Apr 2, 2012

رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ -۳


(13)
سرمد اگرش وفاست خود می آید
گر آمدنش رواست خود می آید
بیہودہ چرا درپئے اُو می گردی
بنشیں، اگر اُو خداست خود می آید

سرمد اگر وہ با وفا ہے تو خود ہی آئے گا۔ اگر اس کا آنا روا اور ممکن ہے تو وہ خود ہی آئے گا۔ تُو کاہے اسکی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے، آرام سے بیٹھ رہ، اگر وہ خدا ہے تو خود ہی آئے گا۔


(14)
از جُرم فزوں یافتہ ام فضل ترا
ایں شد سببِ معصیتِ بیش مرا
ہر چند گنہ بیش، کرم بیش تر است
دیدم ہمہ جا و آزمودم ہمہ را

میرے گناہوں سے تیرا فضل بہت بڑھ کے ہے اور میرے گناہ اسی وجہ سے زیادہ ہیں۔ ہر چند کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں لیکن تیرا کرم ان سے بہت ہی زیادہ ہے اور یہی بات میں نے ہر جگہ دیکھی ہے اور یہی بات ہر کسی کا تجربہ ہے۔

(15)
دیوانہٴ رنگینیِ یارِ دگرم
حیرت زدہٴ نقش و نگارِ دگرم
عالم ہمہ در فکر و خیالِ دگر است
من در غم و اندیشہٴ کارِ دگرم

میں کسی اور ہی محبوب کی رنگینی کا دیوانہ ہوں۔ میں کسی اور ہی کے نقش و نگار سے حیرت زدہ ہوں۔ ساری دنیا اوروں کے خیال میں محو ہے جبکہ میں اور ہی طرح کے غموں میں مگن ہوں۔

(16)
مشہور شدی بہ دلربائی ہمہ جا
بے مثل شدی در آشنائی ہمہ جا
من عاشقِ ایں طورِ تو ام، می بینم
خود را نہ نمائی و نمائی ہمہ جا

ہر جگہ تیری دلربائی کہ وجہ سے تیرے چرچے ہیں، اور آشنائی میں بھی تو بے مثل ہے۔ میں تیرے انہی طور طریقوں پر عاشق ہوں اور دیکھتا ہوں کہ تُو خود کو عیاں نہیں کرتا اور ہر جگہ عیاں بھی ہے۔
mazar, sarmad, shaheed, mazar sarmad shaheed, persian, persian poetry, farsi, farsi poetry, rubai, مزار، مزار سرمد شہید، سرمد، شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی
مزار سرمد شہید mazar sarmad shaheed
(17)
اے جلوہ گرِ نہاں، عیاں شو بدر آ
در فکر بجستیم کہ ہستی تو کجا
خواہم کہ در آغوش وکنارت گیرم
تاچند تو در پردہ نمائی خود را

اے تو کہ جو پردوں کے پیچھے ہے، ظاہر ہو اور سامنے آ، میں اسی فکر میں سرگرداں رہتا ہوں کہ تیری ہستی کیا ہے۔  میری خواہش ہے کہ تیرا وصال ہو اور میں تجھے چھوؤں اور اپنی آغوش میں لوں، یہ پردوں کے پیچھے سے اپنے آپ کو نمایاں کرنا کب تک۔

(18)
ہرچند کہ صد دوست بہ من دشمن شُد
از دوستیِ یکے دلم ایمن شد
وحدت بگزیدم و ز کثرت رستم
آخر من ازو شدم و اُو از من شد

اگرچہ سینکڑوں دوست میرے دشمن بن گئے لیکن ایک کی دوستی نے  میری روح کو امن و قرار دے دیا (اور مجھے سب سے بے نیاز کر دیا)۔ میں نے ایک کو پکڑ لیا اور کثرت کو چھوڑ دیا اور آخرِ کار میں وہ بن گیا اور وہ میں بن گیا۔

(19)
دنیا نَشَود آخرِ دم بہ تو رفیق
در راہِ خدا کوش، رفیق است شفیق
خواہی کہ بسر منزلِ دلدار رسی
گفتم بہ تو اے دوست، ہمیں است طریق

دنیا تیرے آخری دموں تک تیری رفیق نہیں بنے گی لیکن خدا کی راہ میں لگا رہ کہ جو نہ صرف رفیق ہے بلکہ شفیق بھی ہے۔ اگر تو چاہتا کہ اپنے دلدار تک پہنچے تو پھر اے دوست تجھ سے یہی کہتا ہوں کہ طریقہ یہی ہے (جو میں نے تجھے بتایا)۔

(20)
ہر نیک و بدے کہ ہست در دستِ خداست
ایں معنیٴ پیدا و نہاں در ہمہ جاست
باور نہ کنی اگر دریں جا بنگر
ایں ضعفِ من و قوّتِ شیطاں ز کجاست

ہر نیکی اور بدی جو کچھ بھی ہے سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ بات چاہے ظاہر ہو یا چھپی ہوئی ہر جگہ ہے، اگر تو اس بات کا یقین نہیں کرتا تو میری طرف دیکھ کہ یہ میرا ضعف اور شیطان کی قوت کہاں سے آئی ہے۔

حصہٴ اول
حصہٴ دوم
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 17, 2012

متفرق فارسی اشعار - 5

غلط گفتی "چرا سجّادۂ تقویٰ گِرو کردی؟"
بہ زہد آلودہ بودم، گر نمی کردم، چہ می کردم؟

(یغمائے جندقی)

تُو نے یہ غلط کہا ہے کہ "پارسائی کا سجادہ (پیر مغاں کے پاس) گروی کیوں رکھ دیا؟"۔ میں زہد سے آلودہ ہو گیا تھا اگر ایسا نہ کرتا تو کیا کرتا؟
-----

حافظ از بادِ خزاں در چمنِ دہر مرنج
فکرِ معقول بفرما، گلِ بے خار کجاست

(حافظ شیرازی)

حافظ، زمانے کے چمن میں خزاں کی ہوا سے رنج نہ کر، صحیح بات سوچ، بغیر کانٹے کے پھول کہاں ہے؟
-----

شمع خود را می گدازَد درمیانِ انجمن
نورِ ما چوں آتشِ سنگ از نظر پنہاں خوش است

(میر رضی دانش)

شمع انجمن میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے (اور صبح تک ختم ہو جاتی ہے)، ہمارا نور آتشِ سنگ کی طرح نظر سے پنہاں ہے لیکن اچھا ہے (کہ دائمی ہے)۔
-----

مَپُرس وجہ سوادِ سفینہ ہا غالب
سخن بہ مرگِ سخن رس سیاہ پوش آمد

غالب، میری بیاضوں کی سیاہی کا سبب مت پوچھ، (کہ میری) شاعری سخن شناس انسانوں کی موت پر سیاہ (ماتمی) لباس پہنے ہوئے ہے۔

(غالب دھلوی)
-----

شاخِ نہالِ سدرۂ، خار و خسِ چمن مَشو
منکرِ او اگر شدی، منکرِ خویشتن مشو

(علامہ اقبال)

تُو سدرہ کے پودے کی شاخ ہے، چمن کا کوڑا کرکٹ مت بن، اگر تُو اُس کا منکر ہو گیا ہے تو اپنا منکر تو نہ بن۔
-----
جاں بہ جاناں کی رسد، جاناں کُجا و جاں کُجا
ذرّه است ایں، آفتاب است، ایں کجا و آں کجا

(ھاتف اصفہانی)

(اپنی) جان، جاناں پر کیا واروں کہ جاناں کہاں اور (میری) جان کہاں۔ یہ (جان) ذرہ ہے، (وہ جاناں) آفتاب ہے، یہ کہاں اور وہ کہاں۔
-----

