ایک روز خواجہ ہمام الدین تبریزی، تبریز کے ایک حمام میں غسل کیلیے گئے تو اتفاقاً وہاں شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بھی موجود تھے۔ خواجہ ہمام نے غسل کی ابتدا کی تو شیخ سعدی نے بوجۂ ادب لوٹے سے انکے سر پر پانی ڈالنا شروع کردیا۔ خواجہ ہمام نے استفسار کیا۔
میاں درویش کہاں سے آ رہے ہو۔
شیخ سعدی نے عرض کی۔ قبلہ شیراز سے حاضر ہوا ہوں۔
خواجہ ہمام نے کہا، یہ عجیب بات ہے کہ میرے شہر ﴿تبریز﴾ میں شیرازی کتوں سے بھی زیادہ ہیں ( یعنی تعداد میں)۔
شیخ سعدی نے مسکرا کر کہا۔ مگر میرے شہر میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ شیراز میں تبریزی کتوں سے بھی کم ہیں ( یعنی درجہ میں)۔
--------
ایک روز کا واقعہ ہے، مرزا غالب اور انکی بیگم بعد از موت عاقبت اور مغفرت کے مسائل پر بحث کر رہے تھے، مرزا کی بیگم بولیں۔
"روزہ رکھنا تو دور کی بات ہے آپ نے تو کبھی نماز بھی نہیں پڑھی اور عاقبت سنوارنے کے لئے کم از کم نماز روزہ کی پابندی ہے، ادائیگی اختیار کرنی ہی پڑتی ہے۔"
مرزا نے جواب دیا۔ "آپ بلا شبہ درست فرما رہی ہیں لیکن یہ بھی دیکھ لینا کہ آپ سے ہمارا حشر اچھا ہی ہوگا۔"
بیگم بولیں۔ "وہ کیونکر؟ کچھ ہمیں بھی تو بتائیے۔"
"بھئی بات تو بالکل سیدھی ہے۔" مرزا نے کہا۔ "آپ تو انہی نیلے تہبند والوں کے ساتھ ہونگی جن کے تہبند کے پلو میں مسواک بندھی ہوگی، ہاتھ میں ایک ٹونٹی دار بدھنی ہوگی اور انہوں نے اپنے سر بھی منڈوا رکھے ہونگے۔ آپ کے برعکس ہمارا حشر یہ ہوگا کہ ہماری سنگت بڑے بڑے غیر فانی، شہرت یافتہ بادشاہوں کے ساتھ ہوگی۔ مثلاً ہم فرعون، نمرود اور شداد کے ساتھ ہونگے۔ ہم اپنی مونچھوں کو بل دے کر اکڑتے ہوئے زمین پر قدم دھریں گے تو ہماری دائیں اور بائیں اطراف چار چار فرشتے ہمارے جلو میں چل رہے ہونگے۔"
--------
میر تقی میر کی عادت تھی کہ جب گھر سے باہر جاتے تو تمام دروازے کھلے چھوڑ دیتے تھے اور جب گھر واپس آتے تو تمام دروازے بند کر لیتے تھے۔ ایک دن کسی نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا۔
"میں ہی تو اس گھر کی واحد دولت ہوں۔"
--------
ایک محفل میں کچھ شاعر بیخود دہلوی اور سائل دہلوی کا ذکر کر رہے تھے۔ ایک شاعر نے شعر سنائے جس میں دونوں کے تخلص نظم ہوئے تھے۔ وہاں حیدر دہلوی بھی موجود تھے۔ شعر سن کر کہنے لگے ۔
"اس شعر میں سائل اور بیخود تخلص صرف نام معلوم ہوتے ہیں۔ کمال تو یہ تھا کہ شعر میں تخلص بھی نظم ہو اور محض نام معلوم نہ ہو۔"
کسی نے کہا یہ کیسے ممکن ہے۔؟ حیدر نے وہیں برجستہ یہ شعر کہہ کر سب کو حیران کر دیا:
پڑا ہوں میکدے کے در پہ اس انداز سے حیدر
کوئی سمجھا کہ بے خود ہے کوئی سمجھا کہ سائل ہے
--------
ایک مشاعرے کی نظامت کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کر رہے تھے۔ جب فنا نظامی کی باری آئی تو مہندر سنگھ نے کہا کہ حضرات اب میں ملک کے چوٹی کے شاعر حضرت فنا نظامی کو زحمت کلام دے رہا یہوں۔ فنا صاحب مائک پر آئے سحر کی پگڑی کی طرف مسکرا کر دیکھا اور اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے: حضور چوٹی کے شاعر تو آپ ہیں میں تو داڑھی کا شاعر ہوں۔
--------
ایک مولوی صاحب نے سر سید کو خط لکھا کہ معاش کی طرف سے بہت تنگ ہوں، عربی جانتا ہوں، انگریزی سے ناواقف ہوں، کسی ریاست میں میری سفارش کر دیں۔
سر سید نے جواب دیا کہ "سفارش کی میری عادت نہیں اور معاش کی تنگی کا آسان حل یہ ہے کہ میری تفسیرِ قرآن کا رد لکھ کر چھپوائیں، کتاب خوب بِکے گی اور آپ کی تنگی دور ہو جائے گی۔"
--------
سہارن پور میں عیدن ایک گانے والی تھی، بڑی باذوق، سخن فہم اور سیلقہ شعار، شہر کے اکثر ذی علم اور معززین اسکے ہاں چلے جایا کرتے تھے، ایک دن مولانا فیض الحسن سہارنپوری بھی پہنچے، وہ پرانے زمانے کی عورت نئی تہذیب سے ناآشنا، بیٹھی نہایت سادگی سے چرخہ کات رہی تھی۔
مولانا اس کو اس ہیت میں دیکتھے ہی واپس لوٹے، اس نے آواز دی، "مولانا آیئے، تشریف لایئے، واپس کیوں چلے؟"
مولانا یہ فرما کر چل دیئے کہ "ایسی تو اپنے گھر بھی چھوڑ آئے ہیں۔"
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Oct 17, 2011
Oct 13, 2011
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں - شعیب بن عزیز
اس خاکسار کا یہ خیال تھا اور اب بھی بہت حد تک ہے کہ یہ بلاگ جنگل میں مور کے ناچ جیسا ہے لیکن اس خیال میں کچھ شبہ تین چار ماہ پہلے پیدا ہوا جب مشہور کالم نویس اور شاعر جناب عطا الحق قاسمی صاحب کے صاحبزادے یاسر پیرزادہ صاحب کی ایک ای میل ملی۔ اس میں انہوں نے اس بلاگ کی توصیف فرمائی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ انہیں اس بلاگ کے متعلق شعیب بن عزیز صاحب نے بتایا تھا۔ خیر ان کا مقدور بھر شکریہ ادا کیا اور کچھ معلومات کا تبادلہ ہوا۔
آپ نے ایک بہت خوبصورت شعر سنا ہوگا
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
یہ شعر بہت مشہور ہے لیکن اس کے خالق کا نام بہت کم لوگوں کے علم میں ہے، جی ہاں اس کے خالق شعیب بن عزیز صاحب ہیں۔
جس دن کا یہ ذکر ہے اسی دن شام کو شعیب بن عزیز صاحب کا فون آیا، یہ میرے لیے واقعی ایک بہت اہم اور عزت افزائی کی بات تھی کیونکہ کہاں یہ خاکسار اور کہاں جناب شعیب بن عزیز صاحب۔ میں ذاتی طور پر شعیب بن عزیز صاحب کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا بجز انکی ایک غزل کے جو آج پوسٹ کر رہا ہوں لیکن اب اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آپ ایک درویش منش، اعلیٰ ظرف اور صاحبِ دل انسان ہیں۔ اگر آپ میں یہ خصوصیات نہ ہوتیں تو ایک اکیسویں گریڈ کے آفیسر اور حکومتِ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کو کیا ضرورت تھی کہ اس خاکسار کو نہ صرف یاد کرتے بلکہ بلاگ کی توصیف بھی فرماتے اور مزید اور مسلسل لکھنے کی تاکید فرماتے۔ تین چار ماہ قبل یہ وہ دن تھے جب میں اپنے بلاگ کی طرف سے بالکل ہی لاتعلق تھا لیکن شعیب صاحب کی تاکید نے مہمیز کا کام کیا۔
اور اب کچھ بات انکی مذکورہ غزل کے بارے میں۔ اس غزل کا مطلع اتنا جاندار اور رواں ہے کہ سالہا سال سے زبان زدِ عام ہے، ہر کسی کی زبان پر ہے اور ہر موقعے پر استمعال ہوتا ہے لیکن اس مطلع کی اس پذیرائی نے اس غزل کے دیگر اشعار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے حالانکہ میرے نزدیک اس غزل کا تیسرا شعر بیت الغزل ہے اور دیگر سبھی اشعار بھی بہت خوبصورت ہیں۔
خوبصورت غزل پیش خدمت ہے، پڑھیے اور سن دھنیے
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
اب تو اُس کی آنکھوں کے، میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے، ساغروں میں جاموں میں
دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں
زندگی بکھرتی ہے، شاعری نکھرتی ہے
دل بروں کی گلیوں میں، دل لگی کے کاموں میں
جس طرح شعیب اس کا، نام چُن لیا تم نے
اس نے بھی ہے چُن رکھّا، ایک نام ناموں میں
--------
بحر - بحر ہزج مثمن اَشتر
افاعیل - فاعلن مفاعیلن / فاعلن مفاعیلن
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )
اشاری نظام - 212 2221 / 212 2221
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
تقطیع -
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
اب اُدا - فاعلن - 212
س پرتے ہو - مفاعیلن - 2221
سردیو - فاعلن - 212
کِ شامو مے - مفاعیلن 2221
اس طرح - فاعلن - 212
تُ ہوتا ہے - مفاعیلن - 2221
اس طرح - فاعلن - 212
کِ کامو مے - 2221
-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
آپ نے ایک بہت خوبصورت شعر سنا ہوگا
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
یہ شعر بہت مشہور ہے لیکن اس کے خالق کا نام بہت کم لوگوں کے علم میں ہے، جی ہاں اس کے خالق شعیب بن عزیز صاحب ہیں۔
جس دن کا یہ ذکر ہے اسی دن شام کو شعیب بن عزیز صاحب کا فون آیا، یہ میرے لیے واقعی ایک بہت اہم اور عزت افزائی کی بات تھی کیونکہ کہاں یہ خاکسار اور کہاں جناب شعیب بن عزیز صاحب۔ میں ذاتی طور پر شعیب بن عزیز صاحب کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا بجز انکی ایک غزل کے جو آج پوسٹ کر رہا ہوں لیکن اب اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آپ ایک درویش منش، اعلیٰ ظرف اور صاحبِ دل انسان ہیں۔ اگر آپ میں یہ خصوصیات نہ ہوتیں تو ایک اکیسویں گریڈ کے آفیسر اور حکومتِ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کو کیا ضرورت تھی کہ اس خاکسار کو نہ صرف یاد کرتے بلکہ بلاگ کی توصیف بھی فرماتے اور مزید اور مسلسل لکھنے کی تاکید فرماتے۔ تین چار ماہ قبل یہ وہ دن تھے جب میں اپنے بلاگ کی طرف سے بالکل ہی لاتعلق تھا لیکن شعیب صاحب کی تاکید نے مہمیز کا کام کیا۔
اور اب کچھ بات انکی مذکورہ غزل کے بارے میں۔ اس غزل کا مطلع اتنا جاندار اور رواں ہے کہ سالہا سال سے زبان زدِ عام ہے، ہر کسی کی زبان پر ہے اور ہر موقعے پر استمعال ہوتا ہے لیکن اس مطلع کی اس پذیرائی نے اس غزل کے دیگر اشعار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے حالانکہ میرے نزدیک اس غزل کا تیسرا شعر بیت الغزل ہے اور دیگر سبھی اشعار بھی بہت خوبصورت ہیں۔
خوبصورت غزل پیش خدمت ہے، پڑھیے اور سن دھنیے
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
اب تو اُس کی آنکھوں کے، میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے، ساغروں میں جاموں میں
دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں
![]() |
| شعیب بن عزیز Shoaib Bin Aziz |
دل بروں کی گلیوں میں، دل لگی کے کاموں میں
جس طرح شعیب اس کا، نام چُن لیا تم نے
اس نے بھی ہے چُن رکھّا، ایک نام ناموں میں
--------
بحر - بحر ہزج مثمن اَشتر
افاعیل - فاعلن مفاعیلن / فاعلن مفاعیلن
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )
اشاری نظام - 212 2221 / 212 2221
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
تقطیع -
اب اداس پھرتے ہو، سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں
اب اُدا - فاعلن - 212
س پرتے ہو - مفاعیلن - 2221
سردیو - فاعلن - 212
کِ شامو مے - مفاعیلن 2221
اس طرح - فاعلن - 212
تُ ہوتا ہے - مفاعیلن - 2221
اس طرح - فاعلن - 212
کِ کامو مے - 2221
-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر ہزج,
بحر ہزج مثمن اشتر,
تقطیع,
شعیب بن عزیز
Oct 10, 2011
خوش جو آئے تھے پشیمان گئے - زہرہ نگاہ
خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
اے تغافل تجھے پہچان گئے
خوب ہے صاحبِ محفل کی ادا
کوئی بولا تو برا مان گئے
کوئی دھڑکن ہے نہ آنسو نہ امنگ
وقت کے ساتھ یہ طوفان گئے
اس کو سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن
گردشِ دہر تجھے جان گئے
تیری اک ایک ادا پہچانی
اپنی اک ایک خطا مان گئے
اس جگہ عقل نے دھوکا کھایا
جس جگہ دل ترے فرمان گئے
(زہرہ نگاہ)
-----
بحر - بحر رمل مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعلاتن فعلاتن فعلن
پہلے رکن میں فاعلاتن کی جگہ فعلاتن اور آخری رکن میں فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آ سکتا ہے یوں اس بحر میں آٹھ اوزان جمع ہو سکتے ہیں۔
اشاری نظام - 2212 2211 22
پہلے رکن میں 2212 کی جگہ 2211 اور آخری رکن میں 22 کی جگہ 122 اور 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے۔
تقطیع -
خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
اے تغافل تجھے پہچان گئے
خُش جُ آئے - فاعلاتن - 2212
تِ پشیما - فعلاتن - 2211
ن گئے - فَعِلن - 211
اے تغافل - فاعلاتن - 2212
تُ جِ پہچا - فعلاتن - 2211
ن گئے - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔
اے تغافل تجھے پہچان گئے
خوب ہے صاحبِ محفل کی ادا
کوئی بولا تو برا مان گئے
کوئی دھڑکن ہے نہ آنسو نہ امنگ
وقت کے ساتھ یہ طوفان گئے
![]() |
| زہرا نگاہ Zehra Nigah |
گردشِ دہر تجھے جان گئے
تیری اک ایک ادا پہچانی
اپنی اک ایک خطا مان گئے
اس جگہ عقل نے دھوکا کھایا
جس جگہ دل ترے فرمان گئے
(زہرہ نگاہ)
-----
بحر - بحر رمل مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعلاتن فعلاتن فعلن
پہلے رکن میں فاعلاتن کی جگہ فعلاتن اور آخری رکن میں فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آ سکتا ہے یوں اس بحر میں آٹھ اوزان جمع ہو سکتے ہیں۔
اشاری نظام - 2212 2211 22
پہلے رکن میں 2212 کی جگہ 2211 اور آخری رکن میں 22 کی جگہ 122 اور 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے۔
تقطیع -
خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
اے تغافل تجھے پہچان گئے
خُش جُ آئے - فاعلاتن - 2212
تِ پشیما - فعلاتن - 2211
ن گئے - فَعِلن - 211
اے تغافل - فاعلاتن - 2212
تُ جِ پہچا - فعلاتن - 2211
ن گئے - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر رمل,
بحر رمل مسدس مخبون محذوف مقطوع,
تقطیع,
زہرہ نگاہ
Oct 8, 2011
نوائے سروش - ۲
مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو اپنی بیٹی زیب النساء کیلئے استاد درکار تھا۔ یہ خبر سن کر ایران اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے بیسیوں قادر الکلام شاعر دہلی آگئے کہ شاید قسمت یاوری کرے اور وہ شہزادی کے استاد مقرر کر دیئے جائیں۔
ان ایام میں دہلی میں اس زمانہ کے نامور شاعر بھان چندر برہمن اور میر ناصر علی سرہندی بھی موجود تھے۔ نواب ذوالفقار علی خان، ناظمِ سرہند کی سفارش پر برہمن اور میر ناصر کو شاہی محل میں اورنگزیب کے روبرو پیش کیا گیا۔ سب سے پہلے برہمن کو اپنا کلام سنانے کا حکم ہوا، برہمن نے تعمیلِ حکم میں جو غزل پڑھی، اسکا مقطع تھا۔
مرا دلیست بکفر آشنا کہ چندیں بار
بکعبہ بُردم و بازم برہمن آوردم
(میرا دل اسقدر کفر آشنا ہے کہ میں جتنی بار بھی کعبہ گیا برہمن کا برہمن ہی واپس آیا۔)
گو یہ محض شاعرانہ خیال تھا اور تخلص کی رعایت کے تحت کہا گیا تھا لیکن عالمگیر انتہائی پابند شرع اور سخت گیر بادشاہ تھا، اسکی تیوری چڑھ گئی اور وہ برہمن کی طرف سے منہ پھیر کے بیٹھ گیا۔
میر ناصر علی نے اس صورتِ حال پر قابو پانے کیلئے اٹھ کر عرض کی کہ جہاں پناہ اگر برہمن مکہ جانے کے باوجود برہمن ہی رہتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، شیخ سعدی بھی تو یہی کہہ گئے ہیں۔۔
خرِ عیسٰی اگر بمکہ رود
چوں بیاید ہنوز خر باشد
(عیسٰی کا گدھا اگر مکہ بھی چلا جائے وہ جب واپس آئے گا، گدھے کا گدھا ہی رہے گا۔)
عالمگیر یہ شعر سن کر خوش ہوگیا اور برہمن کو معاف کردیا۔
--------
جوش ملیح آبادی ایک دفعہ علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے، ملاقاتی کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ علامہ اقبال کے سامنے قرآن پاک رکھا ہے اور وہ زار و قطار رو رہے ہیں۔
یہ دیکھ کر جوش نے بڑی معصومیت سے کہا۔
"علامہ صاحب، کیا کوئی وکیل قانون کی کتاب پڑھتے ہوئے بھی روتا ہے۔"
یہ سن کر علامہ ہنس پڑے۔
--------
اخبار "وطن" کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان کے علامہ اقبال سے دوستانہ تعلقات تھے، اور وہ علامہ کی اس دور کی قیام گاہ واقع انار کلی بازار لاہور اکثر حاضر ہوا کرتے تھے، اس دور میں انارکلی بازار میں گانے والیاں آباد تھیں۔ انہی دنوں میونسپل کمیٹی نے گانے والیوں کو انارکلی سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
ان ایام میں جب بھی مولوی صاحب، علامہ سے ملاقات کے لئے آئے، اتفاقاً ہر بار یہی پتہ چلا کہ علامہ گھر پر تشریف نہیں رکھتے، باہر گئے ہوئے ہیں۔
ایک روز مولوی انشاء اللہ پہنچے تو علامہ گھر پر موجود تھے، مولوی صاحب نے ازراہِ مذاق کہا۔
"ڈاکٹر صاحب جب سے گانے والیاں انارکلی سے دوسری جگہ منتقل ہوئی ہیں، آپ کا دل بھی اپنے گھر میں نہیں لگتا۔"
علامہ نے فوراً جواب دیا۔
"مولوی صاحب، آخر انکا کیوں نہ خیال کیا جائے، وہ بھی تو "وطن" کی بہنیں ہیں۔"
--------
غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔
مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو
مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔
--------
سعادت حسن منٹو کے ایک دوست نے ایک دن ان س کہا۔
"منٹو صاحب، پچھلی بار جب آپ سے ملاقات ہوئی تھی تو آپ سے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی تھی کہ آپ نے مے نوشی سے توبہ کرلی ہے، لیکن آج مجھے یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے کہ آج آپ نے پھر پی ہوئی ہے۔"
منٹو نے جواب دیا۔
