھٹے جمع کر دیئے جائیں تو جائز ہے۔
فاعِلُن فاعِلُن فاعِلُن فاعِلُن
212 212 212 212
اور
فاعِلُن فاعِلُن فاعِلُن فاعِلان
212 212 212 1212
اس عمل یعنی آخری رکن پر ایک ہجائے کوتاہ کے بڑھانے کے عمل کو 'تسبیغ' کہا جاتا ہے اور ابھی اس نعت بلکہ عربی، فارسی، اردو شاعری میں ہر جگہ آپ دیکھیں گے کہ عملِ تسبیغ ایک ایسا عمل یا رعایت ہے جس کے بغیر کسی شاعر کی شاعری مکمل نہیں ہوتی۔ منطق اس رعایت کی یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اس عمل سے وزن پر کوئی فرق نہیں پڑھتا لیکن شاعروں کو بہت فائدہ ہو جاتا ہے کہ اپنی مرضی کا لفظ آسانی سے لا سکتے ہیں، پھر واضح کر دوں کہ تسبیغ کا عمل کسی بھی بحر کے صرف اور صرف آخری رکن میں جائز ہے اور شروع یا درمیانی اراکین پر یہ جائز نہیں ہے فقط ایک استثنا کے ساتھ کہ 'مقطع' بحروں کے درمیان بھی اسکی اجازت ہوتی ہے لیکن ان بحروں پر تفصیلی بحث پھر کسی وقت انشاءاللہ۔
اب ہم تقطیع دیکھتے ہیں۔
مُصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
مُص طَ فا - 212 - فاعلن
جا نِ رح - 212- فاعلن
مَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان (عملِ تسبیغ نوٹ کریں، اور یہ بھی کہ لاکھوں کے کھوں کو عروضی متن میں صرف 'کو' لکھا ہے وجہ یہ کہ نون غنہ اور دو چشمی ھ، دونوں کا عروض میں کوئی وزن نہیں ہوتا اور یہ ایک اصول ہے۔)
شَم عِ بز - 212 - فاعلن
مے ہِ دا - 212 - فاعلن (اشباع کا عمل نوٹ کریں یعنی شاعر نے بزمِ کی میم کے نیچے جو اضافت زیر ہے اس کو کھینچ کر 'مے' یعنی ہجائے بلند بنایا ہے کیونکہ بحر کے مطابق یہاں ہجائے بلند یا 2 کی ضرورت تھی)۔
یَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان (وہی وضاحت ہے جو اوپر گزری)۔
شہر یارِ ارَم، تاجدارِ حرَم
نو بہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام
شہ ر یا - 212 - فاعلن (شہر کا صحیح تلفظ ہ ساکن کے ساتھ ہے، اکثر لوگ اس کا غلط تلفظ شہَر کرتے ہیں)۔
رے اِ رَم - 212 - فاعلن (اشباع نوٹ کریں)۔
تا ج دا - 212 - فاعلن
رے حَ رَم - 212 - فاعلن (رے میں پھر اشباع نوٹ کریں)۔
نو بَ ہا - 212 - فاعلن
رے شِ فا - 212 - فاعلن (رے میں عملِ اشباع)۔
عت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان (وہی وضاحت ہے جو اوپر گزری)۔
جس کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی
ان بھؤں کی لطافت پہ لاکھوں سلام
جس کِ سج - 212 - فاعلن (اخفا کا عمل نوٹ کریں یعنی کے کی ی شاعر نے گرا دی ہے کہ یہاں پر بحر کے مطابق اسے ہجائے کوتاہ کی ضرورت تھی)۔
دے کُ مح - 212 - فاعلن (اخفا کا عمل نوٹ کریں)۔