رباعی

در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
ور دل بہ خدا و ساکنِ میکده ‌ای
مے نوش کہ عاقبت بخیرست ترا

(ابوسعید ابوالخیر)

کعبہ میں اگر تیرا دل غیر کی طرف ہے، (تو پھر) تیری ساری طاعت بھی سب فسق ہے اور کعبہ بھی تیرے لیے بتخانہ ہے۔ اور (اگر) تیرا دل خدا کی طرف ہے اور تو (چاہے) میکدے میں رہتا ہے تو (بے فکر) مے نوش کر کہ (پھر) تیری عاقبت بخیر ہے۔
-----

من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

(امیر خسرو دہلوی)

میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔
-----

دل کہ جمع است، غم از بے سر و سامانی نیست
فکرِ جمعیّت اگر نیست، پریشانی نیست

(نظیری نیشاپوری)

دل (خاطر) جمع ہے، سو بے سر و سامانی کا کوئی غم نہیں ہے، اگر جمع کرنے کی فکر نہ ہو تو (دنیا میں) کوئی پریشانی نہیں ہے۔
-----

آں کیست نہاں در غم؟ ایں کیست نہاں در دل؟
دل رقص کناں در غم، غم رقص کناں در دل

(جگر مراد آبادی، شعلۂ طور)

وہ کیا ہے جو غم میں چُھپا ہے، یہ کیا ہے جو دل میں چُھپا ہے، (کہ) دل غم میں رقص کناں ہے، اور غم دل میں رقص کناں ہے۔
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 13, 2012

لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میر - غزل میر تقی میر

گرچہ کب دیکھتے ہو، پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو یک نظر دیکھو

یوں عرق جلوہ گر ہے اس مونہہ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو

ہر خراشِ جبیں جراحت ہے
ناخنِ شوق کا ہنر دیکھو

تھی ہمیں آرزو لبِ خنداں
سو عوض اس کے چشمِ تر دیکھو
meer, taqi, meer taqi, meer, classical urdu poetry, urdu poetry, میر، تقی، میر تقی میر، کلاسیکی اردو شاعری، اردو شاعری, ilm-e-arooz, taqtee, Mir Taqi Mir
میر تقی میر Mir Taqi Mir
رنگِ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک دن آؤ یاں سحر دیکھو

دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو

پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے
یعنی جاتے ہیں دُور گر دیکھو

لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میر
دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو

----


بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

اشاری نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -


گرچہ کب دیکھتے ہو، پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو


گر چ کب دے - فاعلاتن - 2212
ک تے ہُ پر - مفاعلن - 2121
دیکو - فعلن - 22

آرزو ہے - فاعلاتن - 2212
کِ تم ادر - مفاعلن - 2121
دیکو - فعلن - 22
-----

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Mar 6, 2012

کہاں کھو گئی روح کی روشنی - غزل خلیل الرحمٰن اعظمی

کہاں کھو گئی روح کی روشنی
بتا میری راتوں کی آوارگی

غموں پر تبسّم کی ڈالی نقاب
تو ہونے لگی اور بے پردگی

مگر جاگنا اپنی قسمت میں تھا
بلاتی رہی نیند کی جل پری

جو تعمیر کی کنجِ تنہائی میں
وہ دیوار اپنے ہی سر پر گری

Khalil-ur-Rahman Azmi, خلیل الرحمٰن اعظمی, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
خلیل الرحمٰن اعظمی Khalil-ur-Rahman Azmi
نہ تھا بند ہم پر درِ مے کدہ
صراحی مگر دل کی خالی رہی

گذاری ہے کتنوں نے اس طرح عمر
بالاقساط کرتے رہے خود کشی

(خلیل الرحمٰن اعظمی)
--------

بحر - بحر متقارب مثمن محذوف

افاعیل - فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعِل
آخری رکن میں فَعِل کی جگہ فعول بھی آ سکتا ہے۔

اشاری نظام - 221 221 221 21
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 221 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں‌ 21 کی جگہ 121 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

کہاں کھو گئی روح کی روشنی
بتا میری راتوں کی آوارگی

کہا کو - فعولن - 221
گئی رُو - فعولن - 221
ح کی رو - فعولن - 221
شنی - فعِل - 21

بتا مے - فعولن - 221
رِ راتو - فعولن - 221
کِ آوا - فعولن - 221
رگی - فعِل - 21
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 23, 2012

رباعیاتِ سرمد شہید مع اردو ترجمہ - ۲

سرمد شہید کی کچھ مزید رباعیات، پہلی پوسٹ اس ربط پر پڑھی جا سکتی ہے۔

(6)
صد شُکر کہ دلدار ز من خوشنُود است
ہر دم بہ کرم و ہر نفَس در جُود است
نقصاں بہ من از مہر و محبت نہ رسید
سودا کہ دلم کرد، تمامش سُود است

خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ہمارا دلدار ہم سے خوش ہے۔ ہر دم اور ہر لحظہ اسکے جوُد و کرم مجھ پر ہیں۔ اس مہر و محبت میں مجھے ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچا کہ میرے دل نے جو سودا کیا ہے وہ تمام کا تمام منافع ہی ہے۔
mazar, sarmad, shaheed, mazar sarmad shaheed, persian, persian poetry, farsi, farsi poetry, rubai, مزار، مزار سرمد شہید، سرمد، شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی
مزار سرمد شہید mazar sarmad shaheed
(7)
آں شوخ بہ من نظر نہ دارَد، چہ کُنَم
آہِ دلِ من اثر نہ دارَد، چہ کُنَم
با آنکہ ہمیشہ در دلم می مانَد
از حالِ دلم خبر نہ دارَد، چہ کُنَم

وہ شوخ ہم پر نظر ہی نہیں کرتا، کیا کروں۔ میرے دل کی آہ کچھ اثر ہی نہیں رکھتی، کدھر جاؤں۔ وہ کہ جو ہمیشہ میرے دل میں جا گزیں ہے، اسے میرے دل کے حال کی کچھ خبر ہی نہیں ہے، ہائے کیا کروں، کدھر جاؤں۔

(8)
ہر چند گل و خار دریں باغ خوش است
بے یار دل از باغ نہ از راغ خوش است
چوں خونِ دلم، لالہ بہ بیں در رنگست
ایں چشم و چراغ نیز با داغ خوش است

ہرچند کہ اس گلستان میں پھول اور  کانٹے خوب ہیں لیکن دوست کے بغیر دل نہ گلستان سے خوش ہے اور نہ ہی چمن زار سے۔ دیکھو کہ لالہ کا رنگ میرے دل کے خون کی طرح ہے، لیکن چمنستان کا یہ چشم و چراغ خوبصورت اسی وجہ سے ہے کہ اس کے دل میں بھی داغ ہے۔

(9)
دُوری نَفَسے مرا از اُو ممکن نیست
ایں یک جہتی بہ گفتگو ممکن نیست
اُو بحر، دلم سبوست، ایں حرفِ غلط
گنجائشِ بحر در سبو ممکن نیست

اس سے ایک لمحے کے لیے بھی دُوری میرے لیے ممکن نہیں، اور یہ یک جہتی باتوں باتوں میں ممکن نہیں۔ وہ سمندر ہے، میرا دل پیمانہ ہے، یہ سب باتیں غلط، کیونکہ سبو میں سمندر کی گنجائش ممکن ہی نہیں۔

(10)
دلخواہ نہ شد دو چار بارے بہ جہاں
غمخوار نہ دیدیم بکارے بہ جہاں
آں گل کہ دہد بوئے وفا نایاب است
کُن سیرِ خزانے و بہارے بہ جہاں

اس دنیا میں جسے میرا دل چاہتا ہے ایک بار بھی نہیں ملا اور نہ ہی یہاں کوئی غمخوار ملا ہے۔ وہ پھول کہ جس سے بوئے وفا آتی ہو نایاب ہے، چاہے تم اس جہان کی خزاں میں سیر کر لو چاہے بہار میں۔