"بھئی تم درست کہہ رہے ہو، اُس دن اور آج کے دن میں فرق صرف یہ ہے کہ اُس دن تم خوش تھے اور آج میں خوش ہوں۔"
--------
آغا حشر کاشمیری کے شناساؤں میں ایک ایسے مولوی صاحب بھی تھے جنکی فارسی دانی کو ایرانی بھی تسلیم کرتے تھے، لیکن یہ اتفاق تھا کہ مولوی صاحب بیکاری کے ہاتھوں سخت پریشان تھے، اچانک ایک روز آغا صاحب کو پتہ چلا کہ ایک انگریز افسر کو فارسی سیکھنے کیلئے اتالیق درکار ہے۔ آغا صاحب نے بمبئی کے ایک معروف رئیس کے توسط سے مولوی صاحب کو اس انگریز کے ہاں بھجوا دیا، صاحب بہادر نے مولوی صاحب سے کہا۔
"ویل مولوی صاحب ہم کو پتہ چلتا کہ آپ بہت اچھا فارسی جانتا ہے۔"
مولوی صاحب نے انکساری سے کام لیتے ہوئے کہا۔ "حضور کی بندہ پروری ہے ورنہ میں فارسی سے کہاں واقف ہوں۔"
صاحب بہادر نے یہ سنا تو مولوی صاحب کو تو خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے رخصت کر دیا، لیکن اس رئیس سے یہ شکایت کی انہوں نے سوچے سمجھے بغیر ایک ایسے آدمی کو فارسی پڑھانے کیلئے بھیج دیا جو فارسی کا ایک لفظ تک نہیں جانتا تھا۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
ان ایام میں دہلی میں اس زمانہ کے نامور شاعر بھان چندر برہمن اور میر ناصر علی سرہندی بھی موجود تھے۔ نواب ذوالفقار علی خان، ناظمِ سرہند کی سفارش پر برہمن اور میر ناصر کو شاہی محل میں اورنگزیب کے روبرو پیش کیا گیا۔ سب سے پہلے برہمن کو اپنا کلام سنانے کا حکم ہوا، برہمن نے تعمیلِ حکم میں جو غزل پڑھی، اسکا مقطع تھا۔
مرا دلیست بکفر آشنا کہ چندیں بار
بکعبہ بُردم و بازم برہمن آوردم
(میرا دل اسقدر کفر آشنا ہے کہ میں جتنی بار بھی کعبہ گیا برہمن کا برہمن ہی واپس آیا۔)
گو یہ محض شاعرانہ خیال تھا اور تخلص کی رعایت کے تحت کہا گیا تھا لیکن عالمگیر انتہائی پابند شرع اور سخت گیر بادشاہ تھا، اسکی تیوری چڑھ گئی اور وہ برہمن کی طرف سے منہ پھیر کے بیٹھ گیا۔
میر ناصر علی نے اس صورتِ حال پر قابو پانے کیلئے اٹھ کر عرض کی کہ جہاں پناہ اگر برہمن مکہ جانے کے باوجود برہمن ہی رہتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، شیخ سعدی بھی تو یہی کہہ گئے ہیں۔۔
خرِ عیسٰی اگر بمکہ رود
چوں بیاید ہنوز خر باشد
(عیسٰی کا گدھا اگر مکہ بھی چلا جائے وہ جب واپس آئے گا، گدھے کا گدھا ہی رہے گا۔)
عالمگیر یہ شعر سن کر خوش ہوگیا اور برہمن کو معاف کردیا۔
--------
جوش ملیح آبادی ایک دفعہ علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے، ملاقاتی کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ علامہ اقبال کے سامنے قرآن پاک رکھا ہے اور وہ زار و قطار رو رہے ہیں۔
یہ دیکھ کر جوش نے بڑی معصومیت سے کہا۔
"علامہ صاحب، کیا کوئی وکیل قانون کی کتاب پڑھتے ہوئے بھی روتا ہے۔"
یہ سن کر علامہ ہنس پڑے۔
--------
اخبار "وطن" کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان کے علامہ اقبال سے دوستانہ تعلقات تھے، اور وہ علامہ کی اس دور کی قیام گاہ واقع انار کلی بازار لاہور اکثر حاضر ہوا کرتے تھے، اس دور میں انارکلی بازار میں گانے والیاں آباد تھیں۔ انہی دنوں میونسپل کمیٹی نے گانے والیوں کو انارکلی سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
ان ایام میں جب بھی مولوی صاحب، علامہ سے ملاقات کے لئے آئے، اتفاقاً ہر بار یہی پتہ چلا کہ علامہ گھر پر تشریف نہیں رکھتے، باہر گئے ہوئے ہیں۔
ایک روز مولوی انشاء اللہ پہنچے تو علامہ گھر پر موجود تھے، مولوی صاحب نے ازراہِ مذاق کہا۔
"ڈاکٹر صاحب جب سے گانے والیاں انارکلی سے دوسری جگہ منتقل ہوئی ہیں، آپ کا دل بھی اپنے گھر میں نہیں لگتا۔"
علامہ نے فوراً جواب دیا۔
"مولوی صاحب، آخر انکا کیوں نہ خیال کیا جائے، وہ بھی تو "وطن" کی بہنیں ہیں۔"
--------
غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔
مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو
مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔
--------
سعادت حسن منٹو کے ایک دوست نے ایک دن ان س کہا۔
"منٹو صاحب، پچھلی بار جب آپ سے ملاقات ہوئی تھی تو آپ سے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی تھی کہ آپ نے مے نوشی سے توبہ کرلی ہے، لیکن آج مجھے یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے کہ آج آپ نے پھر پی ہوئی ہے۔"
منٹو نے جواب دیا۔
"بھئی تم درست کہہ رہے ہو، اُس دن اور آج کے دن میں فرق صرف یہ ہے کہ اُس دن تم خوش تھے اور آج میں خوش ہوں۔"
--------
آغا حشر کاشمیری کے شناساؤں میں ایک ایسے مولوی صاحب بھی تھے جنکی فارسی دانی کو ایرانی بھی تسلیم کرتے تھے، لیکن یہ اتفاق تھا کہ مولوی صاحب بیکاری کے ہاتھوں سخت پریشان تھے، اچانک ایک روز آغا صاحب کو پتہ چلا کہ ایک انگریز افسر کو فارسی سیکھنے کیلئے اتالیق درکار ہے۔ آغا صاحب نے بمبئی کے ایک معروف رئیس کے توسط سے مولوی صاحب کو اس انگریز کے ہاں بھجوا دیا، صاحب بہادر نے مولوی صاحب سے کہا۔
"ویل مولوی صاحب ہم کو پتہ چلتا کہ آپ بہت اچھا فارسی جانتا ہے۔"
مولوی صاحب نے انکساری سے کام لیتے ہوئے کہا۔ "حضور کی بندہ پروری ہے ورنہ میں فارسی سے کہاں واقف ہوں۔"
صاحب بہادر نے یہ سنا تو مولوی صاحب کو تو خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے رخصت کر دیا، لیکن اس رئیس سے یہ شکایت کی انہوں نے سوچے سمجھے بغیر ایک ایسے آدمی کو فارسی پڑھانے کیلئے بھیج دیا جو فارسی کا ایک لفظ تک نہیں جانتا تھا۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Oct 3, 2011
مولانا ابوالکلام آزاد کے چند اشعار اور ایک نایاب تصویر
امام الہند مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد کا عہد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا نازک ترین عہد تھا اور اسی عہد کی "نازک مزاجیوں" کی وجہ سے مولانا کی مذہبی و علمی و ادبی حیثیت پس پردہ چلی گئی حالانکہ مولانا کو سولہ سترہ برس کی عمر ہی میں مولانا کہا جانا شروع ہو گیا تھا۔ خیر یہ مولانا کی سیاست پر بحث کرنے کا محل نہیں ہے کہ مقصود نظر مولانا کے چند اشعار پیش کرنا ہیں۔
مولانا لڑکپن میں اشعار کہا کرتے تھے اور آزاد تخلص کرتے تھے، شاید بعد میں اشعار کہنا ترک فرما دیے تھے یا انکی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ شاعری کیلیے وقت نہیں ملا لیکن تخلص انکے نام کا جزوِ لاینفک ضرور بن گیا۔ مولانا کی خودنوشت سوانح "آزاد کی کہانی، آزاد کی زبانی" میں انکے چند اشعار شامل ہیں وہی لکھ رہا ہوں، اگر دوستوں کے علم میں مولانا آزاد کے مزید اشعار ہو تو لکھ کر شکریہ کا موقع دیں۔
سب سے پہلے مولانا کی ایک رباعی جو مذکورہ کتاب کے مرتب مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے دیباچے میں لکھی ہے اور کیا خوبصورت رباعی ہے۔
تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی
اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ و روپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی
اور ایک غزل کے تین اشعار جو اسی کتاب کے متن میں مولانا نے خود تحریر فرمائے ہیں۔
نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
گنبد ہے گرد بار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ مری قبر نہیں سائبان کی
آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی
ایک مزید شعر اسی کتاب میں سے
سب لوگ جدھر ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
اور اب مولانا کی ایّامِ جوانی کی ایک تصویر۔ یہ تصویر انکی کتاب "تذکرہ " کی اشاعتِ اوّل 1919ء میں شامل ہوئی تھی، مولانا اس تصویر کی اشاعت کیلیے راضی نہیں تھے لیکن کتاب کے مرتب فضل الدین احمد مرزا نے مولانا کی اجازت کے بغیر اس تصویر کو مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کر دیا تھا۔
"بہرحال مولانا کے اس حکم کی میں تعمیل نہ کر سکا اور کتاب کے ساتھ اُن کا سب سے آخری فوٹو شائع کر رہا ہوں، یہ فوٹو رانچی میں لیا گیا ہے اور مولانا کی بریّت کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ کم سے کم اس کے کھنچوانے میں خود مولانا کے ارادے کو کچھ دخل نہ تھا، وہ بالکل مجبور تھے۔"
اس داخلی شہادت سے اس تصویر میں مولانا کی عمر کا بھی تعین ہو جاتا ہے۔ مولانا 1916ء میں رانچی گئے تھے اور یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی جبکہ مولانا وہیں تھے سو اس تصویر میں مولانا کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے۔
تصویر ملاحظہ کیجیے۔ مولانا آزاد کی کتب اس ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہیں۔ اور اسی ویب سائت سے یہ تصویر حاصل کی ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔
مولانا لڑکپن میں اشعار کہا کرتے تھے اور آزاد تخلص کرتے تھے، شاید بعد میں اشعار کہنا ترک فرما دیے تھے یا انکی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ شاعری کیلیے وقت نہیں ملا لیکن تخلص انکے نام کا جزوِ لاینفک ضرور بن گیا۔ مولانا کی خودنوشت سوانح "آزاد کی کہانی، آزاد کی زبانی" میں انکے چند اشعار شامل ہیں وہی لکھ رہا ہوں، اگر دوستوں کے علم میں مولانا آزاد کے مزید اشعار ہو تو لکھ کر شکریہ کا موقع دیں۔
سب سے پہلے مولانا کی ایک رباعی جو مذکورہ کتاب کے مرتب مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے دیباچے میں لکھی ہے اور کیا خوبصورت رباعی ہے۔
تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی
اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ و روپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی
اور ایک غزل کے تین اشعار جو اسی کتاب کے متن میں مولانا نے خود تحریر فرمائے ہیں۔
نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
گنبد ہے گرد بار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ مری قبر نہیں سائبان کی
آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی
ایک مزید شعر اسی کتاب میں سے
سب لوگ جدھر ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
اور اب مولانا کی ایّامِ جوانی کی ایک تصویر۔ یہ تصویر انکی کتاب "تذکرہ " کی اشاعتِ اوّل 1919ء میں شامل ہوئی تھی، مولانا اس تصویر کی اشاعت کیلیے راضی نہیں تھے لیکن کتاب کے مرتب فضل الدین احمد مرزا نے مولانا کی اجازت کے بغیر اس تصویر کو مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کر دیا تھا۔
"بہرحال مولانا کے اس حکم کی میں تعمیل نہ کر سکا اور کتاب کے ساتھ اُن کا سب سے آخری فوٹو شائع کر رہا ہوں، یہ فوٹو رانچی میں لیا گیا ہے اور مولانا کی بریّت کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ کم سے کم اس کے کھنچوانے میں خود مولانا کے ارادے کو کچھ دخل نہ تھا، وہ بالکل مجبور تھے۔"
اس داخلی شہادت سے اس تصویر میں مولانا کی عمر کا بھی تعین ہو جاتا ہے۔ مولانا 1916ء میں رانچی گئے تھے اور یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی جبکہ مولانا وہیں تھے سو اس تصویر میں مولانا کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے۔
تصویر ملاحظہ کیجیے۔ مولانا آزاد کی کتب اس ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہیں۔ اور اسی ویب سائت سے یہ تصویر حاصل کی ہے۔
![]() |
| مولانا آزاد ایّامِ جوانی میں Maulana Abul Kalam Azad |
![]() |
| مولانا ابوالکلام آزاد - تصویر شائع شدہ "تذکرہ" اشاعتِ اوّل 1919ء Maulana Abul Kalam Azad |
![]() |
| سرورق "تذکرہ" اشاعتِ اوّل - 1919ء |
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Sep 29, 2011
جس دن سے حرام ہو گئی ہے - ریاض خیر آبادی
ریاض خیرآبادی اردو شاعری میں خمریات کے امام ہیں، حالانکہ وہ انتہائی پابندِ شرع بزرگ تھے اور انکے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ساری زندگی میں مے نوشی تو دُور کی بات ہے انہوں نے شاید شراب دیکھی بھی نہ ہوگی۔ مولانا کی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔
جس دن سے حرام ہو گئی ہے
مے، خلد مقام ہو گئی ہے
توبہ سے ہماری بوتل اچھّی
جب ٹوٹی ہے، جام ہو گئی ہے
قابو میں ہے ان کے وصل کا دن
جب آئے ہیں شام ہو گئی ہے
آتے ہی قیامت اس گلی میں
پامالِ خرام ہو گئی ہے
مے نوش ضرور ہیں وہ نا اہل
جن پر یہ حرام ہو گئی ہے
بجھ بجھ کے جلی تھی قبر پر شمع
جل جل کے تمام ہو گئی ہے
ہر بات میں ہونٹ پر ہے دشنام
اب حسنِ کلام ہو گئی ہے
-----
بحر - ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
افاعیل - مفعول مفاعلن فعولن
اس بحر میں تسکین اوسط زخاف کی مدد سے ایک اور وزن بھی حاصل ہوتا ہے جو "مفعولن فاعلن فعولن" ہے اور بذاتِ خود ایک علیحدہ بحر ہے۔ اس بحر میں ان دونوں اوزان کا ایک شعر میں اجتماع جائز ہے۔
اشاری نظام - 122 2121 221
یا 222 212 221
دونوں کا اجتماع جائز ہے۔
ہندسوں کو اردو طررِ تحریر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے۔
تقطیع -
جس دن سے حرام ہو گئی ہے
مے، خلد مقام ہو گئی ہے
جس دن سِ - مفعول -122
حرام ہو - مفاعلن - 2121
گئی ہے - فعولن - 221
مے خلد - مفعول - 122
مقام ہو - مفاعلن - 2121
گئی ہے - فعولن - 221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
جس دن سے حرام ہو گئی ہے
مے، خلد مقام ہو گئی ہے
![]() |
| مولانا ریاض خیر آبادی Maulana Riaz Khairabadi |
جب ٹوٹی ہے، جام ہو گئی ہے
جب آئے ہیں شام ہو گئی ہے
آتے ہی قیامت اس گلی میں
پامالِ خرام ہو گئی ہے
مے نوش ضرور ہیں وہ نا اہل
جن پر یہ حرام ہو گئی ہے
بجھ بجھ کے جلی تھی قبر پر شمع
جل جل کے تمام ہو گئی ہے
ہر بات میں ہونٹ پر ہے دشنام
اب حسنِ کلام ہو گئی ہے
-----
بحر - ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
افاعیل - مفعول مفاعلن فعولن
اس بحر میں تسکین اوسط زخاف کی مدد سے ایک اور وزن بھی حاصل ہوتا ہے جو "مفعولن فاعلن فعولن" ہے اور بذاتِ خود ایک علیحدہ بحر ہے۔ اس بحر میں ان دونوں اوزان کا ایک شعر میں اجتماع جائز ہے۔
اشاری نظام - 122 2121 221
یا 222 212 221
دونوں کا اجتماع جائز ہے۔
ہندسوں کو اردو طررِ تحریر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے۔
تقطیع -
جس دن سے حرام ہو گئی ہے
مے، خلد مقام ہو گئی ہے
جس دن سِ - مفعول -122
حرام ہو - مفاعلن - 2121
گئی ہے - فعولن - 221
مے خلد - مفعول - 122
مقام ہو - مفاعلن - 2121
گئی ہے - فعولن - 221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Sep 26, 2011
نوائے سروش
شعراء اور اُدَبا کرام کی لطیف اور دلچسپ باتوں، اور واقعات، کتب سے دلچسپ اقتباسات وغیرہ کے حوالے سے ایک مستقل سلسلہ "نوائے سروش" کے عنوان سے شروع کر رہا ہوں۔
------
مولانا عبدالرحمٰن جامی مشہور فارسی شاعر اور صوفی بزرگ تھے اور عوام الناس کے ساتھ ساتھ صوفی منش لوگ بھی انکی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے۔
ایک دفعہ ایک مہمل گو شاعر جس کا حلیہ صوفیوں جیسا تھا، انکی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے سفرِ حجاز کی طویل داستان کے ساتھ ساتھ ان کو اپنے دیوان سے مہمل شعر بھی سنانے لگا، اور پھر بولا۔
"میں نے خانہٴ کعبہ پہنچ کر برکت کے خیال سے اپنے دیوان کو حجرِ اسود پر ملا تھا۔"
یہ سن کر مولانا جامی مسکرائے اور فرمایا۔
"حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ تم اپنے دیوان کو آبِ زم زم میں دھوتے۔"
--------
ایک شخص نے سر سید کو خط لکھا کہ "میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ہیں، جن کی لوگ تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کی ساری عمر قوم کی خیر خواہی اور بھلائی میں گزری، جب میری آنکھ کھلی تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ بزرگ آپ ہی ہیں، پس میری مشکل اگر حل ہوگی تو آپ ہی سے ہوگی۔"
سرسید نے اسے جواب لکھا کہ "جس باب میں آپ سفارش چاہتے ہیں اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جس کو آپ نے خواب میں دیکھا تھا وہ غالباً شیطان تھا"۔
--------
کنور مہندر سنگھ بیدی جن دنوں دہلی کے مجسڑیٹ تھے، ان کی عدالت میں چوری کے جرم میں گرفتار کئے گئے ایک نوجوان کو پیش کیا گیا۔
کنور صاحب نے نوجوان کی شکل دیکتھے ہوئے کہا۔
"میں ملزم کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، ہتھکڑیاں کھول دو، یہ بیچارہ تو ایک شاعر ہے، شعر چرانے کے علاوہ کوئی اور چوری کرنا اسکے بس کا روگ نہیں۔"
-----