را بِ کع - 212 - فاعلن
بہ جُ کی - 212 - فاعلن
ان بَ ؤ - 212 - فاعلن (دو چشمی ھ کا کوئی وزن نہیں اور ؤ کو ہجائے بلند یا ہجائے کوتاہ سمجھنا شاعر کی صوابدید ہے یہاں شاعر نے اسے ہجائے بلند باندھا ہے کہ بحر کا یہی تقاضہ تھا)۔
کی لِ طا - 212 - فاعلن
فَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
وہ دَ ہن - 212 - فاعلن
جس کِ ہر - 212 - فاعلن (کی میں اخفا کا عمل)۔
با ت وح - 212 - فاعلن
یے خُ دا - 212 - فاعلن (عمل اشباع)۔
چش مَ اے - 212 - فاعلن (ہمزۂ اضافت کو اے تلفظ کر کے ایک ہجائے بلند بنایا ہے کہ بحر میں اسی کی ضرورت تھی)۔
عل م حک - 212 - فاعلن (علم و حکمت کی جو اضافت واؤ ہے شاعر نے اسکا کوئی وزن نہیں لیا اور یہ شاعر کی صوابدید ہے)۔
مَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان
وہ زباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
وہ ز با - 212 - فاعلن (نوٹ کریں کہ زبان کی جگہ شاعر نے زباں یعنی نون غنہ استعمال کیا ہے وجہ یہ کہ نون غنہ کا کوئی وزن نہیں ہوتا اگر یہاں زبان نون معلنہ کے ساتھ ہوتا تو وزن بگڑ جاتا)۔
جس کُ سب - 212 - فاعلن (کو میں عملِ اخفا)۔
کُن کِ کُن - 212 - فاعلن (کی میں عملِ اخفا)۔
جی کَ ہے - 212 - فاعلن
اُس کِ نا - 212 - فاعلن (کی میں عملِ اخفا)۔
فذ حَ کو - 212 - فاعلن
مَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان
کُل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
کُل جَ ہا - 212 - فاعلن (کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شاعر نے جہان کی جگہ جہاں کیوں استعمال کیا ہے)۔
مل ک ار - 212 - فاعلن (اور کو ایک ہجائے بلند کے برابر یعنی ار یا 2 بنا لینا شاعر کی صوابدید ہے)۔
جو کِ رو - 212 - فاعلن (کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کس لفظ پر اخفا استعمال ہوا ہے اور کیوں)۔
ٹی غَ ذا - 212 - فاعلن
اس شِ کم - 212 - فاعلن
کی قَ نا - 212 - فاعلن
عَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان
سیّدہ ، زاہرہ ، طیّبہ ، طاہرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام
سی یَ دہ - 212 - فاعلن (تشدید والا حرف دو بار بولا جاتا ہے سو تقطیع میں جس حرف پر تشدید ہوتی ہے اس کو دو بار لکھا جاتا ہے یعنی اسکا وزن ہوتا ہے جیسے یہاں ی پر تشدید ہے اور اسی سے وزن پورا ہوا ہے)۔
زا ہ را - 212 - فاعلن
طی یَ بہ - 212 - فاعلن (تشدید پھر نوٹ کریں)۔
طا ہ رہ - 212 - فاعلن
جا نِ اح - 212 - فاعلن
مد کِ را - 212 - فاعلن (اخفا)۔
حَت پہ لا - 212 - فاعلن
کو سَ لا م - 1212 - فاعلان