(11)
تنہا نہ ہمیں دیر و حرم خانہٴ اُوست
ایں ارض و سما تمام کاشانہٴ اُوست
عالم ہمہ دیوانہٴ افسانہٴ اُوست
عاقل بوَد آں کسے کہ ویوانہٴ اُوست

صرف یہ دیر و حرم ہی اسکے ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ یہ تمام ارض و سماوات اسکے کاشانے ہیں۔ ساری دنیا اسکے افسانوں میں کھوئی ہوئی ہے لیکن عقل مند وہی ہے جو صرف اسکا دیوانہ ہے۔


(12)
سرمد در دیں عجب شکستے کردی
ایماں بہ فدائے چشمِ مستے کردی
با عجز و نیاز، جملہ نقدِ خود را
رفتی و نثارِ بُت پرستے کردی

سرمد تو نے مذہب میں عجب شکست و ریخت کر دی کہ اپنا ایمان ان مست نظروں پر قربان کر دیا اور اپنا  سب کا سب (دین و دنیا کا) سرمایہ بُت پرست پر عجز و نیاز کے ساتھ نثار کر دیا۔


مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 20, 2012

مانا کہ تم رہا کیے دار و رسَن سے دُور - غزل مولانا محمد علی جوہر

یادِ وَطَن نہ آئے ہمیں کیوں وَطَن سے دُور
جاتی نہیں ہے بُوئے چمن کیا چمن سے دُور

گر بُوئے گُل نہیں، نہ سہی، یادِ گُل تو ہے
صیّاد لاکھ رکھّے قفس کو چمن سے دُور

پاداشِ جرمِ عشق سے کب تک مفَر بھلا
مانا کہ تم رہا کیے دار و رسَن سے دُور
Maulana, Muhammad, Ali, Johar, Maulana Muhammad Ali Johar, urdu poetry, poetry, مولانا، محمد، علی، جوہر، مولانا محمد علی جوہر، اردو شاعری، شاعری، غزل، ghazal
مولانا محمد علی جوہر
Maulana Muhammad Ali Johar
آساں نہ تھا تقرّبِ شیریں تو کیا ہوا
تیشہ کو کوئی رکھ نہ سکا کوہکن سے دُور

ہم تک جو دَورِ جام پھر آئے تو کیا عَجَب
یہ بھی نہیں ہے گردشِ چرخِ کہن سے دُور

شاید کہ آج حسرتِ جوہر نکل گئی
اک لاش تھی پڑی ہوئی گور و کفن سے دُور

(مولانا محمد علی جوہر)

------

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 122 / 1212 / 1221 / 212
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 122 پہلے ہے اور اس میں بھی 22 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع--

یادِ وَطَن نہ آئے ہمیں کیوں وَطَن سے دُور
جاتی نہیں ہے بُوئے چمن کیا چمن سے دُور

یا دے وَ - مفعول - 122
طن نَ آ ء - فاعلات - 1212
ہَ مے کُو وَ - مفاعیل - 1221
طَن سِ دُور - فاعلان - 1212

جاتی نَ - مفعول - 122
ہی ہِ بُو ء - فاعلات - 1212
چمن کا چَ - مفاعیل - 1221
مَن سے دُور - فاعلان - 1212
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 18, 2012

صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت - خواجہ الطاف حسین حالی

خواجہ الطاف حسین حالی کی ایک معروف غزل

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت

کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی، گلِ تر کی صورت
Altaf، Hussain، Hali, Altaf Hussain Hali, urdu poetry, poetry, classical urdu poetry, ghazal, خواجہ، الطاف، حسین، حالی، خواجہ الطاف حسین حالی، اردو شاعری، کلاسیکی اردو شاعری، شاعری، غزل
خواجہ الطاف حسین حالی
Altaf Hussain Hali
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

دیکھئے شیخ، مصوّر سے کِچھے یا نہ کِچھے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت

واعظو، آتشِ دوزخ سے جہاں کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت

شوق میں اس کے مزا، درد میں اس کے لذّت
ناصحو، اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت

رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطا
راہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت

(مولانا الطاف حسین حالی)
------

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 / 2211 / 2211 / 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت

اس کِ جاتے - فاعلاتن - 2212
ہِ یِ کا ہو - فعلاتن - 2211
گ ء گر کی - فعلاتن - 2211
صورت - فعلن - 22

نَ وُ دیوا - فعلاتن - 2211
ر کِ صورت - فعلاتن - 2211
ہِ نَ در کی - فعلاتن - 2211
صورت - فعلن - 22
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 16, 2012

کہ چوب و تار و صدائے تنن تنن ہمہ اُوست - غزل شاہ نیاز احمد

شاہ نیاز احمد بریلوی (رح) سلسلہٴ چشتیہ نظامیہ کے ایک نامور صوفی تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اردو اور فارسی کے بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ اور دہلی میں نامور اردو شاعر اور مسلم الثبوت استاذ، مصحفی کے استاذ تھے جیسا کہ مصحفی نے خود اپنی کتاب "ریاض الفصحاء" میں ذکر کیا ہے۔ انہی شاہ نیاز کی ایک خوبصورت فارسی غزل آپ دوستوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں جو کہ صوفیا کے مشہور و معروف نظامِ فکر "ہمہ اوست" کی نمائندگی کرتی ہے اور جس کی بازگشت عراقی اور رومی سے لیکر متاخرین تک کے تمام صوفی شعراء کے کلام میں دیکھی جا سکتی ہے۔

شاہ نیاز کی یہ غزل، پروفیسر خلیق احمد نظامی نے اپنی مشہور کتاب "تاریخِ مشائخِ چشت" میں درج کی ہے۔ شاہ صاحب کی شاعری اور مصحفی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔۔۔۔

"جب مصحفی لکھنؤ چلے گئے اور ان کے شاعرانہ کمالات کا شہرہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے کانوں تک پہنچا تو اپنی ایک غزل مصحفی کو لکھ کر بھیجی۔"

نظامی صاحب نے یہ غزل بغیر اردو ترجمے کے درج کی ہے سو ترجمہ لکھ رہا ہوں اور کسی کمی بیشی کیلیے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔

کسیکہ سرّ ِ نہاں است۔۔۔۔۔۔۔۔ہمہ اُوست
عروسِ خلوت و ہم شمعِ انجمن ہمہ اُوست


افسوس کہ یہ خوبصورت مطلع، مصرعِ اولیٰ کے ایک یا دو الفاظ نہ ہونے کی وجہ سے نامکمل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پروفیسر نظامی صاحب کو بھی یہ مصرع مکمل نہ ملا ہو یا پھر ناشر کی کارستانی بھی ہو سکتی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ شاہ نیاز کا دیوان شائع ہو چکا ہے لہذا دوستوں سے گذارش ہے کہ اگر کسی کے پاس شاہ نیاز کا دیوان ہو اور اس میں یہ غزل ہو تو مکمل مصرع عطا فرما کر مشکور ہوں۔ دوسرے مصرعے کا مطلب کچھ یوں ہے کہ تنہائی کی رونق اور سرخوشی بھی وہی ہے اور شمعِ انجمن بھی وہی ہے۔

ز مصحفِ رُخِ خوباں ہمیں موذِ رقم
کہ خط و خال و رُخ و زلفِ پُر شکن ہمہ اُوست


رُخِ خوباں کے مصحف پر یہی رقم ہے کہ خط و خال اور رخ اور زلفِ پُر شکن سبھی کچھ وہی ہے۔ موذ لفظ باوجود تلاش کے کسی لغت میں نہیں ملا، اسکا مطلب کسی دوست کے علم میں ہو تو مطلع فرما کر مشکور ہوں۔