"ایک شخص نے آپ [شاہ عبدالعزیز فرزند شاہ ولی اللہ] سے مسئلہ پوچھا کہ مولوی صاحب، یہ طوائف یعنی کسبی عورتیں مرتی ہیں تو انکے جنازے کی نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جو مرد انکے آشنا ہیں، انکی نمازِ جنازہ پڑھتے ہو یا نہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں پڑھتے ہیں۔ حضرت نے کہا تو پھر انکی بھی پڑھ لیا کرو۔"
(بحوالہ رودِ کوثر از شیخ محمد اکرام)
-----
مرزا غالب نے ایک کتاب "قاطع برہان" لکھی، اسکا جواب اکثر مصنفوں نے دیا، ان میں سے بعض کے جواب مرزا نے بھی لکھے اور ان میں زیادہ تر شوخی اور ظرافت سے کام لیا لیکن مولوی امین الدین کی کتاب "قاطع قاطع" کا جواب مرزا نے کچھ نہیں دیا کیونکہ اس میں فحش اور ناشائستہ الفاظ کثرت سے لکھے تھے۔
کسی نے کہا۔ "حضرت آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں لکھا۔"
مرزا نے جواب دیا۔ "اگر کوئی گدھا تمھارے لات مار دے تو کیا تم بھی اس کے لات مارو گے؟"
------
جوش ملیح آبادی کے صاحبزادے سجّاد کی شادی کی خوشی میں ایک بے تکلف محفل منقعد ہوئی جس میں جوش کے دیگر دوستوں کے ساتھ ساتھ انکے جگری دوست ابن الحسن فکر بھی موجود تھے۔
ایک طوائف نے جب بڑے سُریلے انداز میں جوش صاحب کی ہی ایک غزل گانی شروع کی تو فکر صاحب بولے:
"اب غزل تو یہ گائیں گی، اور جب داد ملے گی تو سلام جوش صاحب کریں گے۔"
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
------
مولانا عبدالرحمٰن جامی مشہور فارسی شاعر اور صوفی بزرگ تھے اور عوام الناس کے ساتھ ساتھ صوفی منش لوگ بھی انکی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے۔
ایک دفعہ ایک مہمل گو شاعر جس کا حلیہ صوفیوں جیسا تھا، انکی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے سفرِ حجاز کی طویل داستان کے ساتھ ساتھ ان کو اپنے دیوان سے مہمل شعر بھی سنانے لگا، اور پھر بولا۔
"میں نے خانہٴ کعبہ پہنچ کر برکت کے خیال سے اپنے دیوان کو حجرِ اسود پر ملا تھا۔"
یہ سن کر مولانا جامی مسکرائے اور فرمایا۔
"حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ تم اپنے دیوان کو آبِ زم زم میں دھوتے۔"
--------
ایک شخص نے سر سید کو خط لکھا کہ "میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ہیں، جن کی لوگ تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کی ساری عمر قوم کی خیر خواہی اور بھلائی میں گزری، جب میری آنکھ کھلی تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ بزرگ آپ ہی ہیں، پس میری مشکل اگر حل ہوگی تو آپ ہی سے ہوگی۔"
سرسید نے اسے جواب لکھا کہ "جس باب میں آپ سفارش چاہتے ہیں اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جس کو آپ نے خواب میں دیکھا تھا وہ غالباً شیطان تھا"۔
--------
کنور مہندر سنگھ بیدی جن دنوں دہلی کے مجسڑیٹ تھے، ان کی عدالت میں چوری کے جرم میں گرفتار کئے گئے ایک نوجوان کو پیش کیا گیا۔
کنور صاحب نے نوجوان کی شکل دیکتھے ہوئے کہا۔
"میں ملزم کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، ہتھکڑیاں کھول دو، یہ بیچارہ تو ایک شاعر ہے، شعر چرانے کے علاوہ کوئی اور چوری کرنا اسکے بس کا روگ نہیں۔"
-----
"ایک شخص نے آپ [شاہ عبدالعزیز فرزند شاہ ولی اللہ] سے مسئلہ پوچھا کہ مولوی صاحب، یہ طوائف یعنی کسبی عورتیں مرتی ہیں تو انکے جنازے کی نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جو مرد انکے آشنا ہیں، انکی نمازِ جنازہ پڑھتے ہو یا نہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں پڑھتے ہیں۔ حضرت نے کہا تو پھر انکی بھی پڑھ لیا کرو۔"
(بحوالہ رودِ کوثر از شیخ محمد اکرام)
-----
مرزا غالب نے ایک کتاب "قاطع برہان" لکھی، اسکا جواب اکثر مصنفوں نے دیا، ان میں سے بعض کے جواب مرزا نے بھی لکھے اور ان میں زیادہ تر شوخی اور ظرافت سے کام لیا لیکن مولوی امین الدین کی کتاب "قاطع قاطع" کا جواب مرزا نے کچھ نہیں دیا کیونکہ اس میں فحش اور ناشائستہ الفاظ کثرت سے لکھے تھے۔
کسی نے کہا۔ "حضرت آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں لکھا۔"
مرزا نے جواب دیا۔ "اگر کوئی گدھا تمھارے لات مار دے تو کیا تم بھی اس کے لات مارو گے؟"
------
جوش ملیح آبادی کے صاحبزادے سجّاد کی شادی کی خوشی میں ایک بے تکلف محفل منقعد ہوئی جس میں جوش کے دیگر دوستوں کے ساتھ ساتھ انکے جگری دوست ابن الحسن فکر بھی موجود تھے۔
ایک طوائف نے جب بڑے سُریلے انداز میں جوش صاحب کی ہی ایک غزل گانی شروع کی تو فکر صاحب بولے:
"اب غزل تو یہ گائیں گی، اور جب داد ملے گی تو سلام جوش صاحب کریں گے۔"
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Sep 22, 2011
ثلاثی - حمایت علی شاعر
ثلاثی - حمایت علی شاعر
نیچے دیے گئے پہلے تین ثلاثی (شاعر، انتباہ اور ارتقا) "فنون" لاہور، اشاعت خاص نمبر 2، جولائی 1963ء میں حمایت علی شاعر صاحب کے اس نوٹ کے ساتھ شائع ہوئے تھے۔
"تین مصرعوں کی نظموں کے لیے میں نے ایک نیا نام "تثلیث"(مثلث کی رعایت سے) تجویز کیا تھا لیکن مدیرانِ "فنون" [احمد ندیم قاسمی اور حبیب اشعر دہلوی] کے مشوروں کی روشنی میں اس کا نام "ثلاثی" منتخب کیا ہے۔ شاعر"۔
اس تحریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حمایت علی شاعر صنفِ ثلاثی کے موجد ہیں۔ دراصل صنفِ ثلاثی بہت حد تک اردو ہائیکو سے مماثلت رکھتی ہے لیکن ہائیکو میں کچھ بندشیں یا پابندیاں ہیں کہ وہ ہمیشہ ایک ہی وزن یا بحر میں کہے جاتے ہیں لیکن ثلاثی کسی بھی بحر میں کہے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے حمایت علی شاعر کے وہ تین ثلاثی جو "فنون" میں شائع ہوئے تھے۔
شاعر
ہر موجِ بحر میں کئی طوفاں ہیں مشتعل
پھر بھی رواں ہوں ساحلِ بے نام کی طرف
لفظوں کی کشتیوں میں سجائے متاعِ دل
انتباہ
کہہ دو یہ ہوا سے کہ وہ یہ بات نہ بھُولے
جم جائیں تو بن جاتے ہیں اک کوہِ گراں بھی
ویرانوں میں اُڑتے ہوئے خاموش بگُولے
ارتقا
یہ اوج، بے فراز ہے آوارہ بادلو
کونپل نے سر اُٹھا کے بڑے فخر سے کہا
پاؤں زمیں میں گاڑ کے سُوئے فلک چلو
حمایت علی شاعر صاحب کے کچھ مزید ثلاثی
یقین
دشوار تو ضرور ہے، یہ سہل تو نہیں
ہم پر بھی کھل ہی جائیں گے اسرارِ شہرِ علم
ہم ابنِ جہل ہی سہی، بو جہل تو نہیں
ابن الوقت
سورج تھا سر بلند تو محوِ نیاز تھے
سورج ڈھلا تو دل کی سیاہی تو دیدنی
کوتاہ قامتوں کے بھی سائے دراز تھے
کرسی
جنگل کا خوں خوار درندہ کل تھا مرا ہمسایہ
اپنی جان بچانے میں جنگل سے شہر میں آیا
شہر میں بھی ہے میرے خون کا پیاسا اک چوپایہ
الہام
کوئی تازہ شعر اے ربّ ِ جلیل
ذہن کے غارِ حرا میں کب سے ہے
فکر محوِ انتظارِ جبرئیل
نمائش
قرآں، خدا، رسول ہے سب کی زبان پر
ہر لفظ آج یوں ہے معانی سے بے نیاز
لکھی ہو جیسے نام کی تختی مکان پر
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
نیچے دیے گئے پہلے تین ثلاثی (شاعر، انتباہ اور ارتقا) "فنون" لاہور، اشاعت خاص نمبر 2، جولائی 1963ء میں حمایت علی شاعر صاحب کے اس نوٹ کے ساتھ شائع ہوئے تھے۔
"تین مصرعوں کی نظموں کے لیے میں نے ایک نیا نام "تثلیث"(مثلث کی رعایت سے) تجویز کیا تھا لیکن مدیرانِ "فنون" [احمد ندیم قاسمی اور حبیب اشعر دہلوی] کے مشوروں کی روشنی میں اس کا نام "ثلاثی" منتخب کیا ہے۔ شاعر"۔
![]() |
| حمایت علی شاعر - موجدِ ثلاثی Himayat Ali Shair |
سب سے پہلے حمایت علی شاعر کے وہ تین ثلاثی جو "فنون" میں شائع ہوئے تھے۔
شاعر
ہر موجِ بحر میں کئی طوفاں ہیں مشتعل
پھر بھی رواں ہوں ساحلِ بے نام کی طرف
لفظوں کی کشتیوں میں سجائے متاعِ دل
انتباہ
کہہ دو یہ ہوا سے کہ وہ یہ بات نہ بھُولے
جم جائیں تو بن جاتے ہیں اک کوہِ گراں بھی
ویرانوں میں اُڑتے ہوئے خاموش بگُولے
ارتقا
یہ اوج، بے فراز ہے آوارہ بادلو
کونپل نے سر اُٹھا کے بڑے فخر سے کہا
پاؤں زمیں میں گاڑ کے سُوئے فلک چلو
حمایت علی شاعر صاحب کے کچھ مزید ثلاثی
یقین
دشوار تو ضرور ہے، یہ سہل تو نہیں
ہم پر بھی کھل ہی جائیں گے اسرارِ شہرِ علم
ہم ابنِ جہل ہی سہی، بو جہل تو نہیں
ابن الوقت
سورج تھا سر بلند تو محوِ نیاز تھے
سورج ڈھلا تو دل کی سیاہی تو دیدنی
کوتاہ قامتوں کے بھی سائے دراز تھے
کرسی
جنگل کا خوں خوار درندہ کل تھا مرا ہمسایہ
اپنی جان بچانے میں جنگل سے شہر میں آیا
شہر میں بھی ہے میرے خون کا پیاسا اک چوپایہ
الہام
کوئی تازہ شعر اے ربّ ِ جلیل
ذہن کے غارِ حرا میں کب سے ہے
فکر محوِ انتظارِ جبرئیل
نمائش
قرآں، خدا، رسول ہے سب کی زبان پر
ہر لفظ آج یوں ہے معانی سے بے نیاز
لکھی ہو جیسے نام کی تختی مکان پر
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو نظم,
ثلاثی,
حمایت علی شاعر
Sep 19, 2011
سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ
مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے اپنی شاہکار “کوثر سیریز” کی آخری کتاب “موجِ کوثر” میں سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل کے پانچ اشعار دیے ہیں سو وہ ترجمے کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب نے یہ اشعار سر سید کا مذہبی جوش و ولولہ دکھانے کیلیئے دیئے ہیں اور کیا سچ بات کہی ہے شیخ صاحب نے لیکن شاعرانہ نکتہ نظر سے بھی ان اشعار میں سر سید کا زورِ بیان اور صنعتوں کا کمال دیکھیئے، زور بیانِ میں تو یہ اشعار بڑے بڑے کلاسیکی فارسی اساتذہ کے کلام سے لگّا کھاتے ہیں۔
فلاطوں طِفلَکے باشَد بہ یُونانے کہ مَن دارَم
مَسیحا رشک می آرَد ز دَرمانے کہ مَن دارَم
(افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں)
خُدا دارَم دِلے بِریاں ز عشقِ مُصطفٰی دارَم
نَدارَد ھیچ کافر ساز و سامانے کہ مَن دارَم
(میں خدا رکھتا ہوں کہ جلے ہوے دل میں عشقِ مصطفٰی (ص) رکھتا ہوں، کوئی کافر بھی ایسا کچھ ساز و سامان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے)
ز جبریلِ امیں قُرآں بہ پیغامے نمی خواھَم
ہمہ گفتارِ معشوق است قرآنے کہ مَن دارَم
(جبریلِ امین سے پیغام کے ذریعے قرآن کی خواہش نہیں ہے، وہ تو سراسر محبوب (ص) کی گفتار ہے جو قرآن کہ میں رکھتا ہوں)۔
فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ہزاراں ایں چُنیں دارَد گریبانے کہ مَن دَارم
آسمان اس تمام شان و شوکت کے ساتھ فقط سورج کا ایک مطلع رکھتا ہے جب کہ اس (مطلع خورشید) جیسے ہزاروں میرے گریبان میں ہیں۔
ز بُرہاں تا بہ ایماں سنگ ھا دارَد رہِ واعظ
نَدارَد ھیچ واعظ ہمچو بُرہانے کہ مَن دارَم
واعظ کی دلیل و عقل سے ایمان تک کی راہ پتھروں سے بھری پڑی ہے لیکن کوئی واعظ اس جیسی برہان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔
(سر سید احمد خان)
——–
بحر - بحر ہزج مثمن سالم
افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
تقطیع -
فلاطوں طفلکے باشد بہ یُونانے کہ من دارَم
مسیحا رشک می آرد ز درمانے کہ من دارم
فلاطو طف - مفاعیلن - 2221
لَکے باشد - مفاعیلن - 2221
بَ یونانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221
مسیحا رش - مفاعیلن - 2221
ک می آرد - مفاعیلن - 2221
ز درمانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
شیخ صاحب نے یہ اشعار سر سید کا مذہبی جوش و ولولہ دکھانے کیلیئے دیئے ہیں اور کیا سچ بات کہی ہے شیخ صاحب نے لیکن شاعرانہ نکتہ نظر سے بھی ان اشعار میں سر سید کا زورِ بیان اور صنعتوں کا کمال دیکھیئے، زور بیانِ میں تو یہ اشعار بڑے بڑے کلاسیکی فارسی اساتذہ کے کلام سے لگّا کھاتے ہیں۔
![]() |
| Sir Syyed Ahmed Khan, سر سید احمد خان |
مَسیحا رشک می آرَد ز دَرمانے کہ مَن دارَم
(افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں)
خُدا دارَم دِلے بِریاں ز عشقِ مُصطفٰی دارَم
نَدارَد ھیچ کافر ساز و سامانے کہ مَن دارَم
(میں خدا رکھتا ہوں کہ جلے ہوے دل میں عشقِ مصطفٰی (ص) رکھتا ہوں، کوئی کافر بھی ایسا کچھ ساز و سامان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے)
ز جبریلِ امیں قُرآں بہ پیغامے نمی خواھَم
ہمہ گفتارِ معشوق است قرآنے کہ مَن دارَم
(جبریلِ امین سے پیغام کے ذریعے قرآن کی خواہش نہیں ہے، وہ تو سراسر محبوب (ص) کی گفتار ہے جو قرآن کہ میں رکھتا ہوں)۔
فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
ہزاراں ایں چُنیں دارَد گریبانے کہ مَن دَارم
آسمان اس تمام شان و شوکت کے ساتھ فقط سورج کا ایک مطلع رکھتا ہے جب کہ اس (مطلع خورشید) جیسے ہزاروں میرے گریبان میں ہیں۔
ز بُرہاں تا بہ ایماں سنگ ھا دارَد رہِ واعظ
نَدارَد ھیچ واعظ ہمچو بُرہانے کہ مَن دارَم
واعظ کی دلیل و عقل سے ایمان تک کی راہ پتھروں سے بھری پڑی ہے لیکن کوئی واعظ اس جیسی برہان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔
(سر سید احمد خان)
——–
بحر - بحر ہزج مثمن سالم
افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
تقطیع -
فلاطوں طفلکے باشد بہ یُونانے کہ من دارَم
مسیحا رشک می آرد ز درمانے کہ من دارم
فلاطو طف - مفاعیلن - 2221
لَکے باشد - مفاعیلن - 2221
بَ یونانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221
مسیحا رش - مفاعیلن - 2221
ک می آرد - مفاعیلن - 2221
ز درمانے - مفاعیلن - 2221
کِ من دارم - مفاعیلن - 2221
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
بحر ہزج,
بحر ہزج مثمن سالم,
تقطیع,
سر سید احمد خان,
شیخ محمد اکرام,
فارسی شاعری
Sep 14, 2011
مولانا رُومی کے کچھ متفرق اشعار
وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال
گر ایں کمال نَداری، کمال نقصان است
آدمی کا وجود عشق سے ہی کمال تک پہنچتا ہے، اور اگر تو یہ کمال نہیں رکھتا تو کمال (حد سے زیادہ) نقصان ہے۔
--------
مردہ بُدم زندہ شُدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم
میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔
--------
حاصلِ عُمرَم سہ سُخَن بیش نیست
خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم
میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں ہے، خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔
--------
ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر
ہر کہ اُو آگاہ تر، رُخ زرد تر
ہر وہ کہ جو زیادہ بیدار ہے اسکا درد زیادہ ہے، ہر وہ کہ جو زیادہ آگاہ ہے اسکا چہرہ زیادہ زرد ہے۔
--------
خرد نداند و حیراں شَوَد ز مذہبِ عشق
اگرچہ واقفِ باشد ز جملہ مذہب ھا
خرد، مذہبِ عشق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سو (مذہب عشق کے معاملات سے) حیران ہو جاتی ہے۔ اگرچہ خرد اور تو سب مذاہب کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے۔
--------
خدایا رحم کُن بر من، پریشاں وار می گردم
خطا کارم گنہگارم، بہ حالِ زار می گردم
اے خدا مجھ پر رحم کر کہ میں پریشان حال پھرتا ہوں، خطار کار ہوں، گنہگار ہوں اور اپنے اس حالِ زار کی وجہ سے ہی گردش میں ہوں۔
گہے خندم گہے گریم، گہے اُفتم گہے خیزم
مسیحا در دلم پیدا و من بیمار می گردم
اس شعر میں ایک بیمار کی کیفیات بیان کی ہیں جو بیم و رجا میں الجھا ہوا ہوتا ہے کہ کبھی ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں، کبھی گرتا ہوں اور کبھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ان کیفیات کو گھومنے سے تشبیہ دی ہے کہ میرے دل میں مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں بیمار اسکے گرد گھومتا ہوں۔ دل کو مرکز قرار دے کر اور اس میں ایک مسیحا بٹھا کر، بیمار اسکا طواف کرتا ہے۔
بیا جاناں عنایت کُن تو مولانائے رُومی را
غلامِ شمس تبریزم، قلندر وار می گردم
اے جاناں آ جا اور مجھ رومی پر عنایت کر، کہ میں شمس تبریز کا غلام ہوں اور دیدار کے واسطے قلندر وار گھوم رہا ہوں۔ اس زمانے میں ان سب صوفیا کو قلندر کہا جاتا تھا جو ہر وقت سفر یا گردش میں رہتے تھے۔
--------
یک دست جامِ بادہ و یک دست زلفِ یار
رقصے چنیں میانۂ میدانم آرزوست
ایک ہاتھ میں شراب کا جام ہو اور دوسرے ہاتھ میں یار کی زلف، اور اسطرح بیچ میدان کے رقص کرنے کی آرزو ہے۔
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست
کل (ایک) شیخ چراغ لیئے سارے شہر کے گرد گھوما کیا (اور کہتا رہا) کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کا آزرو مند ہوں۔
واللہ کہ شہر بے تو مرا حبس می شوَد
آوارگی و کوہ و بیابانم آرزوست
واللہ کہ تیرے بغیر شہر میرے لئے حبس (زنداں) بن گیا ہے، (اب) مجھے آوارگی اور دشت و بیابانوں کی آرزو ہے۔
--------
شاد باش اے عشقِ خوش سودائے ما
اے طبیبِ جملہ علّت ہائے ما
اے دوائے نخوت و ناموسِ ما
اے تو افلاطون و جالینوسِ ما
(مثنوی)