اس خوبصورت نعت کے کچھ اشعار کی تقطیع کے دوران ہم نے کئی چیزیں دیکھیں، سب سے پہلے تو یہی کہ بحر مُتَدارِک ایک مفرد بحر ہے جس میں رکن فاعِلُن کی تکرار ہے، پھر یہ کہ عملِ تسبیغ شاعری کا ایک لازمی جز ہے اور اخفا اور اشباع کا بھی اعادہ ہوا کہ ان کے بغیر بھی شاعری مکمل نہیں ہوتی۔
کسی وضاحت کی صورت میں ضرور لکھیئے گا۔

متعلقہ تحاریر : بحر متدارک, تقطیع, علم عروض, نعت

36 comments:

  1. سبحان اللہ
    اور جزاک اللہ
    اب شاعری پڑھنے کا الگ ہی لطف آتا ہے۔۔۔
    جس کے لئے آپ کا مشکور ہوں

    ReplyDelete
  2. اس میں شک نہیں تقطیع آتی ہو تو شاعری پڑھنے کے ساتھ ساتھ بندہ جراح بھی ہوجاتا ہے.
    اخفا اور اشباع واؤل کو چھوٹا بڑا کرلینا ہی ہے نا؟

    ReplyDelete
  3. بہت شکریہ وارث صاحب
    بہت ہی مفید و معلوماتی مراسلہ ہے ۔
    بہت بہت شکریہ

    ReplyDelete
  4. شکریہ آپ سب کا نوازش۔

    ReplyDelete
  5. السلام علیکم سر بہت عرصے کے بعد آپ کے علم خانہ کا چکر لگا بُرانی یاد تازہ ہوگئی بہت شکریہ بہت مزہ آیا پڑھ کر انشاءاللہ اب تو میں یہاں چکر لگاتا رہوں گا جزاک اللہ خیر

    ReplyDelete
  6. بہت شکریہ خرم اور باز خوش آمدید۔ شاکر صاحب آپ بالکل صحیح سمجھے۔

    ReplyDelete
  7. اے رسولِ امیں خاتم المرسلیں
    تجھ سا کوئی نہیں تجھ ساکوئی نہیں
    اے رسو۔212۔فاعلن۔
    لے امی ۔212۔فاعلن۔ے اشباع کی وجہ سے ہے
    خاتمل ۔212۔فاعلن۔
    مرسلی ۔212۔فاعلن۔
    تج سَ کو۔212۔فاعلن۔سا کا الف اخفاء کی وجہ سے ساقط ہے
    ئی نہی ۔212۔فاعلن۔
    تج سَ کو۔212۔فاعلن۔سا کا الف اخفاء کی وجہ سے ساقط ہے
    ئی نہی ۔212۔فاعلن۔
    مجھ میں ان کی ثنا کا سلیقہ کہاں
    وہ شہِ دو جہاں وہ کہاں میں کہاں
    مج مِ ان۔212۔فاعلن۔میں کی ی اخفاء کی وجہ سے ساقط ہے
    کی ثنا ۔212۔فاعلن۔
    کا سلی ۔212۔فاعلن۔
    قہ کہا ۔212۔فاعلن۔
    وہ شہے۔212۔فاعلن۔ ے اشباع کی وجہ سے بڑھی ہے
    دو جہا۔212۔فاعلن۔
    وہ کہا۔212۔فاعلن۔
    مے کہا ۔212۔فاعلن۔
    اے مرے ہمنشیں چل کہیں اور چل
    اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
    اے مرے۔212۔فاعلن۔
    ہم نشی ۔212۔فاعلن۔
    چل کہی ۔212۔فاعلن۔
    او رچل ۔212۔فاعلن۔
    اس چمن۔212۔فاعلن۔
    مے ابپ ۔212۔فاعلن۔ الف کا وصال ہوا ہے
    نا گزا۔212۔فاعلن۔
    را نہی ۔212۔فاعلن۔
    بحر متدارک میں علامہ اقبال کے اشعار نہیں مل سکے آپ ہی کچھ راہنمائی فرما دیجیے

    ReplyDelete
  8. باسم محنت آپ کر رہے ہیں اور خوشی مجھے ہو رہی ہے کہ کم از کم ان تحاریر سے آپ کو فائدہ پہنچ رہا ہے، آپ واقعی میرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور اس بار متدارک کو خوب پہچانا آپ نے اور تقطیع بھی صحیح لکھی ہے، ماشاءاللہ۔
    بحر متدارک اردو شاعری میں اتنی مستعمل نہیں جتنی کہ دیگر معروف بحریں، اور ہو سکتا ہے کہ علامہ نے اس استعمال نہ کیا ہو۔