نظر بہ عیب مکن در ظہورِ باغِ وجود
کہ طوطیانِ چمن و زاغ و ہم زغن ہمہ اُوست


اس وجود کے گلستان کے ظاہر پر عیب کی نظر مت ڈال کہ طوطیان چمن بھی وہی ہے اور زاغ و زغن بھی وہی ہے۔

از سرّ ِ عشق چو واقف شوی، یقیں دانی
کہ قیس و لیلیٰ و شیریں و کوہ کن ہمہ اُوست


جب تُو عشق کے اسرار سے واقف ہو جائے تو یقین کر لے کہ قیس بھی وہی ہے اورو لیلیٰ بھی، شیریں بھی وہی ہے اور فرہاد بھی۔
Shah Niaz Ahmed, Farsi, Farsi with urdu translation, persian, persian poetry with urdu translation, فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، شاہ نیاز احمد بریلوی
مزار شاہ نیاز احمد، بریلی، ہندوستان
Mazar Shah Niaz Ahmed
شنیدہ ام بہ صنم خانہ از زبانِ صنم
صنم پرست و صنم گر و صنم شکن ہمہ اُوست


میں نے صنم خانے میں صنم کی زبان سے سنا ہے کہ صنم پرست بھی وہی ہے اور صنم گر بھی وہی ہےا ور صنم شکن بھی وہی ہے۔

رساند مطربِ خوش گو ہمیں ندا در گوش
کہ چوب و تار و صدائے تنن تنن ہمہ اُوست


مطربِ خوش گو کی یہی آواز ہمارے کانوں تک پہنچی ہے کہ (ساز کی ) چوب بھی وہی ہے اور تار بھی اور صدائے تنن تنن بھی وہی ہے۔
---------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Feb 14, 2012

سرمد شہید کی رباعیات - ١

سرمد شہید کا اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں قتل مذہب کے پردے میں ایک سیاسی قتل تھا، جیسا کہ مؤرخین اور صوفیاء کا خیال ہے اور علماء میں سے بھی امامِ الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ایسا ہی لکھا ہے اور مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے بھی "رودِ کوثر" میں سرمد شہید کے حالات کے تحت اس واقعے پر روشنی ڈالی ہے۔ سرمد شہید کے قتل کی اصل وجہ انکی اورنگ زیب عالمگیر کے صوفی منش بھائی شہزادہ دارا شکوہ سے مصاحبت تھی لیکن الزام کفر اور زندقہ کا لگا۔ خیر یہاں مقصودِ نظر مذہب اور سیاست نہیں ہے بلکہ سرمد شہید کی شاعری ہے۔ سرمد شہید ایک انتہائی اچھے شاعر تھے۔ انکی رباعیات انتہائی پُر لطف اور پُر کیف ہیں اور سوز و مستی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

سرمد شہید کی کچھ رباعیات اپنے ٹوٹے پھوٹے ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں، امید ہے اہلِ علم ترجمے کی فروگزاشات سے صرفِ نظر کریں گے کہ خاکسار ترجمے کی جرات فقط اپنے قارئین کیلیے کرتا ہے۔

(1)
سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند
سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند

اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا۔ پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا۔ عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے، یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔
--------

(2)
سرمد تو حدیثِ کعبہ و دیر مَکُن
در کوچۂ شک چو گمرہاں سیر مَکُن
ہاں شیوہٴ بندگی ز شیطان آموز
یک قبلہ گزیں و سجدۂ غیر مَکُن

سرمد تو کعبے اور بُتخانے کی باتیں مت کر، شک و شبہات کے کوچے میں گمراہوں کی طرح سیر مت کر، ہاں تو بندگی کا شیوہ شیطان سے سیکھ کہ ایک قبلہ پسند کر لے (پکڑ لے) اور ﴿پھر ساری زندگی﴾ غیر کو سجدہ مت کر۔
--------
mazar, sarmad, shaheed, mazar sarmad shaheed, persian, persian poetry, farsi, farsi poetry, rubai, مزار، مزار سرمد شہید، سرمد، شہید، فارسی شاعری مع اردو ترجمہ، رباعی
مزار سرمد شہید mazar sarmad shaheed
(3)
سرمد گلہ اختصار می باید کرد
یک کار ازیں دو کار می باید کرد
یا تن برضائے یار می باید داد
یا قطع نظر ز یار می باید کرد

سرمد گلے شکوے کو مختصر کر دے اور ان دو کاموں میں سے ایک کام کر، یا اپنے آپ کو یار کی رضا پر چھوڑ دے، یا (اگر ہو سکے تو) یار سے قطع نظر کر لے۔
--------

(4)
انتہائی خوبصورت نعتیہ رباعی

اے از رُخِ تو شکستہ خاطر گُلِ سُرخ
باطن ہمہ خونِ دل و ظاہِر گُلِ سرخ
زاں دیر برآمدی ز یُوسُف کہ بباغ
اوّل گُلِ زرد آمد و آخِر گُلِ سُرخ

اے کہ آپ (ص) کے رخ (کے جمال) سے گُلِ سرخ شکستہ خاطر ہے، اُس کا باطن تو سب دل کا خون ہے اور ظاہر گل سرخ ہے۔ آپ (ص) یوسف (ع) کے بعد اس لیئے تشریف لائے کہ باغ میں، پہلے زرد پھول آتا (کھلتا) ہے اور سرخ پھول بعد میں۔
--------

(5)
از منصبِ عشق سرفرازَم کردند
وز منّتِ خلق بے نیازَم کردند
چو شمع در ایں بزم گدازم کردند
از سوختگی محرمِ رازم کردند

مجھے منصبِ عشق سے سرفراز کر دیا گیا، اور خلق کی منت سماجت سے بے نیاز کر دیا گیا، شمع کی طرح اس بزم میں مجھے پگھلا دیا گیا اور اس سوختگی کی وجہ سے مجھے محرمِ راز کر دیا گیا۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 28, 2012

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی - سیّد سبطِ علی صبا

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے

ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے
Syyed Sibt-e-Ali Saba, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
سیّد سبطِ علی صبا
Syyed Sibt-e-Ali Saba
لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے

ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے

(سیّد سبطِ علی صبا)
-------

افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع--

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے

ملبوس - مفعول - 122
جب ہوا نِ - فاعلات - 1212
بدن سے چُ - مفاعیل - 1221
را لیے - فاعلن - 212

دوشیز - مفعول - 122
گان صبح - فاعلات - 1212
نِ چہرے چُ- مفاعیل - 1221
پا لیے - فاعلن - 212
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 26, 2012

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں - کرشن بہاری نُور لکھنوی

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں

سچ گھٹے یا بڑے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

اتنے حصّوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصّے میں کچھ بچا ہی نہیں

زندگی، موت تیری منزل ہے
دوسرا کوئی راستا ہی نہیں

جس کے کارن فساد ہوتے ہیں
اُس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں

اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے
نُور سنسار سے گیا ہی نہیں

(کرشن بہاری نُور لکھنوی)

---

بحر - بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن مُفاعِلُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)۔ تفصیل کیلیئے میرا مقالہ “ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف” دیکھیئے)

اشاری نظام - 2212 2121 22
ہندسوں کو اردو رسم الخط کے مطابق پڑھیے یعنی دائیں سے بائیں یعنی 2212 پہلے پڑھیے۔ اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں

زندگی سے - فاعلاتن - 2212
بڑی سزا - مفاعلن - 2121
ہِ نہی - فَعِلن - 211

اور کیا جر - فاعلاتن - 2212
م ہے پتا - مفاعلن - 2121
ہِ نہی - فَعِلن - 211
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 24, 2012