خوش رہ اے ہمارے اچھے جنون والے عشق، (تُو جو کہ) ہماری تمام علّتوں کا طبیب ہے۔
(تو جو کہ) ہماری نفرت اور ناموس (حاصل کرنے کی ہوس) کی دوا ہے، تو جو ہمارا افلاطون اور جالینوس ہے۔
--------
-انتہا-
مزید پڑھیے۔۔۔۔
گر ایں کمال نَداری، کمال نقصان است
آدمی کا وجود عشق سے ہی کمال تک پہنچتا ہے، اور اگر تو یہ کمال نہیں رکھتا تو کمال (حد سے زیادہ) نقصان ہے۔
--------
مردہ بُدم زندہ شُدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم
میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔
--------
![]() |
| مزار مولانا جلال الدین رُومی علیہ الرحمہ، قونیہ تُرکی Mazar Maulana Rumi |
خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم
میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں ہے، خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔
--------
ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر
ہر کہ اُو آگاہ تر، رُخ زرد تر
ہر وہ کہ جو زیادہ بیدار ہے اسکا درد زیادہ ہے، ہر وہ کہ جو زیادہ آگاہ ہے اسکا چہرہ زیادہ زرد ہے۔
--------
خرد نداند و حیراں شَوَد ز مذہبِ عشق
اگرچہ واقفِ باشد ز جملہ مذہب ھا
خرد، مذہبِ عشق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سو (مذہب عشق کے معاملات سے) حیران ہو جاتی ہے۔ اگرچہ خرد اور تو سب مذاہب کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے۔
--------
خدایا رحم کُن بر من، پریشاں وار می گردم
خطا کارم گنہگارم، بہ حالِ زار می گردم
اے خدا مجھ پر رحم کر کہ میں پریشان حال پھرتا ہوں، خطار کار ہوں، گنہگار ہوں اور اپنے اس حالِ زار کی وجہ سے ہی گردش میں ہوں۔
گہے خندم گہے گریم، گہے اُفتم گہے خیزم
مسیحا در دلم پیدا و من بیمار می گردم
اس شعر میں ایک بیمار کی کیفیات بیان کی ہیں جو بیم و رجا میں الجھا ہوا ہوتا ہے کہ کبھی ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں، کبھی گرتا ہوں اور کبھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ان کیفیات کو گھومنے سے تشبیہ دی ہے کہ میرے دل میں مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں بیمار اسکے گرد گھومتا ہوں۔ دل کو مرکز قرار دے کر اور اس میں ایک مسیحا بٹھا کر، بیمار اسکا طواف کرتا ہے۔
بیا جاناں عنایت کُن تو مولانائے رُومی را
غلامِ شمس تبریزم، قلندر وار می گردم
اے جاناں آ جا اور مجھ رومی پر عنایت کر، کہ میں شمس تبریز کا غلام ہوں اور دیدار کے واسطے قلندر وار گھوم رہا ہوں۔ اس زمانے میں ان سب صوفیا کو قلندر کہا جاتا تھا جو ہر وقت سفر یا گردش میں رہتے تھے۔
--------
یک دست جامِ بادہ و یک دست زلفِ یار
رقصے چنیں میانۂ میدانم آرزوست
ایک ہاتھ میں شراب کا جام ہو اور دوسرے ہاتھ میں یار کی زلف، اور اسطرح بیچ میدان کے رقص کرنے کی آرزو ہے۔
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست
کل (ایک) شیخ چراغ لیئے سارے شہر کے گرد گھوما کیا (اور کہتا رہا) کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کا آزرو مند ہوں۔
واللہ کہ شہر بے تو مرا حبس می شوَد
آوارگی و کوہ و بیابانم آرزوست
واللہ کہ تیرے بغیر شہر میرے لئے حبس (زنداں) بن گیا ہے، (اب) مجھے آوارگی اور دشت و بیابانوں کی آرزو ہے۔
--------
شاد باش اے عشقِ خوش سودائے ما
اے طبیبِ جملہ علّت ہائے ما
اے دوائے نخوت و ناموسِ ما
اے تو افلاطون و جالینوسِ ما
(مثنوی)
خوش رہ اے ہمارے اچھے جنون والے عشق، (تُو جو کہ) ہماری تمام علّتوں کا طبیب ہے۔
(تو جو کہ) ہماری نفرت اور ناموس (حاصل کرنے کی ہوس) کی دوا ہے، تو جو ہمارا افلاطون اور جالینوس ہے۔
--------
-انتہا-
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Sep 10, 2011
غزل - جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر
جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو
سنگِ مرمر، اُودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو
بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگر
گلشن خوشبو، کوئل کُو کُو، مستی دارُو، میں اور تُو
بانبی ناگن، چھایا آنگن، گنگھرو چھن چھن، آشا من
آنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو
راتیں مہکی، سانسیں دہکی، نظریں بہکی، رُت لہکی
پریم کھلونا، سَپَن سلونا، پھول بچھونا، وہ پہلو
تم سے دوری، یہ مجبوری، زخمِ کاری، بیداری
تنہا راتیں، سپنے کاتیں، خود سے باتیں میری خُو
(جاوید اختر)
اور یہ غزل استاد نصرت فتح علی خان کی خوبصورت آواز میں
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
سنگِ مرمر، اُودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو
بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگر
گلشن خوشبو، کوئل کُو کُو، مستی دارُو، میں اور تُو
![]() |
| جاوید اختر Javaid Akhter |
آنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو
راتیں مہکی، سانسیں دہکی، نظریں بہکی، رُت لہکی
پریم کھلونا، سَپَن سلونا، پھول بچھونا، وہ پہلو
تم سے دوری، یہ مجبوری، زخمِ کاری، بیداری
تنہا راتیں، سپنے کاتیں، خود سے باتیں میری خُو
(جاوید اختر)
اور یہ غزل استاد نصرت فتح علی خان کی خوبصورت آواز میں
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
جاوید اختر,
موسیقی,
نصرت فتخ علی خان
Sep 8, 2011
نظم - میرے گھر میں روشن رکھنا - امجد اسلام امجد
میرے گھر میں روشن رکھنا
چینی کی گُڑیا سی جب وہ
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی
میری جانب آتی ہے تو
اُس کے لبوں پر ایک ستارہ کِھلتا ہے
"پاپا"
اللہ۔ اس آواز میں کتنی راحت ہے
ننھے ننھے ہاتھ بڑھا کر جب وہ مجھ سے چُھوتی ہے تو
یوں لگتا ہے
جیسے میری رُوح کی ساری سچّائی
اس کے لمس میں جاگ اٹھتی ہے
اے مالک، اے ارض و سما کو چُٹکی میں بھر لینے والے
تیرے سب معمور خزانے
میری ایک طلب
میرا سب کچھ مجھ سے لے لے
لیکن جب تک
اس آکاش پہ تارے جلتے بُجھتے ہیں
میرے گھر میں روشن رکھنا
یہ معصوم ہنسی
اے دنیا کے رب
کوئی نہیں ہے اس لمحے تیرے میرے پاس
سچ سچ مجھ سے کہہ
تیرے ان معمور خزانوں کی بے انت گرہ میں
بچے کی معصوم ہنسی سے زیادہ پیاری شے
کیا کوئی ہے؟
(امجد اسلام امجد)
مزید پڑھیے۔۔۔۔
چینی کی گُڑیا سی جب وہ
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی
میری جانب آتی ہے تو
اُس کے لبوں پر ایک ستارہ کِھلتا ہے
"پاپا"
![]() |
| امجد اسلام امجد Amjad Islam Amjad |
ننھے ننھے ہاتھ بڑھا کر جب وہ مجھ سے چُھوتی ہے تو
یوں لگتا ہے
جیسے میری رُوح کی ساری سچّائی
اس کے لمس میں جاگ اٹھتی ہے
اے مالک، اے ارض و سما کو چُٹکی میں بھر لینے والے
تیرے سب معمور خزانے
میری ایک طلب
میرا سب کچھ مجھ سے لے لے
لیکن جب تک
اس آکاش پہ تارے جلتے بُجھتے ہیں
میرے گھر میں روشن رکھنا
یہ معصوم ہنسی
اے دنیا کے رب
کوئی نہیں ہے اس لمحے تیرے میرے پاس
سچ سچ مجھ سے کہہ
تیرے ان معمور خزانوں کی بے انت گرہ میں
بچے کی معصوم ہنسی سے زیادہ پیاری شے
کیا کوئی ہے؟
(امجد اسلام امجد)
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Sep 6, 2011
علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل - ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
زبورِ عجم میں سے علامہ اقبال کی درج ذیل غزل ایک خوبصورت غزل ہے۔ اس غزل میں ترنم ہے، شعریت ہے، اوجِ خیال ہے اور علامہ کا وہ روایتی اسلوب ہے جو اول و آخر صرف انہی سے منسوب ہے۔ اسی اسلوب کی وجہ سے ایران میں علامہ ہندوستان کے سب سے اہم فارسی شاعر سمجھے جاتے ہیں۔
ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے
میں تو (حقیقی) سلطان ہی سے نگاہ کی آرزو رکھتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں مٹی سے معبود نہیں بناتا۔
دلِ بے نیازے کہ در سینہ دارَم
گدا را دھَد شیوۂ پادشاہے
وہ بے نیاز دل جو میں اپنے سینے میں رکھتا ہوں، گدا کو بھی بادشاہ کا انداز عطا کر دیتا ہے۔
ز گردوں فتَد آنچہ بر لالۂ من
فرَوریزَم او را بہ برگِ گیاہے
آسمان سے جو کچھ بھی میرے پھول (دل) پر نازل ہوتا ہے میں اسے گھاس کے پتوں پر گرا دیتا ہوں (عام کر دیتا ہوں)۔
چو پرویں فرَو ناید اندیشۂ من
بَدریوزۂ پر توِ مہر و ماہے
میرا فکر ستاروں کی طرح نیچے نہیں آتا کہ چاند اور سورج سے روشنی کی بھیک مانگے۔
اگر آفتابے سُوئے من خرَامَد
بشوخی بگردانَم او را ز راہے
اگر سورج میری طرف آتا ہے (مجھے روشنی کی بھیک دینے) تو میں شوخی سے اسے راستہ میں ہی سے واپس کر دیتا ہوں۔
بہ آں آب و تابے کہ فطرت بہ بَخشَد
درَخشَم چو برقے بہ ابرِ سیاہے
اس آب و تاب سے جو مجھے فطرت نے بخشی ہے، میں سیاہ بادلوں پر بجلی کی طرح چمکتا ہوں۔
رہ و رسمِ فرمانروایاں شَناسَم
خراں بر سرِ بام و یوسف بچاہے
میں حکمرانوں (صاحبِ اختیار) کے راہ و رسم کو پہچانتا ہوں کہ (ان کی کج فہمی سے) گدھے چھت (سر) پر ہیں اور یوسف کنویں میں۔
--------
بحر - بحر متقارب مثمن سالم
افاعیل - فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن
اشاری نظام - 221 221 221 221
تقطیع -
ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے
ز سُل طا - فعولن - 221
کُ نَم آ - فعولن - 221
ر زو اے - فعولن - 221
نِ گا ہے - فعولن - 221
مُ سل ما - فعولن - 221
نَ مز گِل - فعولن - 221 (الفِ وصل استعمال ہوا ہے)
نَ سا زم - فعولن - 221
اِ لا ہے - فعولن - 221
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے
میں تو (حقیقی) سلطان ہی سے نگاہ کی آرزو رکھتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں مٹی سے معبود نہیں بناتا۔
![]() |
| علامہ محمد اقبال Allama Iqbal |
گدا را دھَد شیوۂ پادشاہے
وہ بے نیاز دل جو میں اپنے سینے میں رکھتا ہوں، گدا کو بھی بادشاہ کا انداز عطا کر دیتا ہے۔
ز گردوں فتَد آنچہ بر لالۂ من
فرَوریزَم او را بہ برگِ گیاہے
آسمان سے جو کچھ بھی میرے پھول (دل) پر نازل ہوتا ہے میں اسے گھاس کے پتوں پر گرا دیتا ہوں (عام کر دیتا ہوں)۔
چو پرویں فرَو ناید اندیشۂ من
بَدریوزۂ پر توِ مہر و ماہے
میرا فکر ستاروں کی طرح نیچے نہیں آتا کہ چاند اور سورج سے روشنی کی بھیک مانگے۔
اگر آفتابے سُوئے من خرَامَد
بشوخی بگردانَم او را ز راہے
اگر سورج میری طرف آتا ہے (مجھے روشنی کی بھیک دینے) تو میں شوخی سے اسے راستہ میں ہی سے واپس کر دیتا ہوں۔
بہ آں آب و تابے کہ فطرت بہ بَخشَد
درَخشَم چو برقے بہ ابرِ سیاہے
اس آب و تاب سے جو مجھے فطرت نے بخشی ہے، میں سیاہ بادلوں پر بجلی کی طرح چمکتا ہوں۔
رہ و رسمِ فرمانروایاں شَناسَم
خراں بر سرِ بام و یوسف بچاہے
میں حکمرانوں (صاحبِ اختیار) کے راہ و رسم کو پہچانتا ہوں کہ (ان کی کج فہمی سے) گدھے چھت (سر) پر ہیں اور یوسف کنویں میں۔
--------
بحر - بحر متقارب مثمن سالم
افاعیل - فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن
اشاری نظام - 221 221 221 221
تقطیع -
ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے
ز سُل طا - فعولن - 221
کُ نَم آ - فعولن - 221
ر زو اے - فعولن - 221
نِ گا ہے - فعولن - 221
مُ سل ما - فعولن - 221
نَ مز گِل - فعولن - 221 (الفِ وصل استعمال ہوا ہے)
نَ سا زم - فعولن - 221
اِ لا ہے - فعولن - 221
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اقبالیات,
بحر متقارب,
بحر متقارب مثمن سالم,
تقطیع,
زبور عجم,
علامہ اقبال,
فارسی شاعری
Sep 3, 2011
یہ بھی سُنو ۔۔۔۔۔۔
قلتِ سامعین و قارئین کا شور ہر طرف ہے، کسی سے بات کر کے دیکھ لیں، کسی عالم فاضل سے، کسی خطیب مقرر سے، کسی ادیب سے، کسی شاعر کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیں، حتٰی کہ کسی بلاگر کا حالِ دل پوچھ لیں، یہی جواب ملے گا کہ جناب اب اچھے قاری یا سامع کہاں ملتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ قارئین اور سامعین کا جواب بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
دوسروں تک اپنی آواز پہنچانا اور کچھ نہ کچھ سنانا شاید بہت ضروری ہے، لیکن ضروری تو نہیں کہ ہر کسی کی اس نقار خانے میں سنی جائے مرزا غالب فرماتے ہیں۔
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
ہاں مرزا کے 'روگ' کچھ ایسے ہی تھے لیکن یہ بھی چنداں ضروری نہیں کہ ہر کسی کا مرزا والا حشر ہی ہو، مولانا رومی علیہ الرحمہ ایسی آواز سنا گئے کہ صدیاں گزر گئیں لیکن آج تک ہر طرف صاف صاف اور واضح سنائی دیتی ہے، 'مثنوی' کا آغاز اسی سننے سنانے سے کیا ہے اور کیا خوب آغاز کیا ہے، فرماتے ہیں۔
بِشنو، از نَے چوں حکایت می کُنَد
وَز جدائی ہا شکایت می کُنَد
بانسری کی سنو، کیا حکایت بیان کرتی ہے، اور (ازلی) جدائیوں کی کیا شکایت کرتی ہے۔
اور داستان سنانے والا، اللہ کا ایک بندہ ایسا گزرا ہے کہ سلطانِ وقت نے اسے ایک ایک شعر کے بدلے ایک ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا اور اس نے چالیس ہزار ایسے اشعار سنائے کہ ابد تک اشرفیوں میں تلتے رہیں گے۔ لیکن وائے اس شاہ پر کہ اپنے وعدے سے مکر گیا اور سونے کی اشرفیوں کو چاندی کے سکوں سے بدل دیا، خود دار فردوسی نے سلطان محمود غزنوی کی اس وعدہ خلافی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، 'شاہنامہ' کو بغل میں دابا اور اسکے پایہ تخت سے بھاگ گیا۔ 'زود پشیماں' سلطان کو سالہا سال کے بعد احساس ہوا اور جب اس شاعرِ بے مثال کے شہر پہنچا تو اسکے گھر چالیس ہزار اشرفیاں لیکر حاضر ہوا لیکن درویش شاعر دنیا سے کوچ کر چکا تھا، خوددار باپ کی خوددار بیٹی نے سلطان سے اشرفیاں لینے سے بھی انکار کر دیا۔
سلطان کی یہ ناگفتنی کہانی بھی ہمیشہ سنائی جاتی رہے گی لیکن کہاں دنیا کا سلطان اور کہاں اقلیم سخن کا فرمارواں، فردوسی پورے جوش و جذبے سے فرماتے ہیں
ع- دگرہا شنیدستی ایں ھَم شَنَو
دیگر تو بہت کچھ سن چکے اب یہ بھی سنو۔
خیر کہاں یہ بزرگ 'بزورِ بازو' سنانے والے کہ اتنا زورآور قلم کسی کو ہی نصیب ہوا ہوگا اور کہاں ہم جیسے طفلانِ مکتب جو کسی کا یہ شعر گنگنا کر ہی دل خوش کر لیتے ہیں۔
وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا آج کہانی اپنی
اب سننے سنانے کی بات 'پرانی کہانیوں' تک پہنچ ہی گئی ہے تو اس طفلِ مکتب کی ایک رباعی بھی سن لیں جو کچھ سال پرانی ہے اور میری پہلی رباعی ہے۔
بکھرے ہوئے پُھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی سُن لے
سنایا تو ظاہر ہے اپنے آپ کو ہی ہے، ہاں اگر کسی قاری کو لگے کہ ان کو سنا رہا ہوں تو انہیں مبارک باد کہ ابھی تک جوان ہیں یا کم از کم اپنے آپ کو جوان سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔
دوسروں تک اپنی آواز پہنچانا اور کچھ نہ کچھ سنانا شاید بہت ضروری ہے، لیکن ضروری تو نہیں کہ ہر کسی کی اس نقار خانے میں سنی جائے مرزا غالب فرماتے ہیں۔
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
ہاں مرزا کے 'روگ' کچھ ایسے ہی تھے لیکن یہ بھی چنداں ضروری نہیں کہ ہر کسی کا مرزا والا حشر ہی ہو، مولانا رومی علیہ الرحمہ ایسی آواز سنا گئے کہ صدیاں گزر گئیں لیکن آج تک ہر طرف صاف صاف اور واضح سنائی دیتی ہے، 'مثنوی' کا آغاز اسی سننے سنانے سے کیا ہے اور کیا خوب آغاز کیا ہے، فرماتے ہیں۔
بِشنو، از نَے چوں حکایت می کُنَد
وَز جدائی ہا شکایت می کُنَد
بانسری کی سنو، کیا حکایت بیان کرتی ہے، اور (ازلی) جدائیوں کی کیا شکایت کرتی ہے۔
اور داستان سنانے والا، اللہ کا ایک بندہ ایسا گزرا ہے کہ سلطانِ وقت نے اسے ایک ایک شعر کے بدلے ایک ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا اور اس نے چالیس ہزار ایسے اشعار سنائے کہ ابد تک اشرفیوں میں تلتے رہیں گے۔ لیکن وائے اس شاہ پر کہ اپنے وعدے سے مکر گیا اور سونے کی اشرفیوں کو چاندی کے سکوں سے بدل دیا، خود دار فردوسی نے سلطان محمود غزنوی کی اس وعدہ خلافی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، 'شاہنامہ' کو بغل میں دابا اور اسکے پایہ تخت سے بھاگ گیا۔ 'زود پشیماں' سلطان کو سالہا سال کے بعد احساس ہوا اور جب اس شاعرِ بے مثال کے شہر پہنچا تو اسکے گھر چالیس ہزار اشرفیاں لیکر حاضر ہوا لیکن درویش شاعر دنیا سے کوچ کر چکا تھا، خوددار باپ کی خوددار بیٹی نے سلطان سے اشرفیاں لینے سے بھی انکار کر دیا۔
سلطان کی یہ ناگفتنی کہانی بھی ہمیشہ سنائی جاتی رہے گی لیکن کہاں دنیا کا سلطان اور کہاں اقلیم سخن کا فرمارواں، فردوسی پورے جوش و جذبے سے فرماتے ہیں
ع- دگرہا شنیدستی ایں ھَم شَنَو
دیگر تو بہت کچھ سن چکے اب یہ بھی سنو۔
خیر کہاں یہ بزرگ 'بزورِ بازو' سنانے والے کہ اتنا زورآور قلم کسی کو ہی نصیب ہوا ہوگا اور کہاں ہم جیسے طفلانِ مکتب جو کسی کا یہ شعر گنگنا کر ہی دل خوش کر لیتے ہیں۔
