Mar 3, 2010

فَرقے نہ نہد عاشق در کعبہ و بتخانہ - علامہ اقبال کی ایک خوبصورت غزل

فَرقے نہ نہد عاشق در کعبہ و بتخانہ
ایں جلوتِ جانانہ، آں خلوتِ جانانہ
عاشق کعبہ اور بت خانہ میں کوئی فرق روا نہیں رکھتا، اس کیلیئے یہ (بت خانہ) اگر محبوب کی جلوت ہے تو وہ (کعبہ) محبوب کی خلوت ہے۔

شادم کہ مزارِ من در کوئے حرم بستند
راہے ز مژہ کاوم از کعبہ بہ بتخانہ
میں خوش ہوں کہ میرا مزار کعبہ کے کوچے میں ہے، میں اپنی پلکوں سے کعبہ سے بت خانہ تک کا راستہ بنا رہا ہوں۔

از بزمِ جہاں خوشتر، از حور و جناں خوشتر
یک ہمدمِ فرزانہ، وزبادہ دو پیمانہ
دنیا کی محفل سے بہتر ہے، حوروں اور جنت سے بہتر ہے ایک عقل مند دوست اور دو پیمانوں میں بادہ۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
علامہ محمد اقبال
Allama Iqbal
ہر کس نگہے دارَد، ہر کس سُخَنے دارَد
در بزمِ تو می خیزَد، افسانہ ز افسانہ
ہر شخص اپنی نگاہ رکھتا ہے، ہر کوئی اپنی (ہی) بات رکھتا ہے، تیری بزم میں (جب تیرا ذکر چلتا ہے) تو بات سے بات نکلتی ہی چلی جاتی ہے اور ہر کسی کی پاس کہنے کیلیے اپنی ہی کہانی ہوتی ہے۔

ایں کیست کہ بر دلہا آوردہ شبیخونے؟
صد شہرِ تمنّا را یغما زدہ تُرکانہ
یہ کون ہے کہ جس نے دلوں پر شب خون مارا ہے اور تمناؤں کے سینکڑوں شہروں کو ترکوں کی طرح حملہ کر کے لوٹ لیا ہے۔

در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے
یزداں بہ کمند آور اے ہمّتِ مردانہ
میرے جنون کے بیابان میں جبریل تو ایک ادنٰی شکار ہے، اے ہمتِ مردانہ خدا پر کمند ڈال۔

اقبال بہ منبر زد رازے کہ نہ باید گفت
نا پختہ بروں آمد از خلوتِ میخانہ
اقبال نے منبر پر (سرِ عام) وہ راز کہہ دیا ہے جو کہ نہیں کہنا چاہیئے تھا، وہ (شاید) میخانہ کی خلوت سے خام نکلا ہے۔

(پیامِ مشرق)

------
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن / مَفعُولُ مَفَاعِیلُناشاری نظام - 122 2221 / 122 2221
تقطیع -
فَرقے نہ نہد عاشق در کعبہ و بتخانہ
ایں جلوتِ جانانہ، آں خلوتِ جانانہ
فرقے نَ - مفعول - 122
نہَد عاشق - مفاعیلن - 2221
در کعبَ - مفعول - 122
و بتخانہ - مفاعیلن - 2221
ای جلوَ - مفعول - 122
تِ جانانہ - مفاعیلن - 2221
آ خلوَ - مفعول - 122
تِ جانانہ - مفاعیلن - 2221
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 17, 2010

ارسطو کے سنہری مشورے آمروں کیلیے

یوں تو دنیائے سیاسیات میں چانکیہ اور میکاؤلی ہی زیادہ بدنام ہیں کہ انہوں نے بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں اور آمروں کو اپنی بادشاہت اور آمریت بچانے کیلیے ایسے ایسے نادر مشورے دیئے ہیں کہ ان دونوں کی عیاری اور مکاری ضرب المثل بن چکی ہے۔ لیکن ایک دلچسپ اقتباس مجھے ارسطو کی کتاب 'سیاسیات' میں ملا جس میں ارسطو، جس کا مقام علم و فضل و حکمت کی دنیا میں کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے، کسی طرح بھی چانکیہ اور میکاؤلی سے کم نہیں ہے۔ یوں تو ارسطو نے اپنی اس کتاب میں جبر و استبداد کی حکومت اور آمریت کو حکومتوں کی بدترین قسم قرار دیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ کسی بھی مطلق العنان آمر سے زیادہ برا شخص کوئی نہیں ہوسکتا لیکن ساتھ ہی ان کو اپنی آمریت بچانے کے ایسے بیش بہا اور نادر مشورے دیے ہیں کہ دنیا کے "پڑھے لکھے" آمروں نے ان کو آبِ زر سے لکھا ہوگا۔

مذکورہ مشوروں کا ترجمہ و تخلیص لکھ رہا ہوں۔

ارسطو فرماتے ہیں کہ ایک آمر کو اپنی آمریت بچانے کیلیے چاہیئے کہ وہ

- کسی بھی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فرد کی اٹھان کو روکے، اس پر مقدمہ چلا کر اسے پھانسی دے دے یا اگر ضروری ہو تو اسے قتل کروا دے۔

- وہ بڑے اور اجتماعی کھانوں اور ملنے جلنے کی جگہوں کلبوں وغیرہ پر پابندی لگا دے تا کہ لوگ نہ آپس میں گھلے ملیں اور نہ اس کے خلاف اجتماع کر سکیں، اور ہر اسطرح کی تعلیم پر بھی جس سے اسکے خلاف جذبات ابھر سکتے ہوں۔

- اسکے ملک میں کسی بھی قسم کے علمی اور فکرانگیز اجتماع یا مباحث نہیں ہونے چاہیئں۔

- وہ لوگوں کو آپس میں گھلنے ملنے اور ایک دوسرے کو جاننے سے روکے۔

- وہ ہر جگہ اپنے جاسوس پھیلا دے

- وہ ہر وقت لوگوں میں فتنہ و فساد و لڑائی جھگڑے کے بیج بوتا رہے، دوستوں کو دوستوں کے ساتھ بھڑا دے، عوام کو اشرافیہ کے ساتھ اور امراء کو امراء کے ساتھ۔

- وہ عوام کو ہمیشہ غربت کی چکی میں پیستا رہے، اور ان پر ٹیکسوں کا بار بڑھاتا ہی رہے۔

- وہ اپنی عوام کو ہر وقت کسی نہ کسی بڑے اور عظیم منصوبے میں مصروف رکھے جیسے کہ مصر کے فرعونوں نے اپنی عوام کو اہرام بنانے میں مصروف کر دیا تھا۔

- وہ عورتوں اور غلاموں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دے تا کہ وہ اسکے زیرِ بار احسان ہو کر اسکے جاسوس بن سکیں، عورتیں اپنے خاوندوں کے خلاف جاسوسی کریں اور غلام اپنے مالکوں کے خلاف۔

- اسے جنگیں لڑنی چاہیئں (یا اسکی تیاریوں میں مصروف رہے) تا کہ اسکی عوام مصروف رہے اور انہیں ہمہ وقت کسی لیڈر کی ضرورت محسوس ہوتی رہے۔

اور یہ سب لکھنے کے بعد ارسطو دو مزید 'سنہری مشورے' آمروں کو دیتا ہے جس سے وہ اپنی آمریت کو بچا سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ اعتدال پسند (اور روشن خیال) ہو جائیں اور اپنے آپ کو انصاف پسند حکمران کے طور پر ظاہر کریں اور دوسرا یہ کہ وہ انتہائی مذہبی نظر آئیں۔

ارسطو کے مشورے آپ نے پڑھ لیے، ہو سکتا ہے کہ ارسطو کے کسی شارح اور مداح نے یہ لکھا ہو کہ یہ سارے مشورے ارسطو نے طنز کے طور پر لکھے ہیں کیونکہ وہ ایک آمر کو بدترین انسان اور آمریت کو بدترین حکومت سمجھتا تھا لیکن ارسطو کے ناقد برٹرنڈ رسل نے ایسی کسی بات کا اظہار نہیں کیا۔

میں، ملکی اور بین الاقوامی سیاست سے جتنا بھی غیر متعلق رہوں، سیاسیات سے بہ لحاظ ایک علم کے غیر متعلق نہیں رہ سکتا اور برٹرنڈ رسل کی شہرہ آفاق کتاب 'ہسٹری آف ویسٹرن فلاسفی' سے یہ باب پڑھتے ہو جو ایک بات بار بار میرے ذہن میں آ رہی تھی اور جو اس پوسٹ کا محرک بنی وہ یہ کہ پاکستان کے مشہور و معروف (اب تک کے) تین جرنیلوں، یا انکے مداحین سے معذرت کے ساتھ آمروں نے، کیا ارسطو کے مذکورہ مشوروں کا مطالعہ کر رکھا تھا؟ آفٹر آل جرنیل "پڑھے لکھے" شخص ہوتے ہیں۔ آمر نما جمہوری سیاستدانوں کا ذکر اس لیے نہیں کر رہا کیونکہ مجھے علم ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی ارسطو کا بحیثیت ایک سیاسی مفکر کے نام بھی سنا ہو تو غنیمت ہے۔

جو قارئین ارسطو کی کتاب 'سیاسیات' سے مذکورہ اقتباس پڑھنا چاہیں وہ اس ربط سے پڑھ سکتے ہیں۔

مکمل کتاب اس ربط پر پڑھی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 29, 2010

چائے خانہ

یہ تحریر خاص اردو محفل کیلیے لکھی گئی تھی، اپنے بلاگ کے قارئین سے بھی شیئر کر رہا ہوں، میرا اس سلسلے میں مزید لکھنے کا ارادہ ہے۔
------

چائے خانہ

پروفیسر تنقید علی خان۔ "۔۔۔۔۔۔ تو جناب میں عرض کر رہا تھا کہ جب تک ہمارے ادبا و شعرا ناخالص دودھ کی بنی ہوئی چائے پیتے رہیں گے، انکی معروضی رویے انکے عروضی رویوں سے الجھتے ہی رہیں گے اور وہ کبھی بھی اس اعلیٰ قسم کی ادبیات تخلیق نہیں کر سکتے جسے تخلیق کہا جا سکے۔"

مولانا سبز وار۔ "قبلہ میرا تو ماننا ہے کہ جب تک گوالا باوضو ہو کر اور قبلہ رو ہو کر، اسمِ اعظم کا ورد کرتے ہوئے دودھ نہیں دوہے گا تب تک ایسا ہی ناخالص دودھ آتا رہے گا چاہے اس میں پانی ملایا جائے یا نہ ملایا جائے، کیا آپ نے نہیں سنا، علامہ فرما گئے ہیں، نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں سب دھاریں۔"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"

مولانا سبزوار۔ "آداب۔"

لال خان احمر۔ "میرا کہنا یہ ہے کہ دودھ میں پانی اور پانی میں دودھ ملانے والے دونوں قسم کے گوالوں کو جب تک سولی پر نہیں لٹکایا جاتا اور جب تک انکی بھینسوں کو قومیایا نہیں جاتا تب تک نہ تو اس ملک کے حالات درست ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اچھا شعر و ادب تخلیق ہو سکتا ہے، وہ شعر و ادب جو ترقی پسندی کی جان ہے، وہ شعر و ادب جس کی تعلیمات اعلیٰ حضرات لینن اور اسٹالن نے فرمائی ہیں، اپنے نصب العین تک پہنچنے اور ملک میں جدلیاتی مادیت کے نفاذ کے لیے از حد ضروری ہے کہ سب گوالوں کو پھانسی دے دی جائے، ہمارے قبلہ و کعبہ جنابِ فیض احمد فیض فرما گئے ہیں

اے چائے نوشو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب دودھ اُبالے جائیں گے، جب جیل گوالے جائیں گے۔"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"

قاضی قدیر اللہ۔ "چھوڑیں آپ یہ باتیں، فیض احمد فیض کو چائے سے کیا تعلق، وہ تو کڑوے جوشاندے پیتے تھے، اور پھر ان کو گزرے ابھی جمہ جمہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے، کوئی ایک آدھ صدی گزرے گی تو پھر دیکھیں گے کہ ان کی شاعری میں کوئی دم خم بھی تھا یا نہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارے علامہ کی پیش بینی دیکھیئے، آج سے کئی دہائیاں پہلے، ایک ہی شعر میں ہمارے اور گوالوں کے متعلق ایسا کلام فرما گئے ہیں کہ صدیوں تک زندہ و جاوید ہو گیا ہے، کیا پیش بینی تھی یعنی کہ انہوں نے اپنی دُور رس نگاہوں سے دیکھ لیا تھا کہ قاضی قدیر فتویٰ دے گا جب کہ ابھی ہم تولد بھی نہیں ہوئے تھے۔"

لال خان احمر۔ "کونسا شعر'"

قاضی قدیر اللہ۔

"تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے دودھ ملاوٹ کی سزا مرگِ گوالات"

مولانا سبز وار۔ "جزاک اللہ۔"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"


ساگر ندیم ساگر۔ "ہمیں مردہ پرستی کی سمندر سے نکلنا ہوگا، کب تک ہم اسی بحرِ ذخار کے غوطے کھاتے رہیں گے جبکہ آپ کے سامنے نئے عہد کے ساگر موجزن ہیں، لیکن کسی کا ہماری طرف دھیان ہی نہیں جاتا، سب پی آر کا شاخسانہ ہے، کسی نے ہماری نظم کا ذکر تک نہیں کیا جو ہم نے گوالوں کے موضوع پر لکھی تھی۔"

داد مقصود ۔"ارشاد"

