Apr 12, 2009

حافظ شیرازی کی ایک غزل مع اردو ترجمہ - فکرِ ہر کس بقدرِ ہمّتِ اوست

حافظ شیرازی کی درج ذیل غزل انتہائی مشہور ہے اور اسکے کچھ اشعار فارسی تو کیا اردو میں بھی ضرب المثل کا مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ساری غزل عشقِ حقیقی کی چاشنی سے لبریز ہے اور حافظ کے جداگانہ اسلوب کی آئینہ دار ہے۔

دل سرا پردۂ محبّتِ اُوست
دیدہ آئینہ دارِ طلعتِ اوست
ہمارا دل اسکی محبت کا خیمہ ہے اور آنکھ اسکے چہرے کی آئینہ دار یعنی اسی کو دیکھنے والی ہے۔

من کہ سر در نَیاورَم بہ دو کون
گردنَم زیرِ بارِ منّتِ اوست
میں جو کہ (اپنی بے نیازی کی وجہ سے) دونوں جہانوں کے سامنے سر نہیں جھکاتا لیکن میری گردن اس (حقیقی دوست) کے احسانوں کی زیرِ بار ہے۔

تو و طُوبیٰ و ما و قامتِ یار
فکرِ ہر کس بقدرِ ہمّتِ اوست
تُو ہے اور طُوبیٰ ہے (تجھے جنت کا خیال ہے)، میں ہوں اور دوست کا قد (مجھے اسکے دیدار کا خیال ہے)، ہر کسی کی فکر اسکی ہمت کے اندازے کے مطابق ہوتی ہے۔

دورِ مجنوں گذشت و نوبتِ ماست
ہر کسے پنج روزہ نوبتِ اوست
مجنوں کا دور گذر گیا اور اب ہمارا وقت ہے، ہر کسی کا پانچ (کچھ) دنوں کیلیے دور ہے۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Mazar Hafiz Sheerazi, مزار حافظ شیرازی
Mazar Hafiz Sheerazi, مزار حافظ شیرازی
من کہ باشَم در آں حرَم کہ صبا
پردہ دارِ حریمِ حرمتِ اوست
میں کون ہوتا ہوں اس حرم میں جانے والا کہ صبا اسکی حرمت کے حریم کی پردہ دار ہے۔

مُلکتِ عاشقی و گنجِ طرب
ہر چہ دارَم یُمنِ ہمّتِ اوست
عاشقی کا ملک اور مستی کا خزانہ، جو کچھ بھی میرے پاس ہے اسکی توجہ کی برکت کی وجہ سے ہے۔

من و دل گر فنا شویم چہ باک
غرَض اندر میاں سلامتِ اوست
میں اور میرا دل اگرچہ فنا بھی ہو جائیں تو کیا پروا کہ درمیان میں مقصد تو اسکی سلامتی ہے (نہ کہ ہماری)۔

بے خیالَش مباد منظرِ چشم
زاں کہ ایں گوشہ خاص دولتِ اوست
اسکے خیال کے بغیر نگاہ کا منظر نہ ہو (نگاہ کچھ نہ دیکھے) کہ یہ گوشۂ خاص (بینائی) اسکی دولت ہے۔

گر من آلودہ دامنَم چہ عجب
ہمہ عالم گواہِ عصمتِ اوست
اگر میں آلودہ دامن ہوں تو کیا ہوا، کہ اسکی عصمت کا گواہ تو سارا عالم ہے۔

ہر گُلِ نو کہ شُد چمن آرائے
اثرِ رنگ و بُوئے صحبتِ اوست
ہر نیا پھول جو بھی چمن میں کھلتا ہے، اسکی صحبت کے رنگ و بُو کا اثر ہے۔

فقرِ ظاہر مَبیں کہ حافظ را
سینہ گنجینۂ محبّتِ اوست
حافظ کا ظاہری فقر (غربت) نہ دیکھ کہ اسکا سینہ اسکی (دوست کی) محبت کا خزانہ ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Apr 7, 2009

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب - صُوفی تبسّم

صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم سی نابغہ روزگار شخصیت بھی چشمِ فلک کم کم ہی دیکھتی ہے اور ان کیلیے علامہ کا وہ مشہور و معروف شعر ہزار جان سے صادق آتا ہے جس میں ہزاروں سال رونے اور ایک دیدہ ور کے عالمِ ظہور میں آنے کا ذکر ہے۔ صوفی تبسم ایک ہمہ جہتی شخصیت تھے، استاد الاساتذہ کہ ساری زندگی گورنمنٹ کالج لاہور میں علم و ادب کی آبیاری کرتے رہے اور لاتعداد طالب علم انکے چشمۂ فیض سے سیراب ہوئے۔

اردو، فارسی اور پنجابی کے قادر الکلام شاعر، شاعری کے مترجم، فارسی غزلوں کے ایسے خوبصورت ترجمے کیے کہ اصل فارسی غزلیں شاید ہی کسی کو یاد ہوں لیکن انکے تراجم زبان زد عام ہیں جیسے غالب کی فارسی غزل کا ترجمہ "میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں۔" اسکے علاوہ انکا ایک شاہکار ہم جیسے قتیلانِ غالب کیلیے غالب کی فارسی غزلیات کا اردو ترجمہ ہے وگرنہ کون آج کل فارسی پڑھتا ہے۔ انکی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کا بچوں کے ادب کیلیے کام ہے، یہ ایک ایسا فراموش گوشہ ہے کہ چمنستانِ شاعری میں ہمہ باغ و بہار ہونے کے باوجود اس گوشے میں دائمی خزاں کا ڈیرا تھا لیکن صوفی تبسم نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا اور "ٹوٹ بٹوٹ" جیسے لازوال کردار تخلیق کیئے۔

صوفی غلام مصطفی تبسم کی اردو شاعری میں ایک خاص چاشنی ہے، انکی غزلیات میں ترنم ہے، تغزل ہے، روانی ہے، کیف اور مستی ہے اور وہ اردو فارسی کی سینکڑوں سالہ شعری روایات کی امین ہیں۔ انکی غزل 'سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی" مجھے بہت پسند ہے۔ اسکے علاوہ اپنی پسند کی ایک اور خوبصورت غزل درج کرتا ہوں۔
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, sufi ghulam mustafa tabassum, صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
Sufi Ghulam Mustafa Tabassum,
 صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو

ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

شاید تمھیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر
شاید یہ بات تم بھی گوارا نہ کر سکو

کیا جانے پھر ستم بھی میسّر ہو یا نہ ہو
کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو

اللہ کرے جہاں کو مری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو

میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنّا نہ کر سکو

--------

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو

یہ کا کِ - مفعول - 122
اک جہا کُ - فاعلات - 1212
کرو وقف - مفاعیل - 1221
اضطراب - فاعلان - 1212

یہ کیا کِ - مفعول - 122
ایک دل کُ - فاعلات - 1212
شکیبا نَ - مفاعیل - 1221
کر سکو - فاعلن - 212
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Apr 6, 2009

کرو جو بات کرنی ہے - امجد اسلام امجد کے ایک انٹرویو سے اقتباسات

امجد اسلام امجد کا ایک انٹرویو، انگریزی روزنامہ "دی نیشن" لاہور کے 29 مارچ کے سنڈے میگزین میں پڑھنے کو ملا، اس کو ڈرتے ڈرتے ہی پڑھا۔ ڈرنے کی کئی ایک وجوہات تھیں، مثلاً امجد اسلام امجد آزاد نظم کے شاعر ہیں، جیسا کہ خود انہوں نے اس انٹرویو میں کہا، اور یہ کہ ان کی نظمیں زیادہ تر "رومانوی" ہیں اور یہ کہ وہ نوجوان نسل میں انتہائی مقبول ہیں، سو میں ڈر رہا تھا کہ کہیں اس انٹرویو میں کوئی "ایسی ویسی" بات ہوئی تو خواہ مخواہ میرا خون کھولتا رہے گا، لیکن ہمت کر کے اسے پڑھنا شروع کر دیا اور جوں جوں پڑھتا گیا، امجد اسلام امجد کے خیالات میرے دل میں گھر کرتے گئے۔


امجد اسلام امجد کا کوئی انٹرویو میں نے پہلی بار پڑھا، بلکہ میں نے تو ان کی شاعری بھی زیادہ نہیں پڑھی، وجوہات اوپر لکھ آہا ہوں کہ کیوں، اور میری اور انکی شناسائی پاکستان ٹیلی ویژن کے "سپر ہٹ" ڈراموں کے حوالے سے ہوئی تھی۔ میں ان دنوں بہت چھوٹا تھا جب انکا مشہورِ زمانہ سیریل "وارث" ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا، اور اپنے نام کو ٹی وی پر لکھا ہوا دیکھ کر خوشی سی ہوتی تھی، خیر 'وارث' کے بعد بھی کئی اچھے ڈرامے امجد اسلام امجد نے تخلیق کیے۔


انٹرویو کے جو حصے مجھے بہت اچھے لگے، ان کو لکھتا ہوں، چونکہ ان کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر رہا ہوں، اور یہ بھی یقین ہے کہ انٹرویو کرنے والے واجد چودھری صاحب نے اس کا اردو سے انگریزی ترجمہ کیا ہوگا اور میں اس ترجمے کا ترجمہ کر رہا ہوں سو ہو سکتا ہے کہیں کسی بات میں کوئی فرق رہ جائے۔

Amjad Islam Amjad, امجد اسلام امجد, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Amjad Islam Amjad, امجد اسلام امجد
ایک سوال یہ تھا "اکثر کہا جاتا ہے کہ محبت کا جذبہ اور جوش و ولولہ کسی کو اپنے خیالات کا اظہار شاعری میں کرنے پر مجبور کرتا ہے، کیا آپ کے ساتھ بھی یہی واقع ہے۔" اسکے جواب میں امجد اسلام امجد نے بہت خوبصورت بات کہی کہ "اس معاملے میں ایک سراب ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کچھ شاعر فقط جنسِ مخالف کیلیے شاعری کرتے ہیں اور اسطرح اپنے آپ کو محدود کر لیتے ہیں، یہ تصویر کا ایک رخ ہے یعنی یہ صرف ایک رخ ہے، تصویر کی مکمل عکاسی نہیں ہے۔ محبت کا جذبہ کسی بھی انسان کو بلند کر سکتا ہے اور یہ جذبہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی محبت (یا رومان) شاعری کا ایک حصہ ہے، شاعری کی وجہ یا اصل نہیں ہے۔ رومانی شاعری مقبول ہے اور وہ اس وجہ سے کہ یہ آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اوائلِ عمر میں شاعر کا زندگی کا تجربہ (اور مشاہدہ) بہت زیادہ وسیع نہیں ہوتا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔"

ایک انتہائی اہم اور بنیادی سوال شاعری میں وزن اور اسکی مبادیات کے متعلق تھا، نہایت خوشی ہوئی مجھے امجد اسلام امجد کا نقطۂ نظر پڑھ کر کہ انہوں نے وہی بات کی جو مسلمہ ہے۔ سوال کچھ یوں تھا کہ "آج کل کے شعراء، شاعری میں توازن اور وزن کا خیال نہیں رکھتے، اور آزادنہ شاعری کرتے ہیں، کیا یہ شعری روایات کے خلاف بغاوت نہیں ہے؟ اور شاعری کی بنیادی باتوں اور وزن کا خیال رکھے بغیر جو شاعری کی جائے گی کیا اسے شاعری کہا جائے گا؟"

جیسا کہ اوپر لکھا کہ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے، لیکن امجد اسلام امجد کے جواب لکھنے سے پہلے میں ایک وضاحت یہ کرنا چاہتا ہوں کہ عموماً "آزاد نظم" کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ شاعری کی ہر پابندی سے آزاد ہوتی ہے حالانکہ ایسا معاملہ نہیں ہے، آزاد نظم، صرف اور صرف قافیے اور ردیف سے آزاد ہوتی ہے اور اس میں بحر کے اراکین کو توڑنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن وہ کسی نہ کسی وزن کی ضرور پابند ہوتی ہے، اور جو نظم بالکل ہی مادر پدر آزاد ہوتی ہے اس کی مثال نثری نظم ہے اور کوئی بھی شاعر اور نقاد نثری نظم کو شاعری نہیں مانتا، امجد اسلام امجد کا جواب اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ آپ بذاتِ خود آزاد نظم کے شاعر ہیں۔ امجد اسلام امجد نے جواب دیا۔


"نظم، توازن اور شاعرانہ آھنگ کے بغیر شاعری نہیں ہے، میں ایسے لوگوں کو شاعر نہیں مانتا جو شاعری کی بنیادی باتوں کو ذہن میں نہیں رکھتے۔"


بہت دو ٹوک اور سیدھا سادھا جواب ہے اور کیا خوبصورت جواب ہے۔ ایک اور انتہائی اہم سوال غزل کے مستقبل کے متعلق تھا۔ غزل جہاں اردو شاعری کی اہم ترین صنف ہے وہیں اسکے خلاف "پروپیگنڈہ" بھی بہت کیا گیا ہے۔ جدیدیت کی حمایت اور کلاسیکی شاعری کے بغض میں کچھ نقادوں نے غزل کے متعلق بہت یاوہ گوئی کی ہے، انہیں میں ایک سلیم احمد تھے جنہوں نے غزل کو "وحشی صنفِ سخن" کا خطاب دیا تھا اور ایک ڈاکٹر وزیر آغا صاحب ہیں جو غزل کا کوئی مستقبل نہیں مانتے حالانکہ غزل صدیوں سے اردو میں رائج ہے اور آج بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ کہی جاتی ہے جیسے میر اور غالب کے زمانے میں کہی جاتی تھی اور کہی جاتی رہے گی کہ غزل میں جو چاشنی اور حسن ہے وہ اور کسی صنفِ سخن میں نہیں ہے۔