    ReplyDelete
  9. ہمیں جب تھام کر چلتے ہو بحرِ بے کراں میں تم
    تو قطعِ موج رہ جاتی ہے بس اک کھیل کی صورت

    ReplyDelete
  10. او ہو یہ تو الٹ ہوگیا درست یوں ہے
    تمیں جب تھام کر چلتے ہیں بحرِ بے کراں میں ہم
    تو قطعِ موج رہ جاتی ہے بس اک کھیل کی صورت

    ReplyDelete
  11. واہ باسم بہت خوبصورت شعر ہے لیکن کن کا ہے، اور میں کچھ کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں اس شعر کا مطلب :)

    ReplyDelete
  12. یہ پوچھیے کس کا ہے جواب بھی مل جائے گا

    ReplyDelete
  13. یہ بات ہے قبلہ تو پھر ہمیں پوری غزل سنائیے۔

    ReplyDelete
  14. تعارف ہو چکا ہے بس ہمارا شعر سے اب تک
    غزل سے اجنبی ہیں تم کرادو میل کی صورت

    ReplyDelete
  15. یہاں پابندئ افکار ہے، اظہار ہے ہر سو
    عجب آزاد ہے دنیا بظاہر جیل کی صورت

    ReplyDelete
  16. محترمی و مکرمی جناب محمد وارث صاحب سلمہ
    السلام علیکم ! کے بعد از خیریت کے عرض ہے کہ
    سب سے پہلے تو اللہ تعالی آپ کو صحت اور سلامتی سے رکھے(آمین) کہ بلا شبہ
    آپ کا وجود ہمارے لئے اتنا ضروری ہے جتنا کہ پھولوں کیلئے خوشبو !!!
    بعد ازاں قبلہ ، اپنا ایک شعر بھیج رہا ہوں براہ کرم اس کا اپنی عمیق نظر
    سے مطالعہ کر کے حوصلہ افزائی فرماویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ع ترا مجھ سے محبت کا نباہ ہے آفریں جاناں
    تجھی سے زندگی کی ہر ادا ہے دلنشیں جاناں

    نعمان نیر کلاچوی سینیئر ایڈیٹر روزنامہ درپن لاہور اینڈ ڈیرہ اسمٰعیل خان

    ReplyDelete
  17. باسم دو اشعار مزید اور غزل مکمل لیکن قافیہ تنگ ہے، اساتذہ، شاید مولانا حالی یا مولانا شبلی نعمانی، کہتے ہیں کہ غزل سے پہلے دیکھ لو کہ کم از کم پندرہ بیس قافیے ہوں اور پھر ان میں سے چھ سات اپنی غزل کیلیے بہتر سے بہتر سے منتخب کرو، خیر، ابتدائے عشق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلاچوی صاحب، ماشاءاللہ بہت اچھا شعر ہے، بحر ہزج ہے مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن، باسم بھی اسی بحر میں مشق کر رہے ہیں، امید ہے کہ آپ اس غزل کو مکمل کریں گے۔

    ReplyDelete
  18. بہت شکریہ وارث بھائی. آج تک جس چیز کو درد سر سمجھ کر دور رہا تھا، آپ نے بلاشبہ بہت ہی آسان ترین الفاظ میں ذہن نشین کرادیا. میرے دفتری شعراء ساتھی بھی محظوظ ہوئے. ایک ساتھی ندیم احمد ندیم کا سوال ہے کہ

    مہرِ چرخِ نبوت پہ روشن درود
    گلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام

    اس شعر کے دوسرے مصرع کا پہلا رکن فعلن (مخبون) ہے. ایسے ہی تقریبا اس سلام میں چھ کے قریب اشعار ہے. کیا ایسا کرنے کی رعایت ہے؟