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا - ہوش ترمذی

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا
ایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا

مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہے
کون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا

ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نے
پھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہگزاروں میں نہ تھا

تم سا لاکھوں میں نہ تھا، جانِ تمنا لیکن
ہم سا محروم ِ تمنا بھی ہزاروں میں نہ تھا

ہوش کرتے نہ اگر ضبطِ فغاں، کیا کرتے
پرسشِ غم کا سلیقہ بھی تو یاروں میں نہ تھا

(ہوش ترمذی)
-----


بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا
ایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا

وہ تقاضا - فاعلاتن - 2212
ء جنو اب - فعلاتن - 2211
کِ بہارو - فعلاتن - 2211
مِ نہ تھا - فعِلن - 211

ایک دامن - فاعلاتن - 2212
بِ تُ الجھا - فعلاتن - 2211
ہُ وَ خارو - فعلاتن - 2211
مِ نہ تھا - فعِلن - 211

-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 14, 2012

متفرق فارسی اشعار - 4

بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام است
اگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفاں باش

(مرزا عبدالقادر بیدل)

حادثہ کے ساز کے ساتھ ہم نغمہ ہونا (سُر ملانا) ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت بپا کرتا ہے تو تُو طوفان بن جا۔
------

گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ را
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

(شاعر: نا معلوم)

کبھی کبھی یہ پرانے قصے پھر سے پڑھ لیا کر، اگر تُو چاہتا ہے کہ تیرے سینے کے داغ تازہ رہیں۔
------
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,

بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مَجو
در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما

(سعدی شیرازی)

وفات کے بعد میری قبر زمین میں تلاش مت کرنا، کہ عارف لوگوں کہ سینوں میں میرا مزار ہے۔

------
رباعی

خواہی کہ ترا دولتِ ابرار رسَد
مپسند کہ از تو بہ کس آزار رسَد
از مرگ مَیَندیش و غمِ رزق مَخور
کایں ھر دو بہ وقتِ خویش ناچار رسَد

(شیخ ابو سعید ابو الخیر)

اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے نیک لوگوں کی دولت مل جائے (تو پھر) نہ پسند کر کہ تجھ سے کسی کو آزار پہنچے، موت کی فکر نہ کر اور رزق کا غم مت کھا، کیوں کہ یہ دونوں اپنے اپنے وقت پر چار و ناچار (لازماً) پہنچ کر رہیں گے۔
------

حافظ اگر سجدہ تو کرد مکن عیب
کافرِ عشق اے صنم گناہ ندارد

(حافظ شیرازی)

حافظ نے اگر تجھے سجدہ کیا تو کوئی عیب نہیں کہ اے صنم عشق کے کافر پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
------

گر اے زاہد دعائے خیر می گوئی مرا ایں گو
کہ آں آوارۂ کوئے بتاں، آوارہ تر بادا

(امیر خسرو دہلوی)

اگر اے زاہد تو میرے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو میرے لیے یہ کہہ کہ کوئے بتاں کا آوارہ، اور زیادہ آوارہ ہو جائے۔
------

حاصلِ خاقانی است دفترِ غم ہائے تو
زاں چوں قلم بر درت راہ بہ سر می رود

(خاقانی شروانی)

خاقانی کا حاصل تیرے غموں کے قصے ہیں کہ قلم کی طرح تیرے در کے راستے پر سر کے بل چلتا ہے۔
------

چہ خوش است از دو یکدل سرِ حرف باز کردن
سخنِ گذشتہ گفتن، گلہ را دراز کردن

(نظیری نیشاپوری)

کیا ہی اچھا (ہوتا) ہے دو گہرے دوستوں کا (آپس میں) گفتگو کا پھر سے آغاز کرنا، بیتی باتوں کو یاد کرنا اور گلوں کو دراز کرنا۔
------

من خکم و من گردم من اشکم و من دردم
تو مہری و تو نوری تو عشقی و تو جانی

(شاہد افلکی)

میں خاک ہوں (تُو آفتاب ہے)، میں گرد و غبار ہوں (تُو نور ہے)، میں آنسو ہوں (تُو عشق ہے)، میں درد ہوں (تُو جان ہے)۔
------

یک نگہ، یک خندۂ دزدیدہ، یک تابندہ اشک
بہرِ پیمانِ محبت نیست سوگندے دگر

(اقبال لاہوری)

ایک نگاہ، (پھر) ایک زیرِ لب تبسم، (اور اسکے بعد آنکھوں سے بہتا ہوا) ایک چمکتا آنسو، محبت کے پیمان کیلیے اس کے علاوہ اور کوئی قسم نہیں ہے۔
------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 11, 2012

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے - قتیل شفائی

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے
گلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے

ہمیں سو بار ترکِ مے کشی منظور ہے لیکن
نظر اس کی اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے

نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کو
وہ جلوہ، جلوۂ جانانہ بن جائے تو کیا کیجے
Qateel Shifai, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
قتیل شفائی Qateel Shifai
ترے ملنے سے جو مجھ کو ہمیشہ منع کرتا ہے
اگر وہ بھی ترا دیوانہ بن جائے تو کیا کیجے

خدا کا گھر سمجھ رکّھا ہے اب تک ہم نے جس دل کو
قتیل اس میں بھی اک بُتخانہ بن جائے تو کیا کیجے

(قتیل شفائی)
--------

بحر - بحر ہزج مثمن سالم

افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن

اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
(ہندسوں کو دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 1 پہلے اور 222 بعد میں)

تقطیع -

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے
گلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے

حقیقت کا - مفاعیلن - 2221
اگر افسا - مفاعیلن - 2221
نہ بن جائے - مفاعیلن - 2221
تُ کا کیجے - مفاعیلن - 2221

گلے مل کر - مفاعیلن - 2221
بِ وہ بیگا - مفاعیلن - 2221
نہ بن جائے - مفاعیلن - 2221
تُ کا کیجے - مفاعیلن - 2221

-----

اور یہ غزل استاد نصرت فتح علی خان کی آواز میں




مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 9, 2012

دل میں اب آواز کہاں ہے - مولانا ماہر القادری

دل میں اب آواز کہاں ہے
ٹوٹ گیا تو ساز کہاں ہے

آنکھ میں آنسو لب پہ خموشی
دل کی بات اب راز کہاں ہے

سرو و صنوبر سب کو دیکھا
ان کا سا اندا ز کہاں ہے
Maulana Mahir-ul-Qadri, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
مولانا ماہر القادری
Maulana Mahir-ul-Qadri
دل خوابیدہ، روح فسردہ
وہ جوشِ آغاز کہاں ہے

پردہ بھی جلوہ بن جاتا ہے
آنکھ تجلی ساز کہاں ہے

بت خانے کا عزم ہے ماہر
کعبے کا در باز کہاں ہے

(مولانا ماہر القادری)
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Jan 3, 2012

یہ زندگی کا طلسمِ عجیب، کیا کہنا - غزل مجید امجد

مجید امجد کی ایک انتہائی خوبصورت غزل

جنونِ عشق کی رسمِ عجیب، کیا کہنا
میں اُن سے دور، وہ میرے قریب، کیا کہنا

یہ تیرگئ مسلسل میں ایک وقفۂ نور
یہ زندگی کا طلسمِ عجیب، کیا کہنا
Majeed Amjad, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
مجید امجد
جو تم ہو برقِ نشیمن، تو میں نشیمنِ برق
الجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب، کیا کہنا

ہجومِ رنگ فراواں سہی، مگر پھر بھی
بہار، نوحۂ صد عندلیب، کیا کہنا

ہزار قافلۂ زندگی کی تیرہ شبی
یہ روشنی سی افق کے قریب، کیا کہنا

لرز گئی تری لو میرے ڈگمگانے سے
چراغِ گوشۂ کوئے حبیب، کیا کہنا

(مجید امجد)