ساگر ندیم ساگر۔

"کاش میں ایک گوالے کا ہی سجّن ہوتا
وہ بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ
تازہ خالص، کبھی تو، دودھ پلاتا مجھ کو"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"

آتش قربان آتش۔ "سرقہ"


ساگر ندیم ساگر۔ "کیا کہا؟"

آتش قربان آتش۔ "سرقہ"

ساگر ندیم ساگر۔ "تم ہوتے کون ہو میری نظم کو سرقہ کہنے والے، تم آج تک خود تو ایک بھی کام کا مصرع کہہ نہیں سکے اور میری تخلیق کو تم سرقہ کہتے ہو۔"

آتش قربان آتش۔ "تمہیں کیا علم شاعری کیا ہے؟ اور میری شاعری کیا ہے، تم، تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

مولانا سبزوار۔ "صبر، بھائیو صبر، میرا خیال ہے، قاضی قدیراللہ صاحب سے فتویٰ لے لیتے ہیں۔"

قاضی قدیراللہ۔ "اتنے چھوٹے سے مسئلے پر ہمارا فتویٰ، یہ فیصلہ تو پروفیسر تنقید علی خان صاحب ہی کر دیں گے۔ لیکن یہ فیصلہ تو ہوتا رہے گا لیکن چائے کدھر ہے؟ کیا نام ہے اس چائے والے کا؟"

داد مقصود۔ "اسد اللہ"

قاضی قدیر اللہ۔ "اسد، او اسد۔"

پروفیسر تنقید علی خان۔ "جی جی بلائیے اس کو، چائے نہیں ملی تو سر میں درد شروع ہو گیا۔"

مولانا سبزوار۔ "بھئی ہم پر تو اللہ کی رحمت ہے، کوئی نشہ نہیں لگایا خود کو، چائے، لسی، دودھ، دہی، سب پر الحمدللہ کہتے ہیں، بقولِ شاعر

چاء ہے یا دہی ہے تو
میری زندگی ہے تو"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"

قاضی قدیراللہ۔ "اسد، اوئے اسد کے بچے'"

اسداللہ۔ "جی جی، حضور حاضر ہو گیا۔"

پروفیسر تنقید علی خان۔ "چائے کدھر ہے بھئی۔"

اسداللہ۔ "کیا بتاؤں حضور، پہلے تو خالص دودھ نہیں مل رہا تھا، وہ ملا تو چینی غائب، وہ لایا تو اب گیس نہیں آ رہی، چائے کیسے بناتا۔"

قاضی قدیراللہ۔ "تو کیا چائے نہیں ملے گی؟"

اسداللہ۔ "ملے گئی کیوں نہیں حضور، ایسی چائے پلاؤں گا کہ کیا یاد کریں گے آپ۔"

مولانا سبزوار۔ "لیکن بناؤ گے کیسے، گیس تو آ نہیں رہی۔"

اسداللہ۔ "حضور، اس کا حل میں نے ڈھونڈ لیا تھا، وہ جو لائبریری سے دیوانِ غالب لایا تھا اس کو جلایا ہے چائے بنانے کیلیے، لیکن وہ تھا ہی کتنا، چند تو صفحےتھے، دودھ تک گرم نہیں ہوا اس سے، اب کلیاتِ میر جلا رہا ہوں، ابھی لاتا ہوں چائے۔"

پروفیسر تنقید علی خان۔ "خوب بدلہ لیا ہے بھئی غالب سے، غالب نے اپنا تخلص اسد چھوڑا اور اس اسد نے غالب کا دیوان ہی جلا دیا، اسے کہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو مدوری دور میں دہراتی ہے۔"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"

اسداللہ۔ "لیجیئے حضور چائے حاضر ہے، ایسی چائے آپ نے کبھی نہیں پی ہوگی جس کے بنانے میں دیوانِ غالب اور کلیاتِ میر کو جلایا گیا ہے بلکہ غالب اور میر کا خون کیا گیا ہے۔"

قاضی قدیراللہ۔ "ہاں بھئی چائے تو واقعی بہت اچھی ہے، پہلی چسکی میں ہی لطف آگیا۔"

مولانا سبزوار۔

"تیری چائے کی کیا کریں تعریف
اسداللہ خاں قیامت ہے"

داد مقصود۔ "واہ واہ واہ، اجی واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، واہ واہ واہ۔"

اسداللہ۔ "بہت شکریہ جناب، آپ چائے سے لطف اندوز ہوں، میں ابھی بِل بنوا کر آیا۔"
----

اسداللہ۔ "ہائیں، یہ سب کدھر گئے، بھاگ گئے؟ واہ بے شاعرو، بِل دیے بغیر ہی بھاگ گئے، اور جاتے ہوئے گلاس اور کپ بھی توڑ گئے، اب لائبریری والوں کو کیا جواب دونگا جن سے دیوانِ غالب اور کلیاتِ میر مانگ کر لایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں لیکن کیا بھی ہو جائے گا، فضول ہی کتابیں ہونگی جو انہوں نے مجھے دے دی تھیں۔"

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 11, 2010

بخوانندۂ کتابِ زبور - اقبال

بخوانندۂ کتابِ زبور
(کتاب زبورِ عجم پڑھنے والوں سے)

اسے آپ علامہ اقبال کی شہرہ آفاق کتاب 'زبورِ عجم' کا دیباچہ سمجھ لیں کہ اقبال نے زبورِ عجم کے قارئین سے خطاب کیا ہے، کُل تین شعر ہیں اور کیا لاجواب شعر ہیں۔ ایک ایک شعر اپنے اندر ایک جہان لیے ہوئے ہے۔

می شَوَد پردۂ چشمِ پرِ کاہے گاہے
دیدہ ام ہر دو جہاں را بنگاہے گاہے

کبھی تو گھاس کا ایک تنکا میری آنکھوں کا پردہ بن جاتا ہے اور کبھی میں ہر دو جہاں کو ایک نگاہ میں دیکھ لیتا ہوں۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
علامہ محمد اقبال
Allama Iqbal
وادیِ عشق بسے دور و دراز است ولے
طے شود جادۂ صد سالہ بآہے گاہے

عشق کی وادی یا منزل بہت دور ہے لیکن کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ سو سال کا راستہ ایک آہ میں طے ہو جاتا ہے۔

در طلب کوش و مدہ دامنِ امید ز دست
دولتے ہست کہ یابی سرِ راہے گاہے

طلب میں لگا رہ اور امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ، یہ ایک ایسی دولت ہے کہ کبھی کبھی سرِ راہ بھی ہاتھ آجاتی ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 5, 2010

فارسی غزلِ غالب مع تراجم - مژدۂ صبح دریں تیرہ شبانم دادند

غالب کی درج ذیل غزل کا شمار بھی غالب کی شاہکار غزلوں میں سے ہوتا ہے۔ یہ غزلِ مسلسل ہے اور اس میں غالب کی شاعرانہ تعلی عروج پر ہے۔ غالب کو اپنی شاعرانہ عظمت اور منفرد شخصیت کا بھر پور اور شدید احساس تھا اور اردو کلام میں بھی انہوں نے اس کا اظہار کیا ہے لیکن اس غزل میں تو اس موضوع کو انہوں نے دوام بخش دیا ہے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے الفاظ میں "اس میں صرف حسنِ بیان ہی نہیں بلکہ شعر کہنے والے کے دل و دماغ اور اسکی سوچ کی گہرائی اور وسعت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ اسلوبِ بیان کی فنکارانہ مہارت اور ندرت نے اشعار میں بڑا حسین لطف پیدا کیا ہے"۔

اس غزل کے اشعار 3 تا 8 خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی ان اشعار کے متعلق یادگارِ غالب میں ارشاد فرماتے ہیں۔ "قضا و قدر نے جو کچھ عرب کی فتوحات کے وقت عجم سے چھینا اسکے عوض میں مجھ کو، کہ میں بھی عجمی الاصل ہوں، کچھ نہ کچھ دیا"۔

صوفی تبسم نے مولانا حالی کی رائے سے تھوڑا اختلاف کیا ہے، فرماتے ہیں "خادم اس سلسلے میں صرف اتنا کہنے کی جسارت کرتا ہے کہ مجھے مولانا کے الفاظ عرب کی فتوحات سے اختلاف ہے۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو ایرانی اور تورانی، تہذیبی روایت کا وارث سمجھتے تھے اور اس پر نازاں تھے، اور اس بات کو قدرت کی طرف منسوب کرتے تھے۔ قدیم ایرانی شوکت و جاہ سے انھیں جو کچھ ملا، وہ تاج و گوہر کی صورت میں نہیں بلکہ ادب پاروں کی شکل میں ملا"۔

پروفیسر رالف رسل، مطلع کے بعد باقی کے اشعار کے متعلق یوں رائے زن ہیں۔

"The remaining verses lament the passing of the glory and the beauty of ancient, pre-Islamic Iran, where fire was worshiped, wine was drunk, there were idols in the temples, and the blowing of conches accompanied worship. Ghalib claims he is the heir to all this, and that his poetry has the power to re-create it............ Ghalib prided himself on this ability."


غزل پیشِ خدمت ہے۔
Mirza Ghalib, مرزا غالب, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
Mirza Ghalib, مرزا غالب
شعرِ غالب
مژدۂ صبح دریں تیرہ شبانم دادند
شمع کشتند و ز خورشید نشانم دادند

صوفی غلام مصطفٰی تبسم
ان سیاہ راتوں میں مجھے صبح کی بشارت دی گئی۔ شمع کو بجھا دیا اور سورج کی نشان دہی کی گئی۔

افتخار احمد عدنی
شمع گل کرکے سحر نور فشاں دی مجھ کو
اور اک طلعتِ خورشید نشاں دی مجھ کو

پروفیسر رالف رسل
In my dark nights they brought me the good tidings of the morning
Put out the candles, turning me towards the rising sun


شعرِ غالب
رخ کشودند و لب ہرزہ سرایم بستند
دل ربودند و دو چشمِ نگرانم دادند

صوفی تبسم
مجھے اپنا جلوہ دکھا کر میرے بیہودہ گو لبوں کو سی دیا گیا، میرا دل چھین لیا اور اسکے عوض دیکھنے والی دو آنکھیں عطا کر دی گئیں۔

عدنی
اک جھلک ایسی دکھائی کہ کیا مہر بلب
دل مرا چھین کے چشمِ نگراں دی مجھ کو

رسل
They showed their faces, and at once my babbling tongue was silenced
They took my heart away from me, and gave me eyes to see


شعرِ غالب
سوخت آتش کدہ ز آتش نفسم بخشیدند
ریخت بتخانہ ز ناقوس فغانم دادند

صوفی تبسم
آتش کدہ جل کر راکھ ہوا تو اسکی آگ میرے سانس کو مل گئی۔ بت خانہ گرا تو اسکے ناقوس کی فریاد مجھے عطا ہوئی۔

عدنی
سرد آتشکدہ کرکے مجھے آتش بخشی
ہوا ناقوس جو خاموش، فغاں دی مجھ کو

رسل
They burnt the fire-temples, and breathed their fire into my spirit
Cast idols down, and let the conches sound in my lament


شعرِ غالب
گہر از رایتِ شاہانِ عجم برچیدند
بعوض خامۂ گنجینہ فشانم دادند

صوفی تبسم
شاہانِ عجم کے جھنڈوں کے موتی اُتار لیے گئے اور اسکے عوض وہ قلم عنایت ہوا جو خزانہ لٹانے والا ہے۔

عدنی
سب گہر رایتِ شاہانِ عجم کے چن کر
اک قلم، نادر و گنجینہ فشاں دی مجھ کو

رسل
They plucked the pearls that once had decked the banner of their kings
And gave me them to scatter from the treasury of my pen


شعرِ غالب
افسر از تارکِ ترکانِ پشنگی بردند
بسخن ناصیۂ فرکیانم دادند

صوفی تبسم
ترکوں کے سر سے تاج اتار لیا گیا اور مجھ کو شاعری میں اقبالِ کیانی مرحمت ہوا۔


شعرِ غالب
گوہر از تاج گسستند و بدانش بستند
ہر چہ بردند بہ پیدا، بہ نہانم دادند

صوفی تبسم
تاج سے موتی توڑ لیے گئے اور انھیں علم و دانش میں جڑ دیا گیا، جو کچھ علی الاعلان لوٹا تھا وہ مجھے خاموشی اور پوشیدہ طور پر دے دیا۔

عدنی
تھے جو سب تاج کے گوہر مری دانش میں جڑے
اور خاموشی سے یہ نقدِ گراں دی مجھ کو

رسل
Prised from their crown, they set the jewels in my crown of wisdom
All that men saw them take away, they secretly gave back


شعرِ غالب
ہر چہ در جزیہ ز گبراں، مئےِ ناب آوردند
بشبِ جمعۂ ماہِ رمضانم دادند

صوفی تبسم
آتش پرستوں سے جو شراب جزیے کے طور پر لی گئی، وہ ماہ رمضان کی شبِ جمعہ کو مجھے عنایت ہوئی۔

عدنی
وہ مےِ ناب جو ہاتھ آئی بطورِ جزیہ
بہ شبِ جمعۂ ماہِ رمضاں دی مجھ کو

رسل
The wine they took as tribute from the worshippers of fire
They gave to me one Friday in the month of Ramazan


شعرِ غالب
ہر چہ از دستگہِ پارس بہ یغما بردند
تا بنالم ہم ازآں جملہ زبانم دادند

صوفی تبسم
غرض کہ پارس کی جو پونجی لٹ گئی تھی، اس میں سے زبان مجھے دے دی تاکہ میں فریاد کروں۔