    ReplyDelete
  19. السلام علیکم
    وارث بھائٰی
    بڑامعلوماتی مراسلہ ہے جزاک اللہ
    فقط و السلام
    فقیر محمد ابراہیم میسوری،ہند

    ReplyDelete
  20. بہت شکریہ عمار آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا ذرہ نوازی کیلیے!
    مخبون رکن، صدر و ابتدا میں، کئی بحروں میں ضرور آتا ہے لیکن اس بحر ‘متدارک مثمن سالم‘ میں اسکی اجازت شاید نہیں ہے۔
    اس خیال کی کچھ وجوہات جو میرے ذہن میں آئیں:
    سالم بحروں میں اس مزاحف رکن کا اجتماع سالم رکن کے ساتھ جائز نہیں ہے، اور یہ بھی ایک سالم بحر ہے۔
    مولوی نجم الغنی رامپوری کی 'بحر الفصاحت' اور میزا یگانہ چنگیزی کی 'چراغِ سخن' دونوں خاموش ہیں۔ اردو میں اس علم پر یہ دونوں کتابیں 'اتھارٹی' ہیں۔ ان کتب میں مصنفین نے جہاں جہاں کسی رعایت کی اجازت ہے وہاں وہاں اسکا ذکر ضرور کر دیا ہے، پھر سیّد قدرت نقوی نے بحر الفاصحت کی تمام بحثوں کا خلاصہ کر کے کتاب میں مذکور تمام بحروں کا ایک "اشاریہ" بنا کر جو ضمیمہ شامل کیا ہے اس میں بھی اجازتوں کا ذکر ضرور کیا ہے، اسکی اگر اجازت ہوتی تو یہ سارے علماء و فضلاء کبھی چپ نہ رہتے۔
    ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس سلام کے نیٹ پر موجود اشعار میں بہت غلطیاں ہیں، اور اوپر میں نے بھی اسکے اشعار منتخب کرتے ہوئے ان اشعار کو ترجیح دی جو نا صرف تمام 'مستند' سائیٹس پر مشترکہ تھے بلکہ 'ٹھیک' بھی تھے۔ اگر اس سلام کا کوئی اصل طبع شدہ نسخہ مل جائے تو شاید کچھ صحیح علم ہو سکے۔
    اسکے باوجود اگر امام احمد رضا بریلوی، جو کہ قادر الکلام شاعر بھی تھے' نے مخبون رکن کئی اشعار میں استعمال کیا ہے تو ضرور انکے پاس کوئی وجہ رہی ہوگی۔

    ReplyDelete
  21. محترم محمد ابراہیم میسوری صاحب، بلاگ پر بہت خوش آمدید اور نوازش آپ کی، امید ہے تشریف لاتے رہیں گے۔
    والسلام

    ReplyDelete
  22. محترمی و مکرمی جناب محمد وارث صاحب سلمہ
    السلام علیکم ! کے بعد از خیریت کے عرض ہے کہ قبلہ !
    یہ جو مفعولات ہے یہ کس بحر کا رکن ہے اور کیا یہ بحر اردو میں
    مستعمل ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو براہ کرم اسی بحر میں کوئی شعر اگر
    آپ کو یاد ہو تو ضرور تحریر فرمادیں تاکہ یہ کم علم بھی آپ کے وسیع ترین
    علم سے استفادہ کر سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نعمان نیر کلاچوی سینیئر ایڈیٹر روزنامہ درپن لاہور اینڈ ڈیرہ اسمٰعیل خان

