Nov 21, 2011

متفرق فارسی اشعار - ۲

دل اسبابِ طرَب گم کردہ، در بندِ غمِ ناں شُد
زراعت گاہِ دہقاں می شَوَد چوں باغ ویراں شُد
(غالب دہلوی)

(میرے) دل نے خوشی و مسرت کے سامان گم کر دیئے (کھو دیئے) اور روٹی کے غم میں مبتلا ہو گیا، (جسطرح کہ) جب کوئی باغ ویران ہو جاتا ہے تو وہ کسان کی زراعت گاہ (کھیت) بن جاتا ہے۔
--------

در کوئے نیک نامی ما را گذر ندادَند
گر تو نمی پسندی تغییر کن قضا را
(حافظ شیرازی)

نیک نامی کے کوچے سے ہمیں گزرنے نہ دیا گیا، اگر تمھیں یہ بات پسند نہیں ہے، یعنی ہمارا نیک نام نہ ہونا تو پھر تقدیر کو تبدیل کر دو۔ یہ شعر کچھ تغیر کے ساتھ بھی ملتا ہے جیسا کہ منسلک تصویر میں ہے۔
--------

بحرفِ ناملائم زحمتِ دل ہا مشو بیدل
کہ ہر جا جنسِ سنگی ہست، باشد دشمنِ مینا
(عبدالقادر بیدل)

بیدل، تلخ الفاظ (ناروا گفتگو) سے دلوں کو تکلیف مت دے، کہ جہاں کہیں بھی کوئی پتھر ہوتا ہے وہ شیشے کا دشمن ہی ہوتا ہے۔
--------

ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
(امیر خسرو)

تُو نے اپنی قیمت دونوں جہان بتائی ہے، نرخ زیادہ کرو کہ ابھی بھی یہ کم ہے۔
--------

غلامی
آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذرِ قباد و جَم کرد

یعنی از خوئے غلامی ز سگاں خوار تر است
من ندیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد
(اقبال، پیامِ مشرق)

آدمی اپنی بے بصری (اپنی حقیقت سے بے خبری) کی بنا پر آدمی کی غلامی کرتا ہے، وہ (آزادی و حریت) کا گوہر تو رکھتا ہے لیکن اسے قباد و جمشید (بادشاہوں) کی نذر کر دیتا ہے۔

یعنی اس غلامی کی عادت میں وہ کتوں سے بھی زیادہ خوار ہو جاتا ہے، (کیونکہ) میں نے نہیں دیکھا کہ (کبھی) کسی کتے نے دوسرے کتے کے سامنے سر خم کیا ہو۔
--------

غنی روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کن
کہ نورِ دیدہ اش روشن کُنَد چشمِ زلیخا را
(غنی کاشمیری)

غنی، پیرِ کنعاں ( یعقوب ع) کے نصیبوں کی سیاہی تو ذرا دیکھ کہ انکی آنکھوں کے نور (یوسف ع) نے روشن کیا تو زلیخا کی آنکھوں کو۔
--------

مرا دو چشمِ تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا
(عبید زاکانی)

مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔
--------

من عاشقم، گواہِ من ایں قلبِ چاک چاک
در دستِ من جز ایں سندِ پارہ پارہ نیست
(محمد رضا عشقی)

میں عاشق ہوں اور میرا گواہ یہ دلِ چاک چاک ہے، میرے ہاتھ میں (میرے پاس) اس پارہ پارہ سند کے سوا اور کچھ نہیں۔
--------

گرفتم آں کہ بہشتم دہند بے طاعت
قبول کردن و رفتن نہ شرط انصاف است
(عرفی شیرازی)

میں نے مان لیا کہ مجھے بہشت بغیر عمل کے ہی مل جائے گی لیکن اسے قبول کرنا اور اس میں داخل ہونا انصاف کے خلاف ہے۔
--------

متعلقہ تحاریر : فارسی شاعری

2 تبصرے:

  1. کمیل احمدDec 1, 2011 10:44 PM

    حضور جتنی شاعرانہ فارسی مجھے بحیثیت ایک فارسی کے ادنیٰ سے طالب علم ، آپ کے بلاگ سے سیکھنے کو ملی، شاید ہی کوئی دوسرا بلاگ مجھے ملا ہو اردو زبان میں جو اس معیار کا کام کررہا ہو۔ آپ خوش رہے اور یہ کام جاری رکھے۔

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ کمیل احمد صاحب، نوازش آپ کی محترم۔

    ReplyDelete