عدنی
فارس کی ساری متاع لوٹ کے اس کے بدلے
بہرِ فریاد فقط ایک زباں دی مجھ کو

رسل
From all they took in booty from the treasures of Iran
They gave to me a tongue in which to utter my lament


شعرِ غالب
دل ز غم مردہ و من زندہ ہمانا ایں مرگ
بود ارزندہ بماتم کہ امانم دادند

صوفی تبسم
میرا دل تو (غم) سے مر چکا ہے لیکن میں زندہ ہوں، اسکی وجہ لازماً یہی ہے کہ موت میرے ماتم کے مناسب تھی، اس سے مجھے محفوظ رکھا اور اسے سلامت رکھا تاکہ وہ میرا ماتم کرتی رہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 30, 2009

غالب کے لطیفے

مولانا الطاف حسین حالی نے 'یادگارِ غالب' میں مرزا غالب کو 'حیوانِ ظریف' لکھا ہے اور یقیناً کچھ سوچ سمجھ کر ہی لکھا ہوگا، دراصل مرزا کی بذلہ سنجی، ستم ظریفی اور ذوقِ مزاح ہمیں جا بجا مرزا کی تحاریر و تقاریر اور انکی روزمرہ کی زندگی میں ملتا ہے جنہیں بڑی آسانی سے 'لطائف' کا نام دیا جا سکتا ہے سو انہی لطائف کو جو اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے ان کو اس خاکسار نے غالب کے شائقین کیلیے مرتب کیا تھا، جس میں ظاہر ہے میرا اپنا نام بھی شامل ہے۔ یہ لطائف یقیناً بہت سے احباب کیلیے نئے نہیں ہونگے کہ ان میں سے کچھ تو ہمیں درسی کتب میں بھی پڑھائے جاتے تھے اور کچھ وقتاً فوقتاً نظر سے گزرتے ہی رہتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کو میں نے یکجا کردیا ہے جو اس ربط پر پڑھے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 22, 2009

شاہ است حُسین - گُلہائے عقیدت

سید الشہدا، سبطِ نبی (ص) ، فرزندِ علی (ع)، امامِ عالی مقام، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت بھرا سلام کہنا اردو شاعری میں موضوع کے لحاظ سے ایک اہم صنفِ سخن ہے۔ قدیم و جدید اردو شعراء نے بلا تفریقِ مذہب و ملت و عقیدہ، امام عالی مقام کے حضور میں نذرانۂ عقیدت پیش کیے ہیں۔

واقعۂ کربلا، امام حسین کی اولوالعزمی، شجاعت، استقامت، آپ کے رفقا کی وفاداری و جان نثاری، آپ کے اہلِ بیت کے مصائب، حُر کی حق شناسی، نہ صرف مرثیہ اور سلام کے اہم موضوع ہیں بلکہ اردو شاعری میں استعارہ اور علامت کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں اور قریب قریب سبھی مشہور شعراء نے اپنی اپنی فکر کے مطابق ان کو استعمال کیا ہے۔

میں یہاں پر اردو شعراء کرام کے کلام میں جو سلام موجود ہیں ان میں سے کچھ کا انتخاب پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ میرے مآخذ، شعراء کے دواوین و کلیات اور مختلف انتخاب ہیں۔ ویب پر بھی مختلف کلام ملتا ہے لیکن بہر حال ان میں املاء کی اغلاط ہیں۔ ایک التزام میں نے یہ کیا ہے کہ نسبتاً معروف اور جدید شعرا کا کلام پیش کیا ہے۔ اس انتخاب میں مندرجہ ذیل شعراء کا کلام پڑھا جا سکتا ہے۔

میر تقی میر، مرزا غالب، حسرت موہانی، محمد علی جوہر، نظم طباطبائی، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، عبدالحمید عدم، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، گردھاری پرشاد باقی، احمد فراز، منیر نیازی، امجد اسلام امجد، قتیل شفائی، پروین شاکر، واصف علی واصف، انور مسعود، کوثر نیازی، حفیظ تائب، اقبال ساجد، فارغ بخاری، عطاءالحق قاسمی، خالد احمد، محمد اعظم چشتی، ثروت حسین، افتخار عارف، شورش کاشمیری، شہزاد احمد، اختر حسین جعفری، صبا اکبر آبادی، سبط علی صبا، غلام محمد قاصر، خورشید رضوی، جلیل عالی، جوش ملیح آبادی، عرفان صدیقی، حفیظ جالندھری، وحید الحسن ہاشمی، عباس حیدر زیدی، انور شعور، تابش دہلوی، سراج الدین سراج، فہیم ردولوی، ظفر اکبر آبادی، وغیرہم۔

انتخاب اس ربط پر پڑھیے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 19, 2009

آتش پارے از سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو سا بدنام مصنف بھی شاید ہی کوئی ہوگا، ان کا نام سامنے آتے ہی بہت سے 'ثقہ' حضرات ناک بُھوں چڑھا کر ناگواری کا اظہار کرتے ہیں اور بہت سے "مسخرے" ذومعنی ہنسی ہنسنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اردو ادب کا شاید ہی کوئی سنجیدہ قاری ہوگا جو منٹو کے فن کا معترف نہ ہو۔
منٹو کی جو کتاب میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، اسکا تعارف اسکے نام میں ہی پوشیدہ ہے۔" آتش پارے" میں منٹو کی جوانی کی تحریریں ہیں، وہ تحریریں جو منٹو کی نمائندہ تحریریں کبھی بھی نہ بن سکیں بلکہ بہت سوں کو تو یہ علم بھی نہ ہوگا کہ منٹو اس طرح کی حریتِ فکر کا مجاہد بھی تھا۔
منٹو مرحوم اس کتاب کے یک سطری دیباچے میں لکھتے ہیں۔
"یہ افسانے دبی ہوئی چنگاریاں ہیں، ان کو شعلوں میں تبدیل کرنا پڑھنے والوں کا کام ہے۔"
Saadat Hasan Manto, سعادت حسن منٹو, Afsany, افسانے
Saadat Hasan Manto, سعادت حسن منٹو
افسوس کہ یہ چنگاریاں کبھی بھی شعلے نہ بن سکیں بلکہ منٹو کے ساتھ ہی راکھ میں مل گئیں، اس راکھ کو 'تبرک' کے طور پر آج سے دو سوا دو سال پہلے ویب کے 'برقی سرد خانے' میں محفوظ کیا تھا وہی آج اپنے بلاگ پر بھی لکھ رہا ہوں۔
اس جگر سوختہ کتاب میں ذیل کے آٹھ افسانے ہیں۔
1- خونی تُھوک
2- انقلاب پسند
3- جی آیا صاحب
4- ماہی گیر
5- تماشا
6- طاقت کا امتحان
7- دیوانہ شاعر
8- چوری

مکمل کتاب اس ربط پر پڑھیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 17, 2009

کتاب 'تعلیم اور ادب و فن کے رشتے' از احمد ندیم قاسمی


احمد ندیم قاسمی مرحوم کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ ایک ہمہ جہتی شخصیت تھے، شاعر، افسانہ نویس، مدیر، صحافی اور ماہرِ تعلیم۔
مذکورہ کتاب، قاسمی صاحب کے دس فکر انگیز مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے پچھلی صدی میں ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں تحریر کیے۔ یہ کتاب "تحقیقی و ترقیاتی مرکز برائے نصابِ تعلیم، محکمہ تعلیم، پنجاب" کے اہتمام سے شائع ہوئی تھی۔ کتاب میں سنِ اشاعت تو نہیں لکھا ہوا لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ 1973 میں چھپی ہوگی۔
یہ کتاب چونکہ قاسمی صاحب نے محکمۂ تعلیم کو بلا معاوضہ شائع کرنے کی اجازت دی تھی، اسلیے مجھے بہتر معلوم ہوا کہ اسکو ٹائپ کر کے یہاں پر پیش کیا جائے تاکہ قاسمی صاحب کے یہ نادر و نایاب مضامین محفوظ رہ سکیں۔
گو کہ مضامین پرانے ہیں لیکن ان میں قاسمی صاحب نے جن حقائق کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہمارے نظامِ تعلیم کی جن خامیوں کو اجاگر کیا ہے وہ نہ صرف اسی طرح موجود ہیں بلکہ شاید پہلے سے بھی بڑھ گئی ہیں اسلئے ان مضامین کی حقانیت ویسے ہی ہے جیسے کہ تیس، چالیس سال پہلے تھی۔
Ahmed Nadeem Qasmi, احمد ندیم قاسمی
Ahmed Nadeem Qasmi, احمد ندیم قاسمی
یہ مضامین، جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے، تعلیم، ادب اور فن کے متعلق ہیں۔ تعلیم میں بھی قاسمی صاحب نے بچوں کی تعلیم اور انکے ادب کے متعلق خصوصی توجہ دلائی ہے، اور ہمارے نظامِ تعلیم کا یہ عجب المیہ ہے کہ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے جو مشکلات پچاس، ساٹھ سال پہلے تھیں وہ اب بھی ہیں، گو اب بچوں کو تعلیم دلانے کے مواقع اور وسائل پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہیں، مگر "کمرشل ازم" نے اسکولوں کا حلیہ اور تعلیم کا معیار بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
فن اور ادب کے حوالے سے بھی کافی دلچسپ مضامین آپ کو پڑھنے کو ملیں گے، خاص طور پر "شعر و شاعری کا فائدہ" اور دیگر۔ مضامین کی مکمل فہرست کچھ یوں ہے۔
1- بچوں کا ادب
2- پاکستانی بچوں کیلیے کتابیں
3- ادب کی تعلیم اور اساتذہ
4- ادب کی تعلیم کا مسئلہ
5- نصابِ تعلیم میں سے اقبال کا اخراج
6- پاکستان کی نئی نسل اور جدید ادب
7- شعر و شاعری کا فائدہ
8- فن کا اثبات
9- مادی ترقی اور قومی ثقافت
10- سائنس کے اثبات کیلیے شاعری کی نفی کیوں؟

ان مضامین کو ٹائپ کرتے ہوئے ایک کام میں نے یہ کیا ہے کہ مضامین کے آخر میں انکی تحریر کا زمانہ لکھا ہوا تھا اسکو میں نے مضامین کے عنوان کے ساتھ شروع میں ہی دے دیا ہے تاکہ جو اعداد و شمار یا واقعات زمانی بعد سے تبدیل ہو چکے ہیں یا ماضی بعید کا حصہ بن چکے ہیں، وہ قارئین کو کسی قسم کی پریشانی میں نہ ڈال دیں اور پہلے ہی وضاحت ہو جائے۔

مکمل کتاب اس ربط پر پڑھی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 16, 2009

سیاہ حاشیے از سعادت حسن منٹو

تقسیمِ ہندوستان کے پس منظر میں لکھی گئی سعادت حسن منٹو کی شہرہ آفاق کتاب 'سیاہ حاشیے' اس خاکسار نے آج سے کوئی دو سال قبل ٹائپ کر کے اردو ویب لائبریری پر عام افادے کیلیے رکھی تھی، اسی کا ربط دے رہا ہوں۔ یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ منٹو کی کتب کاپی رائٹس فری ہو چکی ہیں اور پبلک ڈومین میں ہیں۔
یہ کتاب چھوٹے چھوٹے 'شذرات' یا انتہائی مختصر افسانوں پر مشتمل ہے لیکن اپنے مطالب و معنی میں بحرِ بیکراں لیے ہوئے ہے، انتہائی فکر انگیز اور مبنی بر انصاف تحاریر ہیں۔ منٹو اسکے انتساب میں لکھتے ہیں۔
اس آدمی کے نام
جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا
"جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔"

کتاب اس ربط پر پڑھی جا سکتی ہے۔

Saadat Hasan Manto, سعادت حسن منٹو, Afsany, افسانے
Saadat Hasan Manto, سعادت حسن منٹو


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 6, 2009

می رقصم - شیخ عثمان مروَندی معروف بہ لال شہباز قلندر کی غزل - نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم

شیخ سید عثمان شاہ مروَندی علیہ الرحمہ معروف بہ لال شہباز قلندر ایک جلیل القدر صوفی ہیں اور انکے نامِ نامی کی شہرت عالم گیر ہے۔ انکی ایک غزل بہت مشہور ہے جس کی ردیف 'می رقصم' ہے، اس غزل کا کچھ تذکرہ مولانا رومی کی ایک غزل جس کی ردیف 'می گردم' ہے لکھتے ہوئے بھی آیا تھا۔ اس وقت سے میں اس غزل کی تلاش میں تھا لیکن افسوس کہ نیٹ پر مکمل غزل کہیں نہیں ملی بلکہ اکا دکا اشعار ادھر ادھر بکھرے ہوئے ملے۔ کتب میں بھی تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔

اس سلسلے میں ایک عرض یہ کرونگا کہ بعض مشہور و معروف غزلیات جو صدیوں سے زبان زد عام ہیں، کتب میں نہیں ملتیں، مثلاً امیر خسرو علیہ الرحمہ کی نعت، نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم، انکی غزلیات کے پانچوں دیوانوں میں نہیں ہے (بحوالہ خسرو شیریں بیاں از مسعود قریشی، لوک روثہ اشاعت گھر، اسلام آباد) اسی طرح مولانا رومی کی مذکورہ غزل، نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردم، انکی غزلیات کے دیوان 'دیوانِ شمس' میں موجود نہیں ہے، مولانا کے یہ کلیات ایران میں تصحیح کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں اور اسی دیوانِ سمش کا آن لائن ورژن ویب پر بھی موجود ہے، جس میں یہ غزل موجود نہیں ہے اور اسی طرح شیخ عثمان کی مذکورہ غزل بھی کہیں نہیں ملتی لیکن عام طور سے یہی مشہور ہے کہ یہ غزل شیخ عثمان کی ہے۔ اس غزل کے چار اشعار مجھے ویب سے ملے تھے، باقی اشعار نصرت فتح علی خان قوال کی گائی ہوئی ایک قوالی (امیر خسرو کی نعت نمی دانم) سے ملے ہیں اور یوں سات اشعار کی ایک غزل بہرحال بن گئی ہے جو احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، مجھے پورا یقین ہے کہ اس غزل کے مزید اشعار بھی ہونگے، بہرحال تلاش جاری ہے۔