سوال اور جواب ملاحظہ کیجیے۔ "جدید ادب میں ہم دیکتھے ہیں کہ نظم کو غزل پر برتری حاصل ہے، کیا غزل بھی مثنوی کی طرح تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گی۔" امجد اسلام امجد نے کہا۔ "ادب بنیادی طور پر دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہے، نظم اور نثر، نظم کی دیگر اصناف ہیں جیسے مثنوی اور قصیدہ۔ موجودہ عصر میں مثنوی کی جگہ نظمِ مُعرّی (بلینک ورس) نے لے لی ہے یعنی ہیت اور موضوع میں ایک تبدیلی آ گئی، لیکن اگر غزل کی بات کی جائے تو ادب میں یہ ایک ایسی منفرد صنف ہے کہ دنیا کی صرف تین زبانوں میں پائی جاتی ہے یعنی اردو، فارسی اور عربی۔ اور ہماری زبان میں اسکی یہ انفرادیت ہے کہ ہر ایک شعر میں مختلف خیال (مکمل طور پر) بیان کیا جا سکتا ہے، لہذا غزل اردو ادب کا ہمیشہ رہنے والا اور سدا بہار حصہ ہے۔ ہر شاعر غزل سے ہی آغاز کرتا ہے۔ شاعری اور موسیقی میں اسکی چاشنی اور تغزل ہی اسکی روح ہے۔"

ایک سوال "کس قسم کی صنفِ ادب میں آپ زیادہ تر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہیں" کہ جواب میں انہوں نے کہا۔ "اللہ نے مجھے ہر طرح کی صنف سے نوازا ہے، میں نے سبھی اصنافِ ادب میں کام کیا جیسے ڈرامہ، کالم نگاری، اور شاعری کے تراجم، لیکن مجھے نظم زیادہ پسند ہے، اور اسی کی وجہ سے میری پہچان ہے۔"


ایک اور دلچسپ اور اہم سوال موجودہ شعری رجحانات کے متعلق امجد اسلام امجد کے خیالات جاننے کے بارے میں تھا جسکے جواب میں انہوں نے کہا۔


نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے
ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں


میرے بیٹے کا عہد اس کیلیئے حقیقت ہے لیکن میرے لئے ایک خواب، اسی طرح میرا ماضی میرے لئے 'ناسٹلجیا' ہے لیکن اس کیلیے نہیں کیونکہ اس نے وہ دور نہیں گزارا۔ جدید زمانے کیلیے ان (نوجوان نسل) کے اپنے معاملات ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ عام لوگوں کو آزادنہ طور پر چاند کا سفر کرتے دیکھیں جبکہ میرا تعلق اس عہد سے ہے جب چاند پر پہنچنا ایک خواب تھا، لہذا فرق صاف ظاہر ہے۔ آئندہ آنے والی نسلوں کیلیے انکے ہیروز بھی نئے ہونگے جو کہ ہمارے ہیروز سے مختلف ہونگے۔

آخر میں قارئین کیلیے تازہ کلام کی فرمائش پر امجد اسلام امجد نے ایک انتہائی خوبصورت نظم پڑھی جو کہ اس بلاگ کے قارئین کی بھی نذر ہے۔

کرو جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پر بیٹھے کہ
امجد اسلام امجد
دنیا بس تمھیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فُٹ پاتھ ہے
جس پر کسی کو ایک لمحے کے لیے رکنا
نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے
گزرتی جائے گی خلقت
بنا دیکھے، بنا ٹھہرے
کرو جو بات کرنی ہے
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 31, 2009

اللہ کی مار

"یہ سب شاعروں پر اللہ کی مار کیوں پڑی ہوتی ہے؟ میری بیوی نے ایک دن کسی کتاب پر کسی شاعر کی تصویر دیکھتے ہوئے کہا۔"
میں نے بے چین ہوتے ہوئے کہا۔ "کیا مطلب"۔
"کچھ نہیں، بس ایسے ہی پوچھ رہی ہوں، جس شاعر کو دیکھو، عجیب حلیہ ہوتا ہے اور عجیب و غریب شکل، ایسے لگتا ہے ان پر اللہ کی مار پڑی ہوئی ہے۔"
خیر میں جواب تو کیا دیتا بس سگریٹ سلگا کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ ایسا ہی کچھ مکالمہ ایک دن میرے اور میرے بڑے بیٹے، سات سالہ حسن، کے درمیان ہوا۔ میں اسے غالب کے متعلق بتا رہا تھا اور سبق دینے کے بعد اس سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا۔
"ہاں اب بتاؤ، غالب کون تھے۔"
"غالب شاعر تھا۔"
"الو، شاعروں کی عزت کرتے ہیں، کہتے ہیں غالب شاعر تھے۔"
"جی اچھا"
"تو کون تھے غالب۔"
"وہ شاعر تھے"
"کس زبان کے شاعر تھے"
"اردو کے"
"اور"
"اور، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فارسی کے"
"شاباش، بہت اچھے"
اس مکالمے کے دوران وہ آہستہ آہستہ مجھ سے دور بھی ہو رہا تھا، کہ اچانک بولا۔
"غالب کے ہاتھ تھے۔"

میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا تو اسکے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ کھیل رہی تھی، دراصل اس نے اپنی طرف سے غالب کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی کہ میں اسے کہہ رہا تھا شاعروں کی عزت کرنی چاہیئے۔ جب سے ہماری بیوی نے ہمارے بلاگ پر "اُوئے غالب" والی تحریر دیکھی ہے، مسلسل اس کوشش میں ہے کہ بچوں سے شعر و شاعری کو دُور رکھا جائے اور ہر وقت شاعروں کی برائیاں کر کے بچوں کے ذہن میں جو پودا میں لگا رہا ہوں اس کو پنپنے سے پہلے ہی تلف کر دیا جائے۔

اس تحریر سے یہ دکھانا مقصود نہیں ہے کہ ہم "شاعر" ہیں اور ہمارے گھر میں ہماری عزت پھوٹی کوڑی کی بھی نہیں ہے بلکہ نثر کے اس ٹاٹ میں ایک اور ٹاٹ کا ہی پیوند لگانا چاہ رہا ہوں، بیوی بچے آج کل لاہور میں ہیں پورے ایک ہفتے کیلیے اور میں خالی الذہن، ظاہر ہے اس میں شاعری ہی آ سکتی ہے۔

کل رات ایک رباعی ہوئی سوچا بلاگ پر ہی لکھ دوں کہ "محفوظ" ہو جائے وگرنہ کاغذ قلم کا ہم سے کیا رشتہ، سو عرض کیا ہے۔

ہے تیر سے اُلفت نہ نشانے سے ہمیں
کھونے سے غرَض کوئی، نہ پانے سے ہمیں
سو بار کہے ہمیں سگِ لیلیٰ، خلق
کچھ بھی نہیں چاہیے زمانے سے ہمیں
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 28, 2009

مجھے تم سب سے نفرت ہے۔۔۔۔۔

اجی صاحب گھبرائیے مت، یہ میں اپنا حالِ دل نہیں کہہ رہا اور نہ ہی کبھی اتنے واشگاف الفاظ میں، دوسروں کو تو کیا اپنی انتہائی ذاتی بیوی کو بھی نہیں کہہ سکتا، یہ ایک نظم کا عنوان ہے۔ میں نظم کے میدان کا آدمی نہیں ہوں، بلکہ غزل و رباعی کا قتیل ہوں یا زیادہ سے زیادہ مثنویوں کا اور آزاد نظم کم کم ہی پڑھتا ہوں سوائے ن م راشد کے، کہ راشد کی نظم میں بھی چاشنی ہے۔

فاتح الدین بشیر صاحب، ہمارے دوست ہیں، ان سے تعارف کوئی دو سال پہلے 'اردو محفل' پر ہوا تھا اور یہ تعلق دوستی میں بدل گیا، انتہائی اچھے شاعر ہیں اور اتنے ہی بذلہ سنج، یہ نظم انہی کی ہے۔ آپ پچھلے سال ستمبر میں سیالکوٹ تشریف لائے تو اس خاکسار کو بھی شرفِ ملاقات بخشا، پروگرام تو ہمارا لمبا ہی تھا لیکن شومئی قسمت سے ان سے فقط ایک آدھ گھنٹے تک ہی بات چیت ہو سکی کہ ایک ناگہانی اطلاع کی بنا پر انہیں اسلام آباد واپس جانا پڑا، آج کل کراچی میں مقیم ہیں اور گاہے گاہے ان سے فون پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اس ملاقات کا ذکر یوں آ گیا کہ انہوں نے اس نظم کے پسِ منظر پر کافی روشنی ڈالی تھی اور یہ بھی بتایا تھا کہ کن حالات میں اور کس کی شان میں کہی گئی تھی جو افسوس کہ انکی اجازت کے بغیر میں یہاں نہیں لکھ سکتا۔

یہاں میں فلسفۂ محبت و نفرت پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ انسانی زندگی کے یہ دونوں رخ، ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور اس لحاظ سے ایک جیسے اور ایک جتنے ہی ہیں لیکن اس نظم میں بیان کی گئی ازلی و ابدی و آفاقی سچائیوں اور گہرائیوں کے ساتھ انسانی جذبوں کا گہرا امتزاج ہے، کئی دنوں سے یہ نظم ذہن میں گونج رہی تھی سوچا اپنے قارئین کی نذر کرتا چلوں۔

مجھے تم سب سے نفرت ہے از فاتح الدین بشیر

ارے او قاتلو
تم پر خدا کا رحم
جو تم نے
جہانِ دل کے سب کوچے، محلّے
سب گلی چوبارے تک ویران کر ڈالے
گلسّتانِ تبسّم روند ڈالے
شہرِ جاں کی سب فصیلیں ڈھا کے
قبرستان کر ڈالیں
تم اپنی ذات میں خود ہی خداوندان و پیغمبر
تمہاری گفتنی و کردنی جو سب
بزعمِ خود تھی یزدانی
جنہیں میں خضر سمجھا تھا
وہی شدّاد نکلے ہیں
میں جن کی ذات کا حصّہ
وہی بد ذات نکلے ہیں
تمھاری فتح میں تسلیم کر لوں گا
اگر تم
یہ شکستِ دل، شکستِ عشق میں تبدیل کر پاؤ
مگر اب تک ضمیرِ قلب کے سینے پہ گویا ایستادہ ہے
علَم اک قرمزی جو اک علامت ہے
محبّت جاودانی کے جلال و فتحمندی کی
وہیں
اک اور بھی
اتنا ہی اونچا اور قد آور علَم بھی ایستادہ ہے
مگر اس سرخ جھنڈے سے سیہ رنگت جھلکتی ہے
مگر بس فرق اتنا ہے
کہ اس کے روئیں روئیں سے فقط نفرت چھلکتی ہے
وہی نفرت علامت ہے
مرے تم سے تعلّق کی
تمہارے میرے رشتے کی
مگر دکھ کیا؟
ابھی الفاظ باقی ہیں
قلم کا ساتھ باقی ہے
مگر جب تک مرے سینے میں اک بھی سانس باقی ہے
مجھے تم سب سے نفرت ہے
مجھے تم سب سے نفرت ہے

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 27, 2009

سبکسارانِ ساحل

درد کا کیا ہے جی، کبھی بھی کسی کو بھی کہیں بھی اٹھ سکتا ہے اور رنگ رنگ کا اٹھ سکتا ہے، بلکہ بے رنگ اور بد رنگ بھی کہ اس کو دو چار "تڑکے" لگا کر اپنی مرضی کے رنگ بھرے جا سکتے ہیں۔

کچھ لوگوں کے دماغ میں درد اٹھتا ہے کہ وہ اپنے ازلی رقیب کا خانہ بن جاتا ہے اور کچھ کو زبان کا کہ کشتوں کو پشتے لگا دیتے ہیں لیکن سب سے خطرناک شاید وہ ہوتا ہے جو زبان کے جنوب مشرق میں اٹھتا ہے، جگہ تو ایک ہی ہوتی ہے لیکن یہ درد اپنی ذات میں مختلف رنگ لیے ہوتا ہے کبھی قوم و ملک کا، کبھی رنگ و نسل کا، کبھی ملت و امت کا، کبھی دین و مذہب کا اور کبھی شعر و ادب کا، آخر بھئی کوئی چیز کسی کی جاگیر تھوڑی ہے۔

لیکن اس آخری درد کے بارے میں غالب مرحوم نے بات یہ کہہ کر ختم کر دی تھی۔

درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

اللہ جنت نصیب کرے، مرزا بوڑھے ہو کر مرے، دنیا جہان کے عوارض اپنے آپ کو لاحق کرائے بجز دردِ دل کے، اور وہی دردِ دل جب سچ مچ اٹھا تو فیض پکار اٹھے۔

درد اتنا تھا کہ اُس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بنِ مو سے ٹپکنا چاہا

یقیناً "ہارٹ اٹیک" کی کیفیات کو فیض نے اسی نام کی نظم میں بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے لیکن کیا کیجے ان حضرات کا جنہیں بیدل جونپوری کے الفاظ میں اکثر کچھ ایسا درد اٹھتا ہے۔

ہیں یہاں دوشیزگانِ قوم بیدل با ادب
اس جگہ موزوں نہیں ہے فاعلاتن فاعلات
گرلز کالج میں غزل کا وزن ہونا چاہیے
طالباتن طالباتن طالباتن طالبات

لیکن دوشیزگان کے حق میں سب سے محلق وہ درد تھا جو 'مَنّے موچی' کے پیٹ میں اس وقت اٹھا جب اسکا بیٹا امریکہ سے ڈالر بھیجنے لگ گیا اور اس نے گاؤں کے چوہدری سے اسکی باکرہ بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کیلیے مانگ لیا، گویا دوشیزہ نہ ہوئی اردو شاعری ہو گئی۔

ہوتے تو جی دونوں 'کمّی' ہی ہیں، لیکن سارا فرق 'درجہ حرارت' کا ہے، کہاں وہ جو تنور کے اندر سر دیکر روٹیاں پکاتا ہے اور کہاں وہ جو کڑاھی کے اوپر کھڑا ہو کر دودھ جلیبیوں کا پیالہ ختم کرنے کے بعد ڈکار مارتا ہے۔ حافظ شیرازی نے کہا تھا۔

شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں ہائل
کُجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا

اندھیری رات ہے، اور موج کا خوف ہے اور ایسا خوفناک بھنور ہے، ساحلوں کے بے فکرے اور انکی سیر کرنے والے، ہمارا حال کیسے جان سکتے ہیں؟
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 25, 2009

مرزا رفیع سودا کی ایک غزل - گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

Mirza Rafi Sauda, مرزا رفیع سودا, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Mirza Rafi Sauda, مرزا رفیع سودا
مرزا رفیع سودا کا شمار ان خوش قسمت شعراء میں ہوتا ہے جنہیں میر تقی میر شاعر بلکہ "مکمل شاعر" سمجھتے تھے۔ اردو شاعری کی بنیادوں کو مضبوط تر بنانے میں سودا کا نام لازوال مقام حاصل کر چکا ہے اور جب تک اردو اور اردو شاعری رہے گی انکا نام بھی رہے گا۔
سودا کی ایک غزل جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی

کیا ضد ہے مرے ساتھ، خدا جانئے ورنہ
کافی ہے تسلّی کو مرے ایک نظر بھی

اے ابر، قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے
تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لختِ جگر بھی

اے نالہ، صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے
پایا نہ تنک دیکھنے تَیں رُوئے اثر بھی

کس ہستیٔ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار
کچھ اپنے شب و روز کی ہے تجھ کو خبر بھی

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش
رہتا ہے سدا چاک، گریبانِ سحر بھی

سودا، تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات
آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی
--------
بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولُن
(آخری رکن فعولن کی جگہ فعولان یا مفاعیل بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی
گل پے کِ - مفعول - 122
ہِ اورو کِ - مفاعیل - 1221
طرف بلکہ - مفاعیل - 1221
ثمر بی - فعولن - 221
اے خانہ - مفعول - 122
بَ رَندازِ - مفاعیل - 1221 (الفِ وصل ساقط ہوا ہے)۔
چمن کچ تُ - مفاعیل - 1221
اِدَر بی - فعولن - 221

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 19, 2009

خواجہ الطاف حسین حالی کی چند رباعیات

Altaf، Hussain، Hali, Altaf Hussain Hali, urdu poetry, poetry, classical urdu poetry, ghazal, خواجہ، الطاف، حسین، حالی، خواجہ الطاف حسین حالی، اردو شاعری، کلاسیکی اردو شاعری، شاعری، غزل، رباعی، Rubai
Altaf Hussain Hali, خواجہ الطاف حسین حالی
سر سید احمد مرحوم کے رفقاء میں جن احباب نے خاص مقام حاصل کیا اور ان کے پیغام کو ہندوستان کے کونے کونے میں پھیلایا، ان میں مولانا خواجہ الطاف حسین حالی پانی پتی کا نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ مولانا حالی نے 'ادبی محاذ' سنبھالا تھا اور اس زمانے کی مقبول لیکن لغویات سے پُر شاعری کے خلاف جہاد بالقلم کیا۔ مولانا کی طویل نظم "مد و جزرِ اسلام" جو کہ "مسدسِ حالی" کے نام سے مشہور ہے کہ بارے میں سر سید احمد خان فرماتے تھے کہ جب خدا مجھ سے پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لایا تو کہوں گا کہ حالی سے مسدس لکھوا کر لایا ہوں۔

مولانا نے جہاں نظم میں اپنے قلم کے جوہر دکھلائے وہیں وہ میدانِ نثر کے بھی شاہسوار تھے اور ایسی سلیس اور رواں اردو لکھی کہ اہلِ زبان بھی عش عش کر اٹھے۔ انکی مشہور تصنیفات، جوکہ اردو ادب میں زندہ و جاوید ہو چکی ہیں، میں "مقدمۂ شعر و شاعری" جو کہ دراصل ان کے شعری دیوان کا مقدمہ تھا لیکن یہ اتنا مقبول ہوا اور اس نے پرانی اور پامال شعری روش کو بدلنے میں وہ کام کیا کہ ایک علیحدہ تصنیف کے طور مشہور ہوا، "یادگارِ غالب" جو کہ غالب کی سوانح عمری اور "حیاتِ جاوید" جو کہ سر سید احمد خان کی سوانح عمری ہے۔ یہ کتب نہ صرف پڑھی جاتی رہی ہیں بلکہ رہتی دنیا تک پڑھی جاتی رہیں گی کہ اپنے اپنے موضوع پر سند اور اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

مولانا کے دیوان، جو رنگِ سخنِ قدیم و جدید سے معمور ہے، میں قطعات، غزلیات اور پابند نظموں کے ساتھ پند و نصائح و حقیقت و معرفت و مذہب و فلسفہ و کشاکشِ زیست سے لبریز رباعیات بھی موجود ہیں جن میں سے چند درج کرتا ہوں۔ سب سے پہلے مولانا کی مشہور و معروف رباعی جس سے انہوں نے مسدس کا آغاز کیا ہے۔

تنزّلِ اہلِ اسلام
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

صلحِ کُل
ہندو سے لڑیں نہ گبر سے بیر کریں
شر سے بچیں اور شر کے عوض خیر کریں
جو کہتے ہیں یہ کہ، ہے جہنّم دنیا
وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں

کم ہمتی
جبریہ و قدریہ کی بحث و تکرار
دیکھا تو نہ تھا کچھ اس کا مذہب پہ مدار
جو کم ہمت تھے ہو گئے وہ مجبور
جو باہمت تھے بن گئے وہ مختار

عشق
ہے عشق طبیب دل کے بیماروں کا
یا گھر ہے وہ خود ہزار آزاروں کا
ہم کچھ نہیں جانتے پہ اتنی ہے خبر
اک مشغلہ دلچسپ ہے بیکاروں کا

ترکِ شعر عاشقانہ
بُلبُل کی چمَن میں ہم زبانی چھوڑی
بزم شعرا میں شعر خوانی چھوڑی
جب سے دلِ زندہ تُو نے ہم کو چھوڑا
ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی

مکر دریا
حالی راہِ راست جو کہ چلتے ہیں سدا
خطرہ انہیں گرگ کا نہ ڈر شیروں کا
لیکن اُن بھیڑیوں سے واجب ہے حذر
بھیڑوں کے لباس میں ہیں جو جلوہ نما

نیکی اور بدی پاس پاس ہیں
جو لوگ ہیں نیکیوں میں مشہور بہت
ہوں نیکیوں پر اپنے نہ مغرور بہت
نیکی ہی خود اک بدی ہے گر ہو نہ خلوص
نیکی سے بدی نہیں ہے کچھ دُور بہت

آزادگانِ راست باز کی تکفیر
یاروں میں نہ پایا جب کوئی عیب و گناہ
کافر کہا واعظ نے انہیں اور گمراہ
جھوٹے کو نہیں ملتی شہادت جس وقت
لاتا ہے خدا کو اپنے دعوے پہ گواہ

توحید
ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا
آتش پہ مغاں نے راگ گایا تیرا
دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے
انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا

دوستوں سے بیجا توقع
تازیست وہ محوِ نقشِ موہوم رہے
جو طالبِ دوستانِ معصوم رہے
اصحاب سے بات بات پر جو بگڑے
صحبت کی وہ برکتوں سے محروم رہے

عیش اور عشرت
عشرت کا ثمر تلخ سوا ہوتا ہے
ہر قہقہہ پیغامِ بُکا ہوتا ہے
جس قوم کو عیش دوست پاتا ہوں
کہتا ہوں کہ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے

نیکوں کی جانچ
نیکوں کو نہ ٹھہرائیو بد اے فرزند
اک آدھ ادا ان کی اگر ہو نہ پسند
کچھ نقص انار کی لطافت میں نہیں
ہوں اس میں اگر گلے سڑے دانے چند

گدائی کی ترغیب
اک مردِ توانا کو جو سائل پایا
کی میں نے ملامت اور بہت شرمایا
بولا کہ ہے اس کا ان کی گردن پہ وبال
دے دے کے جنہوں نے مانگنا سکھلایا

رباعیاتِ قدیم
ہو عیب کی خُو کہ ہو ہنر کی عادت
مشکل سے بدلتی ہے بشر کی عادت
چھٹتے ہی چھٹے گا اس گلی میں جانا
عادت اور وہ بھی عمر بھر کی عادت
--------
مرنے پہ مرے وہ روز و شب روئیں گے
جب یاد کریں گے مجھے تب روئیں گے
الفت پہ، وفا پہ، جاں نثاری پہ مری
آگے نہیں روئے تھے تو اب روئیں گے
--------
کیا پاس تھا قولِ حق کا، اللہ اللہ
تنہا تھے، پہ اعدا سے یہ فرماتے تھے شاہ
میں اور اطاعتِ یزیدِ گمراہ
لا حَولَ و لا قُوّۃَ الّا باللہ

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 15, 2009

علامہ اقبال کا آئن سٹائن کو خراجِ تحسین

Einstein, آئن سٹائن, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
Einstein, آئن سٹائن
آئن سٹائن کے نام سے کون ناواقف ہے، لیکن کم از کم میں کلیاتِ اقبال فارسی ہاتھ لگنے تک اس بات سے ناواقف تھا کہ علامہ نے آئن سٹائن پر بھی کوئی کلام لکھا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے اردو اور فارسی کلام میں مشاہیرِ عالم پر کافی کلام نظم بند کیا ہے، اور انکے افکار و نظریات کو زیرِ بحث لائے ہیں۔ پیامِ مشرق میں علامہ کی نظم "حکیم آئن سٹائن" دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی تھی کہ آئن سٹائن کا قتیل میں بھی مدتوں سے ہوں۔ اس نظم میں علامہ نے آئن سٹائن کے روشنی (نور) کے متعلق نظریے پر زیادہ تر بات کی ہے، دونوں حواشی بھی علامہ کے اپنے لکھے ہوئے ہیں۔

حکیم آئن سٹائن (1)۔


جلوۂ می خواست مانندِ کلیمِ ناصبُور
تا ضمیرِ مستنیرِ اُو کشود اسرارِ نُور
وہ (آئن سٹائن) بے صبر کلیم (حضرت مُوسیٰ) کی مانند جلوہ چاہتا تھا یعنی حقیقت کو دیکھنے کیلیے بے قرار تھا، تاآنکہ نور سے استفادہ کیے ہوئے اسکے ضمیر (حقیقت کو دیکھے ہوئے ضمیر) نے نور کے اسرار و رموز سب پر کھول دیئے۔


از فرازِ آسماں تا چشمِ آدم یک نفَس
زود پروازے کہ پروازَش نیایَد در شعُور
آسمانوں کی بلندی سے لیکر آدمی کی آنکھ تک (کا فاصلہ روشنی صرف) ایک لمحے میں طے کرتی ہے، اور وہ اتنی تیزی سے پرواز کرنے والی (تیز رفتار) ہے کہ اسکی پرواز شعور کہ اندر ہی نہیں آتی۔


خلوَتِ اُو در زغالِ تیرہ فام اندر مغاک
جلوَتَش سوزَد درختے را چو خس بالائے طُور
اسکی خلوت میں یہ تاثیر ہے کہ وہ گڑھوں اور کانوں کے اندر سیاہ فام کوئلہ پیدا کر دیتی ہے، اور اسکا جلوہ کسی درخت کو کوہِ طور کی بلندی پر خس و خاشاک کی طرح جلا دیتا ہے۔ روشنی کی رفتار نظم کرنے کے بعد علامہ اسی روشنی یا نور کو اپنے مطلب کے طور پر بیان کر رہے ہیں کہ انکی نور سے کیا مراد ہے۔


بے تغیّر در طلسمِ چون و چند و بیش و کم
برتر از پست و بلند و دیر و زُود و نزد و دُور
یہ (نور) کیا اور کیسے اور زیادہ اور کم کے طلسم میں (زمان و مکاں میں جاری و ساری) ہونے کے باوجود بے تغیر ہے، یہ پست اور بلند، دیر اور جلدی اور نزدیک اور دور سے برتر ہے۔


در نہادَش تار و شید و سوز و ساز و مرگ و زیست
اہرَمَن از سوزِ اُو وَز سازِ اُو جبریل و حُور
یہ (نور) اپنے اندر، تاریکی اور روشنی، سوز اور ساز اور زندگی اور موت رکھتا ہے، شیطان اسکے سوز سے اور جبریل اور حوریں اسکے ساز سے وجود میں آئے، یعنی سب کچھ اسی سے ہے۔


من چہ گویَم از مقامِ آں حکیمِ نکتہ سنج
کردہ زردشتے ز نسلِ مُوسیٰ و ہاروں ظہُور (2)۔
میں اس رمز آشنا حکیم کی کیا تعریف بیان کروں، بس یہ کہ وہ ایک ایسا زردشت ہے جس نے موسیٰ اور ہارون کی نسل میں ظہور کیا ہے۔ آئن سٹائن کو علامہ کا یہ ایک زبردست خراجِ تحسین ہے کہ قادر الکلام شاعر و فلسفی و عالم ایک دوسرے عالم کے بارے میں فرما رہا ہے کہ میں اس کی اور اسکی عظمت کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں اور دوسرے مصرعے میں اپنی شاعری اور اوجِ خیال کا ایک منہ بولتا اور اچھوتا ثبوت بھی پیش کر دیا ہے، آئن سٹائن یہودی تھا لیکن علامہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک ایسا یہودی ہے جو کہ نور کے متعلق اپنے نظریات کی وجہ سے زردشت ہے، جس نے نور کے متعلق ہزاروں سال پہلے اپنے نقطۂ نظر بیان کیا تھا۔



یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ مصرعے میں تو علامہ نے آئن سٹائن کو یہ لکھا کہ وہ موسیٰ اور ہارون کی نسل میں سے ہے لیکن حواشی میں پھر بھی نہیں لکھا کہ وہ یہودی تھا بلکہ لکھا کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہے، مطلب ایک ہی ہے لیکن کیا علامہ نے جان بوجھ کر 'یہودی' کا لفظ استعمال نہیں کیا؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے اقبال کے شارحین تو آئن سٹائن کو بھی نہیں بخشتے۔

----------
حواشی از علامہ اقبال
(1)۔ آئن سٹائن: جرمنی کا مشہور ماہرِ ریاضیات و طبیعات جس نے نظریۂ اضافیت کا حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔
(2)۔ حکیم آئن سٹائن بنی اسرائیل سے ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 13, 2009

ماما (انگریزی والا)۔۔۔۔۔

پہلے واضح کر دوں کہ یہ 'ماما' پنجابی والا نہیں ہے بلکہ انگریزی والا لفظ ہے اور اس وضاحت کی یوں ضرورت محسوس ہوئی کہ پنجابی والا 'ماما' جو کہ اب ایک گالی بن چکا ہے (نہ جانے کیوں) اور چونکہ ڈر ہے کہ گالیوں کے عنوان والے بلاگز کی رسم ہی نہ چل نکلے، آغاز تو الا ماشاءاللہ ہو ہی چکا، تو واضح کر دوں، اور یہ بھی کہ میں گالی پر نہیں گل پر لکھنا چاہ رہا ہوں۔ گُل جو چمن میں کھلتا ہے تو بہار آ جاتی ہے، ہر طرف نغمۂ ہزار گونجتا ہے، اور پژمُردہ دلوں میں جان پڑ جاتی ہے۔


