May 29, 2012

نظم - توسیعِ شہر از مجید امجد

مجید امجد کی ایک انتہائی خوبصورت نظم

توسیع ِ شہر

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار
گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم

Majeed Amjad, مجید امجد, Urdu Poetry, Urdu Sahiary, Ilm-e-Arooz, Ilm-e-Urooz, Taqtee, Nazm, Urdu Nazm, اردو شاعری، اردو نظم، علم عروض، تقطیع
Majeed Amjad, مجید امجد
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار

آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک، اے آدم کی آل

مجید امجد

متعلقہ تحاریر : اردو شاعری, اردو نظم, مجید امجد

3 comments:

  1. بہت ہی خوبصورت

    ReplyDelete
  2. بہت ہی عمدہ
    بہت ہی نادر خیال

    ReplyDelete