غزل پیشِ خدمت ہے۔

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم


نہیں جانتا کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں رقص کر رہا ہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے رقص کر رہا ہوں۔

مزار لال شہباز قلندر, Mazar Lal Shahbaz Qalandar, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
مزار لال شہباز قلندر
 Mazar Lal Shahbaz Qalandar
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیَم اے یار می رقصم

تو جب بھی اور جس وقت بھی نغمہ چھیڑتا ہے میں اسی وقت اور ہر بار رقص کرتا ہوں، اور جس طرز پر بھی تو ہمیں رقص کرواتا ہے، اے یار میں رقص کرتا ہوں۔

تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم

تُو وہ قاتل کہ تماشے کیلیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خوں خوار خنجر کے نیچے رقص کرتا ہوں۔

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

آجا جاناں اور دیکھ کہ جانبازوں کے گروہ میں، میں رسوائی کے صد سامان لیے سر بازار رقص کر رہا ہوں۔

اگرچہ قطرۂ شبنم نہ پویَد بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم

اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں ٹھہرتا لیکن میں وہ قطرۂ شبنم ہوں کہ نوکِ خار پر رقص کرتا ہوں۔

خوش آں رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم

واہ وہ رندی کہ جس کیلیے میں سیکنڑوں پارسائیوں کو پامال کر دوں، مرحبا یہ تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ رقص کرتا ہوں۔

منم عثمانِ مروندی کہ یارے شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم

میں عثمان مروندی کہ شیخ منصور (حلاج) میرے دوست ہیں، مجھے خلق ملامت کرتی ہے اور میں دار پر رقص کرتا ہوں۔

اس شعر کیلیے ایک وضاحت یہ کہ شیخ عثمان کا نام شیخ عثمان مروَندی ہے لیکن یہ شعر نصرت فتح علیخان نے عثمان مروندی کی بجائے عثمان ہارونی کے نام کے ساتھ گایا ہے۔ میں نے اپنی سی کوشش ضرور کی کہ کہیں سے یہ علم ہو جائے کہ صحیح شعر کیا ہے اور یہ 'ہارونی' کیوں آیا ہے مصرعے میں لیکن افسوس کہ میرے پاس ذرائع محدود ہیں۔ بہرحال تحقیق کے دروازے کھلے ہیں، اس شعر بلکہ اس غزل کے دیگر اشعار کیلیے میں بھی سرگرداں ہوں اور دیگر اہلِ علم و فن و ہنر کو بھی دعوتِ عام ہے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 1, 2009

امیر خسرو علیہ الرحمہ کی ایک غزل مع تراجم - نیست در شہر گرفتار تر از من دِگَرے

شعرِ خسرو
نیست در شہر گرفتار تر از من دِگَرے
نبُد از تیرِ غم افگار تر از من دِگَرے

ترجمہ
پورے شہر میں کوئی اور شخص (تیری محبت میں) مجھ جیسا گرفتار نہیں ہے، غموں کے تیر سے کوئی اور مجھ جیسا زخمی نہیں ہے۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
شہر میں کوئی گرفتار نہیں ہے مجھ سا
تیر سے غم کے دل افگار نہیں ہے مجھ سا

شعرِ خسرو
بر سرِ کُوئے تو، دانم، کہ سگاں بسیار اند
لیک بنمائی وفادار تر از من دِگَرے

ترجمہ
میں جانتا ہوں کہ تیرے کوچے میں بہت سے سگ ہیں لیکن ان میں کوئی بھی مجھ سا وفادار نہیں ہے۔
Amir Khusro, امیر خسرو, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
Amir Khusro, امیر خسرو
قریشی
یوں تو کوچے میں ترے سگ ہیں بہت سے لیکن
ایک بھی ان میں وفادار نہیں ہے مجھ سا

شعرِ خسرو
کارواں رفت و مرا بارِ بلائے در دل
چوں رَوَم، نیست گرانبار تر از من دِگَرے

ترجمہ
کارواں چلا گیا اور میرے دل میں جدائی کا بوجھ ڈال گیا، کسطرح چلوں کہ کوئی اور مجھ سا گراں بار نہیں ہے۔

قریشی
سب گئے، رہ گیا میں بارِ بلا دل میں لئے
ان میں کوئی بھی گرانبار نہیں ہے مجھ سا

شعرِ خسرو
ساقیا بر گزر از من کہ بخوابِ اجَلَم
باز جُو اکنوں تو ہشیار تر از من دِگَرے

ترجمہ
اے ساقی تو جانتا ہے کہ میں خوابِ اجل (مرنے کے قریب) ہوں لیکن مجھ سے گزر کے اس کے باوجود میکدے میں مجھ سے ہوشیار کوئی اور نہیں ہے۔

قریشی
ساقیا خوابِ اجل میں ہوں پہ تو جانتا ہے
میکدے میں کوئی ہشیار نہیں ہے مجھ سا

شعرِ خسرو
خسروَم، بہرِ بُتاں کُوئے بکو سرگرداں
در جہاں بود نہ بیکار تر از من دِگَرے

ترجمہ
میں خسرو، کوبکو بتوں کی تلاش میں سرگرداں ہوں، اس جہاں میں مجھ سا بیکار کوئی نہیں ہے۔

قریشی
کُو بہ کُو بہرِ بُتاں خسرو ہوا سرگرداں
کوئی اس دنیا میں بیکار نہیں ہے مجھ سا

----------

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)
۔تقطیع -
نیست در شہر گرفتار تر از من دِگَرے
نبُد از تیرِ غم افگار تر از من دِگَرے

نیس در شہ - فاعلاتن - 2212 (نیست میں چونکہ اوپر تلے تین ساکن ہیں، ی، سین اور ت، اور تقطیع کا اصول ہے کہ جہاں اس طرح اوپر تلے تین ساکن ہوں اس میں آخری ساکن محسوب نہیں ہوتا یعنی اسکا کوئی وزن شمار نہیں کیا جاتا سو اسے چھوڑ دیتے ہیں، یعنی نیست کی ت کو چھوڑ دیا، اس طرح کے دیگر الفاظ میں دوست، گوشت، پوست، چیست، کیست وغیرہ شامل ہیں)۔
ر گرفتا - فعلاتن - 2211
ر تَ رز من - فعلاتن - 2211 (یہاں تر اور از کے درمیان میں الفِ وصال ساقط ہوا ہے، الفِ واصل اسے کہتے ہیں کہ پچھلا حرف ساکن ہو اور حرفِ علت نہ ہو یعنی الف، واؤ یا ی نہ ہو تو اسکے فوری بعد والے الف کو ختم کر کے یعنی وصل کروا کے پچھلے حرف کو اگلے حرف کے ساتھ ملا دیتے ہیں جیسے تر اور از میں، الف کے وصال کی سبھی شرطیں پوری ہوتی ہیں سو اس کو ساقط کر کے لفظ تر از سے تَ رز بنا لیا اور یوں وزن پورا ہوا)۔
دِ گِ رے - فَعِلُن - 211 (فاعلن کی جگہ فعِلن نوٹ کریں)۔
نَ بُ دز تی - فعلاتن - 2211 (الفِ واصل اور مخبون رکن دونوں نوٹ کریں)۔
رِ غَ مَفگا - فعلاتن - 2211 (الفِ واصل نوٹ کریں)۔
ر تَ رز من - فعلاتن - 2211 (الفِ واصل نوٹ کریں)۔
دِ گَ رے - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 29, 2009

مسیح الملک حکیم اجمل خان شیدا کی ایک غزل - کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے
ہم اور جاتے بزمِ عدو میں؟ مگر گئے

یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے
لیکن یہاں سے دُور کچھ اہلِ سفر گئے

ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں
پیری میں وہ، خدا کو خبر ہے، کدھر گئے

رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قَدَر
میں ہوں زمیں، پہ داغ مرے تا قمر گئے
Hakim Ajmal Khan, حکیم اجمل خان, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
حکیم اجمل خان دہلوی
Hakim Ajmal Khan
رخسار پر ہے رنگِ حیا کا فروغ آج
بوسے کا نام میں نے لیا، وہ نکھر گئے

دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ
کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

جانے لگا ہے دل کی طَرَف ان کا ہاتھ اب
نالے شبِ فراق کے کچھ کام کر گئے

حسرت کا یہ مزا ہے کہ نکلے نہیں کبھی
ارماں نہیں ہیں وہ، کہ شب آئے سحر گئے

بس ایک ذات حضرتِ شیدا کی ہے یہاں
دہلی سے رفتہ رفتہ سب اہلِ ہنر گئے

(مسیح الملک حکیم اجمل خاں شیدا)
ماخذ: نقوش غزل نمبر، لاہور، 1985ء
---------
بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)
اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)
تقطیع -
کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے
ہم اور جاتے بزمِ عدو میں؟ مگر گئے
کُچ بات - مفعول - 122
ہی تِ ایسِ - فاعلات - 1212
کِ تامے جِ - مفاعیل - 1221
گر گئے - فاعلن - 212

ہم اور - مفعول - 122
جاتِ بزمِ - فاعلات - 1212
عدو مے مَ - مفاعیل - 1221
گر گئے - فاعلن - 212
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 16, 2009

سلسلۂ ٹیگیہ بلاگیہ

جناب خرم بھٹی صاحب نے اس کھیل نما سلسلے میں اس خاکسار کو یاد کیا تھا، بوجوہ جلدی لبیک نہ کہہ سکا لیکن بہرحال حکم کی تعمیل واجب تھی سو حاضر ہوں۔

انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
بارہ سے چودہ گھنٹے، اس میں دفتری اوقات کے آٹھ، نو گھنٹے بھی شامل ہیں کہ کام کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے۔

انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
کوئی خاص نہیں، میں پہلے بھی اپنے کمرے میں بند رہتا تھا اور اب بھی رہتا ہوں، ہاں یہ فرق آیا کہ پہلے بستر پر دراز ہو کر پڑھتا رہتا تھا اور اب کرسی پر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا رہتا ہوں۔

کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
میری سوشل لائف میرے گھر کی چاردیواری تک محدود ہے سو اس کو تو قطعاً متاثر نہیں کیا۔ فیملی لائف کی یہ کہ انٹرنیٹ میری زندگی میں پہلے داخل ہوا تھا اور بیوی بچے بعد میں، سو انہوں نے سمجھوتہ کیا ہے میرے ساتھ۔

اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
کافی کوشش کر چکا ہوں لیکن یہ علت چھوٹتی نہیں، مطالعہ میرے لیے آکسیجن کی طرح ہے، لیکن پچھلے چند سالوں سے بالخصوص جب سے میں اردو محفل، بلاگ اور فیس بُک پر فعال ہوا ہوں، میرے مطالعے میں بہت بری طرح کمی واقع ہوئی ہے، اسکا مجھے بہت دکھ ہے اور بعض دفع اسی رنج و غم میں گھر میں انٹرنیٹ کو چھوڑ دیتا ہوں اور مطالعے کو زیادہ وقت دیتا ہوں جیسے ابھی پچھلوں دنوں میں یہی کام کر رہا تھا لیکن افسوس کہ میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔

کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
مدت ہوئی لڑکپن گزرے اور اتنا ہی عرصہ ہوا آؤٹ ڈور کھلیوں کو چھوڑے بلکہ آؤٹ ڈور کی کیا تخصیص، ان ڈور کھیلیں بھی میری زندگی میں نہیں بجز کمپیوٹر گیمز کے، جو مجھے بہت پسند ہیں اور کھیلتا بھی ہوں۔

اور اب کچھ دیگر احباب کو ٹیگ کرنا تھا لیکن یہ موضوع کب سے ختم ہو چکا سو اس کو یہیں ختم کرتا ہوں، ان اشعار پر جو کسی شاعر نے سعدی کی مدح میں کہے تھے۔

در شعر سه تن پیمبرانند
هر چند که لانبی بعدی
اوصاف و قصیده و غزل را
فردوسی و انوری و سعدی

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Sep 29, 2009

مولانا رومی کی ایک غزل - نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردَم

پچھلے دنوں یوٹیوب پر فارسی کلام ڈھونڈتے ڈھونڈتے مولانا رومی کی ایک غزل تک پہنچ گیا جو استاد نصرت فتح علی خان قوّال نے گائی ہے۔ سوچا فارسی، شاعری، رومی، موسیقی، قوّالی، نصرت یا فقط 'یو ٹیوب' کو پسند کرنے والے احباب کی خدمت میں پیش کر دوں۔

میں اس غزل کے سحر میں کئی دنوں سے گرفتار ہوں اور اس اسیری سے رہائی بھی نہیں چاہتا، فقط ایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ اس غزل کے صرف وہی پانچ اشعار مل سکے جو نصرت نے گائے ہیں۔ رومی ایسے شعراء کیلیے پندرہ بیس اشعار کی غزل کہنا ایک عام بات تھی، تین تو مطلعے ہیں اس غزل کے۔