اور اب شاید یہ واضح کرنا بھی ضروری ہو کہ یہ وہ گُل نہیں ہیں جن کے بارے میں علامہ فرماتے ہیں کہ تصویرِ کائنات میں رنگ انہی 'گلوں' کے وجود سے ہے بلکہ یہ تو وہ گل ہیں جو ان سنگلاخ چٹانوں کے سینوں پر کھلتے ہیں جن کی آبیاری تیشۂ فرہاد سے ہوتی ہے، وہ نرم و نازک گل جو سخت بلکہ کرخت سینوں میں دھڑکتے ہیں۔ خونِ جگر سے سینچ کر غنچہ امید وا کرنا حاشا و کلا آسان کام نہیں ہے۔


نہ جانے کیوں زکریا اجمل المعروف بہ 'زیک' کی طرف میرا دھیان جب بھی جاتا ہے تو ذہن میں ایک ماں کا تصور ہی ابھرتا ہے، اس بات کی کوئی وجہ میرے ذہن میں نہیں آتی بجز اسکے کہ اردو، اردو ویب، اور اردو محفل کیلیے اللہ نے انہیں ایک ماں کا دل ہی عطا کیا ہے، اپنے بچے کی ذرا سی پریشانی پر بے اختیار ہو ہو جانا اور اس کی نگہداشت و پرداخت ہمیشہ نگاہ میں رکھنا اور اسکی ترقی و کامیابی کو ہمیشہ دل میں رکھنا اور اس کے مستقبل کی طرف سے ہمیشہ پریشان رہنا، میں نے تو زیک کو جب بھی دیکھا انہی حالتوں میں دیکھا۔ اب اگر انہیں اردو ویب کی 'ماما' نہ لکھوں تو کیا لکھوں اور کیا کہوں۔


دل اگر ماں کا ہے تو دماغ اللہ نے انہیں ایسا حکیمانہ عطا کیا ہے کہ انکی خاموشی بہت ساروں کے لیے سند ہے، مطلب ہے آپ کسی ایسے خشک موضوع پر لکھیئے جس میں حقائق ہیں یا اعداد و شمار ہیں (نہ کہ ایسے گل و بلبل کی باتوں مگر صرف باتوں والے موضوعات جن پر ہم بزعمِ خود طبع آزمائی کرتے ہیں) اور اگر کوئی غلطی ہے تو زیک ضرور اس کو درست کریں گے، گویا زیک انہی اساتذہ کی لڑی میں سے ہیں جن کی خاموشی سند سمجھی جاتی تھی۔ علامہ اقبال کسی مشاعرے کی صدارت فرما رہے تھے اور مبتدی پڑھ رہے تھے، علامہ اپنے مشہورِ زمانہ اسٹائل میں ہتھیلی پر سر ٹکائے بیزار سے بیٹھے تھے اور انکی خاموشی ہی اس بات کی سند تھی کہ اشعار ٹھیک ہی ہیں کہ دفعتہً ایک شعر پر علامہ بے اختیار 'ہُوں' پکار اٹھے، اور وہ شاعر یہ بات اپنی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ سمجھتا رہا کہ علامہ انکے اشعار پر نہ صرف خاموش رہے تھے بلکہ ایک شعر پر 'ہُوں' بھی کہا تھا، اور میں نے نہیں دیکھا زیک کو کبھی 'ہُوں' بھی کہتے ہوئے۔


زیک اور اپنے آپ میں کوئی مماثلت ڈھونڈنے نکلتا ہوں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا بجز ایک دُور کی کوڑی کے، کہ بقولِ زیک انہیں اردو بلاگ لکھنے کا خیال ایک فارسی بلاگ کو دیکھ کر آیا تھا اور میں شاید اردو بلاگ لکھتا ہی اس لیے ہوں کہ اپنی پسند کے فارسی اشعار کسی طرح محفوظ کر سکوں۔ زیک کو اللہ تعالیٰ نے بہت بردبار اور ٹھنڈے دل و دماغ کا مالک بھی بنایا ہے اور فی زمانہ یہ ایک اتنی بڑی خوبی ہے کہ انسان ہونے کی نشانی ہے اور شاید یہی اوصاف رکھنے والے کسی انسان کے بارے میں مولانا جلال الدین رومی نے فرمایا تھا، (دیکھیے فارسی کا ذکر زبان پر آیا نہیں اور میں ہر پھر کر فارسی اشعار پر اتر آیا)۔


دی شیخ با چراغ ھمی گشت گردِ شہر

کز دیو و دَد ملولَم و انسانَم آرزوست


کل رات ایک بزرگ ہاتھ میں چراغ لیے سارے شہر میں گھوما کیا اور کہتا رہا کہ میں شیطانوں اور درندوں سے تنگ آ گیا ہوں اور کسی انسان کو دیکھنے کا آرزومند ہوں۔


بات انسان تک پہنچی ہے تو خدا تک بھی ضرور پہنچے گی کہ زیک کی زندگی کے اس رخ کے بارے میں کوئی بات کرنا میں معیوب سمجھتا ہوں مگر یہ کہ زیک میں اگر کہیں میری رُوح ہوتی تو رات کی کیا تخصیص، وہ ہر وقت شہر کی گلیوں میں غالب کا یہ نعرۂ مستانہ لگا کر مجنونانہ گھومتے۔


ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی

جس کو ہوں دین و دل عزیز، اُس کی گلی میں جائے کیوں


اور چلتے چلتے یہ بھی عرض کردوں کہ بات ایک وضاحت سے شروع ہوئی تھی اور ایک وضاحت پر ہی ختم ہو رہی ہے کہ یہ خاکہ، یا اگر بلاگ کے حوالے سے مجھے ایک بدعت کی اجازت دیں تو کہوں کہ یہ 'بلاخاکہ' میں نے زیک کی اجازت لیے بغیر لکھ مارا اور وہ یہ سوچ کر کہ اگر اجازت لیکر ہی خاکے لکھے جاتے تو "گنجے فرشتے" کبھی تخلیق نہ ہو پاتی۔


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 10, 2009

احمد فراز کی شاعری: ایک مختصر تاثر از احمد ندیم قاسمی

ایک عظیم مرحوم شاعر کا ایک دوسرے عظیم مرحوم شاعر کی شاعری کے بارے میں یہ ایک لاجواب مضمون ہے جو اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی مجلے 'ادبیات' اسلام آباد کی خصوصی اشاعت 1994ء میں چھپا تھا، چونکہ اس مجلے میں غیر مطبوعہ تحاریر ہی شائع ہوتی تھیں اس لیے یہ تو طے ہے کہ 'ادبیات' سے پہلے قاسمی مرحوم کا یہ مضمون کہیں نہیں چھپا تھا، نہیں جانتا کہ اس کے بعد یہ کہیں چھپا یا نہیں، بہرحال یہ خوبصورت مضمون قارئین کی نذر۔

احمد فراز کی شاعری: ایک مختصر تاثر
احمد ندیم قاسمی
چند ہفتے پہلے کا واقعہ ہے کہ احمد فراز، امجد اسلام امجد، سجاد بابر اور میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے احرام باندھے مکہ مکرمہ پہنچے۔ ہم طوافِ کعبہ مکمل کر چکے اور سعی کے لیے صفا و مروہ کا رخ کرنے والے تھے کہ ایک خاتون لپک کر آئی اور احمد فراز کو بصد شوق مخاطب کیا۔ "آپ احمد فراز صاحب ہیں نا؟" فراز نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولی۔ "ذرا سا رکئے گا، میرے بابا جان کو آپ سے ملنے کا بے حد اشتیاق ہے۔" وہ گئی اور ایک نہایت بوڑھے بزرگ کا بازو تھامے انہیں فراز کے سامنے لے آئی۔ بزرگ اتنے معمر تھے کہ بہت دشواری سے چل رہے تھے مگر انکا چہرہ عقیدت کے مارے سرخ ہو رہا تھا اور انکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بولے "سبحان اللہ، یہ کتنا بڑا کرم ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اس نے اپنے ہی گھر میں مجھے احمد فراز صاحب سے ملوا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ احمد فراز جو میرے محبوب شاعر ہیں اور جنہوں نے میر اور غالب کی روایت کو توانائی بخشی ہے۔" عقیدت کے سلسلے میں انہوں نے اور بہت کچھ کہا اور جب ہم ان سے اجازت لیکر سعی کے لیے بڑھے تو میں نے فراز سے کہا۔ "آج آپ کی شاعری پر سب سے بڑے الزام کا ثبوت مل گیا ہے۔" سب نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا تو میں نے کہا "دیکھا نہیں آپ نے، یہ "ٹین ایجر" فراز سے کتنی فریفتگی کا اظہار کر رہا تھا، یہ الگ بات ہے کہ اس ٹین ایجر کی عمر اسی پچاسی سے متجاوز تھی۔"

"فراز ٹین ایجرز کا شاعر ہے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فراز صرف عنفوانِ شباب میں داخل ہونے والوں کا شاعر ہے۔"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فراز کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان طلبہ کا شاعر ہے اور بس۔"۔۔۔۔۔۔۔۔فراز پر یہ الزامات ہر طرف سے وارد ہوتے رہے ہیں مگر وہ اس گھٹیا الزام تراشی سے بے نیاز، نہایت خوبصورت شاعری تخلیق کیے جا رہا ہے۔ اگر حسن و جمال اور عشق و محبت کی اعلیٰ درجے کی شاعری گھٹیا ہوتی تو میر اور غالب، بلکہ دنیا بھر کے عظیم شاعروں کے ہاں گھٹیا شاعری کے انباروں کے سوا اور کیا ہوتا۔ فراز کی شاعری میں بیشتر یقیناً حسن و عشق ہی کی کارفرمائیاں ہیں اور یہ وہ موضوع ہے جو انسانی زندگی میں سے خارج ہو جائے تو انسانوں کے باطن صحراؤں میں بدل جائیں، مگر فراز تو بھر پور زندگی کا شاعر ہے۔ وہ انسان کے بنیادی جذبوں کے علاوہ اس آشوب کا بھی شاعر ہے جو پوری انسانی زندگی کو محیط کیے ہوئے ہے۔ اس نے جہاں انسان کی محرومیوں، مظلومیتوں اور شکستوں کو اپنی غزل و نظم کا موضوع بنایا ہے وہیں ظلم و جبر کے عناصر اور آمریت و مطلق العنانی پر بھی ٹوٹ ٹوٹ کر برسا ہے اور اس سلسلے میں غزل کا ایسا ایسا شعر کہا ہے اور ایسی ایسی نظم لکھی ہے کہ پڑھتے یا سنتے ہوئے اسکے مداحین جھومتے ہیں اور اسکے معترضین کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں۔ یہ دونوں پہلو زندگی کی حقیقت کے پہلو ہیں اور حقیقت ناقابلِ تقسیم ہوتی ہے۔

urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Ahmed Nadeem Qasmi, احمد ندیم قاسمی
Ahmed Nadeem Qasmi, احمد ندیم قاسمی
ایک بار ایک معروف شاعر نے چند دوسرے ہردلعزیز شعراء کے علاوہ احمد فراز پر بھی تُک بندی کا الزام عائد کر دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ شاعر اگر احمد فراز کا سا ایک شعر بھی کہہ لیتے تو احساسِ کمتری کا مظاہرہ کرنے کا تکلف نہ فرماتے۔ مثال کے طور پر فراز کے صرف دو شعر دیکھئے، اگر یہ تک بندی ہے تو نہ جانے اعلیٰ معیار کی شاعری کسے کہتے ہیں۔

ذکر اس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں
---------
آج اُس نے شرَفِ ہم سفَری بخشا تھا
اور کچھ ایسے کہ مجھے خواہشِ منزل نہ رہی

میں صرف ان دو شعروں کے حوالے سے کہوں گا کہ جب میں یہ شعر پڑھتا ہوں تو مجھے ان میں پوری فارسی اور اردو غزل کی دلآویز روایات گونجتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔


Ahmed Faraz, احمد فراز, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Ahmed Faraz, احمد فراز
احمد فراز کے والد مرحوم اردو کے علاوہ فارسی کے بھی اچھے شاعر تھے، پھر فراز کی تعلیم و تربیت ایسے ماحول میں ہوئی جہاں بیدل، سعدی، حافظ، عرفی، نظیری اور غالب کی فارسی شاعری کے چرچے رہتے تھے۔ کوہاٹ اور پشاور میں اردو شعر و شاعری کا ایک بھر پور ماحول پیدا ہو چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ احمد فراز کی غزل دراصل صنفِ غزل کی تمام روشن روایات کے جدید اور سلیقہ مندانہ اظہار کا نام ہے۔ اس کا ایک ایک مصرعہ ایسا گھٹا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک لفظ کی تبدیلی کی گنجائش بھی باقی نہیں چھوڑتا۔ اور چونکہ فراز کی غزل تکمیل (پرفیکشن) کی ایک انتہا ہے اس لیے جب وہ نظم کہتا ہے تو اسکی بھی ایک ایک لائن برجستہ اور بے ساختہ ہوتی ہے۔ چنانچہ احمد فراز غزل اور نظم کا ایسا شاعر ہے جو دورِ حاضر کے چند گنے چنے معتبر ترین شعراء میں شمار ہوتا ہے۔

یہ جو بعض لوگ دُور کی کوڑی لاتے ہیں کہ فراز کے ہاں حسن و عشق کی نرمیوں کے ساتھ ساتھ تغیر و انقلاب کی جو للکار ہے وہ اسے تضادات کا شکار بنا دیتی ہے تو یہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ حسن و عشق کی منازل سے گزرے بغیر انقلاب کی للکار اعتماد سے محروم رہتی ہے اور وہی شعراء صحیح انقلابی ہوتے ہیں جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں کے اندازہ داں ہوتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ فراز کا یہ کمال بھی لائقِ صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود وہ اپنی انقلابی شاعری میں بھی سچا شاعر رہا ہے۔ وہ نعرہ زنی نہیں کرتا، صورتحال کا تجزیہ کرتا ہے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی سوچ کے مطابق سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اُس کا یہ دعویٰ صد فیصد درست ہے کہ

دیکھو تو بیاضِ شعر میری
اک حرف بھی سرنگوں نہیں ہے

فراز کے یہ نام نہاد "تضادات" تو اُس کے فن کی توانائی ہیں، بصورتِ دیگر وہ ذات اور کائنات کو ہم رشتہ کیسے کر سکتا تھا اور اسطرح کے شعر کیسے کہہ سکتا تھا کہ