مآخذ - نقوش غزل نمبر، لاہور 1985ء

------

بحر - بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل: مَفاعِلُن فَعِلاتُن مَفاعِلُن فَعلُن
(آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلُن اور فعِلان بھی آ سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2121 2211 2121 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر یعنی دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 2121 پہلے ہے اور اس میں بھی 1 پہلے ہے۔
(آخری رکن میں 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتے ہیں)

پہلے شعر کی تقطیع -

جنونِ عشق کی رسمِ عجیب، کیا کہنا
میں اُن سے دور، وہ میرے قریب، کیا کہنا

جنون عش - مفاعلن - 2121
ق کِ رس مے - فعلاتن - 2211
عجیب کا - مفاعلن - 2121
کہنا - فعلن - 22

مِ اُن سِ دُو - مفاعلن - 2121
ر وُ میرے - فعلاتن - 2211
قریب کا - مفاعلن - 2121
کہنا - فعلن - 22
-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 28, 2011

کچھ اس انداز سے چھیڑا تھا میں نے نغمۂ رنگیں - اصغر گونڈوی

اصغر گونڈوی اردو شاعری کا ایک اہم نام ہیں لیکن جس قدر ان کا کلام اچھا ہے اس قدر وہ مقبول نہ ہو سکے۔ آپ ایک صوفیِ باصفا تھے اور کلام میں بھی تصوف کی چاشنی بدرجہ اتم موجود ہے۔ علامہ اقبال انکی شاعری کی بہت تعریف فرماتے تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ اگر اردو شاعری کو ایک اکائی فرض کیا جائے تو آدھی شاعری صرف اصغر گونڈوی کی ہے۔

اصغر گونڈوی کی ایک خوبصورت غزل

نہ ہوگا کاوشِ بے مدّعا کا رازداں برسوں
وہ زاہد، جو رہا سرگشتۂ سود و زیاں برسوں

ابھی مجھ سے سبق لے محفلِ رُوحانیاں برسوں
رہا ہوں میں شریکِ حلقہٴ پیرِ مُغاں برسوں
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, asghar gondvi
اصغر گونڈوی Asghar Gondvi
کچھ اس انداز سے چھیڑا تھا میں نے نغمۂ رنگیں
کہ فرطِ ذوق سے جھومی ہے شاخِ آشیاں برسوں

جبینِ شوق لائی ہے وہاں سے داغِ ناکامی
یہ کیا کرتی رہی کم بخت، ننگِ آستاں برسوں

وہی تھا حال میرا، جو بیاں میں آ نہ سکتا تھا
جسے کرتا رہا افشا، سکوتِ رازداں برسوں

نہ پوچھو، مجھ پہ کیا گزری ہے میری مشقِ حسرت سے
قفس کے سامنے رکھّا رہا ہے آشیاں برسوں

خروشِ آرزو ہو، نغمۂ خاموش الفت بن
یہ کیا اک شیوۂ فرسودۂ آہ و فغاں برسوں

نہ کی کچھ لذّتِ افتادگی میں اعتنا میں نے
مجھے دیکھا کِیا اُٹھ کر غبارِ کارواں برسوں

وہاں کیا ہے؟ نگاہِ ناز کی ہلکی سی جنبش ہے
مزے لے لے کے اب تڑپا کریں اربابِ جاں برسوں

محبّت ابتدا سے تھی مجھے گُلہائے رنگیں سے
رہا ہوں آشیاں میں لے کے برقِ آشیاں برسوں

میں وہ ہر گز نہیں جس کو قفس سے موت آتی ہو
میں وہ ہوں جس نے خود دیکھا نہ سوئے آشیاں برسوں

غزل میں دردِ رنگیں تُو نے اصغر بھر دیا ایسا
کہ اس میدان میں روتے رہیں گے نوحہ خواں برسوں

اصغر گونڈوی

--------

بحر - بحر ہزج مثمن سالم

افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن

اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
(ہندسوں کو دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 1 پہلے اور 222 بعد میں)

تقطیع -

نہ ہوگا کاوشِ بے مدّعا کا رازداں برسوں
وہ زاہد، جو رہا سرگشتۂ سود و زیاں برسوں

نہ ہوگا کا - مفاعیلن - 2221
وَ شے بے مُد - مفاعیلن - 2221
دَ عا کا را - مفاعیلن - 2221
ز دا بر سو - مفاعیلن - 2221

وُ زاہد جو - مفاعیلن - 2221
رہا سر گش - مفاعیلن - 2221
تَ اے سُو دو - مفاعیلن - 2221
ز یا بر سو - مفاعیلن - 2221

-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 23, 2011

نوائے سروش - 4

ایک دن خواجہ الطاف حسین حالی کے پاس مولوی وحید الدین سلیم (لٹریری اسسٹنٹ سر سید احمد خان) بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور مولانا حالی سے پوچھنے لگا۔

"حضرت، میں نے غصہ میں آ کر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تجھ پر تین طلاق، لیکن بعد میں مجھے اپنے کیے پر افسوس ہوا، بیوی بھی راضی ہے مگر مولوی کہتے ہیں کہ طلاق پڑ گئی، اب صلح کی کوئی شکل نہیں، خدا کے لیے میری مشکل آسان فرمائیں اور کوئی ایسی ترکیب بتائیں کہ میری بیوی گھر میں دوبارہ آباد ہو سکے۔"

ابھی مولانا حالی کوئی جواب نہیں دینے پائے تھے کہ مولوی سلیم اس شخص سے کہنے لگے۔

"بھئی یہ بتاؤ کہ تُو نے طلاق 'ت' سے دی تھی یا 'ط' سے؟"

اس شخص نے کہا۔ "جی میں تو ان پڑھ اور جاہل آدمی ہوں، مجھے کیا پتہ کہ ت سے کیسی طلاق ہوتی ہے اور ط سے کیسی ہوتی ہے۔"

مولوی صاحب نے اس سے کہا کہ "میاں یہ بتاؤ کہ تم نے قرأت کے ساتھ کھینچ کر کہا تھا کہ "تجھ پر تین طلاق" جس میں ط کی آواز پوری نکلتی ہے یا معمولی طریقہ پر کہا تھا جس میں ط کی آواز نہیں نکلتی بلکہ ت کی آواز نکلتی ہے۔"

بیچارے غریب سوال کنندہ نے کہا۔ "جی مولوی صاحب، میں نے معمولی طریقہ پر کہا تھا، قرأت سے کھینچ کر نہیں کہا تھا۔"

یہ سننے کے بعد مولوی سلیم صاحب نے پورے اطمینان کے ساتھ اس سے کہا۔

"ہاں بس معلوم ہو گیا کہ تُو نے ت سے تلاق دی تھی اور ت سے کبھی طلاق پڑ ہی نہیں سکتی، ت سے تلاق کے معنی ہیں 'آ محبت کے ساتھ مل بیٹھ'، تُو بے فکر ہو کر اپنی بیوی کو گھر لے آ، اور اگر کوئی مولوی اعتراض کرے تو صاف کہہ دیجو کہ میں نے تو ت سے تلاق دی تھی ط سے ہر گز نہیں دی۔"
-------

حفیظ جالندھری سر عبد القادر کی صدارت میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں چندہ جمع کرنے کی غرض سے اپنی نظم سنا رہے تھے۔ جلسے کے اختتام پر منتظم جلسہ نے بتایا کہ 300روپیہ جمع ہوئے۔

حفیظ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ میری نظم کا اعجاز ہے۔

"لیکن حضور!" منتظم نے متانت سے کہا ، "200 روپیہ ایک ایسے شخص نے دئے ہیں جو بہرا تھا۔"
---------