آن لائن یونی کوڈ دیوانِ شمس (مولانا رومی کا دیوان جو انہوں نے اپنے مرشد شمس تبریز کے نام کیا ہے) میں بھی یہ غزل نہیں ملی۔ کہتے ہیں کہ سلامِ دہقانی خالی از مطلب نیست سو اس غزل کو یہاں پوسٹ کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اگر کسی دوست کو یہ غزل کہیں سے مل سکے تو ضرور شیئر کریں۔

اس غزل کی ردیف، می گردم (میں گھومتا ہوں) میں مولوی رومی یا سلسلۂ مولویہ کا فلسفہ مضمر ہے، اس سلسلے کے ترک درویش سماع کے وقت ایک مخصوص اندازمیں گھومتے ہیں۔ اسطرح کے گھومنے سے انکی مراد کائنات کی گردش کے ساتھ مطابقت یا synchronization ہے۔ ہاتھوں اور سر کا انداز بھی مخصوص ہوتا ہے، عموماً دایاں ہاتھ اوپر کی طرف اور بایاں نیچے کی طرف ہوتا کہ اوپر والے ہاتھ سے کائنات یا آسمان سے مطابقت اور نیچے والے سے زمین کے ساتھ ہو رہی ہے، سر کا جھکاؤ دائیں طرف یعنی نگاہیں دل کی طرف ہوتی ہیں۔ کمال اتا ترک کے انقلاب سے پہلے یہ مخصوص رقص ترکی میں بہت عام تھا اور ہر خانقاہ اور زاویے پر اسکی محفلیں منعقد کی جاتی تھیں، اتا ترک نے اور بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ اس سماع اور رقص کو بھی بند کرا دیا تھا اور اسکی اجازت فقط مولانا کے عرس کے موقعے پر قونیہ میں انکے مزار پر تھی۔

تقریباً اسی زمین میں شیخ سیّد عثمان شاہ مروندی معروف بہ لال شہاز قلندر کی بھی ایک خوبصورت غزل ہے

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ آں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم
(یہ غزل اس ربط پر پڑھی جا سکتی ہے)

تقریباً اس لیے کہا کہ کسی شاعر کی زمین میں غزل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف اسکی بحر بلکہ قافیہ اور ردیف (ردیف اگر ہے) بھی ایک جیسی ہونی چاہیے، یہ دونوں غزلیں ایک ہی بحر میں، ایک ہی قافیے کے ساتھ ہیں لیکن ردیف مختلف ہے، مولانا رومی کی ردیف اگر انکے سلسلے کے رقص و سماع کی آئینہ دار ہے تو شیخ عثمان کی ردیف، می رقصم (میں رقص کرتا ہوں) انکے سلسلے کی، قلندری دھمال کی شہرت چہار دانگ عالم ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پہلے کس نے غزل کہی اور کس نے دوسرے کی زمین استعمال کی کہ دونوں بزرگ ہمعصر تھے اور یہ بات بھی مشہور ہے کہ انکے روابط بھی تھے۔

اور دھمال سے ایک واقعہ یاد آ گیا، پچھلی صدی کی نوے کی دہائی کے نصف کی بات ہے، خاکسار لاہور میں زیرِ تعلیم تھا اور جائے رہائش گلبرگ مین مارکیٹ تھی، ایک دن وہاں شاہ جمال کے عرس کیلیے چندہ جمع کرنے کیلیے ایک 'چادر' نکلی جس میں پپو سائیں ڈھول بجا رہا تھا اور ساتھ میں دھمال پارٹی تھی۔ پپو سائیں اب تو پوری دنیا میں اپنے ڈھول بجانے کے فن کی وجہ سے مشہور ہو گیا ہے لیکن اس وقت اس کی مقامی شہرت کا آغاز ہو رہا تھا۔ اسی شہرت کو 'کیش' کرانے کے متعلق کچھ رازِ ہائے درونِ خانہ بھی اس خاکسار کے سینے میں ہیں کہ اسی وجہ سے اب تک ایک نوجوان کسی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ خیر ذکر دھمال کا تھا، شام کو جب سب دوست کمرے میں اکھٹے ہوئے تو اس بات کا ذکر ہوا، خوشاب کے ایک دوست نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سیالکوٹی دوست سے کہا کہ اگر آج یہ دھمال کہیں اور ہو رہی ہوتی تو اسکی دھمال بھی دیکھنے والی ہوتی مگر یہ اس وجہ سے رک گیا کہ یہاں اسکے کچھ شناسا موجود تھے۔

اور میں اس دوست کی بات سن کر حیران پریشان رہ گیا کہ اس کو میرے دل کی منافت کا کیسے علم ہو گیا گو یہ منافقت بہت سالوں بعد ختم ضرور ہوئی۔ 'می رقصم' کی تو یہ رہی، 'می گردم' نے بھی لاہور کی گلیوں اور کوچہ بازاروں کے بہت چکر لگوائے ہیں، خیر جانے دیجیئے، آپ بھی کیا کہیں گے کہ یہ غزل سے غزالاں تک جا پہنچا۔

غزل پیشِ خدمت ہے

نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردَم
مذاقِ عاشقی دارم، پئے دیدار می گردَم

میں کُوچہ بازار میں یونہی آوارہ اور بے وجہ نہیں گھومتا بلکہ میں عاشقی کا ذوق و شوق رکھتا ہوں اور یہ سب کچھ محبوب کے دیدار کے واسطے ہے۔

خدایا رحم کُن بر من، پریشاں وار می گردم
خطا کارم گنہگارم، بہ حالِ زار می گردم

اے خدا مجھ پر رحم کر کہ میں پریشان حال پھرتا ہوں، خطار کار ہوں، گنہگار ہوں اور اپنے اس حالِ زار کی وجہ سے ہی گردش میں ہوں۔

Mazar Maulana Rumi, مزار مولانا رُومی, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
Mazar Maulana Rumi, مزار مولانا رُومی
شرابِ شوق می نوشم، بہ گردِ یار می گردم
سخن مستانہ می گویم، ولے ہشیار می گردم

میں شرابِ شوق پیتا ہوں اور دوست کے گرد گھومتا ہوں، میں اگرچہ شرابِ شوق کی وجہ سے مستانہ وار کلام کرتا ہوں لیکن دوست کے گرد طواف ہوشیاری سے کرتا ہوں یعنی یہ ہوش ہیں کہ کس کے گرد گھوم رہا ہوں۔

گہے خندم گہے گریم، گہے اُفتم گہے خیزم
مسیحا در دلم پیدا و من بیمار می گردم

اس شعر میں ایک بیمار کی کیفیات بیان کی ہیں جو بیم و رجا میں الجھا ہوا ہوتا ہے کہ کبھی ہنستا ہوں، کبھی روتا ہوں، کبھی گرتا ہوں اور کبھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور ان کیفیات کو گھومنے سے تشبیہ دی ہے کہ میرے دل میں مسیحا پیدا ہو گیا ہے اور میں بیمار اسکے گرد گھومتا ہوں۔ دل کو مرکز قرار دے کر اور اس میں ایک مسیحا بٹھا کر، بیمار اسکا طواف کرتا ہے۔

بیا جاناں عنایت کُن تو مولانائے رُومی را
غلامِ شمس تبریزم، قلندر وار می گردم

اے جاناں آ جا اور مجھ رومی پر عنایت کر، کہ میں شمس تبریز کا غلام ہوں اور دیدار کے واسطے قلندر وار گھوم رہا ہوں۔ اس زمانے میں ان سب صوفیا کو قلندر کہا جاتا تھا جو ہر وقت سفر یا گردش میں رہتے تھے۔

یو ٹیوب ویڈیوز بشکریہ ثاقب طاہر۔




مزید پڑھیے۔۔۔۔

Aug 28, 2009

ایک تازہ غزل

ایک تازہ غزل دوستوں کے نام

تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے
بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں؟
دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے؟
چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے
بیدادِ دہر نے جو کیا سنگ دل ہمیں
تو کربلا دکھا کے رُلایا گیا مجھے
تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یوں ہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Aug 19, 2009

نظیری نیشاپوری کی ایک شاہکار غزل - کرشمہ دامنِ دل می کشَد کہ جا اینجاست

نظیری نیشاپوری کی ایک شاہکار غزل
محمد حسین نظیری نیشاپوری کا شمار مغلیہ دور کے عظیم ترین شعراء میں سے ہوتا ہے۔ اس دور کی روایت کے عین مطابق نظیری نے بہت قصیدے لکھے اور بہت عرصے تک خانخاناں کے دربار سے وابستہ رہے اور خوب خوب مدح سرائی کی لیکن نظیری کی اصل شہرت انکی غزلیات کی وجہ سے ہے جس میں جدت طرازی انکا طرۂ امتیاز ہے۔
مولانا شبلی نعمانی انکے متعلق 'شعر العجم' (جلد سوم) میں لکھتے ہیں۔
"ابتدائے تمدن میں میں معشوق کے صرف رنگ و روپ اور تناسبِ اعضا کا خیال آیا اور اس کیلیے حسن ایک عام لفظ ایجاد کیا گیا لیکن جب رنگینیِ طبع اور نکتہ سنجی بڑھی تو معشوق کی ایک ایک ادا الگ الگ نظر آئی اور وسعتِ زبان نے انکے مقابلہ میں نئے نئے الفاظ مثلاً کرشمہ، غمزہ، ناز، ادا وغیرہ وغیرہ تراشے۔ اس قسم کے الفاظ اور ترکیبیں جدت پسند طبیعتیں ایجاد کرتی ہیں اور یہی طبعیتیں ہیں جن کو اس شریعت کا پیغمبر کہنا چاہیے۔ ان الفاظ کی بدولت آیندہ نسلوں کو سیکڑوں، ہزاروں خیالات اور جذبات کے ادا کرنے کا سامان ہاتھ آ جاتا ہے، نظیری اس شریعت کا اولوالعزم پیغمبر ہے، اس نے سیکڑوں نئے الفاظ اور سیکڑوں نئی ترکیبیں ایجاد کیں، یہ الفاظ پہلے سے موجود تھے لیکن جس موقع پر اس نے کام لیا یا جس انداز سے ان کو برتا شاید پہلے اس طرح برتے نہیں گئے تھے۔"
نظیری کی غزل پیشِ خدمت ہے۔
حریفِ صافی و دُردی نہ ای خطا اینجاست
تمیزِ ناخوش و خوش می کُنی بلا اینجاست

تُو نہ تو صاف اور نہ ہی تلچھٹ پینے کا متحمل ہے اور یہی تیری خطا ہے، تُو ناخوش اور خوش کی تمیز کرتا ہے یہی تیری بلا ہے۔ یعنی زندگی کے صرف ایک اور اچھے رخ کی خواہش یا آرزو ہی مصیبت کی جڑ ہے۔
بغیرِ دل ھمہ نقش و نگار بے معنیست
ھمیں ورق کہ سیہ گشتہ مدّعا اینجاست

دل کے بغیر تمام نقش و نگار بے معنی ہیں، یہی ورق (یعنی دل) جو سیاہ ہو گیا ساری بات اور سارا مدعا تو یہیں ہے یعنی ظاہری نقش و نگار چاہے جتنے بھی خوب ہوں سیاہ دل کے ساتھ بے معنی ہیں۔
یہ شعر سب سے پہلے میں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب 'غبارِ خاطر' میں پڑھا تھا اور بہت پسند آیا، مولانا کو بھی بہت پسند رہا ہوگا کہ یہ شعر دو مختلف جگہوں پر لکھا ہے اور میرے لیے اسی شعر نے غزل ڈھونڈنے کیلیے مہمیز کا کام کیا جو بلآخر ایک درسی کتاب میں مل ہی گئی۔
ز فرق تا قَدَمَش ہر کجا کہ می نگرَم
کرشمہ دامنِ دل می کشَد کہ جا اینجاست

اسکے سر سے لیکر اسکے قدموں تک میں جہاں بھی (جس حصے کو بھی) دیکھتا ہوں انکی رعنائی میرے دامنِ دل کو کھینچتی ہے کہ دیکھنے کی جگہ یہیں ہے، محبوب کی تعریف سر سے پاؤں تک کر دی ہے۔
خطا بہ مردمِ دیوانہ کس نمی گیرَد
جنوں نداری و آشفتہ ای خطا اینجاست

کسی دیوانے کو کوئی بھی خطا وار نہیں سمجھتا، (لیکن اے عاشق تجھ پر جو لوگ گرفت کر رہے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ) تو پریشان حال تو ہو گیا ہے لیکن جنون نہیں رکھتا اور یہی تیری خطا ہے جس پر پکڑ ہے، یعنی ابھی تیرا عشق خام ہے، جب اس مفلوک الحالی میں جنون بھی شامل ہو جائے گا تو پھر تُو کامل ہوگا اور دنیا کی گرفت سے آزاد۔
ز دل بہ دل گذَری ہست، تا محبت ہست
رہِ چمن نتواں بست تا صبا اینجاست

جب تک محبت ہے دل کو دل سے راہ رہے گی، جب تک بادِ صبا یہاں ہے چمن کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا یعنی حسن و عشق کا تعلق تب تک رہے گا جب تک چمن اور صبا کا تعلق ہے یعنی تا قیامت۔
بدی و نیکیِ ما، شکر، بر تو پنہاں نیست
ہزار دشمنِ دیرینہ، آشنا اینجاست