    ReplyDelete
  23. کلاچوی صاحب، مفعولات 2 2 2 1، عروض کے آٹھ ارکان میں سے ایک رکن ہے، لیکن اردو میں اسکی حیثیت محض کتابی ہے کیونکہ کسی بحر میں استعمال نہیں ہوتا: کوئی مفرد بحر اس سے نہیں بنتی، جن مرکب بحروں میں یہ آتا ہے مثلاً بحرِ منسرح (مستفعلن مفعولات مستفعلن مفعولات) اور بحر مقتضب (مفعولات مستفعلن مفعولات مستفعلن) وغیرہ وہ اردو میں استعمال نہیں ہوتیں، مثال کے طور پر کہے ہوئے اشعار ملتے ہیں لیکن صرف عروض کی کتب میں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ یہ رکن مزاحف ہو کر استعمال ہو، اور ہوتا بھی ہے لیکن اس صورت میں اسکا وزن مفعولات نہیں رہتا بلکہ بدل جاتا ہےجیسے بحر سریع وغیرہ میں کہ وہاں مفعولات، فاعلن یا فاع یا فع کی شکل میں آتا ہے، سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مفعولات اردو میں استعمال نہیں ہوتا۔

    ReplyDelete
  24. محترمی ومکرمی جناب محمد وارث صاحب سدا سکھی رہو بمع تمام اہل و عیال کے(آمین)
    السلام علیکم ! یا قبلہ
    امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے ۔۔۔۔۔
    سب سے پہلے تو قبلہ مفعولات کی مکمل وضاحت مہیا کرنے پر احقر آپ کا تہی دل سے شکریہ ادا کرتا ہے اوردعا گو ہے کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے (آمین)
    قبلہ ! گزارش خدمت یہ ہے کہ عروض کے آٹھ بنیادی ارکان کیا یہ ہیں ؟ یا اسکے علاوہ
    بھی کوئی بنیادی رکن پایا جاتا ہے اردو بحور میں ؟
    1 ہزج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن ۔۔۔۔۔۔ مفرد بحر
    2 رجز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مستفعلن ۔۔۔۔۔ مفرد بحر
    3 متقارب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فعولن ۔۔۔۔۔ مفرد بحر
    4 کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ متفاعلن ۔۔۔۔ مفرد بحر
    5 متدارک ۔۔۔۔۔۔۔ فاعلن ۔۔۔۔۔ مفرد بحر
    6 رمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعلاتن ۔۔۔۔ مفرد بحر
    7 وافر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعلتن ۔۔۔۔ مفرد بحر
    8 منسرح ، سریع اور مرکب بحریں ۔۔۔۔۔۔ مفعولات
    قبلہ ! اپنی عمیق نظر ان پر ڈال کر وضاحت فرمادیں کہ کہیں احقر سے کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی اور اگر ہوگئی ہے تو براہ کرم مکمل وضاحت فرما دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

    نعمان نیر کلاچوی سینیئر ایڈیٹر رونامہ درپن لاہور اینڈ ڈیرہ اسمٰعیل خان

    ReplyDelete
  25. کلاچوی صاحب آپ نے آٹھ ارکان اور بحریں صحیح تحریر فرمائی ہیں، صرف یہ کہ وافر بالکل ہی اردو میں استعمال نہیں ہوتی، کامل کم کم، رمل سالم بھی بہت کم۔
    جہاں تک ارکان کی بات ہے تو ان آٹھ ارکان سے زحافات کی مدد سے سو کے قریب ارکان تو بنتے ہونگے جیسے صرف مفاعیلن کے اٹھارہ فروع بحر الفصاحت میں لکھی ہیں جن میں، مفاعلن، مفعولن، مفاعیل، مفعول، فاعلن، فعولن، فعَل، فاع، فع، مفاعیلان وغیرہ شامل ہیں، رباعی کے چوبیس اوزان بھی اسی مفاعیلن اور اسکی فروعات سے حاصل ہوتے ہیں، اسی طرح دیگر سات اراکان کی بھی کئی کئی فروع ہیں جو عام استعمال ہوتی ہیں۔

    ReplyDelete
  26. الٰہی تیرا بندہ تیرے در پہ تیرا طالب ہے
    اٹھا رکھا ہے ہاتھوں کو بناکر ذیل کی صورت