تم اپنی شمعِ تمنا کو رو رہے ہو فراز
ان آندھیوں میں تو پیارے چراغ سب کے گئے

خود آگاہی کا یہ وہ مقام ہے جہاں تک پہنچنے کے لیے عمریں درکار ہوتی ہیں۔

میں فراز کے شاعرانہ کمالات کے اس نہایت مختصر تاثر کے آخر میں اسکی غزل میں تغزل کی اس بھر پور فضا سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں جو غزل کی سی لطیف صنفِ سخن کی سچی شناخت ہے۔ یہ صرف چند اشعار ہیں جو اس وقت یادداشت میں تازہ ہیں۔

تری قُربت کے لمحے پُھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں
--------
رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اُڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
--------
ایسا گُم ہوں تری یادوں کے بیابانوں میں
دل نہ دھڑکے تو سنائی نہیں دیتا کچھ بھی
--------
بظاہر ایک ہی شب ہے فراقِ یار مگر
کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے
--------
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تُو کرے

یہ اس دور کی غزل ہے جس پر احمد فراز نے سالہا سال تک حکمرانی کی ہے اور جو اردو شاعری کی تاریخ میں ایک الگ باب کی متقاضی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 5, 2009

بے خَبری

آج دفتر کے ایک ساتھی سے کھانے کے دوران، پانچ چھ ماہ کی واقفیت کے بعد، پہلی دفعہ ایک ذاتی سا مکالمہ ہوا جو کچھ انہوں نے اسطرح سے شروع کیا۔
"آپ نے رات وہ تجزیہ سنا تھا؟"انہوں نے ایک پروگرام کا نام لیتے ہوئے کہا۔
"جی نہیں"
"آپ اُن صاحب کے پروگرام تو دیکھتے ہونگے" انہوں نے اس تجزیہ نگار کا نام لیتے ہوئے کہا۔
"جی نہیں"
"آپ خبریں تو دیکھتے ہیں ناں"
"جی نہیں"
"تو پھر ٹی وی پر کیا دیکھتے ہیں۔"
"کچھ بھی نہیں، میں ٹی وی نہیں دیکھتا۔"
"واقعی!!!۔۔۔۔۔اچھا تو پھر فلمیں دیکھتے ہونگے۔"
"اب وہ بھی نہیں دیکھتا۔"
"وہ فلم دیکھی ہے آپ نے" انہوں نے کسی فلم کا نام لیتے ہوئے کہا۔
"جی نہیں"
"تو پھر گھر جا کر آپ کیا کرتے ہیں"
اسکے بعد اس مکالمے کے طول و عرض میں تو ضرور وسعت پیدا ہوئی لیکن مجھے کچھ مزید "الٹے سیدھے" سوالوں کا جواب دینا پڑا، جیسے وصی شاہ یا نسیم حجازی یا عشق کے عین، شین یا الف، ب، جیم، دال وغیرہ وغیرہ کے متعلق لیکن یہ واقعہ میرے بلاگز کی فہرست میں اضافہ ضرور کر گیا۔

اسے میری بے خبری کہیئے، یا غفلت یا جہالت یا بے حسی یا کچھ اور لیکن یہ حقیقت ہے کہ حالاتِ حاضرہ نام کی چیز کی طرف سے میرے دل میں ایک بیزاری سی پیدا ہو گئی ہے، وجہ تو ماہرینِ نفسیات ہی بتا سکتے ہیں اور شکر کے میرے بلاگ کا قاری فرائڈ نہ ہوا ورنہ کچھ نادر قسم کی وجہ دریافت ہوتی لیکن میں اس بیزاری پر بہت خوش ہوں کہ زندگی میں چین اور سکون ہے، کم از کم حالاتِ حاضرہ کی طرف سے، اور فی زمانہ اس طرف سے سکون کا مطلب ہے کہ آپ کی بے شمار پریشانیاں ختم ہو گئیں جن پر بحث بحث کر کروڑوں انسان بے حال ہوئے جا رہے ہیں۔

زمانے کی رفتار عجب ہے، ایک شور شرابہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا تیار، مرزا عبدالقادر بیدل نے شاید اسی لیے کہا تھا۔

بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاں
کردہ ام پیدا چو گوھر، در دلِ دریا کراں
ترجمہ، میں نے دنیا والوں کی محبت کی طرف سے اپنی چشمِ امید بند کر لی ہے اور گوھر کی طرح سمندر کے دل (صدف) میں اپنا ایک (الگ تھلگ) گوشہ بنا لیا ہے۔

یہ شعر مجھے برابر دن رات یاد آتا ہے یا اگر اسے خودنمائی نہ سمجھا جائے تو عرض کروں کہ اپنی یہ رباعی بھی اکثر یاد آتی ہے جو کم و بیش ایک سال پہلے کہی تھی۔

شکوہ بھی لبوں پر نہیں آتا ہمدم
آنکھیں بھی رہتی ہیں اکثر بے نم
مردم کُش یوں ہوا زمانے کا چلن
اب دل بھی دھڑکتا ہے شاید کم کم
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 2, 2009

حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ - جاوید نامہ از اقبال سے اشعار

جاوید نامہ اقبال کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کو وہ اپنا حاصلِ زندگی سمجھتے تھے اور وہ ہے بھی۔ دراصل یہ اقبال کا افلاک کا ایک سفر نامہ ہے جس پر مولانا رومی انہیں ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس سفر میں وہ مختلف سیاروں اور آسمانوں کی سیر کرتے ہیں اور کئی مشاہیر سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
جاوید نامہ کا تفصیلی تعارف انشاءاللہ پھر کسی وقت لکھوں گا، یہاں پر نیچے جو تین بند ہیں انکا سیاق و سباق لکھ دیتا ہوں تا کہ ان کو صحیح طور پر سمجھا جا سکے۔
اقبال اور رومی جب آسمانوں کے سفر پر نکلتے ہیں تو سب سے پہلے "فلکِ قمر" پر پہنچتے ہیں۔ فلک قمر پر انکی ملاقات ایک "جہاں دوست" سے ہوتی ہے، جہاں دوست دراصل ایک قدیم ہندو رشی "وشوامتر" ہے۔ وشوامتر سے باتیں کر کے وہ چاند کی ایک وادی یرغمید کی طرف جاتے ہیں جسے فرشتوں نے وادیِ طواسین کا نام دے رکھا ہے (یہ دونوں نام ظاہر ہے اقبال نے ہی دیے ہیں)۔
طواسین، دراصل طاسین کی جمع ہے، اور منصور حلاج کی کتاب کا نام ہے، منصور نے طواسین سے مراد تجلیات لیا ہے جبکہ علامہ نے یہاں اس سے مراد تعلیمات لیا ہے۔ وادیِ طواسین میں علامہ نے گوتم بدھ، زرتشت، حضرت عیسٰی (ع) اور حضرت مُحمّد (ص) کی تعلیمات بیان کی ہیں۔
اس مقام پر میں پچھلے کئی برسوں سے اٹکا ہوا ہوں اور جب بھی جاوید نامہ کا یہ حصہ نظر سے گزرتا ہے دل بے اختیار اقبال کی عظمت کو سلام کر اٹھتا ہے۔ اقبال کی فکر کا عروج ہے کہ یہ تعلیمات چار مختلف انداز سے بیان کی ہیں۔ گوتم کی تعلیمات کا عنوان ہے "طاسینِ گوتم، توبہ آوردن زنِ رقاصہ عشوہ فروش" یعنی ایک عشوہ فروش رقاصہ کا توبہ کرنا۔ اس میں گوتم بدھ اور رقاصہ کا مکالمہ لکھا ہے۔ زرتشت کی تعلیمات کا عنوان "آزمایش کردن اہرمن زرتشت را" یعنی اہرمن (شیطان) کا زرتشت کی آزمایش کرنا اور ان دونوں کا مکالمہ ہے۔ حضرت مسیح (ع) کی تعلیمات "رویائے حکیم طالسطائی" یعنی مشہور روسی ناول نگار، مفکر اور مصلح ٹالسٹائی کے خواب کی صورت میں بیان کی ہیں۔
حضرت مُحمّد (ص) کی تعلیمات "نوحہ رُوحِ ابو جہل در حرمِ کعبہ" یعنی ابوجہل کی روح کا حرم کعبہ میں نوحے کی صورت میں بیان کی ہیں۔ ایک بار پھر یہاں اقبال کی عظمت اور اوجِ خیال اور انفرادیت کو سلام کرتے ہی بن پڑتی ہے۔ اقبال نے یہاں اس انسانی اور نفسیاتی نکتے سے کام لیا ہے کہ آپ کا دشمن آپ پر جو جو الزام لگائے گا اور جو جو آپ کے نقائص بیان کرے گا وہ دراصل آپ کی خوبیاں ہیں۔
اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ علامہ کیا فرماتے ہیں۔
طاسینِ مُحمّد
نوحہ رُوحِ ابوجہل در حرمِ کعبہ

سینۂ ما از مُحمّد داغ داغ
از دمِ اُو کعبہ را گل شُد چراغ
ہمارا سینہ محمد (ص) کی وجہ سے داغ داغ ہے، اسکے دم (پھونک) سے کعبہ کا چراغ بجھ گیا۔
از ہلاکِ قیصر و کسریٰ سرُود
نوجواناں را ز دستِ ما ربُود
اُس نے قیصر و کسریٰ (بادشاہوں) کی بربادی کی باتیں کیں، وہ نوجوانوں کو ہمارے ہاتھوں میں سے اچک کر لے گیا۔
ساحر و اندر کلامَش ساحری است
ایں دو حرفِ لااِلٰہ خود کافری است
وہ جادوگر ہے اور اس کے کلام کے اندر جادوگری ہے، یہ دو حرف لاالہ (کوئی معبود نہیں) تو خود کافری ہے کہ ہر کسی کا انکار کیا جا رہا ہے۔
تا بساطِ دینِ آبا دَر نَوَرد
با خداوندانِ ما کرد، آنچہ کرد
جب اس نے ہمارے آبا و اجداد کے دین کی بساط الٹ دی تو ہمارے خداؤں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ناقابل بیان ہے۔Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال, Javiad Nama, جاوید نامہ, Maulana Rumi, مولانا رومی
پاش پاش از ضَربتَش لات و منات
انتقام از وے بگیر اے کائنات
اس کی ضرب سے لات و منات پاش پاش ہو گئے، اے کائنات (اسکے اس فعل و جرأت پر) اس سے انتقام لے۔
دل بہ غایب بست و از حاضر گَسَست
نقشِ حاضر را فسونِ او شکست
اس نے غائب سے دل لگایا ہے اور جو حاضر ہیں (بُت) ان سے ناطہ توڑا، اسکے جادو نے حاضر کے نقش کو توڑ دیا۔
دیدہ بر غایب فرو بَستَن خطاست
آنچہ اندر دیدہ می نایَد کجاست
غایب پر نگاہ مرکوز رکھنا (دل لگانا) خطا ہے، جو نظر ہی نہیں آتا وہ کہاں ہے (اس کا کیا وجود جو نظر ہی نہ آئے)۔
پیشِ غایب سجدہ بردَن کُوری است
دینِ نو کُور است و کوری دُوری است
غایب کے سامنے سجدہ کرنا تو اندھا پن ہے، یہ نیا دین اندھا پن ہے اور اندھا پن (حاضر کو نہ دیکھ پانا) تو دوری ہے، فراق ہے۔
خُم شُدَن پیشِ خدائے بے جہات
بندہ را ذوقے نَبَخَشد ایں صلٰوت
بے جہات خدا کے سامنے جھکنا، بندے کو یہ (ایسی) نماز کوئی ذوق عطا نہیں کرتی، اس شعر میں اقبال نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے اسی نماز میں ذوق ہے جس میں بندہ خدا کو سامنے دیکھے یعنی مشہور حدیث کی طرف اشارہ ہے۔

مذہَبِ اُو قاطعِ مُلک و نسَب
از قریش و منکر از فضلِ عرَب
اس کا مذہب ملک و نسب کو کاٹتا ہے، یعنی مساوات کا درس دیتا ہے، وہ قریش اور عرب کی فضیلت کا منکر ہے۔
در نگاہِ اُو یکے بالا و پست
با غُلامِ خویش بر یک خواں نشست
اسکی نگاہ میں اعلٰی اور ادنٰی ایک برابر ہیں، وہ اپنے غلام کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھا۔
قدرِ احرارِ عرب نشناختہ
با کَلِفتانِ حبَش در ساختہ
اس نے عرب کے آزاد بندوں کی قدر نہیں جانی، اس نے افریقہ کے بد صورتوں (اور غلاموں) سے موافقت پیدا کر لی۔
احمَراں با اسوَداں آمیختَند
آبروئے دُودمانے ریختَند
اس نے سرخ رنگ والوں (عربوں) کو سیاہ رنگ والوں (حبشیوں) کے ساتھ ملا دیا، اس نے خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی۔
ایں مساوات ایں مواخات اعجمی است
خوب می دانَم کہ سلماں مزدکی است
یہ مساوات اور بھائی چارے کی باتیں عجمی ہیں، میں خوب جانتا ہوں کہ سلمان (فارسی رض) مزدکی ہے۔ مزدک پانچویں صدی عیسوی کے آخر اور چھٹی صدی کے قبل کا ایک ایرانی مصلح تھا جس نے مساوات کی بات کی، ایرانی بادشاہ صباد نے اسکے نظریات قبول بھی کر لیے لیکن بعد میں اس نے اپنے بیٹے اور ولی عہد خسرو نوشیرواں کے ہاتھوں مزدک اور اسکے لاکھوں معتقدین کا قتلِ عام کروا دیا۔ ابو جہل یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ سلمان فارسی (رض) بھی مزدکی ہیں اور انہوں ہی نے ہی حضرت محمد (ص) کو مساوات کی باتیں سکھائی ہیں وگرنہ عرب میں ان باتوں کا کیا کام۔
ابنِ عبداﷲ فریبَش خوردہ است
رستخیزی بر عرب آوردہ است
عبداللہ کے بیٹے (حضرت محمد ص) نے اسی (سلمان) کا فریب کھایا ہے اور عرب پر (مساوات) کی جنگ مسلط کر دی ہے۔
عترتِ ہاشم ز خود مہجور گشت
از دو رکعت چشمِ شاں بے نور گشت
ہاشم کا خاندان اپنے آپ (اپنی فضیلت) سے ہی دور ہو گیا ہے، دو رکعت کی نماز نے انکی آنکھوں کو بے نور کر دیا ہے۔
اعجمی را اصلِ عدنانی کجاست
گنگ را گفتارِ سحبانی کجاست
عجمیوں کو عدنانیوں (قریش کے جدِ امجد عدنان) سے کیا نسبت ہو سکتی ہے، گونگا کہاں اور سبحانی کی گفتار کہاں۔ (سبحاں زمانۂ اسلام کا ایک نامور اور شعلہ بیاں خطیب و مقرر تھا، فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور بعد میں امیر معاویہ کے مصاحبین مین شامل ہو کر خطیب العرب کا خطاب پایا)۔
چشمِ خاصانِ عرب گردیدہ کور
بر نیائے اے زہَیر از خاک گور
عرب کے خاص لوگوں کی آنکھ اندھی ہو گئی ہے، اے زُہیر اپنی قبر سے اٹھ کھڑا ہو۔ (زہیر عرب کا نامور شاعر جو اسلام کے خلاف شعر کہہ کر عربیوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتا تھا)۔
اے تو ما را اندریں صحرا دلیل
بشکن افسونِ نوائے جبرئیل
اے (زہیر) تو صحرا (عرب) میں ہمارا رہبر ہے، تو جبرائیل کی نوا یعنی قرآن کا جادو (اپنی شاعری سے) توڑ دے۔