شکر ہے (خدا کا) کہ ہماری بدی اور نیکی تجھ (محبوب) سے پنہاں نہیں ہے کہ ہمارے ہزار پرانے آشنا دشمن یہاں موجود ہیں، مطلب یہ کہ وہ ہماری کوئی بھی برائی اگر تمھارے سامنے کریں گے تو پروا نہیں کہ تو پہلے ہی سے جانتا ہے۔
سرشکِ دیدۂ دل بستہ بے تو نکشایَد
اگرچہ یک گرہ و صد گرہ کشا اینجاست

میرے دیدۂ دل کے آنسوؤں کی جو گرہ بند گئی ہے وہ تیرے بغیر نہیں کھلنے کی، اگرچہ اس دنیا میں بہت سے گرہ کھولنے والے (مشکل کشا) موجود ہیں لیکن عاشق کا مسئلہ تو محبوب ہی حل کرے گا۔
بہ ہر کجا رَوَم اخلاص را خریداریست
متاع کاسِد و بازارِ ناروا اینجاست

میں جہاں کہیں بھی جاؤں میرے اخلاص کے خریدار موجود ہیں لیکن صرف اسی جگہ ہماری متاع (خلوص) ناقص ٹھہرا ہے اور بازار ناروا ہے۔
ز کوئے عجز نظیری سرِ نیاز مَکَش
ز ہر رہے کہ درآیند انتہا اینجاست

اے نظیری عجز و انکساری کے کوچے سے اپنا سرِ نیاز مت اٹھا، کہ جس راستے سے بھی آئیں انتہا تو یہیں (کوئے عجز) ہے۔ میری نظر میں یہ شعر بیت الغزل ہے۔
----------
بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)
اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)
پہلے شعر کی تقطیع -
حریفِ صافی و دُردی نہ ای خطا اینجاست
تمیزِ ناخوش و خوش می کُنی بلا اینجاست
حریفِ صا - 2121 - مفاعلن
فِ یُ دردی - 2211 - فعِلاتن
نہ ای خطا - 2121 - مفاعلن
ای جاس - 122 - فعلان (چونکہ جاست میں پے در پے تین ساکن آ گئے یعنی الف سین اور ت سو تیسرا ساکن 'ت' ساقط ہو گیا ہے کہ اصول کے مطابق فقط دو ساکن ہی محسوب ہوتے ہیں اور اسکے بعد والے ساقط ہو جاتے ہیں اور کوئی وزن نہیں رکھتے، پوری غزل کی ردیف میں یہی معاملہ ہے)۔
تمیزِ نا - 2121 - مفاعلن
خُ شُ خُش می - 2211 - فعلاتن
کُنی بلا - 2121 - مفاعلن
ای جاس - 122 - فعلان
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Aug 16, 2009

مثنوی 'اشتہار پنج آہنگ' از مرزا غالب

غالب کی ایک مثنوی 'قادر نامہ' ویب کی دنیا میں پہلی بار پیش کرنے کے بعد 'نسخۂ مہر' سے غالب کی ایک اور مثنوی لکھ رہا ہوں کہ یہ بھی ویب پر 'غیر مطبوعہ' ہے۔
تعارف
'پنج آہنگ' غالب کی فارسی نثر کی کتاب ہے اور پانچ حصوں پر مشتمل ہے جس میں غالب نے القاب و آداب، لغاتِ فارسی، اشعارِ مکتوبی، تقاریظ اور مکاتیب وغیرہ لکھے ہیں۔ یہ کتاب سب سے پہلے اگست 1849ء میں شاہی قلعے کے مطبع میں شائع ہوئی اور اس کتاب کی اشاعت سے پہلے غالب نے اسکا ایک منظوم اشتہار مثنوی کی صورت میں لکھا جو اخبار میں شائع ہوا۔
مولانا غلام رسول مہر مثنوی کے تعارف میں رقم طراز ہیں:
"پنج آہنگ" کا منظوم اشتہار بھی ایک نادر چیز ہے، یہ مثنوی میں نے سب سے پہلے علی گڑھ کالج میگزین کے "غالب نمبر" (حصہ آثارِ غالب مرتبہ قاضی عبدالودود صاحب) میں دیکھی تھی۔
مثنوی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں لکھی گئی تھی جب پنج آہنگ شاہی مطبع میں زیرِ طبع تھی اور مطبع حکیم احسن اللہ خان کے اہتمام میں تھا۔ اشتہار حکیم غلام نجف خاں کی طرف سے تھا جیسا کہ آخر میں واضح کر دیا گیا ہے۔ عرشی صاحب کے بیان کے مطابق 'اسعد الاخبار' آگرہ میں چھپی تھی۔"
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee، Mirza Ghalib, مرزا غالب
Mirza Ghalib, مرزا غالب


مثنوی "اشتہار پنج آہنگ" از مرزا اسد اللہ خان غالب
مژدہ اے رہروانِ راہِ سخن
پایہ سنجانِ دستگانِ سخن
طے کرو راہِ شوق زود ازود
آن پہنچی ہے منزلِ مقصود
پاس ہے اب سوادِ اعظمِ نثر
دیکھیے چل کے نظمِ عالمِ نثر
سب کو اس کا سواد ارزانی
چشمِ بینش ہو جس سے نورانی
یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
جلوۂ مدّعا نظر آیا
ہاں یہی شاہراہِ دہلی ہے
مطبعِ بادشاہِ دہلی ہے
منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ
گل و ریحان و لالہ رنگا رنگ
ہے یہ وہ گلشنِ ہمیشہ بہار
بارور جس کا سرو، گُل بے خار
نہیں اس کا جواب عالم میں
نہیں ایسی کتاب عالم میں
اس سے اندازِ شوکتِ تحریر
اخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر
مرحبا طرزِ نغز گفتاری
حبَّذا رسم و راہِ نَثّاری
نثرِ مدحت سراے ابراہیم (1)
ہے مقرّر جواب، پئے تعلیم
اس کے فقروں میں کون آتا ہے؟
کیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے
تین نثروں سے کام کیا نکلے (2)
ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے
ورزشِ قصّۂ کہن کب تک؟
داستانِ شہِ دکن کب تک؟ (3)
تا کجا درسِ نثر ہائے کہن
تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن
تھے ظہوری و عرفی و طالب
اپنے اپنے زمانے میں غالب
نہ ظہوری ہے اب، نہ طالب ہے
اسد اللہ خانِ غالب ہے
قول حافظ کا ہے بجا اے دوست
"ہر کرا پنج روز نوبتِ اوست"
کل وہ سرگرمِ خود نمائی تھے
شمعِ بزمِ سخن سرائی تھے
آج یہ قدر دانِ معنی ہے
بادشاہِ جہانِ معنی ہے (4)
نثر اس کی، ہے کارنامۂ راز
نظم اس کی، نگار نامۂ راز
دیکھو اس دفترِ معانی کو
سیکھو آئینِ نکتہ دانی کو
اس سے جو کوئی بہرہ ور ہوگا
سینہ گنجینۂ گہر ہوگا
ہو سخن کی جسے طلب گاری
کرے اس نسخے کی خریداری
آج جو دیدہ ور کرے درخواست
تین بھیجے روپے وہ بے کم و کاست
منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب
زرِ قیمت کا ہوگا اور حساب
چار سے پھر نہ ہوگی کم قیمت
اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت (5)
جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے
احسن اللہ خاں کے گھر بھیجے
وہ بہارِ ریاضِ مہر و وفا
جس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما
میں جو ہوں درپئے حصولِ شرف
نام عاصی کا ہے غلامِ نجف
ہے یہ القصّہ حاصلِ تحریر
کہ نہ ارسالِ زر میں ہو تاخیر
چشمۂ انطباع جاری ہے
ابتدائے ورق شماری ہے

حواشی از مولانا غلام رسول مہر
1- ابراہیم عادل شاہ فرمانروائے بیجا پور اور اسکا مدحت سرا ظہوری تھا جس نے ابراہیم کی مدح میں 'سہ نثر' لکھی۔ وہی نثر اس زمانے میں اور خود ہمارے زمانے میں پڑھائی جاتی تھی۔
2- سہ نثر
3- ابراہیم بادشاہ بیجا پور
4- یعنی ایک زمانے میں ظہوری، عرفی اور طالب سرگرمِ خود نمائی تھے، اب غالب جہانِ معنی کا بادشاہ ہے۔
5- مطلب یہ کہ دورانِ انطباع میں 'پنج آہنگ' کی قیمت تین روپے رکھی گئی تھی اور بعدِ انطباع چار روپے کا فیصلہ ہو گیا تھا۔ اس میں کمی کا کوئی امکان نہ تھا۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ بادشاہی مطبع میں کتابوں کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ دوسرے مطبعوں میں تمام کتابیں نسبتاً ارزاں ملتی تھیں، پھر منشی نول کشور نے تو ارزانی کی حد کر دی کہ بڑی بڑی اور ضخیم کتابیں بہت کم قیمت پر بازار میں پہنچا دیں۔ کتاب حکیم نجف خاں نے چھاپی تھی اور شاہی مطبع حکیم احسن اللہ خان کے زیرِ اہتمام تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jul 28, 2009

مثنوی 'قادر نامہ' از غالب - ویب کی دنیا میں پہلی بار

ویب کی دنیا میں غالب کے اردو کلام کا شاید ہی کوئی حصہ ہوگا جو موجود نہ ہو لیکن جو مثنوی میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں وہ ویب کی دنیا میں پہلی بار پیش ہو رہی ہے، میرے لیے یہ سعادت تو ہے ہی لیکن حیرت بھی ہے کہ ابھی تک کسی کی نظر اس پر کیوں نہیں پڑی۔

مثنوی قادر نامہ کا تعارف
غالب کے سات بچے تھے لیکن افسوس ان میں سے کوئی بھی پندرہ ماہ سے زائد تک نہ جیا اور غالب لاولد ہی مرے۔ اپنی اسی تنہائی اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر غالب نے زین العابدین خاں عارف کو متبنیٰ بنا لیا تھا جو انکی بیوی کے بھانجے تھے۔ عارف خوش ذوق شاعر تھے اور انہوں نے غالب کی شاگردی بھی اختیار کر لی تھی لیکن وائے رے قسمت کہ عین شباب کے عالم، پینتیس سال کی عمر میں، عارف بھی وفات پا گئے، اور عارف کی جواں مرگ پر غالب کی ایک رثائی غزل انکے دیوان میں موجود ہے۔

ہاں اے فلکِ پیر، جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا، جو نہ مرتا کوئی دن اور

اور انہی عارف مرحوم کے چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کیلیے غالب نے 'مثنوی قادر نامہ' لکھی تھی۔ دراصل یہ مثنوی ایک طرح کی لغت نامہ ہے جس میں غالب نے عام استعمال کے فارسی اور عربی الفاظ کے ہندی یا اردو مترادف بیان کیے ہیں تا کہ پڑھنےوالوں کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہو سکے، بقولِ غالب

جس نے قادر نامہ سارا پڑھ لیا
اُس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں

اس مثنوی کے محاسن تو اہلِ نظر ہی دیکھیں گے میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ اولاد کی طرف سے انتہائی بدقسمت غالب، اپنے لے پالک کے یتیم بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں تو اس میں کیا کیا محبت اور کیسی کیسی شفقت شامل نہیں ہوگی اور غالب کا دل کسطرح کے جذبات سے لبریز ہوگا جب انہوں نے یہ مثنوی کہی ہوگی۔
یہ مثنوی مولانا غلام رسول مہر نے اپنے مرتب کردہ 'دیوانِ غالب' میں تیسرے ضمیمے کے طور پر شامل کی ہے، لیکن دیوانِ غالب کی مشہور و معروف شرح 'نوائے سروش' میں اسے شامل نہیں کیا، نہ جانے کیوں۔ میں یہ مثنوی اسی مذکورہ دیوان سے لکھ رہا ہوں۔ پہلی بار یہ مثنوی 1856ء میں شائع ہوئی تھی۔

گو یہ مثنوی غالب نے بچوں کیلیے لکھی تھی لیکن ہے بڑوں کے بڑے کام کی چیز، یقین نہ آئے تو پڑھ کے دیکھیئے۔

Mirza Ghalib, مرزا غالب, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Masnavi, مثنوی
Mirza Ghalib, مرزا غالب

مثنوی 'قادر نامہ' از مرزا اسد اللہ خان غالب
قادر اور اللہ اور یزداں، خدا -- ہے نبی، مُرسل، پیمبر، رھنما

پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام -- وہ رسول اللہ کا قائم مقام

ہے صحابی دوست، خالص ناب ہے --  جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے

بندگی کا ہاں عبادت نام ہے --  نیک بختی کا سعادت نام ہے

کھولنا افطار ہے اور روزہ صوم --  لیل یعنی رات، دن اور روز، یوم


ہے صلوٰۃ اے مہرباں اسمِ نماز --  جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز


جا نماز اور پھر مصلّا ہے وہی --  اور سجّادہ بھی گویا ہے وہی


اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام --  کعبہ، مکّہ وہ جو ہے بیت الحرام


گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف --  بیٹھ رہنا گوشے میں ہے اعتکاف