وہی قصّے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا آج کہانی اپنی
اب سننے سنانے کی بات 'پرانی کہانیوں' تک پہنچ ہی گئی ہے تو اس طفلِ مکتب کی ایک رباعی بھی سن لیں جو کچھ سال پرانی ہے اور میری پہلی رباعی ہے۔
بکھرے ہوئے پُھولوں کی کہانی سُن لے
ہے چار دنوں کی زندگانی سُن لے
پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق
کرتا ہے خراب کیوں جوانی سُن لے
سنایا تو ظاہر ہے اپنے آپ کو ہی ہے، ہاں اگر کسی قاری کو لگے کہ ان کو سنا رہا ہوں تو انہیں مبارک باد کہ ابھی تک جوان ہیں یا کم از کم اپنے آپ کو جوان سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Sep 2, 2011
ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا - مرتضیٰ برلاس
ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا
میں چپ ہُوا تو زخم مرے بولنے لگے
سب کچھ زبانِ حال سے لب بستہ کہہ دیا
خورشیدِ صبحِ نو کو شکایت ہے دوستو
کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا
چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا
ٹھہرا ذرا تو آپ نے پا بستہ کہہ دیا
دیکھا تو ایک آگ کا دریا تھا موجزن
اس دورِ نا سزا نے جسے رستہ کہہ دیا
دیکھی گئی نہ آپ کی آزردہ خاطری
کانٹے ملے تو ان کو بھی گلدستہ کہہ دیا
(مرتضٰی برلاس)
----
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا
ملتے ہِ - مفعول - 122
خُد کُ آپ - فاعلات - 1212
سِ وابستہ - مفاعیل - 1221
کہہ دیا - فاعلن - 212
محسوس - مفعول - 122
جو کیا وَ - فاعلات - 1212
ہِ برجستہ - مفاعیل - 1221
کہہ دیا - فاعلن - 212
مزید پڑھیے۔۔۔۔
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا
میں چپ ہُوا تو زخم مرے بولنے لگے
سب کچھ زبانِ حال سے لب بستہ کہہ دیا
خورشیدِ صبحِ نو کو شکایت ہے دوستو
کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا
چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا
ٹھہرا ذرا تو آپ نے پا بستہ کہہ دیا
دیکھا تو ایک آگ کا دریا تھا موجزن
اس دورِ نا سزا نے جسے رستہ کہہ دیا
دیکھی گئی نہ آپ کی آزردہ خاطری
کانٹے ملے تو ان کو بھی گلدستہ کہہ دیا
(مرتضٰی برلاس)
----
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا
ملتے ہِ - مفعول - 122
خُد کُ آپ - فاعلات - 1212
سِ وابستہ - مفاعیل - 1221
کہہ دیا - فاعلن - 212
محسوس - مفعول - 122
جو کیا وَ - فاعلات - 1212
ہِ برجستہ - مفاعیل - 1221
کہہ دیا - فاعلن - 212
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر مضارع,
تقطیع,
مرتضیٰ برلاس
Aug 26, 2011
نظیری نیشاپوری کے کچھ متفرق اشعار
مشہور فارسی شاعر محمد حُسین نظیری نیشاپوری کے کچھ خوبصورت اشعار۔
دل کہ جمع است، غم از بے سر و سامانی نیست
فکرِ جمعیّت اگر نیست، پریشانی نیست
دل (خاطر) جمع ہے، سو بے سر و سامانی کا کوئی غم نہیں ہے، اگر جمع کرنے کی فکر نہ ہو تو (دنیا میں) کوئی پریشانی نہیں ہے۔
---------
نیست در خشک و ترِ بیشۂ من کوتاہی
چوبِ ہر نخل کہ منبر نشَوَد دار کنم
نہیں ہے میرے جنگل ( خدا کی دنیا) میں کوئی بھی خشک و تر چیز بیکار، جس درخت کی لکڑی سے منبر نہیں بن سکتا میں اس سے سولی بنا لیتا ہوں۔
---------
رُوئے نِکو معالجۂ عمرِ کوتہ ست
ایں نسخہ از علاجِ مسیحا نوشتہ ایم
کسی نیک آدمی کا چہرہ (دیدار) عمرِ کوتاہ کا علاج ہے، یہ نسخہ میں نے مسیحا کے علاج (نسخوں) میں سے لکھا ہے۔
---------
بزیرِ خرقہ نہاں بادہ می خورد صوفی
حکیم و عارف و زاہد ازیں مستند
(ریا کار) صُوفی شراب اپنی گدڑی کے نیچے چھپا کر پیتا ہے (اور اس کے بھائی بند) حکیم، عارف، زاہد سبھی اسی (طرح پینے) سے مست ہیں۔
---------
ایں رسمہائے تازہ ز حرمانِ عہدِ ماست
عنقا بروزگار کسے نامہ بَر نہ شُد
یہ نئی رسمیں ہمارے عہد (وعدہ) کی نا امیدی و حسرت و بد نصیبی کی وجہ سے ہیں، دنیا میں عنقا تو کسی کا نامہ بر نہ ہوا تھا۔
---------
مَحبّت در دلِ غم دیدہ الفت بیشتر گیرَد
چراغے را کہ دودے ہست در سر زود در گیرَد
غم دیدہ دل میں محبت بہت اثر کرتی ہے، (جیسا کہ) جس چراغ میں دھواں ہو (یعنی وہ ابھی ابھی بجھا ہو) وہ بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔
---------
چہ خوش است از دو یکدل سرِ حرف باز کردن
سخنِ گذشتہ گفتن، گلہ را دراز کردن
کیا ہی اچھا (ہوتا) ہے دو گہرے دوستوں کا (آپس میں) گفتگو کا آغاز کرنا، بیتی باتیں کرنا اور گلوں کو دراز کرنا۔
---------
بغیرِ دل ھمہ نقش و نگار بے معنیست
ھمیں ورق کہ سیہ گشتہ مدّعا اینجاست
دل کے بغیر تمام نقش و نگار بے معنی ہیں، یہی ورق (یعنی دل) جو سیاہ ہو گیا ساری بات اور سارا مدعا تو یہیں ہے یعنی ظاہری نقش و نگار چاہے جتنے بھی خوب ہوں سیاہ دل کے ساتھ بے معنی ہیں۔
ز فرق تا قَدَمَش ہر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشَد کہ جا اینجاست
اسکے سر سے لیکر اسکے قدموں تک میں جہاں بھی (جس حصے کو بھی) دیکھتا ہوں انکی رعنائی میرے دامنِ دل کو کھینچتی ہے کہ دیکھنے کی جگہ یہیں ہے، محبوب کی تعریف سر سے پاؤں تک کر دی ہے۔
ز کوئے عجز نظیری سرِ نیاز مکش
ز ہر رہے کہ درآیند انتہا اینجاست
نظیری، عجز کے کوچے سے اپنا سرِ نیاز مت اٹھا کہ جس راہ سے بھی آئیں انتہا تو یہیں ہے۔
---------
مجلس چو بر شکست تماشا بما رسید
در بزم چوں نماند کسے، جا بما رسید
مجلس جب اختتام کو پہنچی تو ہماری دیکھنے کی باری آئی، جب بزم میں کوئی نہ رہا ہمیں جگہ ملی۔
---------
منظورِ یار گشت نظیری کلامِ ما
بیہودہ صرفِ حرف نکردیم دودہ را
نظیری ہمارا کلام یار کو پسند آ گیا، (تو گویا) ہم نے حرفوں پر فضول سیاہی خرچ نہیں کی۔
---------
سماعِ دُرد کشاں، صُوفیاں چہ می دانند
ز شیوہ ہائے سَمندر، سپند را چہ خبر
تلچھٹ (دُرد) پینے والوں کے سماع کو صُوفی کیا جانیں، آگ میں جل کر زندہ رہنے والے (سمندر) کے طریق کا آگ میں جل کر ختم ہو جانے والی حرمل کو کیا خبر۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
دل کہ جمع است، غم از بے سر و سامانی نیست
فکرِ جمعیّت اگر نیست، پریشانی نیست
دل (خاطر) جمع ہے، سو بے سر و سامانی کا کوئی غم نہیں ہے، اگر جمع کرنے کی فکر نہ ہو تو (دنیا میں) کوئی پریشانی نہیں ہے۔
---------
نیست در خشک و ترِ بیشۂ من کوتاہی
چوبِ ہر نخل کہ منبر نشَوَد دار کنم
نہیں ہے میرے جنگل ( خدا کی دنیا) میں کوئی بھی خشک و تر چیز بیکار، جس درخت کی لکڑی سے منبر نہیں بن سکتا میں اس سے سولی بنا لیتا ہوں۔
---------
رُوئے نِکو معالجۂ عمرِ کوتہ ست
ایں نسخہ از علاجِ مسیحا نوشتہ ایم
کسی نیک آدمی کا چہرہ (دیدار) عمرِ کوتاہ کا علاج ہے، یہ نسخہ میں نے مسیحا کے علاج (نسخوں) میں سے لکھا ہے۔
---------
بزیرِ خرقہ نہاں بادہ می خورد صوفی
حکیم و عارف و زاہد ازیں مستند
(ریا کار) صُوفی شراب اپنی گدڑی کے نیچے چھپا کر پیتا ہے (اور اس کے بھائی بند) حکیم، عارف، زاہد سبھی اسی (طرح پینے) سے مست ہیں۔
---------
ایں رسمہائے تازہ ز حرمانِ عہدِ ماست
عنقا بروزگار کسے نامہ بَر نہ شُد
یہ نئی رسمیں ہمارے عہد (وعدہ) کی نا امیدی و حسرت و بد نصیبی کی وجہ سے ہیں، دنیا میں عنقا تو کسی کا نامہ بر نہ ہوا تھا۔
---------
مَحبّت در دلِ غم دیدہ الفت بیشتر گیرَد
چراغے را کہ دودے ہست در سر زود در گیرَد
غم دیدہ دل میں محبت بہت اثر کرتی ہے، (جیسا کہ) جس چراغ میں دھواں ہو (یعنی وہ ابھی ابھی بجھا ہو) وہ بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔
---------
چہ خوش است از دو یکدل سرِ حرف باز کردن
سخنِ گذشتہ گفتن، گلہ را دراز کردن
کیا ہی اچھا (ہوتا) ہے دو گہرے دوستوں کا (آپس میں) گفتگو کا آغاز کرنا، بیتی باتیں کرنا اور گلوں کو دراز کرنا۔
---------
بغیرِ دل ھمہ نقش و نگار بے معنیست
ھمیں ورق کہ سیہ گشتہ مدّعا اینجاست
دل کے بغیر تمام نقش و نگار بے معنی ہیں، یہی ورق (یعنی دل) جو سیاہ ہو گیا ساری بات اور سارا مدعا تو یہیں ہے یعنی ظاہری نقش و نگار چاہے جتنے بھی خوب ہوں سیاہ دل کے ساتھ بے معنی ہیں۔
ز فرق تا قَدَمَش ہر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشَد کہ جا اینجاست
اسکے سر سے لیکر اسکے قدموں تک میں جہاں بھی (جس حصے کو بھی) دیکھتا ہوں انکی رعنائی میرے دامنِ دل کو کھینچتی ہے کہ دیکھنے کی جگہ یہیں ہے، محبوب کی تعریف سر سے پاؤں تک کر دی ہے۔
ز کوئے عجز نظیری سرِ نیاز مکش
ز ہر رہے کہ درآیند انتہا اینجاست
نظیری، عجز کے کوچے سے اپنا سرِ نیاز مت اٹھا کہ جس راہ سے بھی آئیں انتہا تو یہیں ہے۔
---------
مجلس چو بر شکست تماشا بما رسید
در بزم چوں نماند کسے، جا بما رسید
مجلس جب اختتام کو پہنچی تو ہماری دیکھنے کی باری آئی، جب بزم میں کوئی نہ رہا ہمیں جگہ ملی۔
---------
منظورِ یار گشت نظیری کلامِ ما
بیہودہ صرفِ حرف نکردیم دودہ را
نظیری ہمارا کلام یار کو پسند آ گیا، (تو گویا) ہم نے حرفوں پر فضول سیاہی خرچ نہیں کی۔
---------
سماعِ دُرد کشاں، صُوفیاں چہ می دانند
ز شیوہ ہائے سَمندر، سپند را چہ خبر
تلچھٹ (دُرد) پینے والوں کے سماع کو صُوفی کیا جانیں، آگ میں جل کر زندہ رہنے والے (سمندر) کے طریق کا آگ میں جل کر ختم ہو جانے والی حرمل کو کیا خبر۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Aug 23, 2011
صائب تبریزی کے کچھ متفرق اشعار - 1
مشہور فارسی شاعر مرزا محمد علی صائب تبریزی کے کچھ متفرق اشعار
گرفتم سہل سوزِ عشق را اوّل، ندانستم
کہ صد دریائے آتش از شرارے می شود پیدا
اول اول میں نے سوزِ عشق کو آسان سمجھا اور یہ نہ جانا کہ اسی ایک چنگاری سے آگ کے سو سو دریا جنم لیتے ہیں۔
---------
مرا ز روزِ قیامت غمے کہ ھست، اینست
کہ روئے مردُمِ عالم دوبارہ باید دید
(روزِ قیامت کا مجھے جو غم ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کے لوگوں کا چہرہ دوبارہ دیکھنا پڑے گا)
---------
ہَماں بہتر کہ لیلٰی در بیاباں جلوہ گر باشَد
ندارَد تنگنائے شہر تابِ حسنِ صحرائی
یہی بہتر ہے کہ لیلٰی کسی بیاباں میں جلوہ گر ہو، کہ تنگنائے شہر (شہر کے تنگ کوچے / تنگ دل لوگ) حسنِ صحرائی کی تاب (قدر) نہیں رکھتے۔
---------
صائب دوچیز می شکند قدرِ شعر را
تحسینِ ناشناس و سکوتِ سخن شناس
اے صائب، دو چیزیں (کسی) شعر کی قدر و قیمت ختم کر دیتی ہیں، ایک (سخن) ناشناس کی پسندیدگی (شعر کی داد دینا) اور دوسری سخن شناس کا خاموش رہنا (شعر کی داد نہ دینا)۔
---------
خواھی بہ کعبہ رو کن و خواھی بہ سومنات
از اختلافِ راہ چہ غم، رھنما یکے است
چاہے کعبہ کی طرف جائیں یا سومنات کی طرف، اختلافِ راہ کا غم (نفرت؟) کیوں ہو کہ راہنما تو ایک ہی ہے۔
ایں ما و من نتیجۂ بیگانگی بود
صد دل بہ یکدگر چو شود آشنا، یکے است
یہ میرا و تیرا (من و تُو کا فرق) بیگانگی کا نتیجہ ہے۔ سو دل بھی جب ایک دوسرے کے آشنا ہو جاتے ہیں تو وہ ایک ہی ہوتے ہیں (ایک ہی بن جاتے ہیں)۔
---------
من آں وحشی غزَالَم دامنِ صحراے امکاں را
کہ می لرزَم ز ہر جانب غبارے می شوَد پیدا
میں وہ وحشی (رم خوردہ) ہرن ہوں کہ صحرائے امکان میں کسی بھی جانب غبار پیدا ہو (نظر آئے) تو لرز لرز جاتا ہوں۔
---------
خار در پیراهنِ فرزانہ می ریزیم ما
گل بہ دامن بر سرِ دیوانہ می ریزیم ما
ہم فرزانوں کے پیراہن پر کانٹے (اور خاک) ڈالتے ہیں، اور دامن میں جو گل ہیں وہ دیوانوں کے سر پر ڈالتے ہیں۔
در دلِ ما شکوهٔ خونیں نمی گردد گره
هر چہ در شیشہ است، در پیمانہ می ریزیم ما
ہمارے دل میں کوئی خونی شکوہ گرہ نہیں ڈالتا (دل میں کینہ نہیں رکھتے) جو کچھ بھی ہمارے شیشے میں ہے وہ ہم پیمانے میں ڈال دیتے ہیں۔
---------
اگرچہ وعدۂ خوباں وفا نمی دانَد
خوش آں حیات کہ در انتظار می گذرَد
اگرچہ خوباں کا وعدہ، وفا ہونا نہیں جانتا (وفا نہیں ہوتا، لیکن) میں اس زندگی سے خوش ہوں کہ جو (تیرے) انتظار میں گزر رہی ہے۔
---------
ز چرخ شیشہ و از آفتاب ساغر کُن
بطاقِ نسیاں بگزار جام و مینا را
آسمان کو شیشہ (بوتل) اور سورج کو پیمانہ بنا، اور جام و مینا کو طاقِ نسیاں پر رکھ دے۔
---------
دوست دشمن می شود صائب بوقتِ بے کسی
خونِ زخمِ آہواں رہبر شود صیاد را
مشکل وقت میں دوست بھی دشمن ہو جاتے ہیں جیسے ہرن کے زخموں سے بہنے والا خون شکاری کی رہنمائی کرتا ہے
---------
گر چہ صائب دستِ ما خالیست از نقدِ جہاں
چو جرَس آوازۂ در کارواں داریم ما
صائب اگرچہ ہمارے ہاتھ دنیا کے مال و دولت سے خالی ہیں لیکن ہم کارواں میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو جرس کی آواز کی ہوتی ہے (کہ اسی آواز پر کارواں چلتے ہیں)۔
---------
مولانا شبلی نعمانی، 'شعر العجم' میں میرزا صائب تبریزی کے احوال میں، سرخوش کے تذکرہ 'کلمات الشعراء' کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"ایک دفعہ [صائب تبریزی] راہ میں چلا جا رہا تھا، ایک کتے کو بیٹھا ہوا دیکھا، چونکہ کتا جب بیٹھتا ہے تو گردن اونچی کر کے بیٹھتا ہے، فوراً یہ مضمون خیال میں آیا
شوَد ز گوشہ نشینی فزوں رعونتِ نفس
سگِ نشستہ ز استادہ، سرفراز ترست"
گوشہ نشینی سے رعونتِ نفس اور بھی بڑھ گئی کہ بیٹھے ہوئے کتے کا سر کھڑے ہوئے کتے سے بھی بلند ہوتا ہے۔ 'سرفراز' کا لفظ عجب لطف دے رہا ہے شعر میں۔
---------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
گرفتم سہل سوزِ عشق را اوّل، ندانستم
کہ صد دریائے آتش از شرارے می شود پیدا
اول اول میں نے سوزِ عشق کو آسان سمجھا اور یہ نہ جانا کہ اسی ایک چنگاری سے آگ کے سو سو دریا جنم لیتے ہیں۔
---------
مرا ز روزِ قیامت غمے کہ ھست، اینست
کہ روئے مردُمِ عالم دوبارہ باید دید
(روزِ قیامت کا مجھے جو غم ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کے لوگوں کا چہرہ دوبارہ دیکھنا پڑے گا)
---------
![]() |
| مجسمہ صائب تبریزی |
ندارَد تنگنائے شہر تابِ حسنِ صحرائی
یہی بہتر ہے کہ لیلٰی کسی بیاباں میں جلوہ گر ہو، کہ تنگنائے شہر (شہر کے تنگ کوچے / تنگ دل لوگ) حسنِ صحرائی کی تاب (قدر) نہیں رکھتے۔
---------
صائب دوچیز می شکند قدرِ شعر را
تحسینِ ناشناس و سکوتِ سخن شناس
اے صائب، دو چیزیں (کسی) شعر کی قدر و قیمت ختم کر دیتی ہیں، ایک (سخن) ناشناس کی پسندیدگی (شعر کی داد دینا) اور دوسری سخن شناس کا خاموش رہنا (شعر کی داد نہ دینا)۔
---------
خواھی بہ کعبہ رو کن و خواھی بہ سومنات
از اختلافِ راہ چہ غم، رھنما یکے است
چاہے کعبہ کی طرف جائیں یا سومنات کی طرف، اختلافِ راہ کا غم (نفرت؟) کیوں ہو کہ راہنما تو ایک ہی ہے۔
ایں ما و من نتیجۂ بیگانگی بود
صد دل بہ یکدگر چو شود آشنا، یکے است
یہ میرا و تیرا (من و تُو کا فرق) بیگانگی کا نتیجہ ہے۔ سو دل بھی جب ایک دوسرے کے آشنا ہو جاتے ہیں تو وہ ایک ہی ہوتے ہیں (ایک ہی بن جاتے ہیں)۔
---------
من آں وحشی غزَالَم دامنِ صحراے امکاں را
کہ می لرزَم ز ہر جانب غبارے می شوَد پیدا
میں وہ وحشی (رم خوردہ) ہرن ہوں کہ صحرائے امکان میں کسی بھی جانب غبار پیدا ہو (نظر آئے) تو لرز لرز جاتا ہوں۔
---------
خار در پیراهنِ فرزانہ می ریزیم ما
گل بہ دامن بر سرِ دیوانہ می ریزیم ما
ہم فرزانوں کے پیراہن پر کانٹے (اور خاک) ڈالتے ہیں، اور دامن میں جو گل ہیں وہ دیوانوں کے سر پر ڈالتے ہیں۔
در دلِ ما شکوهٔ خونیں نمی گردد گره
هر چہ در شیشہ است، در پیمانہ می ریزیم ما
ہمارے دل میں کوئی خونی شکوہ گرہ نہیں ڈالتا (دل میں کینہ نہیں رکھتے) جو کچھ بھی ہمارے شیشے میں ہے وہ ہم پیمانے میں ڈال دیتے ہیں۔
---------
اگرچہ وعدۂ خوباں وفا نمی دانَد
خوش آں حیات کہ در انتظار می گذرَد
اگرچہ خوباں کا وعدہ، وفا ہونا نہیں جانتا (وفا نہیں ہوتا، لیکن) میں اس زندگی سے خوش ہوں کہ جو (تیرے) انتظار میں گزر رہی ہے۔
---------
ز چرخ شیشہ و از آفتاب ساغر کُن
بطاقِ نسیاں بگزار جام و مینا را
آسمان کو شیشہ (بوتل) اور سورج کو پیمانہ بنا، اور جام و مینا کو طاقِ نسیاں پر رکھ دے۔
---------
دوست دشمن می شود صائب بوقتِ بے کسی
خونِ زخمِ آہواں رہبر شود صیاد را
مشکل وقت میں دوست بھی دشمن ہو جاتے ہیں جیسے ہرن کے زخموں سے بہنے والا خون شکاری کی رہنمائی کرتا ہے
---------
گر چہ صائب دستِ ما خالیست از نقدِ جہاں
چو جرَس آوازۂ در کارواں داریم ما
صائب اگرچہ ہمارے ہاتھ دنیا کے مال و دولت سے خالی ہیں لیکن ہم کارواں میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو جرس کی آواز کی ہوتی ہے (کہ اسی آواز پر کارواں چلتے ہیں)۔
---------