باز گو اے سنگِ اسوَد باز گوے
آں چہ دیدیم از مُحمّد باز گوے
پھر بیان کر اے کالے پتھر (حجر اسود در کعبہ) پھر بیان کر، محمد (ص) کے ہاتھوں جو کچھ ہم نے دیکھا (ہم ہر جو گزری وہ اتنی دردناک کہانی ہے کہ) پھر بیان کر۔
اے ہبَل، اے بندہ را پوزش پذیر
خانۂ خود را ز بے کیشاں بگیر
اے ہبل (قریش کا مشہور بت و معبود) اے بندوں کے عذر قبول کرنے والے، اپنے گھر (کعبہ) کو ان بے دینوں سے واپس لے لے۔
گلّۂ شاں را بہ گُرگاں کن سبیل
تلخ کن خرمائے شاں را بر نخیل
ان کے بھیڑوں کے گلے کو بھیڑیوں کے حوالے کر، انکی کھجوروں کو درختوں پر ہی تلخ کر دے۔
صرصرے دہ با ہوائے بادیہ
"أَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَۃ"
ان پر صحرا کی ہوا کو صرصر (تند و تیز و گرم طوفانی ہوا) بنا کر بھیج، تا کہ وہ اس طرح گر جائیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے۔ دوسرا مصرع سورۃ الحاقہ کی ایک آیت کا ٹکڑا ہے۔
اے منات اے لات ازیں منزل مَرَو
گر ز منزل می روی از دل مَرَو
اے لات و منات اس منزل (کعبہ) سے مت جاؤ، اگر اس منزل سے چلے بھی جاؤ تو ہمارے (عرب و قریش) کے دلوں سے مت جاؤ۔
اے ترا اندر دو چشمِ ما وثاق
مہلتے، "اِن کُنتِ اَزمَعتِ الِفراق"
اے وہ کہ تمھارا ہماری آنکھوں کے اندر گھر ہے، اگر تم نے جدا ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو مہلت تو دو، کچھ دیر تو ٹھہرو۔ عربی ٹکڑا مشہور عربی شاعر امراء القیس کے ایک شعر کا پارہ ہے۔

انہی اشعار کے ساتھ اقبال فلکِ قمر سے رومی کی معیت میں فلکِ عطارد کی طرف سفر کر جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 26, 2009

غزلِ امیر خُسرو مع ترجمہ - دِلَم در عاشقی آوارہ شُد، آوارہ تر بادا

امیر خسرو کی ایک اور خوبصورت غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔
دِلَم در عاشقی آوارہ شُد، آوارہ تر بادا
تَنَم از بیدِلی بیچارہ شد، بیچارہ تر بادا
ترجمہ
میرا دل عاشقی میں آوارہ ہو گیا ہے، اور زیادہ آوارہ ہو جائے۔ میرا جسم بے دلی سے بیچارہ ہو گیا ہے، اور زیادہ بیچارہ ہوجائے۔
منظوم ترجمہ مسعود قریشی
مرا دل عشق میں آوارہ ہے، آوارہ تر ہوجائے
مرا تن غم سے بے چارہ ہوا، بے چارہ تر ہوجائے
گر اے زاہد دعائے خیر می گوئی مرا ایں گو
کہ آں آوارۂ کوئے بُتاں، آوارہ تر بادا
ترجمہ
اگر اے زاہد تو میرے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو میرے لیے یہ کہہ کہ کوئے بتاں کا آوارہ، اور زیادہ آوارہ ہو جائے۔
قریشی
اگر مجھ کو دعائے خیر دینی ہے تو کہہ زاہد
کہ وہ آوارۂ کوئے بتاں آوارہ تر ہو جائے
دِلِ من پارہ گشت از غم نہ زاں گونہ کہ بہ گردَد
اگر جاناں بدیں شاد است، یا رب پارہ تر بادا
ترجمہ
میرا دل غم سے ٹکرے ٹکرے ہوگیا ہے اور اسطرح بھی نہیں کہ وہ ٹھیک ہوجائے، اگر جاناں اسی طرح خوش ہے تو یا رب میرا دل اور پارہ پارہ ہوجائے۔
قریشی
مرا دل پارہ پارہ ہے، نہیں امّید بہتر ہو
اگر جاناں اسی میں شاد ہے تو پارہ تر ہو جائے
Amir Khusro, امیر خسرو, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
Mazar Amir Khusro, مزار امیر خسرو
ہمہ گویند کز خونخواریَش خلقے بجاں آمد
من ایں گویَم کہ بہرِ جانِ من خونخوارہ تر بادا
ترجمہ
سبھی کہتے ہین کہ اسکی خونخواری سے خلق کی جان تنگ ہوگئی ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ میری جان کیلیے وہ اور زیادہ خونخوار ہو جائے
قریشی
سبھی کہتے ہیں خونخواری سے اُسکی خلق عاجز ہے
میں کہتا ہوں وہ میری جان پر خونخوارہ تر ہو جائے
چو با تر دامنی خُو کرد خُسرو با دوچشمِ تر
بہ آبِ چشمِ مژگاں دامِنَش ہموارہ تر بادا
ترجمہ
اے خسرو، اگر تیری دو بھیگی ہوئی آنکھوں نے تر دامنی کو اپنی عادت بنا لیا ہے تو تیرا دامن آنکھوں کے آنسوؤں سے اور زیادہ بھیگ جائے۔
قریشی
دو چشمِ تر سے خسرو کو ہوئی تر دامنی کی خُو
برستی آنکھ سے دامن مگر ہموارہ تر ہو جائے
----------
بحر - بحر ہزج مثمن سالم
افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن
اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
تقطیع -
دلم در عاشقی آوارہ شُد، آوارہ تر بادا
تَنم از بیدِلی بیچارہ شد، بیچارہ تر بادا
دِلَم در عا - مفاعیلن - 2221
ش قی آوا - مفاعیلن - 2221
رَ شُد آوا - مفاعیلن - 2221
رَ تر بادا - مفاعیلن - 2221
تَنم از بی - مفاعیلن - 2221
دِلی بیچا - مفاعیلن - 2221
رَ شد، بیچا - مفاعیلن - 2221
رَ تر بادا - مفاعیلن - 2221
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 25, 2009

ٹانویں ٹانویں تارے - احمد راہی

کلّے کلّے رُکھ نے تے ٹانویں ٹانویں تارے
سہکدے نے تیریاں وچھوڑیاں دے مارے
ٹانویں ٹانویں تارے

بُھلّے میرے لیکھ، تیرے وعدیاں تے بُھل گئی
پیار دیاں لشکدیاں رنگاں اُتّے ڈُلّھ پئی
گہری گہری اَکھّیں مینوں تک دے نے سارے
ٹانویں ٹانویں تارے
Ahmed Rahi, احمد راہی, Punjabi Poetry, پنجابی شاعری
Ahmed Rahi, احمد راہی
اساں دل دتّا سی، تُوں دھوکا دے کے ٹُر گیوں
سانوں ساری عمراں دا رونا دے کے ٹُر گیوں
کدی تیرے ساڈے وی تے ہون گے نتارے
ٹانویں ٹانویں تارے

(ترنجن - احمد راہی)
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 22, 2009

علامہ اقبال کی ایک نظم 'از خوابِ گِراں خیز' مع ترجمہ

'زبور عجم' کا علامہ اقبال کے کلام میں ایک اپنا مقام ہے، اس کتاب میں علامہ کی وہ مخصوص شاعری ہے جس کا پرچار وہ ساری زندگی کرتے رہے، عمل کی تلقین سے بھری اس کتاب میں سے 'انقلاب' کے موضوع پر ایک نظم پہلے پوسٹ کر چکا ہوں، یہ نظم بھی اسی موضوع پر ہے اور کیا خوبصورت نظم ہے۔
اس نظم میں جو ٹِیپ کا مصرع (بار بار آنے والا) 'از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گراں خیز' (گہری نیند سے اٹھ) ہے، اسکے متعلق کبھی کسی اخبار کے ایک کالم میں پڑھا تھا کہ لاہور کا ایک کاروباری شخص کسی سلسلے میں وسطی ایشیا کے ایک ملک میں مقیم تھا، یہ وہ دن تھے جب وسطی ایشیائی ملک آزادی حاصل کر رہے تھے، اسکا کہنا ہے کہ ایک دن وہاں ہزاروں مظاہرین صبح سے لیکر شام تک صرف اسی مصرعے کے نعرے لگاتے رہے، وہ واپس آیا تو اس نے اپنے کسی دوست سے ذکر کیا تو اس نے اسے بتایا کہ یہ مصرع تو اقبال کا ہے۔ اور اقبال کی یہی شاعری ہے کہ انقلاب کے دوران ایرانی اس بات پر پچھتاتے رہے کہ اقبال کے اولین مخاطب تو ہم ہیں لیکن عرصۂ دراز تک اس کے کلام کو سمجھا ہی نہیں۔ اپنے ملک میں ماشاءاللہ اقبال کی فارسی شاعری کا جو حال ہے اسکا نوحہ پڑھنے سے بہتر مجھے یہ لگا کہ اقبال کی یہ خوبصورت اور لازوال نظم پڑھی جائے۔

اے غنچۂ خوابیدہ چو نرگس نِگَراں خیز
کاشانۂ ما، رفت بتَاراجِ غماں، خیز
از نالۂ مرغِ چمن، از بانگِ اذاں خیز
از گرمیِ ہنگامۂ آتش نفَساں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
اے سوئے ہوئے غنچے، نرگس کی طرف دیکھتے ہوئے اٹھ، ہمارا گھرغموں اور مصیبتوں نے برباد کر دیا، اٹھ، چمن کے پرندے کی فریاد سے اٹھ، اذان کی آواز سے اٹھ، آگ بھرے سانس رکھنے والوں کی گرمی کے ہنگامہ سے اٹھ، (غفلت کی) گہری نیند، گہری نیند، (بہت) گہری نیند سے اٹھ۔

خورشید کہ پیرایہ بسیمائے سحر بست
آویزہ بگوشِ سحر از خونِ جگر بست
از دشت و جبَل قافلہ ہا، رختِ سفر بست
اے چشمِ جہاں بیں بہ تماشائے جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

سورج جس نے صبح کے زیور سے ماتھے کو سجھایا، اس نے صبح کے کانوں میں خونِ جگر سے بندہ لٹکایا، یعنی صبح ہو گئی، بیابانوں اور پہاڑوں سے قافلوں نے سفر کیلیے سامان باندھ لیا ہے، اے جہان کو دیکھنے والے آنکھ، تُو بھی جہان کے تماشا کیلیے اٹھ، یعنی تو بھی اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔

خاور ہمہ مانندِ غبارِ سرِ راہے است
یک نالۂ خاموش و اثر باختہ آہے است
ہر ذرّۂ ایں خاک گرہ خوردہ نگاہے است
از ہند و سمر قند و عراق و ہَمَداں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

مشرق (خاور) سب کا سب راستے کے غبار کی مانند ہے، وہ ایک ایسی فریاد ہے جو کہ خاموش ہے اور ایک ایسی آہ ہے جو بے اثر ہے، اور اس خاک کا ہر ذرہ ایک ایسی نگاہ ہے جس پر گرہ باندھ دی گئی ہے (نابینا ہے)، (اے مشرقیو) ہندوستان و سمرقند (وسطی ایشیا) و عراق (عرب) اور ہمدان(ایران، عجم) سے اٹھو، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند سے اٹھو۔

دریائے تو دریاست کہ آسودہ چو صحرا ست
دریائے تو دریاست کہ افزوں نہ شُد وکاست
بیگانۂ آشوب و نہنگ است، چہ دریاست؟
از سینۂ چاکش صِفَتِ موجِ رواں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو صحرا کی طرح پرسکون (بے آب) ہے، تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو بڑھا تو نہیں البتہ کم ضرور ہو گیا ہے، یہ تیرا دریا کیسا دریا ہے کہ وہ طوفانوں اور مگر مچھوں (کشمکشِ زندگی) سے بیگانہ ہے، اس دریا کے پھٹے ہوئے سینے سے تند اور رواں موجوں کی طرح اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
Allama Iqbal, علامہ اقبال
ایں نکتہ کشائندۂ اسرارِ نہاں است
ملک است تنِ خاکی و دیں روحِ رواں است
تن زندہ و جاں زندہ ز ربطِ تن و جاں است
با خرقہ و سجّادہ و شمشیر و سناں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

یہ بات چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے والی ہے (غور سے سن)، تیرا خاکی جسم اگر ملک ہے تو دین اسکی جان اور روحِ رواں اور اس پر حکمراں ہے، جسم اور جان اگر زندہ ہیں تو وہ جسم اور جان کے ربط ہی سے زندہ ہیں، لہذا خرقہ و سجادہ و شمشیر و تلوار کے ساتھ (یعنی صوفی، زاہد اور سپاہی) اٹھ، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند میں ڈوبے ہوئے اٹھ۔