ایک دفعہ کسی نے مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ "آپ کے بڑے بھائی ذوالفقار علی کا تخلص 'گوہر' ہے، آپ کے دوسرے بھائی محمد علی کا تخلص 'جوہر' ہے، آپ کا کیا تخلص ہے؟"

"شوہر" مولانا نے فرمایا۔
------
کچھ نقاد حضرات اردو کے ایک شاعر کی مدح سرائی کر رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا۔

"صاحب کیا بات ہے، بہت بڑے شاعر ہیں، اب تو حکومت کے خرچ سے یورپ بھی ہو آئے ہیں۔"

ہری چند اختر نے یہ بات سنی تو نہایت متانت سے کہا۔

"جناب اگر کسی دوسرے ملک میں جانے سے کوئی آدمی بڑا شاعر ہو جاتا ہے تو میرے والد صاحب ملکِ عدم جا چکے ہیں لیکن خدا گواہ ہے کہ کبھی ایک شعر بھی موزوں نہیں کر سکے۔"
------

میر تقی میر سے لکھنو میں کسی نے پوچھا۔ "کیوں حضرت آج کل شاعر کون کون ہے۔"

میر صاحب نے کہا۔ "ایک تو سودا ہے اور دوسرا یہ خاکسار، اور پھر کچھ تامل سے بولے، آدھے خواجہ میر درد۔"

اس شخص نے کہا، "حضرت، اور میر سوز؟"

میر صاحب نے چیں بہ چیں ہو کر کہا۔ "میر سوز بھی شاعر ہیں؟"

اس نے کہا۔ "آخر بادشاہ آصف الدولہ کے استاد ہیں۔"

کہا۔ "خیر اگر یہ بات ہے تو پونے تین سہی۔"
------

مرزا رفیع سودا اردو کے بڑے نامور شاعر تھے۔ بادشاہ شاہ عالم نے جب انکی شاگردی اختیار کی تو ایک روز سودا سے کہا کہ آپ ایک روز میں کتنی غزلیں کہہ لیتے ہیں۔

سودا نے جواب دیا کہ وہ ایک دن میں دو چار شعر کہہ لیتے ہیں۔

یہ سن کر بادشاہ نے کہا، واہ استادِ محترم، ہم تو پاخانے میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔

سودا نے جواب میں کہا۔

"حضور ان غزلوں میں بُو بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔"

یہ کہا اور بادشاہ کے پاس سے چلے آئے اور بعد میں بادشاہ کے بار بار بلاوے پر بھی اسکی خدمت میں نہ گئے۔
------

غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔

ویل، ٹم مسلمان ہے۔

مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔

کرنل بولا۔ کیا مطلب؟

مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔

کرنل یہ جواب سن کر ہنس پڑا اور مرزا کو بے ضرر سمجھ کر چھوڑ دیا۔
--------

جگر مراد آبادی کے ایک شعر کی تعریف کرتے ہوئے ایک زندہ دل نے ان سے کہا۔

"حضرت، آپ کی غزل کے ایک شعر کو لڑکیوں کی ایک محفل میں پڑھنے کے بعد میں بڑی مشکل سے پٹنے سے بچا ہوں۔"

جگر صاحب ہنس کر بولے۔

"عزیزم، میرا خیال ہے کہ شعر میں کوئی خامی رہ گئی ہوگی، وگرنہ یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ آپ کو مارا پیٹا نہ جاتا۔"
-------

ایک محفل میں شبیر حسن خان المعروف جوش ملیح آبادی اپنی نظم سنا رہے تھے تو کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے (جو کہ جوش کے قریبی دوست تھے) حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔

"دیکھیے کم بخت پٹھان ہو کر کیسے عمدہ شعر پڑھ رہا ہے۔"

جوش صاحب نے فورا جواب دیا۔

"اور دیکھو، ظالم سکھ ہو کر کیسی اچھی داد دے رہا ہے۔"
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 19, 2011

غزل - سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ - شبنم شکیل

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ

ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے
اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ

تارہ بن کے دور افق پر کانپے، لرزے، ڈولے
کچی ڈور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ
urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee, Shabnam Shakeel
شبنم شکیل Shabnam Shakee
دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی
روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ

انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسان
میرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ

سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیر
کبھی نہ ہوگی پوری تیرے دل کی ایک امنگ

شبنم کوئی جو تجھ سے ہارے، جیت پہ مان نہ کرنا
جیت وہ ہوگی جب جیتو گی اپنے آپ سے جنگ

(شبنم شکیل)

--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 13, 2011

متفرق فارسی اشعار - ۳

شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں ہائل
کُجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحل ہا

(حافظ شیرازی)

اندھیری رات ہے، اور موج کا خوف ہے اور ایسا خوفناک بھنور ہے۔ ساحلوں کے بے فکرے اور انکی سیر کرنے والے، ہمارا حال کیسے جان سکتے ہیں؟
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
--------
بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاں
کردہ ام پیدا چو گوھر در دلِ دریا کراں

(عبدالقادر بیدل)

میں نے دنیا والوں کی محبت کی طرف سے اپنی چشمِ امید بند کر لی ہے اور گوھر کی طرح سمندر کے دل میں اپنا ایک (الگ تھلگ) گوشہ بنا لیا ہے۔
--------

بہیچ گونہ دریں گلستاں قرارے نیست
تو گر بہار شدی، ما خزاں شدیم، چہ شُد؟

(اقبال)

اس گلستان (کائنات) میں کسی بھی چیز کو قرار نہیں ہے، (آج) تو اگر بہار ہے اور ہم خزاں ہیں تو پھر کیا ہوا؟
--------

سلطنت سہل است، خُود را آشنائے فقر کُن
قطرہ تا دریا تَوانَد شُد، چرا گوھر شَوَد

(شہزادہ دارا شکوہ قادری)

حکومت کرنا تو آسان ہے، اپنے آپ کو فقر کا شناسا کر، (کہ) قطرہ جب تک دریا میں نہ جائے گا، گوھر کیسے بنے گا؟
--------

خلق می گوید کہ خسرو بُت پرستی می کُند
آرے آرے می کنم، با خلق ما را کار نیست

(امیر خسرو)

لوگ کہتے ہیں کہ خسرو بت پرستی کرتا ہے، ہاں ہاں کرتا ہوں مجھے لوگوں سے کوئی کام نہیں ہے۔
--------

تو اے پروانہ، ایں گرمی ز شمعِ محفلے داری
چو من در آتشِ خود سوز اگر سوزِ دلے داری

(فیضی)

اے پروانے تُو نے یہ گرمی محفل کی شمع سے حاصل کی ہے، میری طرح اپنی ہی آگ میں جل (کر دیکھ) اگر دل کا سوز رکھتا ہے۔
--------

وہم خاکے ریخت در چشمم بیاباں دیدمش
قطرہ بگداخت، بحرِ بیکراں نامیدمش

(غالب دہلوی)

وہم نے میری آنکھوں میں خاک ڈال دی اور وہ خاک مجھے بیاباں بن کر نظر آئی۔ ایک قطرہ تھا جو پگھل کر رہ گیا میں نے اسے بحرِ بیکراں کا نام دیا۔
--------

من نگویم کہ مرا از قفَس آزاد کُنید
قفسم بردہ بہ باغی و دلم شاد کنید

(ملک الشعراء بہار)

میں نہیں کہتا کہ مجھے قفس سے آزاد کر دو، (بلکہ) میرا پنجرہ کسی باغ میں لے جاؤ اور میرا دل شاد کر دو۔
--------

قبولِ خاطرِ معشوق شرطِ دیدار است
بحکمِ شوق تماشا مکن کہ بے ادبی است

(عرفی شیرازی)