مولانا شبلی نعمانی، 'شعر العجم' میں میرزا صائب تبریزی کے احوال میں، سرخوش کے تذکرہ 'کلمات الشعراء' کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"ایک دفعہ [صائب تبریزی] راہ میں چلا جا رہا تھا، ایک کتے کو بیٹھا ہوا دیکھا، چونکہ کتا جب بیٹھتا ہے تو گردن اونچی کر کے بیٹھتا ہے، فوراً یہ مضمون خیال میں آیا
شوَد ز گوشہ نشینی فزوں رعونتِ نفس
سگِ نشستہ ز استادہ، سرفراز ترست"
گوشہ نشینی سے رعونتِ نفس اور بھی بڑھ گئی کہ بیٹھے ہوئے کتے کا سر کھڑے ہوئے کتے سے بھی بلند ہوتا ہے۔ 'سرفراز' کا لفظ عجب لطف دے رہا ہے شعر میں۔
---------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Aug 20, 2011
ابر اُٹھا وہ ناگہاں - جوش ملیح آبادی کی ایک شاہکار نظم
شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کی ایک انتہائی خوبصورت نظم، موسم کی مناسبت سے۔
ابر اُٹھا وہ ناگہاں
نغمہ زناں، ترانہ خواں
تُند عناں، رواں دواں
رقص کناں و پر فشاں
ساقیٔ بادہ فام ہاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مُژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
سرخ و سیاہ روز و شب
غرقِ تلاطمِ عَنَب
ارض و سما بہ صد طرَب
سینہ بہ سینہ، لب بہ لب
چشم بہ چشم، جاں بہ جاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
ہمہمہ، ہاؤ ہو، ہُمَک
دھوم، دھمک، دہل، دمَک
جھوم، جھڑی، جھلک، جھمَک
گونج، گرج، گھمر، گمَک
کوہ و کمر کشاں کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
گنگ و جمن میں کھلبلی
دشت و جبَل پہ تیرگی
طاق و رواق اگرَئی
پست و بلند سرمئی
ارض و سما دُھواں دُھواں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
ابرِ سیہ جھکا، رکا
عمرِ رواں رسَن بہ پا
ظلمت و نور ہم رِدا
نصب ہے خیمہ وقت کا
شام و سحر کے درمیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
چرخِ ترانہ بار پر
چادرِ زرنگار پر
جادۂ لالہ کار پر
مینہ کے ہر ایک تار پر
دُھنکی ہوئی دھنک دواں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
غرقِ نشاط، بحر و بر
آبِ غنا کمر کمر
تھاپ کی گونج الحذر
جھوم گئے شجر و حَجَر
کُوک اٹھیں جوانیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
کھول رہی ہے بال، نَے
گھول رہی ہے سُر میں لَے
تول رہی ہے رُخ کو مَے
ڈول رہا ہے فرِّ کَے
بول رہی ہیں انکھڑیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
سانولیاں مہک گئیں
نشہ چڑھا، دہک گئیں
مست ہوئیں، بہک گئیں
چوڑیاں سب کھنک گئیں
تن میں کڑک اٹھی کماں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
رقص کے پھر علَم گڑے
لَے نے ہوا پہ نگ جڑے
بجنے لگے کڑے چھڑے
کیف میں پاؤں یوں پڑے
فرش ہوا رواں دواں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
گائے نرَت میں ولولے
بھاؤ میں بول جاگ اٹھے
تال کے بال کُھل گئے
ہاتھ اٹھے جُڑے جُڑے
قوسِ قزح کا سائباں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
جھول رہے ہیں سیم تن
جُھوم رہا ہے بانکپن
زیر و زبر ہے پھول بن
چیخ رہے ہیں یوں بدن
گونج رہی ہیں چولیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
با ہمہ شوخی و فسوں
زیرِ نوائے ارغنُوں
شرم کی جھلکیاں ہیں یوں
جیسے کھڑی ہیں سرنگوں
بیاہیوں میں کنواریاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
اُف یہ رقیق اوڑھنی
بوندیوں کی بنی ہوئی
مے میں سموئی سر خوشی
نَے میں ڈھلی شگفتگی
لے میں پروئی بوندیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
سُوئے زمیں گھٹا چلی
چھائی گھٹا، فضا چلی
گائی فضا، ہوا چلی
آئی ہوا، نوا چلی
زیرِ نوا چھنن چھناں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
آبِ رواں شَرَر شَرَر
اولتیاں جَھرَر جَھرَر
برقِ تپاں کَرَر کَرَر
جام و سبو جَگر جَگر
چرخِ کہن گھنن گھناں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
کاگ اُڑے، جلا اگر
پردہ ہلا، اٹھی نظر
آئی وہ دخترِ قمر
شیشے جھکے، بجا گجَر
قُلقلِ مے نے دی اذاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
اُف یہ غزالہ خُو سفر
اُف یہ خروشِ بال و پر
بہرِ خدا، ٹھہر، ٹھہر
فرشِ زمیں کدھر؟ کدھر؟
چرخِ بریں، کہاں کہاں؟
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
"فنون، جولائی 1963ء"
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
ابر اُٹھا وہ ناگہاں
نغمہ زناں، ترانہ خواں
تُند عناں، رواں دواں
رقص کناں و پر فشاں
ساقیٔ بادہ فام ہاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مُژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
سرخ و سیاہ روز و شب
غرقِ تلاطمِ عَنَب
ارض و سما بہ صد طرَب
سینہ بہ سینہ، لب بہ لب
چشم بہ چشم، جاں بہ جاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
![]() |
| josh malihabadi, جوش ملیح آبادی |
ہمہمہ، ہاؤ ہو، ہُمَک
دھوم، دھمک، دہل، دمَک
جھوم، جھڑی، جھلک، جھمَک
گونج، گرج، گھمر، گمَک
کوہ و کمر کشاں کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
گنگ و جمن میں کھلبلی
دشت و جبَل پہ تیرگی
طاق و رواق اگرَئی
پست و بلند سرمئی
ارض و سما دُھواں دُھواں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
ابرِ سیہ جھکا، رکا
عمرِ رواں رسَن بہ پا
ظلمت و نور ہم رِدا
نصب ہے خیمہ وقت کا
شام و سحر کے درمیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
چرخِ ترانہ بار پر
چادرِ زرنگار پر
جادۂ لالہ کار پر
مینہ کے ہر ایک تار پر
دُھنکی ہوئی دھنک دواں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
غرقِ نشاط، بحر و بر
آبِ غنا کمر کمر
تھاپ کی گونج الحذر
جھوم گئے شجر و حَجَر
کُوک اٹھیں جوانیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
کھول رہی ہے بال، نَے
گھول رہی ہے سُر میں لَے
تول رہی ہے رُخ کو مَے
ڈول رہا ہے فرِّ کَے
بول رہی ہیں انکھڑیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
سانولیاں مہک گئیں
نشہ چڑھا، دہک گئیں
مست ہوئیں، بہک گئیں
چوڑیاں سب کھنک گئیں
تن میں کڑک اٹھی کماں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
رقص کے پھر علَم گڑے
لَے نے ہوا پہ نگ جڑے
بجنے لگے کڑے چھڑے
کیف میں پاؤں یوں پڑے
فرش ہوا رواں دواں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
گائے نرَت میں ولولے
بھاؤ میں بول جاگ اٹھے
تال کے بال کُھل گئے
ہاتھ اٹھے جُڑے جُڑے
قوسِ قزح کا سائباں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
جھول رہے ہیں سیم تن
جُھوم رہا ہے بانکپن
زیر و زبر ہے پھول بن
چیخ رہے ہیں یوں بدن
گونج رہی ہیں چولیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
با ہمہ شوخی و فسوں
زیرِ نوائے ارغنُوں
شرم کی جھلکیاں ہیں یوں
جیسے کھڑی ہیں سرنگوں
بیاہیوں میں کنواریاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
اُف یہ رقیق اوڑھنی
بوندیوں کی بنی ہوئی
مے میں سموئی سر خوشی
نَے میں ڈھلی شگفتگی
لے میں پروئی بوندیاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
سُوئے زمیں گھٹا چلی
چھائی گھٹا، فضا چلی
گائی فضا، ہوا چلی
آئی ہوا، نوا چلی
زیرِ نوا چھنن چھناں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
آبِ رواں شَرَر شَرَر
اولتیاں جَھرَر جَھرَر
برقِ تپاں کَرَر کَرَر
جام و سبو جَگر جَگر
چرخِ کہن گھنن گھناں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
کاگ اُڑے، جلا اگر
پردہ ہلا، اٹھی نظر
آئی وہ دخترِ قمر
شیشے جھکے، بجا گجَر
قُلقلِ مے نے دی اذاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
اُف یہ غزالہ خُو سفر
اُف یہ خروشِ بال و پر
بہرِ خدا، ٹھہر، ٹھہر
فرشِ زمیں کدھر؟ کدھر؟
چرخِ بریں، کہاں کہاں؟
ابر اٹھا وہ ناگہاں
مژدہ ہو خیلِ مے کشاں
ابر اٹھا وہ ناگہاں
"فنون، جولائی 1963ء"
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Aug 15, 2011
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی -- صُوفی غلام مُصطفٰی تبسم
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
اک لحظہ بہے آنسو، اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے اندازِ شکیبائی
یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی
اس عالمِ ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی
اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی
ہر دردِ محبّت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی
چرکے وہ دیے دل کو محرومیٔ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی
جلوؤں کے تمنّائی جلوؤں کو ترستے ہیں
تسکین کو روئیں گے جلوؤں کے تمنّائی
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبّت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی
دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی
اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی
افسونِ تمنّا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باکی کچھ عشق میں زیبائی
وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی
آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی
سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی
یہ بزمِ محبّت ہے، اس بزمِ محبّت میں
دیوانے بھی شیدائی، فرزانے بھی شیدائی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اُٹّھی آواز تری آئی
اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہٴ خلوت میں یہ دشت کی پنہائی
ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحر تبسّم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
(صوفی غلام مصطفٰی تبسم)
——–
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن / مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 122 2221
تقطیع -
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
سو بار - مفعول - 122
چمن مہکا - مفاعیلن - 2221
سو بار - مفعول - 122
بہا رائی - مفاعیلن - 2221 (الفِ وصل ساقط ہوا ہے)۔
دنیا کِ - مفعول - 122
وہی رونق - مفاعیلن - 2221
دل کی وَ - مفعول - 122
ہِ تنہائی - مفاعیلن - 2221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
اک لحظہ بہے آنسو، اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے اندازِ شکیبائی
یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی
اس عالمِ ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی
اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی
![]() |
| صوفی غلام مصطفیٰ تبسم Sufi Ghulam Mustafa Tabassum |
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی
چرکے وہ دیے دل کو محرومیٔ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی
جلوؤں کے تمنّائی جلوؤں کو ترستے ہیں
تسکین کو روئیں گے جلوؤں کے تمنّائی
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبّت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی
دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی
اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی
افسونِ تمنّا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باکی کچھ عشق میں زیبائی
وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی
آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی
سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی
یہ بزمِ محبّت ہے، اس بزمِ محبّت میں
دیوانے بھی شیدائی، فرزانے بھی شیدائی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اُٹّھی آواز تری آئی
اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہٴ خلوت میں یہ دشت کی پنہائی
ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحر تبسّم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
(صوفی غلام مصطفٰی تبسم)
——–
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
(یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ )
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن / مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 122 2221
تقطیع -
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
سو بار - مفعول - 122
چمن مہکا - مفاعیلن - 2221
سو بار - مفعول - 122
بہا رائی - مفاعیلن - 2221 (الفِ وصل ساقط ہوا ہے)۔
دنیا کِ - مفعول - 122
وہی رونق - مفاعیلن - 2221
دل کی وَ - مفعول - 122
ہِ تنہائی - مفاعیلن - 2221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر ہزج,
بحر ہزج مثمن اخرب,
تقطیع,
صوفی تبسم
Aug 13, 2011
ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا - فانی بدایونی
ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا
دلِ مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غم گسار تھا، نہ رہا
موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا، نہ رہا
اب گریباں کہیں سے چاک نہیں
شغلِ فصلِ بہار تھا، نہ رہا
آ، کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا
نالہ نا خوش گوار تھا، نہ رہا
ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم
کوئی اُمّیدوار تھا، نہ رہا
آہ کا اعتبار بھی کب تک
آہ کا اعتبار تھا، نہ رہا
کچھ زمانے کو سازگار سہی
جو ہمیں سازگار تھا، نہ رہا
مہرباں، یہ مزارِ فانی ہے
آپ کا جاں نثار تھا، نہ رہا
(فانی بدایونی)
افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
مزید پڑھیے۔۔۔۔
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا
دلِ مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غم گسار تھا، نہ رہا
موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا، نہ رہا
اب گریباں کہیں سے چاک نہیں
شغلِ فصلِ بہار تھا، نہ رہا
آ، کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا
نالہ نا خوش گوار تھا، نہ رہا
![]() |
| فانی بدایونی Fani Badayuni |
ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم
کوئی اُمّیدوار تھا، نہ رہا
آہ کا اعتبار بھی کب تک
آہ کا اعتبار تھا، نہ رہا
کچھ زمانے کو سازگار سہی
جو ہمیں سازگار تھا، نہ رہا
مہرباں، یہ مزارِ فانی ہے
آپ کا جاں نثار تھا، نہ رہا
(فانی بدایونی)
-----
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں، تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)
اشاری نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔
تقطیع -
ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا
ضبط اپنا - فاعلاتن - 2212
شعار تھا - مفاعلن - 2121
نَ رہا - فَعِلن - 211
دل پ کچ اخ - فاعلاتن - 2212
تیار تھا - مفاعلن - 2121
نَ رہا - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر خفیف,
تقطیع,
فانی بدایونی
Aug 9, 2011
عشق میں بے خوف و خطر چاہئے - میر تقی میر
عشق میں بے خوف و خطر چاہئے
جان کے دینے کو جگر چاہئے
قابلِ آغوش ستم دیدگاں
اشک سا پاکیزہ گہر چاہئے
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوس
داغ بہ دل، دست بہ سر چاہئے
سینکڑوں مرتے ہیں سدا، پھر بھی یاں
واقعہ اک شام و سحر چاہئے
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے
اٹھتے پلک، ایک پہر چاہئے
کم ہیں شناسائے زرِ داغِ دل
اس کے پرکھنے کو نظر چاہئے
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میر
ہم کو جیا بارِ دگر چاہئے
(میر تقی میر)
-----
بحر - سریع مسدّس مطوی مکسوف
افاعیل - مُفتَعِلُن مُفتَعِلُن فاعِلُن
اشاری نظام - 2112 2112 212
تقطیع -
عشق میں بے خوف و خطر چاہئے
جان کے دینے کو جگر چاہئے
عشق مِ بے - مُفتَعِلُن - 2112
خوف خطر - مُفتَعِلُن - 2112
چاہیے - فاعلن - 212
جان کِ دے - مُفتَعِلُن - 2112
نے کُ جگر - مُفتَعِلُن - 2112
چاہیے - فاعلن - 212
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
جان کے دینے کو جگر چاہئے
قابلِ آغوش ستم دیدگاں
اشک سا پاکیزہ گہر چاہئے
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوس
داغ بہ دل، دست بہ سر چاہئے
سینکڑوں مرتے ہیں سدا، پھر بھی یاں
واقعہ اک شام و سحر چاہئے
![]() |
| Mir Taqi Mir, میر تقی میر |
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے
اٹھتے پلک، ایک پہر چاہئے
کم ہیں شناسائے زرِ داغِ دل
اس کے پرکھنے کو نظر چاہئے
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میر
ہم کو جیا بارِ دگر چاہئے
(میر تقی میر)
-----
بحر - سریع مسدّس مطوی مکسوف
افاعیل - مُفتَعِلُن مُفتَعِلُن فاعِلُن
اشاری نظام - 2112 2112 212
تقطیع -
عشق میں بے خوف و خطر چاہئے