ناموسِ ازَل را تو امینی، تو امینی
دارائے جہاں را تو یَساری تو یَمینی
اے بندۂ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبائے یقیں در کش و از دیرِ گماں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

ازل کی ناموس کا تو ہی امانت دار ہے، جہان کے رکھوالے کا تو ہی دایاں اور بایاں (خلیفہ) ہے، اے مٹی کے انسان تو ہی زمان ہے اور تو ہی مکان ہے (یعنی انکا حکمران ہے) تو یقین کے پیمانے سے شراب پی اور وہم و گمان و بے یقینی کے بتکدے سے اٹھ کھڑا ہو، گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔

فریاد ز افرنگ و دل آویزیِ افرنگ
فریاد ز شیرینی و پرویزیِ افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ
معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

فریاد ہے افرنگ سے اور اسکی دل آویزی سے، اسکی شیریں (حسن) اور پرویزی (مکاری) سے، کہ تمام عالم افرنگ کی چنگیزیت سے ویران اور تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ اے حرم کو تعمیر کرنے والے (مسلمان) تو ایک بار پھراس (تباہ و برباد) جہان کو تعمیر کرنے کیلیے اٹھ کھڑا ہو، (لیکن تُو تو خوابِ غفلت میں پڑا ہوا ہے) اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 21, 2009

عبدالحمید عدم کی ایک غزل - ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں

ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں
کتنا سودائی ہوں، کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں

مے چُھٹی، پر گاہے گاہے اب بھی بہرِ احترام
دعوتِ آب و ہوا تسلیم کر لیتا ہوں میں

بے وفا میں نے، محبّت سے کہا تھا آپ کو
لیجیئے اب با وفا تسلیم کر لیتا ہوں میں
Abdul Hameed Adam, عبدالحمید عدم, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Abdul Hameed Adam, عبدالحمید عدم
جو اندھیرا تیری زلفوں کی طرح شاداب ہو
اُس اندھیرے کو ضیا تسلیم کر لیتا ہوں میں

جُرم تو کوئی نہیں سرزد ہوا مجھ سے حضور
با وجود اِس کے سزا تسلیم کر لیتا ہوں میں

جب بغیر اس کے نہ ہوتی ہو خلاصی اے عدم
رہزنوں کو رہنما تسلیم کر لیتا ہوں میں

(رُسوائیِ نقاب - عبدالحمید عدم)
--------
بحر - بحر رمل مثمن محذوف
افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(آخری رکن فاعلن میں فاعِلان بھی آ سکتا ہے)
اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
ہر پری وَش کو خدا تسلیم کر لیتا ہوں میں
کتنا سودائی ہوں، کیا تسلیم کر لیتا ہوں میں
ہر پری وش - فاعلاتن - 2212
کو خدا تس - فاعلاتن - 2212
لیم کر لے - فاعلاتن - 2212
تا ہُ مے - فاعلن - 212
کتنَ سودا - فاعلاتن - 2212
ئی ہُ کا تس - فاعلاتن - 2212
لیم کر لے - فاعلاتن - 2212
تا ہُ مے - فاعلن - 212
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 20, 2009

طائرِ لاہوتی از واصف علی واصف

طائرِ لاہوتی

میں نعرۂ مستانہ، میں شوخیِ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا

میں طائرِ لاہوتی، میں جوہرِ ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو، اس حال میں پہچانا

میں سوز محبّت ہوں، میں ایک قیامت ہوں
میں اشکِ ندامت ہوں، میں گوہرِ یکدانہ

کس یاد کا صحرا ہوں، کس چشم کا دریا ہوں
خود طُور کا جلوہ ہوں، ہے شکل کلیمانہ
واصف علی واصف, Wasif Ali Wasif, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
واصف علی واصف, Wasif Ali Wasif
میں شمعِ فروزاں ہوں، میں آتشِ لرزاں ہوں
میں سوزشِ ہجراں ہوں، میں منزلِ پروانہ

میں حُسنِ مجسّم ہوں، میں گیسوئے برہم ہوں
میں پُھول ہوں شبنم ہوں، میں جلوۂ جانانہ

میں واصفِ بسمل ہوں، میں رونقِ محفل ہوں
اک ٹوٹا ہوا دل ہوں، میں شہر میں ویرانہ
(شب چراغ - واصف علی واصف)
————
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
اشاری نظام - 122 2221 122 2221
تقطیع -
میں نعرۂ مستانہ، میں شوخیِ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا
مے نعرَ - مفعول - 122
ء مستانہ - مفاعیلن - 2221
مے شوخِ - مفعول - 122
یِ رندانہ - مفاعیلن - 2221
مے تشنَ - مفعول - 122
کہا جاؤ - مفاعیلن - 2221
پی کر بِ - مفعول - 122
کہا جانا - مفاعیلن - 2221

اور یہ عابدہ پروین کی آواز میں


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 18, 2009

کرکٹ: جنون سے سکون تک

کرکٹ سے میری شناسائی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی جتنی میری ہوش۔ بچپن ہی سے کرکٹ میرے خون میں رچی بسی تھی بلکہ خون سے باہر بھی ٹپکتی تھی، کبھی ناک پر کرکٹ بال لگنے سے نکسیر پھوٹی تو کبھی ہونٹ کٹے اور منہ خون سے بھر گیا لیکن یہ جنون ختم نہ ہوا۔ میں اپنے محلے کی دو ٹیموں میں کھیلا کرتا تھا وجہ اسکی یہ تھی کہ ہر لڑکا ہی آل راؤنڈر ہوتا تھا سو جس کو بلے بازی میں باری ملتی تھی اس کو گیند بازی نہیں ملتی تھی اور جس کو گیند بازی ملتی تھی اس کی بیٹنگ میں باری نہیں آتی تھی سو اس کا حل میں نے یہ سوچا تھا کہ دو ٹیموں میں کھیلا کرتا تھا ایک میں بحیثیت اوپننگ بلے باز کے اور دوسری میں بحیثیت اٹیک باؤلر کے، گو اس طرح مجھے دگنا چندہ دینا پڑتا تھا لیکن راہِ عشق میں دام و درم کو کون دیکھنا ہے۔ چند کاغذوں کو سی کر میں نے اپنی ایک پرائیوٹ ریکارڈ بُک بھی بنا رکھی تھی جس میں اپنے میچوں کے اعداد و شمار لکھا کرتا تھا۔

کھیلنے کا جنون تو تھا ہی دیکھنے کا بھی تھا، پانچ پانچ دن سارے ٹیسٹ میچ دیکھنا اور پھر ان پر تبصرے کرنا، اور تو اور جناح اسٹیڈیم سیالکوٹ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان میچ دیکھنے کیلیے پولیس کے ڈنڈے بھی کھائے اور آنسو گیس بھی سہی لیکن یہ جنون کسی طور کم نہیں ہوا۔

لیکن نہ جانے کیا ہوا ہے پچھلے دو سالوں میں کہ زندگی کم از کم کرکٹ کی طرف سے پر سکون ہو گئی ہے، کھیلنا اور دیکھنا تو درکنار میں اب کسی سے اس موضوع پر بات بھی نہیں کرتا اور اگر کوئی کرنے کی کوشش بھی کرے تو اسے کوئی شعر سنا کر چپ کرا دیتا ہوں۔ میری زندگی کے چالیس سال پورے ہونے میں تو ابھی تین چار سال باقی ہیں لیکن شاید عقل آ گئی ہے اگر کرکٹ سے صریحاً قطع تعلقی کوئی عقل کا کام ہے تو، ہاں اگر کوئی اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ میں کرکٹ کے شائقین کو بیوقوف کہہ رہا ہوں تو دروغ بر گردنِ راوی!
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 15, 2009

عشق دی نویوں نوِیں بہار - بُلّھے شاہ

جاں میں سبق عشق دا پڑھیا
مسجد کولوں جیوڑا ڈریا
پُچھ پُچھ ٹھاکر دوارے وڑیا
جتھّے وجدے ناد ہزار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

وید، قرآناں پڑھ پڑھ تھکّے
سجدے کردیاں گھس گئے متھّے
نہ رب تیرتھ نہ رب مکّے
جس پایا تس نور انوار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

پُھوک مصلّا بھن سٹ لوٹا
نہ پھڑ تسبی، عاصا، سوٹا
عاشق کہندے دے دے ہوکا
ترک حلالوں، کھا مُردار
عشق دی نویوں نوِیں بہار
مزار بابا بلھے شاہ, Mazar Bulleh Shah, Punjabi Poetry, پنجابی شاعری
مزار بابا بلھے شاہ، قصور، پاکستان
 Mazar Bulleh Shah
ہیر رانجھے دے ہو گئے میلے
بُھلی ہیر ڈھونڈیندی بیلے
رانجھا یار بُکّل وچ کھیلے
ہوش رہیا نہ سرت سنبھار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

جد میں رمز عشق دی پائی
طوطا مینا مار مکائی
اندر باہر ہوئی صفائی
جتول ویکھاں یارویار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

عمر گنوائی وچ مسیتی
اندر بھریا نال پلیتی
کدی نماز توحید نہ نیتی
ہن کیوں کرنا ایں شور پکار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

عشق بھلایا سجدہ تیرا
ہن کیوں پانویں اینویں جھیڑا
بُلّھا ہوندا چپ بہتیرا
عشق کریندا مارومار
عشق دی نویوں نوِیں بہار
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 14, 2009

شیخ ابو سعید ابو الخیر کی چند رباعیات

شیخ ابوسعید فضل اللہ بن ابوالخیر احمد بن محمد بن ابراہیم، چوتھی اور پانچویں صدی ہجری (دسویں و گیارہویں صدی عیسوی) کے ایک نامور عارف اور معروف شاعر ہیں۔ فارسی شاعری میں آپ کا مقام انتہائی بلند سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے ہی فارسی شاعری میں تصوف کا پرچار کیا اور تصوف کی تعلیمات کو شاعری کے رنگ میں پیش کیا اور شاعری میں تصوف کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی جس پر آج تک، ہزار سال گزرنے کے بعد بھی، بلند و بالا و پُر شکوہ عمارات تعمیر کی جا رہی ہیں۔ شیخ ابوسعید ابوالخیر کو مشہور صوفی حضرت بایزید بسطامی اور منصور حلاج کی تعلیمات بہت پسند تھیں اور اپنی شاعری میں منصور کی تعریف جا بجا کی ہے۔ آپ کی شاعری کے اثرات بعد کے صوفی شعراء پر کافی گہرے ہیں جیسے شیخ فرید الدین عطار آپ کو اپنا روحانی استاد کہا کرتے تھے۔

شیخ ابوسعید، مشہور عالم ابنِ سینا کے ہم عصر تھے، ان دونوں کی ایک ملاقات بہت مشہور ہے جس میں دونوں حضرات تین دن تک تخلیے میں گفت و شنید کرتے رہے، ملاقات کے بعد ابنِ سینا کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے شیخ سے کیا حاصل کیا، انہوں نے کہا کہ میں جو کچھ بھی جانتا ہوں وہ اس کو دیکھ سکتے ہیں، دوسری طرف شیخ کے مریدین نے آپ سے سوال کیا کہ آپ نے ابنِ سینا سے کیا حاصل کیا آپ نے کہا کہ میں جو کچھ بھی دیکھ سکتا ہوں وہ اسے جانتا ہے۔ ایک صوفی اور ایک عالم کی ایک دوسرے کیلیے یہ کلمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔


شاعری میں شیخ ابوسعید کی خاص پہچان انکی رباعیات ہیں، جو تصوف و عرفان و معرفت و حقیقت کے اسرار سے پر ہیں اور چہار دانگ شہرت حاصل کر چکی ہیں، انہی میں سے چند رباعیاں ترجمہ کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

(1)
ابوسعید ابوالخیر, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Abu Saeed Abul Kheir, Rubai, رباعی
ابوسعید ابوالخیر ایک خاکہ
Abu Saeed Abul Kheir
اے واقفِ اسرارِ ضمیرِ ھمہ کَس
در حالتِ عجز دستگیرِ ھمہ کس
یا رب تو مرا توبہ دہ و عذر پذیر
اے توبہ دہ و عذر پذیرِ ھمہ کس


اے سب کے دلوں کے حال جاننے والے، ناتوانی اور عاجزی میں سب کی مدد کرنے والے، یا رب تو مجھے توبہ (کی توفیق) دے اور میرے عذر کو قبول کر، اے سب کو توبہ کو توفیق دینے والے اور سب کے عذر قبول کرنے والے۔
(2)
خواہی کہ ترا دولتِ ابرار رسَد
مپسند کہ از تو بہ کس آزار رسَد
از مرگ مَیَندیش و غمِ رزق مَخور
کایں ھر دو بہ وقتِ خویش ناچار رسَد
اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے نیک لوگوں کی دولت مل جائے (تو پھر) نہ پسند کر کہ تجھ سے کسی کو آزار پہنچے، موت کی فکر نہ کر اور رزق کا غم مت کھا، کیوں کہ یہ دونوں اپنے اپنے وقت پر چار و ناچار (لازماً) پہنچ کر رہیں گے۔
(3)
در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
ور دل بہ خدا و ساکنِ میکده ‌ای
مے نوش کہ عاقبت بخیرست ترا

کعبہ میں اگر تیرا دل غیر کی طرف ہے، (تو پھر) تیری ساری طاعت بھی سب فسق ہے اور کعبہ بھی تیرے لیے بتخانہ ہے۔ اور (اگر) تیرا دل خدا کی طرف ہے اور تو (چاہے) میکدے میں رہتا ہے تو (بے فکر) مے نوش کر کہ (پھر) تیری عاقبت بخیر ہے۔
(4)
تسبیح مَلَک را و صفا رضواں را
دوزخ بد را، بہشت مر نیکاں را
دیبا جم را و قیصر و خاقاں را
جاناں ما را و جانِ ما جاناں را

تسبیح (و تمحید وتحلیل) فرشتوں کیلیے اور معصومیت و پاکیزگی رضواں (فرشتے) کیلیے ہے، دوزخ بد اور جنت نیک مردوں کیلیے ہے، دیبا (و حریر یعنی قیمتی ساز و سامان) جمشید و قیصر و خاقان (بادشاہوں) کیلیے ہے اور جاناں ہمارے لیے ہے اور ہماری جان جاناں کیلیے۔
(5)
وصلِ تو کجا و مَنِ مَہجُور کجا
دُردانہ کجا، حوصلۂ مُور کجا
ہرچند ز سوختَن ندارَم باکی
پروانہ کجا و آتشِ طُور کجا