پھر فلک، چرخ اور گردوں اور سہپر --  آسماں کے نام ہیں اے رشکِ مہر


مہر سورج، چاند کو کہتے ہیں ماہ --  ہے محبت مہر، لازم ہے نباہ


غرب پچھّم اور پورب شرق ہے --  ابر بدلی اور بجلی برق ہے


آگ کا آتش اور آذر نام ہے --  اور انگارے کا اخگر نام ہے


تیغ کی ہندی اگر تلوار ہے --  فارسی پگڑی کی بھی دستار ہے


نیولا راسُو ہے اور طاؤس مور --  کبک کو ہندی میں کہتے ہیں چکور


خم ہے مٹکا اور ٹھلیا ہے سبو --  آب پانی، بحر دریا، نہر جُو


چاہ کو ہندی میں کہتے ہیں کنواں --  دُود کو ہندی میں کہتے ہیں دھواں


سینہ چھاتی، دست ہاتھ اور پائے پاؤں --  شاخ ٹہنی، برگ پتا، سایہ چھاؤں


ماہ چاند، اختر ہیں تارے، رات شب -- دانت دنداں، ہونٹ کو کہتے ہیں لب


استخواں ہڈّی ہے اور ہے پوست کھال --  سگ ہے کتّا اور گیدڑ ہے شغال


تِل کو کنجد اور رُخ کو گال کہہ --  گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ


کیکڑا سرطان ہے، کچھوا سنگ پشت -- 
ساق پنڈلی، فارسی مٹھی کی مشت

ہے شکم پیٹ، اور بغل آغوش ہے --  کہنی آرنج اور کندھا دوش ہے

دودھ جو پینے کا ہے وہ شیر ہے --  طفل لڑکا اور بوڑھا پیر ہے


ہندی میں عقرب کا بچھّو نام ہے --  فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے


ہے وہی کژدُم جسے عقرب کہیں --  نیش ہے وہ ڈنگ جس کو سب کہیں


ہے لڑائی، حرب اور جنگ ایک چیز --  کعب، ٹخنہ اور شتالنگ ایک چیز


ناک بینی، پرّہ نتھنا، گوش کان --  کان کی لو نرمہ ہے، اے مہربان


چشم ہے آنکھ اور مژگاں ہے پَلک --  آنکھ کی پتلی کو کہیے مردمک


منہ پر گر جھری پڑے آژنگ جان --  فارسی چھینکے کی تو آونگ جان


مسا، آژخ اور چھالہ، آبلہ --  اور ہے دائی،جنائی، قابلہ


اونٹ اُشتر اور اُشغر سیّہ ہے --  گوشت ہے لحم اورچربی پیّہ ہے


ہے زنخ ٹھوڑی، گلا ہے خنجرہ --  سانپ ہے مار اور جھینگر زنجرہ


ہے زنخ ٹھوڑی، ذقن بھی ہے وہی --  خاد ہے چیل اور زغن بھی ہے وہی


پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل --  چیونٹی ہے مور اور ہاتھی ہے پیل


لومڑی روباہ اور آہو ہرن --  شمس سورج اور شعاع اسکی کرن


اسپ جب ہندی میں گھوڑا نام پائے --  تازیانہ کیوں نہ کوڑا نام پائے


گربہ بلّی، موش چوہا، دام جال --  رشتہ تاگا، جامہ کپڑا، قحط کال


خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں اُلاغ --  دیگ داں چولہا جسے کہیے اُجاغ


ہندی چڑیا، فارسی کنجشک ہے --  مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے


تابہ ہے بھائی توے کی فارسی --  اور تیہو ہے لوے کی فارسی


نام مکڑی کا کلاش اور عنکبوت --  کہتے ہیں مچھلی کو ماہی اور حوت


پشّہ مچھّر، اور مکھّی ہے مگس --  آشیانہ گھونسلا، پنجرہ قفس


بھیڑیا گرگ اور بکری گوسپند --  میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند


نام گُل کا پھول، شبنم اوس ہے --  جس کو نقّارہ کہیں وہ کوس ہے


خار کانٹا، داغ دھبّا، نغمہ راگ --  سیم چاندی، مس ہے تانبا، بخت بھاگ


سقف چھت ہے، سنگ پتھّر، اینٹ خشت --  جو بُرا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت


زر ہے سونا اور زرگر ہے سنار --  موز کیلا اور ککڑی ہے خیار


ریش داڑھی، مونچھ سلبت اور بُروت --  احمق اور نادان کو کہتے ہیں اُوت


زندگانی ہے حیات اور مرگ موت --  شوے خاوند اور ہے انباغ سَوت


ہفت سات اور ہشت آٹھ اور بست بیس --  سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس


ہے چہل چالیس اور پنجہ پچاس --  ناامیدی یاس، اور اُمّید آس


جملہ سب، اور نصف آدھا، ربع پاؤ --  صرصر آندھی، سیل نالا، باد باؤ


ہے جراحت اور زخم اور گھاؤ ریش --  بھینس کو کہتے ہیں بھائی گاؤمیش


دوش کل کی رات اور امروز آج --  آرد آٹا اور غلّہ ہے اناج


چاہیے ہے ماں کو مادر جاننا --  اور بھائی کو برادر جاننا


پھاوڑا بیل اور درانتی واس ہے --  فارسی کاہ اور ہندی گھاس ہے


سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ -- خشک ہو جاتی ہے جب، کہتے ہیں کاہ


چکسہ پڑیا، کیسہ کا تھیلی ہے نام -- فارسی میں دھپّے کا سیلی ہے نام


اخلگندو جھجھنا، نیرو ہے زور -- بادفر، پِھرکی اور ہے دُزد چور


انگبیں شہد اور عسل، یہ اے عزیز --  ام کو ہیں تین، پر ہے ایک چیز


آجُل اور آروغ کی ہندی ڈکار -- مے شراب اور پینے والا میگسار


روئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو -- آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو


خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہے -- قلعہ دژ، کھائی کا خندق نام ہے


گر دریچہ فارسی کھڑکی کی ہے -- سرزنش بھی فارسی جھڑکی کی ہے


ہے بنولا، پنبہ دانہ، لاکلام -- اور تربُز، ہندوانہ، لاکلام


ہے کہانی کی فسانہ فارسی -- اور شعلہ کی زبانہ فارسی


نعل در آتش اسی کا نام ہے -- جو کہ بے چین اور بے آرام ہے


پست اور ستّو کو کہتے ہیں سویق -- ژرف اور گہرے کو کہتے ہیں عمیق


تار، تانا، پود بانا، یاد رکھ -- آزمودن، آزمانا یاد رکھ


یوسہ، مچھّی، چاہنا ہے خواستن -- کم ہے اندک اور گھٹنا کاستن


خوش رہو، ہنسنے کو خندیدن کہو -- گر ڈرو، ڈرنے کو ترسیدن کہو


ہے ہراسیدن بھی ڈرنا، کیوں ڈرو؟ -- اور جنگیدن ہے لڑنا، کیوں لڑو؟


ہے گزرنے کی گزشتن فارسی -- اور پھرنے کی ہے گشتن فارسی


وہ سرودن ہے جسے گانا کہیں -- ہے وہ آوردن جسے لانا کہیں


زیستن کو جانِ من جینا کہو -- اور نوشیدن کو تم پینا کہو


دوڑنے کی فارسی ہے تاختن -- کھیلنے کی فارسی ہے باختن


دوختن سینا، دریدن پھاڑنا -- کاشتن بونا ہے، رُفتن جھاڑنا


کاشتن بونا ہے اور کشتن بھی ہے -- کاتنے کی فارسی رِشتن بھی ہے


ہے ٹپکنے کی چکیدن فارسی -- اور سننے کی شنیدن فارسی


کودنا جستن، بریدن کاٹنا -- اور لیسیدن کی ہندی چاٹنا


سوختن جلنا، چمکنا تافتن -- ڈھونڈنا جستن ہے، پانا یافتن


دیکھنا دیدن، رمیدن بھاگنا -- جان لو، بیدار بودن، جاگنا


آمدن آنا، بنانا ساختن -- ڈالنے کی فارسی انداختن


باندھنا بستن، کشادن کھولنا -- داشتن رکھنا ہے، سختن تولنا


تولنے کو اور جو سنجیدن کہو -- پھر خفا ہونے کو رنجیدن کہو


فارسی سونے کی خفتن جانیے -- منہ سے کچھ کہنے کو گفتن جانیے


کھینچنے کی ہے کشیدن فارسی -- اور اُگنے کی دمیدن فارسی


اونگھنا پوچھو، غنودن جان لو -- مانجنا چاہو، زدودن جان لو


ہے قلم کا فارسی میں خامہ نام -- ہے غزل کا فارسی میں چامہ نام


کس کو کہتے ہیں غزل؟ ارشاد ہو -- ہاں غزل پڑھیے، سبق گر یاد ہو


غزل
صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا
جمعہ کے دن وعدہ ہے دیدار کا


وہ چُراوے باغ میں میوہ، جسے
پھاند جانا یاد ہو دیوار کا


پُل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ
ورنہ تھا اپنا ارادہ پار کا


شہر میں چھڑیوں کے میلے کی ہے دھوم
آج عالم اور ہے بازار کا


لال ڈِگی پر کرے گا جا کے کیا
پُل پہ چل، ہے آج دن اتوار کا


گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلائیں تمھیں
کاٹ اپنی کاٹھ کی تلوار کا


واہ بے لڑکے پڑھی اچھّی غزل
شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا

لو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم -- پوزی افسار اور دمچی پاردم


چھلنی کو غربال، پرویزن کہو -- چھید کو تم رخنہ اور روزن کہو


چہ کے معنی کیا، چگویم کیا کہوں -- من شَوَم خاموش، میں چُپ ہو رہوں


بازخواہم رفت، میں پھر جاؤں گا -- نان خواہم خورد، روٹی کھاؤں گا


فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ -- اور گھنٹے کی درا ہے یاد رکھ


دشت صحرا اور جنگل ایک ہے -- پھر سہ شنبہ اور منگل ایک ہے


جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے -- فارسی بینگن کی بادنجان ہے


جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے -- جو ہے انگڑائی، وہی خمیازہ ہے


یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ -- پاڑ ہے تالار، اک عالم سے پوچھ


جس طرح گہنے کی زیور فارسی -- اسی طرح ہنسلی کی پرگر فارسی


بھِڑ کی بھائی، فارسی زنبور ہے -- دسپنا اُنبر ہے اور انبور ہے


فارسی آئینہ، ہندی آرسی -- اور ہے کنگھی کی شانہ فارسی


ہینگ انگوزہ ہے اور ارزیر رانگ -- ساز باجا اور ہے آواز بانگ


لوہے کو کہتے ہیں آہن اور حدید -- جو نئی ہے چیز اسے کہیے جدید


زوجہ جورو، یزنہ بہنوئی کو جان -- خشم غصہ اور بدخوئی کو جان


ہے نوا آواز ساماں اور اول -- نرخ، قیمت اور بہا،یہ سب ہیں مول


سیر لہسن، تُرب مولی، ترہ ساگ -- کھا بخور، برخیز اُٹھ، بگریز بھاگ


روئی کی پونی کا ہے پاغُند نام -- دُوک تکلے کو کہیں گے، لاکلام


گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ -- اور ہے ندّاف، دُھنیا یاد رکھ


کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ -- فارسی گلخن ہے اور ہندی ہے بھاڑ


تکیہ بالش اور بچھونا بسترا -- اصل بستر ہے سمجھ لو تم ذرا


بسترا بولیں سپاہی اور فقیر -- ورنہ بستر کہتے ہیں برنا و پیر


پیر بوڑھا اور برنا ہے جواں -- جان کو البتہ کہتے ہیں رواں


اینٹ کے گارے کا نام آژند ہے -- ہے نصیحت بھی وہی جو پند ہے


پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ،ہاں -- ارض ہے، پر،مرز بھی کہتے ہیں ہاں


کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے؟ زمیں -- عنق گردن اور پیشانی جبیں


آس چکّی، آسیا مشہور ہے -- اور فَوفل چھالیا مشہور ہے


بانسلی نے اور جلاجل جانجھ ہے -- پھر ستَروَن اور عقیمہ بانجھ ہے


کُحل سرمہ اور سلائی میل ہے -- جس کو جھولی کہتے ہیں زنبیل ہے

پایا قادر نامہ نے آج اختتام -- اک غزل اور پڑھ لو، والسّلام


غزل
شعر کے پڑھنے میں کچھ حاصل نہیں
مانتا لیکن ہمارا دل نہیں


علم ہی سے قدر ہے انسان کی
ہے وہی انسان جو جاہل نہیں


کیا کہِیں کھائی ہے حافظ جی کی مار؟
آج ہنستے آپ جو کِھل کِھل نہیں


کس طرح پڑھتے ہو رک رک کر سبق
ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں


جس نے قادر نامہ سارا پڑھ لیا
اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں

-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jul 25, 2009

شفیق الزماں کی خطاطی کے نمونے

اردو محفل فورم پر ایک سلسلے میں پاکستان کے بین الاقوامی شہرت کے حامل خطاط شفیق الزماں کے متعلق ایک مضمون اور انکی خطاطی کے چند خوبصورت نمونے پیش کیے تھے۔ مضمون تو کافی طویل ہے اور ڈر ہے کہ یہاں لکھ دیا تو پڑھنے والوں کیلیے 'مشکل' ہو جائے گی سو شائقین مضمون تو اس ربط پر پڑھ سکتے ہیں، خطاطی کے نمونے میں یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔ مضمون اور خطاطی دونوں، اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی مجلے 'ادبیات' کے شمارہ نمبر 35، 36، 1996ء سے لیے ہیں۔ بڑی تصویر دیکھنے کیلیے تصویر پر 'کلک' کیجیئے۔


شفیق الزماں - خطاطی

شفیق الزماں - خطاطی

شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
شفیق الزماں - خطاطی
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jul 13, 2009