جان کے دینے کو جگر چاہئے
عشق مِ بے - مُفتَعِلُن - 2112
خوف خطر - مُفتَعِلُن - 2112
چاہیے - فاعلن - 212
جان کِ دے - مُفتَعِلُن - 2112
نے کُ جگر - مُفتَعِلُن - 2112
چاہیے - فاعلن - 212
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر سریع,
بحر سریع مطوی مکسوف,
تقطیع,
کلاسیکی اردو شاعری,
میر تقی میر
Jul 29, 2011
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ - جعفر طاہر
سید جعفر طاہر مرحوم کی ایک غزل
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
صد آسماں بدامن و صد کہکشاں بدوش
بامِ بلندِ یار ترے آستاں کی راہ
ملکِ عدم میں قافلۂ عمر جا بسا
ہم دیکھتے ہی رہ گئے اُس بدگماں کی راہ
لُٹتا رہا ہے ذوقِ نظر گام گام پر
اب کیا رہا ہے پاس، جو ہم لیں وہاں کی راہ
اے زلفِ خم بہ خم تجھے اپنا ہی واسطہ
ہموار ہونے پائے نہ عمرِ رواں کی راہ
گُلہائے رنگ رنگ ہیں افکارِ نو بہ نو
یہ رہگزارِ شعر ہے کس گلستاں کی راہ
طاہر یہ منزلیں، یہ مقامات، یہ حرَم
اللہ رے یہ راہ، یہ کوئے بُتاں کی راہ
جعفر طاہر کے متعلق ایک خوبصورت مضمون اس ربط پر پڑھیے۔
-----
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
کوئے حَ - مفعول - 122
رم سِ نک لِ - فاعلات - 1212
ہِ کوئے بُ - مفاعیل - 1221
تا کی راہ - فاعلان - 1212
ہائے کَ - مفعول - 122
ہا پہ آ کِ - فاعلات -1212
ملی ہے کَ - مفاعیل - 1221
ہا کی راہ - فاعلان - 1212
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
صد آسماں بدامن و صد کہکشاں بدوش
بامِ بلندِ یار ترے آستاں کی راہ
ملکِ عدم میں قافلۂ عمر جا بسا
ہم دیکھتے ہی رہ گئے اُس بدگماں کی راہ
![]() |
| جعفر طاہر Jafar Tahir |
اب کیا رہا ہے پاس، جو ہم لیں وہاں کی راہ
اے زلفِ خم بہ خم تجھے اپنا ہی واسطہ
ہموار ہونے پائے نہ عمرِ رواں کی راہ
گُلہائے رنگ رنگ ہیں افکارِ نو بہ نو
یہ رہگزارِ شعر ہے کس گلستاں کی راہ
طاہر یہ منزلیں، یہ مقامات، یہ حرَم
اللہ رے یہ راہ، یہ کوئے بُتاں کی راہ
جعفر طاہر کے متعلق ایک خوبصورت مضمون اس ربط پر پڑھیے۔
-----
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کوئے حرَم سے نکلی ہے کوئے بُتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
کوئے حَ - مفعول - 122
رم سِ نک لِ - فاعلات - 1212
ہِ کوئے بُ - مفاعیل - 1221
تا کی راہ - فاعلان - 1212
ہائے کَ - مفعول - 122
ہا پہ آ کِ - فاعلات -1212
ملی ہے کَ - مفاعیل - 1221
ہا کی راہ - فاعلان - 1212
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر مضارع,
تقطیع,
جعفر طاہر
Jul 23, 2011
ملا آج وہ مجھ کو چنچل چھبیلا - نظیر اکبر آبادی
ملا آج وہ مجھ کو چنچل چھبیلا
ہوا رنگ سُن کر رقیبوں کا نیلا
لیا جس نے مجھ سے عداوت کا پنجہ
سنلقی علیہم عذاباً ثقیلا
نکل اس کی زلفوں کے کوچہ سے اے دل
تُو پڑھنا، قم اللّیلَ الّا قلیلا
کہستاں میں ماروں اگر آہ کا دم
فکانت جبالاً کثیباً مہیلا
نظیر اس کے فضل و کرم پر نظر رکھ
فقُل، حسبی اللہ نعم الوکیلا
(نظیر اکبر آبادی)
مآخذ: 'نقوش، غزل نمبر'، لاہور، 1985ء
-----
بحر - بحر متقارب مثمن سالم
افاعیل - فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
اشاری نظام - 221 221 221 221
تقطیع -
ملا آج وہ مجھ کو چنچل چھبیلا
ہوا رنگ سُن کر رقیبوں کا نیلا
ملا آ - فعولن - 221
ج وہ مُج - فعولن - 221
کُ چنچل - فعولن - 221
چھبیلا - فعولن - 221
ہوا رن - فعولن - 221
گ سن کر - فعولن - 221
رقیبو - فعولن - 221
کَ نیلا - فعولن - 221
مزید پڑھیے۔۔۔۔
ہوا رنگ سُن کر رقیبوں کا نیلا
لیا جس نے مجھ سے عداوت کا پنجہ
سنلقی علیہم عذاباً ثقیلا
نکل اس کی زلفوں کے کوچہ سے اے دل
تُو پڑھنا، قم اللّیلَ الّا قلیلا
![]() |
| نظیر اکبرآبدی Nazeer Akbarabadi |
فکانت جبالاً کثیباً مہیلا
نظیر اس کے فضل و کرم پر نظر رکھ
فقُل، حسبی اللہ نعم الوکیلا
(نظیر اکبر آبادی)
مآخذ: 'نقوش، غزل نمبر'، لاہور، 1985ء
-----
بحر - بحر متقارب مثمن سالم
افاعیل - فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
اشاری نظام - 221 221 221 221
تقطیع -
ملا آج وہ مجھ کو چنچل چھبیلا
ہوا رنگ سُن کر رقیبوں کا نیلا
ملا آ - فعولن - 221
ج وہ مُج - فعولن - 221
کُ چنچل - فعولن - 221
چھبیلا - فعولن - 221
ہوا رن - فعولن - 221
گ سن کر - فعولن - 221
رقیبو - فعولن - 221
کَ نیلا - فعولن - 221
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Jul 21, 2011
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے - صغیر ملال
صغیر ملال مرحوم کی ایک خوبصورت غزل
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں
کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا
دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے
زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال
کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے
-----
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
کِ سِ انسا - فعلاتن - 2211
ن کُ اپنا - فعلاتن - 2211
ن ہِ رہنے - فعلاتن - 2211
دیتے - فعلن - 22
شہر ایسے - فاعلاتن - 2212
ہِ کہ تنہا - فعلاتن - 2211
ن ہِ رہنے - فعلاتن - 2211
دیتے - فعلن - 22
مزید پڑھیے۔۔۔۔
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں
اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں
کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا
دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے
زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال
کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے
-----
بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے
شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
کِ سِ انسا - فعلاتن - 2211
ن کُ اپنا - فعلاتن - 2211
ن ہِ رہنے - فعلاتن - 2211
دیتے - فعلن - 22
شہر ایسے - فاعلاتن - 2212
ہِ کہ تنہا - فعلاتن - 2211
ن ہِ رہنے - فعلاتن - 2211
دیتے - فعلن - 22
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر رمل,
بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع,
تقطیع,
صغیر ملال
May 16, 2011
ایک زمین تین شاعر - غالب، داغ، امیر مینائی
اپنے بلاگ کے قارئین کی خدمت میں اس سے پہلے فارسی کے تین شعراء، مولانا رومی، مولانا عراقی اور علامہ اقبال کی تین غزلیات پیش کی تھیں جو ایک ہی زمین میں تھیں، آج اردو کے تین مشہور شعراء، مرزا غالب، نواب داغ دہلوی اور مُنشی امیر مینائی کی غزلیات پیش کر رہا ہوں جو ایک ہی زمین میں ہیں۔ غالب کی غزل تو انتہائی مشہور ہے، دیگر دونوں غزلیں بھی خوب ہیں۔ غزلیات بشکریہ کاشفی صاحب، اردو محفل فورم۔
غزلِ غالب
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تُو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گسِل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا
یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
------------------
غزلِ داغ
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تاقیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو، تمہیں اعتبار ہوتا؟
غمِ عشق میں مزہ تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر، مئے خوشگوار ہوتا
نہ مزہ ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا، نہ مجھے قرار ہوتا
ترے وعدے پر ستمگر، ابھی اور صبر کرتے
اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا
یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی
اگر ایک بار ملتا، تو ہزار بار ہوتا
گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشمِ مست دیکھی
مجھے کیا الٹ نہ دیتی، جو نہ بادہ خوار ہوتا
مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر، کہ لیا ہے داغ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی، نہ یہ افتخار ہوتا
---------------------
غزلِ امیر مینائی
مرے بس میں یا تو یا رب، وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پسِ مرگ کاش یوں ہی، مجھے وصلِ یار ہوتا
وہ سرِ مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں خمار ہوتا
مرے اتّقا کا باعث، تو ہے میری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا، تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو، کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یا رب
مرے دونوں پہلوؤں میں، دلِ بے قرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت، مجھے آ کے مُنہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرم سار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لَحَد فشار دیتی
سرِ راہِ کوئے قاتل، جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم، تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا، جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچّا، کہو لاکھ بار کہہ دُوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لَحَد میں، نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک، نہیں اعتبار ہوتا
------------
بحر - بحر رمل مثمن مشکول
افاعیل - فَعِلاتُ فاعِلاتُن / فَعِلاتُ فاعِلاتُن
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا بھی ایک مصرعے کے حکم میں آ سکتا ہے یعنی اس میں عملِ تسبیغ کیا جا سکتا ہے۔
اشاری نظام - 1211 2212 / 1211 2212
ہندسوں کو اردو طرز پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 1211 کا ٹکڑا پہلا ہے اور اس میں بھی 11 پہلے ہے۔
تقطیع
غالب کے مطلعے کی تقطیع درج کر رہا ہوں، تینوں غزلوں کے تمام اشعار اس بحر میں تقطیع ہونگے۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
یِ نہ تھی ہَ - فعلات - 1211
ما رِ قسمت - فاعلاتن - 2212
کہ و صا ل - فعلات - 1211
یار ہوتا - فاعلاتن - 2212
اَ گَ رو ر - فعلات - 1211 (الفِ وصل کا ساقط ہونا نوٹ کریں)۔
جی تِ رہتے - فاعلاتن - 2212
یَ ہِ ان تِ - فعلات - 1211
ظار ہوتا - فاعلاتن - 2212
----------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
غزلِ غالب
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تُو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا
![]() |
| Mirza Ghalib, مرزا غالب |
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گسِل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا
یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
------------------
غزلِ داغ
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تاقیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو، تمہیں اعتبار ہوتا؟
غمِ عشق میں مزہ تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر، مئے خوشگوار ہوتا
نہ مزہ ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا
![]() |
| Dagh Dehlvi, داغ دہلوی |
نہ تجھے قرار ہوتا، نہ مجھے قرار ہوتا
ترے وعدے پر ستمگر، ابھی اور صبر کرتے
اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا
یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی
اگر ایک بار ملتا، تو ہزار بار ہوتا
گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشمِ مست دیکھی
مجھے کیا الٹ نہ دیتی، جو نہ بادہ خوار ہوتا
مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر، کہ لیا ہے داغ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی، نہ یہ افتخار ہوتا
---------------------
غزلِ امیر مینائی
مرے بس میں یا تو یا رب، وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پسِ مرگ کاش یوں ہی، مجھے وصلِ یار ہوتا
وہ سرِ مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں خمار ہوتا
![]() |
| Ameer Meenia, امیر مینائی |
جو میں توبہ توڑ سکتا، تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو، کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا تو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یا رب
مرے دونوں پہلوؤں میں، دلِ بے قرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت، مجھے آ کے مُنہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرم سار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لَحَد فشار دیتی
سرِ راہِ کوئے قاتل، جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم، تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا، جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچّا، کہو لاکھ بار کہہ دُوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لَحَد میں، نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک، نہیں اعتبار ہوتا
------------
بحر - بحر رمل مثمن مشکول
افاعیل - فَعِلاتُ فاعِلاتُن / فَعِلاتُ فاعِلاتُن
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا بھی ایک مصرعے کے حکم میں آ سکتا ہے یعنی اس میں عملِ تسبیغ کیا جا سکتا ہے۔
اشاری نظام - 1211 2212 / 1211 2212
ہندسوں کو اردو طرز پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 1211 کا ٹکڑا پہلا ہے اور اس میں بھی 11 پہلے ہے۔
تقطیع
غالب کے مطلعے کی تقطیع درج کر رہا ہوں، تینوں غزلوں کے تمام اشعار اس بحر میں تقطیع ہونگے۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
یِ نہ تھی ہَ - فعلات - 1211
ما رِ قسمت - فاعلاتن - 2212
کہ و صا ل - فعلات - 1211
یار ہوتا - فاعلاتن - 2212
اَ گَ رو ر - فعلات - 1211 (الفِ وصل کا ساقط ہونا نوٹ کریں)۔
جی تِ رہتے - فاعلاتن - 2212
یَ ہِ ان تِ - فعلات - 1211
ظار ہوتا - فاعلاتن - 2212
----------
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
امیر مینائی,
بحر رمل,
بحر رمل مثمن مشکول,
تقطیع,
داغ دہلوی,
کلاسیکی اردو شاعری,
مرزا غالب
May 11, 2011
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں - داغ دہلوی
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
کب کسی در کی جُبّہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزا پاک باز کیا جانیں
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں
شمع رُو آپ گو ہوئے لیکن
لطفِ سوز و گداز کیا جانیں
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
-----
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں، تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)
اشاری نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔
تقطیع -
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
ساز یہ کی - فاعلاتن - 2212
نَ ساز کا - مفاعلن - 2121
جا نے - فعلن - 22
ناز والے - فاعلاتن - 2212
نیاز کا - مفاعلن - 2121
جانے - فعلن - 22
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
ناز والے نیاز کیا جانیں
کب کسی در کی جُبّہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
![]() |
| Dagh Dehlvi, داغ دہلوی |
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزا پاک باز کیا جانیں
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں
شمع رُو آپ گو ہوئے لیکن
لطفِ سوز و گداز کیا جانیں
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
-----
بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(اس بحر میں آٹھ وزن جمع ہو سکتے ہیں، تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)
اشاری نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔
تقطیع -
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
ساز یہ کی - فاعلاتن - 2212
نَ ساز کا - مفاعلن - 2121
جا نے - فعلن - 22
ناز والے - فاعلاتن - 2212
نیاز کا - مفاعلن - 2121
جانے - فعلن - 22
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر خفیف,
تقطیع,
داغ دہلوی,
کلاسیکی اردو شاعری
May 4, 2011
اختر شیرانی کی ایک شاہکار نظم - اے عشق کہیں لے چل
عین عالمِ شباب میں وفات پا جانے والے محمد داؤد خان اختر شیرانی، 1905ء تا 1948ء، دنیائے اردو میں “شاعرِ رومان” کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق ایک ادبی اور علمی خانوادے سے تھا کہ آپ کے والد حافظ محمود شیرانی نہ صرف فارسی کے استاد تھے بلکہ ایک بلند پایہ محقق اور تاریخ دان بھی تھے، انکا شاہکار، اردو کی ابتدا کے متعلق انکی لازوال کتاب “پنجاب میں اردو” ہے۔
اختر شیرانی نے اُس دور میں اپنی رومانوی شاعری بالخصوص رومانوی نظموں