تیرا وصال کہاں اور ہجر کا مارا کہاں، گوہرِ نایاب کہاں اور چیونٹی کہاں، ہر چند کہ میں جل جانے سے نہیں ڈرتا لیکن پروانہ کہاں اور آتشِ طور کہاں۔
(6)
مجنونِ تو کوہ را، ز صحرا نَشَناخت
دیوانۂ عشقِ تو سر از پا نَشَناخت
ہر کس بہ تو رہ یافت ز خود گم گردید
آں کس کہ ترا شناخت خود را نَشَناخت
تیرے مجنوں کو پہاڑ و صحرا کی پہچان نہیں ہے (اس کیلیے دونوں ایک برابر ہیں)، تیرے عشق کا دیوانہ سر اور پاؤں میں فرق نہیں جانتا، ہر کوئی جسے تیری راہ ملی اسے نے خود کو گم کر دیا، ہر کوئی جس نے تجھے پہچان لیا وہ اپنی شناخت بھول گیا۔
(7)
باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ
گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
ایں درگۂ ما درگۂ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی، باز آ
(اے میرے بندے) واپس آ، واپس آ، توجو کوئی بھی ہے، لوٹ آ، چاہے تو کافر ہے، یہودی ہے یا بت پرست ہے، لوٹ آ، یہ ہماری بارگاہ ناامید و مایوس ہونے کی جگہ نہیں ہے، تُو نے اگر سو بار بھی توبہ توڑی ہے پھر بھی لوٹ آ۔
(8)
من بے تو دمے قرار نتوانَم کرد
احسان ترا شمار نتوانم کرد
گر بر سرِ من زباں شَوَد ہر موئے
یک شکر تو از ہزار نتوانم کرد
مجھے تیرے بغیر ایک پل بھی قرار نہیں ہے، میں تیرے احسانات کا شمار ہی نہیں کر سکتا، اگر میرے سر کا ہر بال زبان بن جائے تو میں پھر بھی تیرے ہزاروں احسانوں میں سے ایک احسان کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔
(9)
گفتَم، چشمَم، گفت، بہ راہَش می دار
گفتم، جگرم، گفت، پُر آہَش می دار
گفتم، کہ دِلَم، گفت، چہ داری در دل
گفتم، غمِ تو، گفت، نگاہَش می دار

میں نے کہا کہ میری آنکھیں، اس نے کہا انہیں راہ پر لگائے رکھ، میں نے کہا کہ میرا جگر، اس نے کہا اسے آہوں سے بھرا ہوا رکھ، میں نے کہا کہ میرا دل، اس نے کہا دل میں کیا ہے، میں نے کہا کہ تیرا غم، اس نے کہا کہ اس کی (غم کی) دیکھ بھال کر۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 12, 2009

انداز بدلے گئے

السلام علیکم اور خوش آمدید محترم قارئین، اس خاکسار کے بلاگ پر تشریف لانے کیلیے بہت شکریہ آپ کا، نوازش۔
یہ بلاگ پہلے ایک اور ایڈریس پر تھا لیکن نستعلیق کی محبت مجھے یہاں کھینچ لائی ہے، اور اب احباب میرا بلاگ نستعلیق فونٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ اپنی قیمتی آراء سے اس خاکسار کو نوازیں گے کہ یہ بلاگ اور اسکی تزئین و آرائش آپ کو کیسی لگی، بہت شکریہ۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 29, 2009

ابھی تو میں جوان ہوں - حفیظ جالندھری

ابو الاثر حفیظ جالندھری نے اپنی شاعری کے بارے میں کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا۔

تشکیل و تکمیلِ فن میں جو بھی حفیظ کا حصّہ ہے
Hafeez Jalandhari, حفیظ جالندھری, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
Hafeez Jalandhari, حفیظ جالندھری
نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں
پاکستان میں عام طور پر حفیظ جالندھری، ترانۂ پاکستان کے خالق ہونے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور اردو شاعری کی دنیا میں اپنی مثنوی “شاہنامہ اسلام” کے حوالے سے، لیکن ان کی کچھ غزلیں اور نظمیں بھی ایسی ہیں جو اردو ادب میں زندہ جاوید ہو چکی ہیں اور انہی میں سے ایک “ابھی تو میں جوان ہوں” ہے۔
ابھی تو میں جوان ہوں

ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پُر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا
سبُو اٹھا، پیالہ بھر
پیالہ بھر کے دے اِدھر
چمن کی سمت کر نظر
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اک ہجومِ مے کشاں
ہے سوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بد گماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں

خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں

عبادتوں کا ذکر ہے
نجات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا
خیال ہے عذاب کا
مگر سنو تو شیخ جی
عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوائیں عطر بیز ہوں
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر
کوئی اِدھر کوئی اُدھر
ابھارتے ہوں عیش پر
تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر
تمھارا نقطۂ نظر

درست ہے تو ہو مگر
ابھی تو میں جوان ہوں

نہ غم کشود و بست کا
بلند کا نہ پست کا
نہ بود کا نہ ہست کا
نہ وعدۂ الست کا
امید اور یاس گم
حواس گم، قیاس گم
نظر کے آس پاس گم
ہمہ بجز گلاس گم
نہ مے میں کچھ کمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطربا
طرَب فزا، الَم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا
نہ ہاتھ روک ساقیا

پلائے جا پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

یہ گشت کوہسار کی
یہ سیر جوئبار کی
یہ بلبلوں کے چہچہے
یہ گل رخوں کے قہقہے
کسی سے میل ہو گیا
تو رنج و فکر کھو گیا
کبھی جو بخت سو گیا
یہ ہنس گیا وہ رو گیا
یہ عشق کی کہانیاں
یہ رس بھری جوانیاں
اِدھر سے مہربانیاں
اُدھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں
نظارہ ہائے دل نشیں
انھیں حیات آفریں
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں

نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں
——–
بحر - بحر ہزج مربع مقبوض
(مربع یعنی ایک شعر میں چار رکن یا ایک مصرع میں دو رکن)

افاعیل - مَفاعِلُن مَفاعِلُن
(آخری رکن میں مسبغ شکل یعنی مفاعلن کی جگہ مفاعلان بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 2121 2121
(آخری 2121 کی جگہ 12121 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -
ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پر بہار ہے

ہوا بھی خُش - مفاعلن - 2121
گوار ہے - مفاعلن - 2121
گلو پِ بی - مفاعلن - 2121
نکار ہے - مفاعلن - 2121
تَرَن نُ مے - مفاعلن - 2121
ہزار ہے - مفاعلن - 2121
بہار پر - مفاعلن - 2121
بہار ہے - مفاعلن - 2121



اور یہ نظم ملکہ پکھراج اور طاہرہ سیّد کی آواز میں





مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 27, 2009

بابائے اردو شاعری، ولی دکنی کی ایک غزل - تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا

بابائے اردو شاعری، شمس ولی اللہ المعروف بہ ولی دکنی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ نے اردو شاعری کو حسن عطا کیا اور جو شاعری پہلے صرف منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کی جاتی تھی آپ نے اسے باقاعدہ ایک صنف کا درجہ دیا اور یوں ایک ایسی بنیاد رکھی جس پر اردو شاعری کی پرشکوہ عمارت تعمیر ہوئی۔
مولانا محمد حسین آزاد، "آبِ حیات" میں فرماتے ہیں۔
ولی دکنی, Wali Dakani, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
ولی دکنی ایک خاکہ، Wali Dakani
"اس زمانے تک اردو میں متفرق شعر ہوتے تھے۔ ولی اللہ کی برکت نے اسے وہ زور بخشا کہ آج کی شاعری، نظمِ فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں، تمام بحریں فارسی کی اردو میں لائے۔ شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا، ردیف وار دیوان بنایا۔ ساتھ اسکے رباعی، قطعہ، مخمس اور مثنوی کا راستہ بھی نکالا۔ انہیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی کی نظم میں چوسر شاعر کو اور فارسی میں رودکی کو اور عربی میں مہلہل کو۔"

مولانا آزاد کے زمانے تک ولی دکنی کو اردو کا پہلا شاعر مانا جاتا تھا، جدید تحقیق سے گو یہ اعزاز تو انکے پاس نہیں رہا لیکن اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے جو اوپر مولانا نے کہی ہے۔

ولی کی ایک خوبصورت غزل لکھ رہا ہوں، اس غزل میں جو متروک الفاظ ہیں انکے مترادف پہلے لکھ دوں تاکہ قارئین کو دشواری نہ ہو۔

سوں - سے
کوں - کو، کر
یو - یہ
سری جن - محبوب

تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا

دی حق نے تجھے بادشَہی حسن نگر کی
یو کشورِ ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا

تعریف ترے قد کی الف دار، سری جن
جا سرو گلستاں کوں خوش الحاں سوں کہوں گا

مجھ پر نہ کرو ظلم، تم اے لیلٰیِ خوباں
مجنوں ہوں، ترے غم کوں بیاباں سوں کہوں گا

دیکھا ہوں تجھے خواب میں اے مایۂ خوبی
اس خواب کو جا یوسفِ کنعاں سوں کہوں گا

جلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن
یہ سوز ترا مشعلِ سوزاں سوں کہوں گا

یک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نہیں بے جا
اس مُکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا

زخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی انی نے
یہ زخم ترا خنجر و بھالاں سوں کہوں گا

بے صبر نہ ہو اے ولی اس درد سے ہرگاہ
جلدی سوں ترے درد کی درماں سوں کہوں گا

———————

بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولُن(آخری رکن فعولن کی جگہ فعولان یا مفاعیل بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا

تج لب کِ - مفعول - 122
صِفَت لعل - مفاعیل - 1221
بدخشا سُ - مفاعیل - 1221
کہو گا - فعولن - 221

جادو ہِ - مفعول - 122
ترے نین - مفاعیل - 1221
غزالا سُ - مفاعیل - 1221
کہو گا - فعولن - 221
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 23, 2009

ڈائری سے بلاگ تک

یادش بخیر، شاید میٹرک میں تھا کہ والد صاحب مرحوم نے تحفے میں‌ ملی ہوئی ایک ڈائری مجھے عنایت کردی۔ چند دن تک تو ڈائری یونہی پڑی رہی، پھر‌ سوچا کے اس میں کچھ لکھا جائے، سو سب سے پہلے 'خود ساختہ' محبت کی روداد لکھنے کی سوجھی!

لکھنے کا سوچا تو خیال آیا کہ اگر کسی نے پڑھ لی تو قیامت آ جائے گی، عمران سیریز پڑھنے کا اثر تو تھا ہی ذہن پر، سو فیصلہ کیا کہ اسے کسی کوڈ میں لکھا جائے اور وہ یہ کے ہر لفظ کو الٹا لکھ دو، ابھی شاید ایک جملہ ہی لکھا ہوگا کہ غبارے میں سے ہوا نکل گئی کہ یہ تو بہت آسان ہے، اسے مشکل بناؤ۔ جمع، نفی، ضرب اور تقسیم کو نمبر لگائے اور پھر ان کو حروفِ تہجی پر تقسیم کر کے علامتیں بنا لیں اور ان علامتوں‌ میں لکھنا شروع کیا۔ روداد اسطرح خاک لکھتا ایک ایک جملہ لکھنے کیلیے گھنٹوں‌ لگ جاتے تھے سو تائب ہو گیا۔

خیر، کالج پہنچا اور کچھ شعور آیا تو ایک دوسری ڈائری خریدی، اور اس میں اپنی بے وزن اور بے تکی شاعری لکھنی شروع کی، لیکن اس میں کافی مکالمے بھی لکھے تھے۔

یہ مکالمے چار اشخاص کے درمیان تھے، ایک وہ جو اپنا نصاب دل لگا کر پڑھتا تھا، دوسرا وہ جو اردو شعر و ادب و مطالعہ سے جنون کی حد تک محبت کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ ہر وقت غیر نصابی کتب ہی پڑھی جائیں، تیسرا وہ جو یار باش تھا اور رات دیر گئے تک سیالکوٹ کینٹ کے ہوٹلوں میں دوستوں ‌کے ساتھ بیٹھ کر چائے اور سگریٹ پیتا تھا۔ تینوں کے شوق الگ تھے سو ایک دوسرے سے نالاں تھے، اور چوتھا انکا اجتماعی ضمیر تھا جو تھا تو مردہ لیکن ہمیشہ کفن پھاڑ کر بولتا تھا۔

یہ ڈائری کئی سال میرے پاس رہی لیکن لاہور میں ہاسٹل میں‌ کہیں‌ گم ہو گئی اور میرا ڈائری لکھنا بھی ہمیشہ کیلیے موقوف ہو گیا اور پھر کوئی بارہ برس کے بعد، جو کہ بہت سے بزرگوں کے نزدیک ایک منزل ہوتی ہے، میرے ہاتھ یہ بلاگ لگا اور اب مجھے ایسے ہی لگتا ہے کہ اپنی ڈائری ہی لکھ رہا ہوں اور شاید ہے بھی ایسا ہی، ہاں‌ فرق ہے تو اتنا کہ ڈائری کبھی چھپ چھپ کر تنہائیوں میں لکھا کرتا تھا اور بلاگ بقولِ شاعر:

ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 16, 2009

میری ایک نئی غزل

اس غزل کا پہلا مصرعہ کم و بیش سات آٹھ ماہ تک میرے ذہن میں اٹکا رہا، لیکن ایک ماہ پہلے، جن دنوں کہ بلاگ سے فرصت تھی ایک رات یہ غزل مکمل ہو گئی سو یہاں لکھ رہا ہوں۔

چھیڑ دل کے تار پر، کوئی نغمہ کوئی دُھن
امن کی تُو بات کر، آشتی کے گا تُو گُن

ریشہ ریشہ تار تار، چاہے ہوں ہزار بار
سُن مرے دلِ فگار، وصل کے ہی خواب بُن

لوبھیوں کی بستی میں، مایا کے ترازو سے
فیصلہ کرے گا کون، کیا ہے پاپ کیا ہے پُن؟

سانس ہیں یہ چند پَل، آج ہیں نہیں ہیں کل
ہاں امَر وہ ہو گیا، زہر جام لے جو چُن

قریہ قریہ شہر شہر، موج موج لہر لہر
نام تیرا لے اسد، مہرباں کبھی تو سُن
مزید پڑھیے۔۔۔۔