نکمّے

"کون؟ مسلمان؟"
"نہیں۔"
"ہمارے حکمران؟"
"نہیں۔"
"سیاستدان؟"
"نہیں۔"
"مذہب کے ٹھیکیدار؟"
"نہیں۔"
"سرکاری افسران؟"
"نہیں۔"
"پُلسیے؟"
"نہیں۔"
"سرکاری اسکولوں کے ماسٹر؟"
"نہیں۔"
"کاروباری لوگ؟ دکاندار؟"
"نہیں۔"
"کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی؟"
"نہیں۔"
"ہا ہا ہا، شاعر؟"
"نہیں۔"
"تو پھر آخر کون؟"
"پاکستانی فوج کے جرنیل!"
"جرنیل؟، جنہوں نے باسٹھ سالوں میں سے آدھے سال اس ملک پر حکمرانی کی، وہ اور نکمّے؟"
"ہاں، وہی نکمّے، انہوں نے باقی کے آدھے سال اس نکمّوں کے مُلک پر حکمرانی کرنے کے موقعے ضائع کر دیئے۔"
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jul 6, 2009

رعنائیِ خیال - ایک اور خوبصورت ادبی بلاگ

مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے ایک اور خوبصورت ادبی بلاگ کا تعارف لکھتے ہوئے، ایک اور اچھے شاعر نے اپنا بلاگ شروع کیا ہے اس سے زیادہ خوشی کی بات میرے لیے کیا ہوگی بھلا۔ یہ بلاگ 'رعنائیِ خیال' خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر جناب محمد احمد صاحب کا ہے۔

احمد صاحب کا تعلق کراچی سے ہے، اور انٹرنیٹ کی دنیا کے علاوہ کراچی کے ادبی حلقوں میں بھی فعال ہیں، ہماری ان سے شناسائی 'اردو محفل' پر ہوئی تھی جہاں انہوں نے اپنی خوبصورت شاعری سے اس خاکسار کا دل موہ لیا۔ احمد صاحب کی شاعری کی سب سے اہم بات جو مجھے نظر آئی کہ بھیڑ چال سے الگ ہو کر، انہوں نے اپنی شاعری میں خیال آفرینی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی بات ان کو دیگر نوجوان شعراء سے ممتاز کرتی ہے، ان کے کچھ اشعار دیکھیئے۔

سمندر کتنا گہرا ہے، کنارے سوچتے ہوں گے
زمیں سے آسماں تک استعارے سوچتے ہوں گے

نظارہ منظروں کی کتنی پرتوں سے عبارت ہے
کوئی ہو دیدۂ بینا، نظارے سوچتے ہوں گے
----
حسین شعر کہنے کا عمل بذاتِ خود ایک حسین عمل ہے، احمد صاحب کے اشعار دیکھیئے، مجھے پورا یقین ہے کہ ایسے اشعار تخلیق کرتے ہوئے وہ خود بھی بہت محظوظ ہوئے ہونگے۔

رات کی رانی، اوس کا پانی، جگنو، سرد ہوا
مُسکاتی، خوشبو مہکاتی، جنگل جنگل شام

رنگ سُنہرا دھوپ سا اُس کا، گیسو جیسے رات
چاند سا اُجلا اُجلا چہرہ، اُس کا آنچل شام
-----
چھوٹی بحر اس خاکسار کو انتہائی پسند ہے، اور چھوٹی بحر میں شعر کہنا ایک مشکل ترین امر ہے کہ اس میں بھرتی کے الفاظ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی، احمد صاحب کے شعر دیکھیئے

کچھ کسی کو نظر نہیں آتا
روشنی بے حساب ہے شاید

کیا محبت اُسے بھی ہے مجھ سے
مختصر سا جواب ہے 'شاید'
----
امید کرتا ہوں کہ احمد صاحب اسی طرح کی خوبصورت شاعری تخلیق کرتے رہیں گے اور اپنے بلاگ پر پیش کرتے رہیں گے اور اس بات کا بھی یقین ہے کہ انہوں نے اردو سیارہ پر اپنے بلاگ کی شمولیت کی درخواست ضرور دے دی ہوگی تا کہ جیسے ہی انکے بلاگ کی عمر 'دو ماہ' ہو وہ اردو سیارہ پر ظاہر ہونا شروع ہو جائے اور احمد صاحب کی تخلیقات قارئین تک اور قارئین ان تک پہنچ سکیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 25, 2009

ایک نئی غزل

ایک تازہ غزل جس کا 'نزول' پرسوں ہوا سو لکھ رہا ہوں۔ عرض کیا ہے۔

نہ سرا ملا ہے کوئی، نہ سراغ زندگی کا
یہ ہے میری کوئی ہستی، کہ ہے داغ زندگی کا

یہی وصل کی حقیقت، یہی ہجر کی حقیقت
کوئی موت کی ہے پروا، نہ دماغ زندگی کا

یہ بھی خوب ہے تماشا، یہ بہار یہ خزاں کا
یہی موت کا ٹھکانہ، یہی باغ زندگی کا

یہ میں اُس کو پی رہا ہوں، کہ وہ مجھ کو پی رہا ہے
مرا ہم نفَس ازَل سے، ہے ایاغ زندگی کا

اسد اُس سے پھر تو کہنا، یہی بات اک پرانی
میں مسافرِ شبِ ہجر، تُو چراغ زندگی کا
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 21, 2009

علامہ اقبال کی ایک خواہش - ایک خوبصورت فارسی نظم

'زبورِ عجم' علامہ اقبال کا وہ شاہکار ہے جسکی 'انقلابی' نظمیں علامہ کی شدید ترین خواہش کا اظہار واشگاف الفاظ میں کرتی ہیں، 'زبورِ عجم' سے انقلاب کے موضوع پر دو نظمیں پہلے اس بلاگ پر لکھ چکا ہوں، ایک 'از خوابِ گراں خیز' اور دوسری وہ جس کا ٹیپ کا مصرع ہی 'انقلاب، اے انقلاب' ہے۔ اسی کتاب میں سے ایک اور نظم لکھ رہا ہوں، دیکھیئے علامہ کیا 'خواہش' کر رہے ہیں۔

یا مُسلماں را مَدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ
یا دریں فرسودہ پیکر تازہ جانے آفریں
یا چُناں کُن یا چُنیں
(اے خدا) یا تو مسلمانوں کو یہ فرمان مت دے کہ وہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ لیں یا پھر ان کے کمزور اور فرسودہ جسموں میں نئی جان ڈال دلے (کہ موجودہ حالت میں تو وہ تیرا فرمان بجا لانے سے رہے)۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا بَرَہمن را بَفَرما، نو خداوندے تراش
یا خود اندر سینۂ زنّاریاں خَلوت گزیں
یا چُناں کُن یا چُنیں
یا برہمن کو یہ حکم دے کہ وہ اپنے لیے نئے خدا تراش لیں (کہ پرانے خداؤں کی محبت انکے دل سے بھی اٹھ چکی اور خلوص باقی نہیں ہے) یا خود ان زنار باندھنے والوں برہمنوں کے سینوں میں خلوت اختیار کر (کہ یا ان کو بت پرستی میں راسخ کر یا مسلماں کر دے)۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا، دگر آدم کہ از ابلیس باشد کمتَرک
یا، دگر ابلیس بہرِ امتحانِ عقل و دیں
یا چُناں کُن یا چُنیں
یا کوئی اور آدم بنا جو ابلیس سے کم ہو (کہ موجودہ آدم ابلیس سے بھی بڑھ چکا ہے) یا عقل اور دین کے امتحان کے لیے کوئی اور ابلیس بنا (کہ تیرا یہ ابلیس تو انسان کی شیطنت کے آگے ہیچ ہو گیا) ۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Allama Iqbal, علامہ اقبال
Allama Iqbal, علامہ اقبال
یا جہانے تازۂ یا امتحانے تازۂ
می کنی تا چند با ما آنچہ کردی پیش ازیں
یا چُناں کُن یا چُنیں
یا کوئی نیا جہان بنا یا کوئی نیا امتحان بنا، تو ہمارے ساتھ کب تک وہی کچھ کرے گا جو اس سے پہلے بھی کر چکا ہے یعنی ازلوں سے ایک ہی کشمکش ہے، لہذا یا کوئی نیا جہان بنا یا اس آزمائش اور کشمکش کو ہی بدل دے۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

فقر بخشی؟ با شَکوہِ خسروِ پرویز بخش
یا عطا فرما خرَد با فطرتِ روح الامیں
یا چُناں کُن یا چُنیں
تُو نے (مسلمانوں کو) فقر بخشا ہے، لیکن انہیں خسرو پرویز جیسی شان و شوکت بھی بخش یعنی طاقت بھی دے، یا انہیں ایسی عقل فرما جسکی فطرت روح الامین (جبریل) جیسی ہو یعنی وہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرے۔یا ویسا کر یا ایسا کر۔

یا بکُش در سینۂ ما آرزوئے انقلاب
یا دگرگوں کُن نہادِ ایں زمان و ایں زمیں
یا چُناں کُن یا چُنیں
یا تو میرے سینے میں انقلاب کی آرزو ہی (ہمیشہ کیلیے) ختم کر دے یا اس زمان و مکان (زمانے) کی بنیاد ہی دگرگوں کر دے، الٹ پلٹ دے، تہ و بالا کر دے، یعنی اس میں انقلاب برپا کر دے۔ ویسا کر یا ایسا کر۔
-----


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jun 17, 2009

حافظ شیرازی کی ایک شاہکار غزل - در خراباتِ مُغاں نورِ خدا می بینَم

در خراباتِ مُغاں نورِ خدا می بینَم
ویں عجب بیں کہ چہ نُورے ز کجا می بینَم
مغاں کہ میکدے میں نورِ خدا دیکھتا ہوں، اس تعجب انگیز بات کو دیکھو (غور کرو) کہ کیا نور ہے اور میں کہاں دیکھتا ہوں۔

کیست دُردی کشِ ایں میکدہ یا رب، کہ دَرَش
قبلۂ حاجت و محرابِ دعا می بینَم
یا رب، اس میکدے کی تلچھٹ پینے والا یہ کون ہے کہ اس کا در مجھے قبلۂ حاجات اور دعا کی محراب نظر آتا ہے۔

جلوہ بر من مَفَروش اے مَلِکُ الحاج کہ تو
خانہ می بینی و من خانہ خدا می بینَم
اے حاجیوں کے سردار میرے سامنے خود نمائی نہ کر کہ تُو گھر کو دیکھتا ہے اور میں گھر کے مالک خدا کو دیکھتا ہوں۔

سوزِ دل، اشکِ رواں، آہِ سحر، نالۂ شب
ایں ہمہ از اثَرِ لطفِ شُما می بینَم
سوزِ دل، اشکِ رواں، آہِ سحر اور نالۂ شب، یہ سب آپ کی مہربانی کا اثر ہے۔
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation, Mazar Hafiz Sheerazi, مزار حافظ شیرازی
مزار خواجہ حافظ شیرازی
Mazar Hafiz Sheerazi
خواہم از زلفِ بتاں نافہ کشائی کردَن
فکرِ دُورست، ہمانا کہ خطا می بینَم
چاہتا ہوں کہ زلفِ بتاں سے نافہ کشائی (خوشبو حاصل) کروں مگر یہ ایک دُور کی سوچ ہے، بیشک میں غلط ہی خیال کر رہا ہوں۔

ہر دم از روئے تو نقشے زَنَدَم راہِ خیال
با کہ گویم کہ دریں پردہ چہا می بینَم
ہر دم تیرے چہرے کا اک نیا نقشہ میرے خیال پر ڈاکہ ڈالتا ہے، میں کس سے کہوں کہ اس پردے میں کیا کیا دیکھتا ہوں۔

کس ندیدست ز مشکِ خُتَن و نافۂ چیں
آنچہ من ہر سحر از بادِ صبا می بینَم
کسی نے حاصل نہیں کیا مشکِ ختن اور نافۂ چین سے وہ کچھ (ایسی خوشبو) جو میں ہر صبح بادِ صبا سے حاصل کرتا ہوں۔

نیست در دائرہ یک نقطہ خلاف از کم و بیش
کہ من ایں مسئلہ بے چون و چرا می بینَم
اس دائرے (آسمان کی گردش) میں ایک نقطہ کی بھی کمی بیشی کا اختلاف نہیں ہے، اور میں اس مسئلے کو بے چون و چرا جانتا ہوں۔

منصبِ عاشقی و رندی و شاہد بازی
ہمہ از تربیتِ لطفِ شُما می بینَم
منصبِ عاشقی، رندی اور شاہدی بازی، یہ سب کچھ آپ کی تربیت کی مہربانی سے مجھے حاصل ہوا ہے۔

دوستاں، عیبِ نظر بازیِ حافظ مَکُنید
کہ من او را، ز مُحبّانِ خدا می بینَم
اے دوستو، حافظ کی نظر بازی پر عیب مت لگاؤ، کہ میں اُس کو (حافظ کو) خدا کے دوستوں میں سے دیکھتا ہوں۔
----------

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن یعنی فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فَعِلاتُن بھی آ سکتا ہے اور آخری رکن یعنی فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فَعِلان بھی آ سکتے ہیں گویا آٹھ اوزان اس بحر میں جمع ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

تقطیع -
در خراباتِ مغاں نورِ خدا می بینم
ویں عجب بیں کہ چہ نُورے ز کجا می بینم

در خَ را با - 2212 - فاعلاتن
تِ مُ غا نُو - 2211 - فعلاتن
رِ خُ دا می - 2211 - فعلاتن
بی نَم - 22 - فعلن

وی عَ جَب بی - 2212 - فاعلاتن
کہ چہ نورے - 2211 - فعلاتن
ز کُ جا می - 2211 - فعلاتن
بی نم - 22 - فعلن
مزید پڑھیے۔۔۔۔