    ReplyDelete
  27. باسم بہت اچھا حمدیہ شعر ہے، لیکن ‘ذیل کی صورت‘؟ کیا یہ ‘ریل‘ ہے؟ لکڑی کا تختہ جس میں قرآن شریف رکھتے ہیں۔ اگر ‘ریل‘ ہے تو افسوس مجھے کئی لغات میں یہ لفظ نہیں ملا اور نہ ہی یہ جان سکا کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے، پنجابی یا شاید کسی اور علاقائی زبان کا ہے، ایسے الفاظ پر اکثر سخت اعتراضات وارد ہوتے ہیں، جو شاید کسی حد صحیح بھی ہوتے ہیں۔

    ReplyDelete
  28. استاذ محترم یہ ذیل (دامن) ہے جو عربی زبان کا لفظ ہے
    حوالے کیلیے کرلپ اردو لغت کا ربط حاضر ہے
    http://crulp.org/oud/ViewWord.aspx?refid=9548
    اور اس میں دیا گیا یہ نعتیہ شعر بھی
    میں ڈھونڈوں سایہ طوبٰی کو کیوں میدانِ محشر میں
    مجھے کافی ہے ذیلِ سیّدِ ابرار کا سایہ
    ( 1873ء، دیوانِ فدا، 289 )

    ReplyDelete
  29. شکریہ باسم، میری معلومات میں اضافے کیلیے، نوازش۔

    ReplyDelete
  30. یہ جو آپکے تعارف والا حصہ ہے اس میں اپنا ای میل بھی لکھ دیں۔۔۔ بڑی مہربانی ہو گی۔۔۔

    ReplyDelete
  31. نعیم صاحب، میرا ای میل ایڈریس تو لکھا ہے، کچھ تفصیلات میرے متعلق والا صفحہ دیکھیئے وہاں دو لکھے ہیں اور بلاگر کی پروفائل میں بھی ہے۔
    والسلام

    ReplyDelete
  32. سلام رضا کے چند اشعار کی تقطیع پر مبارک باد

    ReplyDelete
    Replies
    1. جزاک اللہ۔ نوازش آپ کی رضوی صاحب

      Delete
  33. AoA
    janab e wala intehai malumati blog hai Khuda ap ki tofeeqat mein izafa kre aur aap younhi ta daer chaman e adab ki aabiyari krte rhein
    Qibla ap say 2 araaz hain pehli ye k jis tara aap urooz jaise intehai saqeel aur khushk ilm ko aasaan kr k bayan krte hain to huzoor hum tashnagan e ilm k liye ho ske to aik mufassil or mukammalpost san'at e shairi ki bhi krdein bilkul isi tarah aasan alfaz mein

    Doosra yeh k aik misraa hai agar hoske to is ki taqtee kr dijiye
    "Khayal e gaisoo-e-Akbar mein Raat kali hai "
    Baqi Khuda aap ko ar aap say muta'aliq her shay or fard ko apni khas nazr e karam mein rkhe

    ReplyDelete
    Replies
    1. وعلیکم السلام جناب اور بلاگ پر خوش آمدید۔

      ان کلماتِ خیر کیلیے آپ کا ممنون ہوں، جزاک اللہ۔

      جی شعری صنعتوں پر انشاءاللہ لکھنے کی کوشش کرونگا بس کچھ مصروفیات آڑے آتی رہتی ہیں۔

      جو مصرع آپ نے لکھا ہے یعنی

      خیالِ گیسوئے اکبر میں رات کالی ہے

      اسکی تقطیع کچھ یوں ہے

      بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

      افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
      آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں۔

      علامتی نظام - 2121 / 2211 / 2121 / 22
      ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 2121 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
      (آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

      تقطیع -

      خیال گے - مفاعلن - 2121
      سُ ء اکبر - فعلاتن - 2211
      مِ رات کا - مفاعلن - 2121
      لی ہے - فعلن - 22

      والسلام

      Delete