کا لوہا منوایا جب ایک طرف غزل کے اساتذہ کا طوطی بولتا تھا تو دوسری طرف ترقی پسند بزرجمہر ادبی افق پر چھائے ہوئے تھے، لیکن اختر شیرانی مرحوم نے ایک نئی صدا بلند کی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز چار دانگ عالم پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز گم بھی ہو گئی۔
اختر شیرانی کی نظم “اے عشق کہیں لے چل” کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ نظم بہت پسند ہے۔ یہ نظم معنوی خوبیوں سے تو مالا مال ہے ہی لیکن اس میں نغمگی، بے ساختگی اور روانی بھی دیدنی ہے۔ اختر شیرانی کا مکمل کلام اس ربط پر پڑھا جا سکتا ہے۔
اے عشق کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دُور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیّا ہے
تُو پریم کنہیّا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے
یہ پریم کی نیّا ہے، تُو اِس کا کھویّا ہے
کچھ فکر نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم
بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ رہے ہیں ہم
جو آس کہ تھی وہ بھی، اب توڑ رہے ہیں ہم
بس تاب نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے
ارمانوں کا قاتل ہے، امّیدوں کا رہزن ہے
جذبات کا مقتل ہے، جذبات کا مدفن ہے
چل یاں سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
آپس میں چھل اور دھوکے، سنسار کی ریتیں ہیں
اس پاپ کی نگری میں، اجڑی ہوئی پریتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں، انیائے کی جیتیں ہیں
سکھ چین نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک مذبحِ جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکنِ اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتلِ احرار و ابرار ہے یہ دنیا
دور اس سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
یہ درد بھری دنیا، بستی ہے گناہوں کی
دل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نگاہوں کی
ظلموں کی جفاؤں کی، آہوں کی کراہوں کی
ہیں غم سے حزیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
آنکھوں میں سمائی ہے، اک خواب نما دنیا
تاروں کی طرح روشن، مہتاب نما دنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نما دنیا
للہ وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
وہ تیر ہو ساگر کی، رُت چھائی ہو پھاگن کی
پھولوں سے مہکتی ہوِ پُروائی گھنے بَن کی
یا آٹھ پہر جس میں، جھڑ بدلی ہو ساون کی
جی بس میں نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
قدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلو میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اور تیری عنایت بھی
اے طفلِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اے عشق ہمیں لے چل، اک نور کی وادی میں
اک خواب کی دنیا میں، اک طُور کی وادی میں
حوروں کے خیالاتِ مسرور کی وادی میں
تا خلدِ بریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
مغرب کی ہواؤں سے، آواز سی آتی ہے
اور ہم کو سمندر کے، اُس پار بلاتی ہے
شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے
چل اس کے قریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک ایسی فضا جس تک، غم کی نہ رسائی ہو
دنیا کی ہوا جس میں، صدیوں سے نہ آئی ہو
اے عشق جہاں تُو ہو، اور تیری خدائی ہو
اے عشق وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک ایسی جگہ جس میں، انسان نہ بستے ہوں
یہ مکر و جفا پیشہ، حیوان نہ بستے ہوں
انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
تو خوف نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
برسات کی متوالی، گھنگھور گھٹاؤں میں
کہسار کے دامن کی، مستانہ ہواؤں میں
یا چاندنی راتوں کی شفّاف فضاؤں میں
اے زہرہ جبیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
ان چاند ستاروں کے، بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خضرِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک ایسی بہشت آگیں وادی میں پہنچ جائیں
جس میں کبھی دنیا کے، غم دل کو نہ تڑپائیں
اور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں
لے چل تُو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
————
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 122 2221
تقطیع -
اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
اے عشق - مفعول - 122
کہیں لے چل - مفاعیلن - 2221
اس پاپ - مفعول - 122
کِ بستی سے - مفاعیلن - 2221
نفرت گَ - مفعول - 122
ہِ عالم سے - مفاعیلن - 2221
لعنت گَ - مفعول - 122
ہِ ہستی سے - مفاعیلن - 2221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
اختر شیرانی نے اُس دور میں اپنی رومانوی شاعری بالخصوص رومانوی نظموں
![]() |
| Akhtar Sheerani, اختر شیرانی |
اختر شیرانی کی نظم “اے عشق کہیں لے چل” کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ نظم بہت پسند ہے۔ یہ نظم معنوی خوبیوں سے تو مالا مال ہے ہی لیکن اس میں نغمگی، بے ساختگی اور روانی بھی دیدنی ہے۔ اختر شیرانی کا مکمل کلام اس ربط پر پڑھا جا سکتا ہے۔
اے عشق کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دُور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیّا ہے
تُو پریم کنہیّا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے
یہ پریم کی نیّا ہے، تُو اِس کا کھویّا ہے
کچھ فکر نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم
بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ رہے ہیں ہم
جو آس کہ تھی وہ بھی، اب توڑ رہے ہیں ہم
بس تاب نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے
ارمانوں کا قاتل ہے، امّیدوں کا رہزن ہے
جذبات کا مقتل ہے، جذبات کا مدفن ہے
چل یاں سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
آپس میں چھل اور دھوکے، سنسار کی ریتیں ہیں
اس پاپ کی نگری میں، اجڑی ہوئی پریتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں، انیائے کی جیتیں ہیں
سکھ چین نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک مذبحِ جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکنِ اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتلِ احرار و ابرار ہے یہ دنیا
دور اس سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
یہ درد بھری دنیا، بستی ہے گناہوں کی
دل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نگاہوں کی
ظلموں کی جفاؤں کی، آہوں کی کراہوں کی
ہیں غم سے حزیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
آنکھوں میں سمائی ہے، اک خواب نما دنیا
تاروں کی طرح روشن، مہتاب نما دنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نما دنیا
للہ وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
وہ تیر ہو ساگر کی، رُت چھائی ہو پھاگن کی
پھولوں سے مہکتی ہوِ پُروائی گھنے بَن کی
یا آٹھ پہر جس میں، جھڑ بدلی ہو ساون کی
جی بس میں نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
قدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلو میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اور تیری عنایت بھی
اے طفلِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اے عشق ہمیں لے چل، اک نور کی وادی میں
اک خواب کی دنیا میں، اک طُور کی وادی میں
حوروں کے خیالاتِ مسرور کی وادی میں
تا خلدِ بریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
مغرب کی ہواؤں سے، آواز سی آتی ہے
اور ہم کو سمندر کے، اُس پار بلاتی ہے
شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے
چل اس کے قریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک ایسی فضا جس تک، غم کی نہ رسائی ہو
دنیا کی ہوا جس میں، صدیوں سے نہ آئی ہو
اے عشق جہاں تُو ہو، اور تیری خدائی ہو
اے عشق وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک ایسی جگہ جس میں، انسان نہ بستے ہوں
یہ مکر و جفا پیشہ، حیوان نہ بستے ہوں
انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
تو خوف نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
برسات کی متوالی، گھنگھور گھٹاؤں میں
کہسار کے دامن کی، مستانہ ہواؤں میں
یا چاندنی راتوں کی شفّاف فضاؤں میں
اے زہرہ جبیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
ان چاند ستاروں کے، بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خضرِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
اک ایسی بہشت آگیں وادی میں پہنچ جائیں
جس میں کبھی دنیا کے، غم دل کو نہ تڑپائیں
اور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں
لے چل تُو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
————
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 122 2221
تقطیع -
اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
اے عشق - مفعول - 122
کہیں لے چل - مفاعیلن - 2221
اس پاپ - مفعول - 122
کِ بستی سے - مفاعیلن - 2221
نفرت گَ - مفعول - 122
ہِ عالم سے - مفاعیلن - 2221
لعنت گَ - مفعول - 122
ہِ ہستی سے - مفاعیلن - 2221
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اختر شیرانی,
اردو شاعری,
اردو نظم,
بحر ہزج,
بحر ہزج مثمن اخرب,
تقطیع
May 2, 2011
غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا - میر مہدی مجروح
غیروں کو بھلا سمجھے، اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا
اک عمر کے دُکھ پائے، سوتے ہیں فراغت سے
اے غلغلۂ محشر، ہم کو نہ جگا جانا
مانگوں تو سہی بوسہ پر کیا ہے علاج اس کا
یاں ہونٹ کا ہل جانا واں بات کا پا جانا
گو عمر بسر اس کی تحقیق میں کی تو بھی
ماہیّتِ اصلی کو اپنی نہ ذرا جانا
کیا یار کی بد خوئی، کیا غیر کی بد خواہی
سرمایۂ صد آفت ہے دل ہی کا آ جانا
کچھ عرضِ تمنّا میں شکوہ نہ ستم کا تھا
میں نے تو کہا کیا تھا اور آپ نے کیا جانا
اک شب نہ اُسے لائے، کچھ رنگ نہ دکھلائے
اک شور قیامت ہی نالوں نے اُٹھا جانا
چلمن کا الٹ جانا، ظاہر کا بہانہ ہے
ان کو تو بہر صورت اک جلوہ دکھا جانا
ہے حق بطرف اسکے، چاہے سَو ستم کر لو
اس نے دلِ عاشق کو مجبورِ وفا جانا
انجام ہوا اپنا آغازِ محبّت میں
اس شغل کو جاں فرسا ایسا تو نہ تھا جانا
مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر
اے حضرتِ من تم نے، دل بھی نہ لگا جانا
----
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ اور ہر ٹکڑے میں عملِ تسبیغ ہو سکتا ہے۔
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن / مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 / 122 2221
(ہندسوں کو اردو طرزِ تحریر پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 122 سے شروع کریں اور اس میں بھی 2 پہلے ہے)۔
تقطیع -
غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا
غے رو کُ - مفعول - 122
بلا سمجے - مفاعیلن - 2221
اُر مج کُ - مفعول - 122
بُرا جانا - مفاعیلن - 2221
سمجے بِ - مفعول - 122
تُ کا سمجے - مفاعیلن - 2221
جانا بِ - مفعول - 122
تُ کا جانا - مفاعیلن - 2221
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا
اک عمر کے دُکھ پائے، سوتے ہیں فراغت سے
اے غلغلۂ محشر، ہم کو نہ جگا جانا
مانگوں تو سہی بوسہ پر کیا ہے علاج اس کا
یاں ہونٹ کا ہل جانا واں بات کا پا جانا
گو عمر بسر اس کی تحقیق میں کی تو بھی
ماہیّتِ اصلی کو اپنی نہ ذرا جانا
کیا یار کی بد خوئی، کیا غیر کی بد خواہی
سرمایۂ صد آفت ہے دل ہی کا آ جانا
کچھ عرضِ تمنّا میں شکوہ نہ ستم کا تھا
میں نے تو کہا کیا تھا اور آپ نے کیا جانا
اک شب نہ اُسے لائے، کچھ رنگ نہ دکھلائے
اک شور قیامت ہی نالوں نے اُٹھا جانا
چلمن کا الٹ جانا، ظاہر کا بہانہ ہے
ان کو تو بہر صورت اک جلوہ دکھا جانا
ہے حق بطرف اسکے، چاہے سَو ستم کر لو
اس نے دلِ عاشق کو مجبورِ وفا جانا
انجام ہوا اپنا آغازِ محبّت میں
اس شغل کو جاں فرسا ایسا تو نہ تھا جانا
مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر
اے حضرتِ من تم نے، دل بھی نہ لگا جانا
----
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔ اور ہر ٹکڑے میں عملِ تسبیغ ہو سکتا ہے۔
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن / مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 / 122 2221
(ہندسوں کو اردو طرزِ تحریر پر پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 122 سے شروع کریں اور اس میں بھی 2 پہلے ہے)۔
تقطیع -
غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا
غے رو کُ - مفعول - 122
بلا سمجے - مفاعیلن - 2221
اُر مج کُ - مفعول - 122
بُرا جانا - مفاعیلن - 2221
سمجے بِ - مفعول - 122
تُ کا سمجے - مفاعیلن - 2221
جانا بِ - مفعول - 122
تُ کا جانا - مفاعیلن - 2221
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
اردو شاعری,
اردو غزل,
بحر ہزج,
بحر ہزج مثمن اخرب,
تقطیع,
کلاسیکی اردو شاعری,
میر مہدی مجروح
Apr 28, 2011
غزلِ خسرو - عاشق شدم و محرمِ ایں کار ندارم
شعرِ خسرو
عاشق شدم و محرمِ ایں کار ندارم
فریاد کہ غم دارم و غم خوار ندارم
ترجمہ
میں عاشق تو ہو گیا ہوں مگر اس کام کا میرے پاس کوئی محرم راز نہیں ہے، فریاد ہے کہ مجھے غم تو ہے لیکن کوئی غم خوار نہیں ہے۔
منظوم ترجمہ مسعود قریشی
عاشق ہوں، کوئی محرمِ اسرار نہیں ہے
فریاد کہ غم ہے، کوئی غم خوار نہیں ہے
شعرِ خسرو
آں عیش، کہ یاری دہدم صبر، ندیدم
واں بخت، کہ پرسش کندم یار ندارم
ترجمہ
میں پاس نہیں ہے وہ عیش کہ یار مجھے صبر دے، میرے پاس نہیں ہے وہ قسمت کہ یار خود میرا حال پوچھے۔
قریشی
وہ عیش کے دے صبر مجھے یار، نہ پایا
وہ بخت کہ پوچھے مجھے خود یار، نہیں ہے
شعرِ خسرو
بسیار شدم عاشقِ دیوانہ ازیں پیش
آں صبر کہ ہر بار بُد ایں بار ندارم
ترجمہ
اس سے پہلے بھی میں بہت دفعہ عاشق و دیوانہ ہوا، لیکن وہ صبر جو ہر بار حاصل تھا، اب کے نہیں ہے۔
قریشی
سو بار ہوا عاشق و دیوانہ، پہ اب کے
وہ صبر جو حاصل تھا ہر اک بار، نہیں ہے
شعرِ خسرو
دل پُر ز غم و غصۂ ہجرست ولیکن
از تنگ دلی طاقتِ گفتار ندارم
ترجمہ
دل ہجر کے غم و غصے سے پر تو ہے لیکن تنگدلی کی وجہ سے مجھے طاقتِ گفتار نہیں ہے۔
قریشی
دل، ہجر پہ معمور تو ہے غصہ و غم سے
دل تنگ ہوں، اب طاقتِ گفتار نہیں ہے
شعرِ خسرو
خوں شد دلِ خسرو ز نگہداشتنِ راز
چوں ہیچ کسے محرمِ اسرار ندارم
ترجمہ
راز کی حفاظت کر کر کے خسرو کا دل خون ہوگیا ہے لیکن افسوس کہ کوئی بھی محرمِ اسرار نہیں ہے۔
قریشی
یہ راز چھپانے میں ہوا خوں دلِ خسرو
افسوس کوئی محرمِ اسرار نہیں ہے
---
مزید پڑھیے۔۔۔۔
عاشق شدم و محرمِ ایں کار ندارم
فریاد کہ غم دارم و غم خوار ندارم
ترجمہ
میں عاشق تو ہو گیا ہوں مگر اس کام کا میرے پاس کوئی محرم راز نہیں ہے، فریاد ہے کہ مجھے غم تو ہے لیکن کوئی غم خوار نہیں ہے۔
منظوم ترجمہ مسعود قریشی
عاشق ہوں، کوئی محرمِ اسرار نہیں ہے
فریاد کہ غم ہے، کوئی غم خوار نہیں ہے
شعرِ خسرو
آں عیش، کہ یاری دہدم صبر، ندیدم
واں بخت، کہ پرسش کندم یار ندارم
ترجمہ
میں پاس نہیں ہے وہ عیش کہ یار مجھے صبر دے، میرے پاس نہیں ہے وہ قسمت کہ یار خود میرا حال پوچھے۔
قریشی
وہ عیش کے دے صبر مجھے یار، نہ پایا
وہ بخت کہ پوچھے مجھے خود یار، نہیں ہے
![]() |
| امیر خسرو - ایک خاکہ Amir Khusro |
بسیار شدم عاشقِ دیوانہ ازیں پیش
آں صبر کہ ہر بار بُد ایں بار ندارم
ترجمہ
اس سے پہلے بھی میں بہت دفعہ عاشق و دیوانہ ہوا، لیکن وہ صبر جو ہر بار حاصل تھا، اب کے نہیں ہے۔
قریشی
سو بار ہوا عاشق و دیوانہ، پہ اب کے
وہ صبر جو حاصل تھا ہر اک بار، نہیں ہے
شعرِ خسرو
دل پُر ز غم و غصۂ ہجرست ولیکن
از تنگ دلی طاقتِ گفتار ندارم
ترجمہ
دل ہجر کے غم و غصے سے پر تو ہے لیکن تنگدلی کی وجہ سے مجھے طاقتِ گفتار نہیں ہے۔
قریشی
دل، ہجر پہ معمور تو ہے غصہ و غم سے
دل تنگ ہوں، اب طاقتِ گفتار نہیں ہے
شعرِ خسرو
خوں شد دلِ خسرو ز نگہداشتنِ راز
چوں ہیچ کسے محرمِ اسرار ندارم
ترجمہ
راز کی حفاظت کر کر کے خسرو کا دل خون ہوگیا ہے لیکن افسوس کہ کوئی بھی محرمِ اسرار نہیں ہے۔
قریشی
یہ راز چھپانے میں ہوا خوں دلِ خسرو
افسوس کوئی محرمِ اسرار نہیں ہے
---
مزید پڑھیے۔۔۔۔
Labels:
امیر خسرو,
فارسی شاعری,
مسعود قریشی,
منظوم تراجم
Subscribe to:
Posts (Atom)



