دوست جس حد تک پسند کرے اسی حد تک نظارہ کرنا چاہیئے، اپنے شوق کے موافق نہ دیکھ کہ یہ بے ادبی ہے۔
--------

گر از بسیطِ زمیں عقل منعدم گردد
بخود گماں نبرد ہیچ کس کہ نادانم

(سعدی شیرازی)

اگر روئے زمین سے عقل معدوم بھی ہو جائے تو پھر بھی کوئی شخص اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرے گا کہ میں نادان ہوں۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 10, 2011

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں - غزلِ حالی

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں

ہیں دورِ جامِ اوّلِ شب میں خودی سے دُور
ہوتی ہے آج دیکھئے ہم کو سحر کہاں

یارب، اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

کون و مکاں سے ہے دلِ وحشی کنارہ گیر
اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں
Altaf، Hussain، Hali, Altaf Hussain Hali, urdu poetry, poetry, classical urdu poetry, ghazal, خواجہ، الطاف، حسین، حالی، خواجہ الطاف حسین حالی، اردو شاعری، کلاسیکی اردو شاعری، شاعری، غزل, Ilm-e-Arooz, Taqtee
خواجہ الطاف حسین حالی
Altaf Hussain Hali
اِک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیشِ عشق
رکھّی ہے آج لذّتِ زخمِ جگر کہاں

بس ہو چکا بیاں کَسَل و رنج و راہ کا
خط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی، تُو مگر کہاں

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

حالی نشاطِ نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو اب
آئے ہو وقتِ صبح، رہے رات بھر کہاں

(خواجہ الطاف حسین حالی)
------

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع--

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں

ہے جُستَ - مفعول - 122
جُو کِ خوب - فاعلات - 1212
سِ ہے خوب - مفاعیل - 1221
تر کہا - فاعلن - 212

اب ٹھیر - مفعول - 122
تی ہِ دے کِ - فاعلات - 1212
یِ جا کر نَ - مفاعیل - 1221
ظر کہا - فاعلن - 212

----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 4, 2011

علی کے گل رُخوں سے بُوئے زھرائی نہیں جاتی - سلام از سیّد نصیر الدین نصیر

سیّد نصیر الدین نصیر مرحوم کا ایک خوبصورت سلام

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی
زباں پر کربلا کی داستاں لائی نہیں جاتی

حسین ابنِ علی کے غم میں ہوں دنیا سے بیگانہ
ہجومِ خلق میں بھی میری تنہائی نہیں جاتی

اداسی چھا رہی ہے روح پر شامِ غریباں کی
طبیعت ہے کہ بہلانے سے بہلائی نہیں جاتی
urdu poetry, ilm-e-arooz, taqtee, salam, karbala, syyed naseer-ud-din naseer
سیّد نصیر الدین نصیر مرحوم
Syyed Naseer-ud-Din Naseer
کہا عبّاس نے افسوس، بازو کٹ گئے میرے
سکینہ تک یہ مشکِ آب لے جائی نہیں جاتی

جتن ہر دور میں کیا کیا نہ اہلِ شر نے کر دیکھے
مگر زھرا کے پیاروں کی پذیرائی نہیں جاتی

دلیل اس سے ہو بڑھ کر کیا شہیدوں کی طہارت پر
کہ میّت دفن کی جاتی ہے، نہلائی نہیں جاتی

طمانچے مار لو، خیمے جلا لو، قید میں رکھ لو
علی کے گل رُخوں سے بُوئے زھرائی نہیں جاتی

کہا شبّیر نے، عبّاس تم مجھ کو سہارا دو
کہ تنہا لاشِ اکبر مجھ سے دفنائی نہیں جاتی

حُسینیّت کو پانا ہے تو ٹکّر لے یزیدوں سے
یہ وہ منزل ہے جو لفظوں میں سمجھائی نہیں جاتی

وہ جن چہروں کو زینت غازۂ خاکِ نجف بخشے
دمِ آخر بھی ان چہروں کی زیبائی نہیں جاتی

نصیر آخر عداوت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
کسی بیمار کو زنجیر پہنائی نہیں جاتی

(سید نصیر الدین نصیر)
-------

بحر - بحر ہزج مثمن سالم

افاعیل - مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن مَفاعِیلُن

اشاری نظام - 2221 2221 2221 2221
(ہندسوں کو دائیں سے بائیں پڑھیے یعنی 1 پہلے اور 222 بعد میں)

تقطیع -

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی
زباں پر کربلا کی داستاں لائی نہیں جاتی

تڑپ اٹھتا - مفاعیلن - 2221
ہِ دل لفظو - مفاعیلن - 2221
مِ دہرائی - مفاعیلن - 2221
نہی جاتی - مفاعیلن - 2221

زبا پر کر - مفاعیلن - 2221
بلا کی دا - مفاعیلن - 2221
س تا لائی - مفاعیلن - 2221
نہی جاتی - مفاعیلن - 2221

--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Dec 1, 2011

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد - غزل مولانا محمد علی جوہر

سرنامے میں مولانا محمد علی جوہر کے جس شعر کا مصرع ہے وہ شعر کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں، یہ شعر ان خوش قسمت شعروں میں سے ہے جو نہ صرف خود زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں بلکہ اپنے خالق کو بھی کر دیتے ہیں۔ وگرنہ مولانا محمد علی جوہر کی سیاسی حیثیت جو بھی ہے بطور شاعر کم ہی لوگ ان کو جانتے ہیں حالانکہ مولانا باقاعدہ شاعر تھے، جوہر تخلص کرتے تھے اور کلام بھی چھپ چکا ہے شاید "فیروز سنز" نے شائع کیا ہے۔ ان کا کلام تو میری نظر سے نہیں گزرا لیکن جس غزل کا یہ شعر ہے وہ غزل اور ایک مزید غزل "نقوش غزل نمبر"، لاہور 1985ء میں موجود ہے وہیں سے یہ غزل لکھ رہا ہوں۔

دورِ حیات آئے گا قاتل، قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد

جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی دلِ بے مدّعا کے بعد

تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے
میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد

لذّت ہنوز مائدہٴ عشق میں نہیں
آتا ہے لطفِ جرمِ تمنّا، سزا کے بعد
Maulana, Muhammad, Ali, Johar, Maulana Muhammad Ali Johar, urdu poetry, poetry, مولانا، محمد، علی، جوہر، مولانا محمد علی جوہر، اردو شاعری، شاعری، غزل، ghazal, karbala, salam, کربلا، سلام
مولانا محمد علی جوہر
Maulana Muhammad Ali Johar
قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

مولانا محمد علی جوہر بحوالہ "نقوش غزل نمبر"، لاہور، 1985ء
-----

بحر - بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل - مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفاعِیلُ فاعِلُن
(آخری رکن میں‌ فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1212 1221 212
ہندسے دائیں سے بائیں، اردو کی طرح پڑھیے۔
(آخری رکن میں‌ 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع--

دورِ حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد

دورے ح - مفعول - 122
یات آء - فاعلات - 1212
گَ قاتل قَ - مفاعیل - 1221
ضا کِ بعد - فاعلان - 1212

ہے ابتِ - مفعول - 122
دا ہمارِ - فاعلات - 1212
تری انتِ - مفاعیل - 1221
ہا کِ بعد - فاعلان - 1212

-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 29, 2011

نوائے سروش - مولانا شبلی نعمانی اور طبلچی

عبدالرزاق ملیح آبادی نے اپنی کتاب "ذکرِ آزاد"، جو مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ گزرے ہوئے انکے اڑتیس برسوں کی یادداشتوں پر مشتمل ہے، میں مولانا شبلی نعمانی کا ایک دلچسپ واقعہ مولانا آزاد کی زبانی بیان کیا ہے، ملاحظہ کیجیے۔

"علامہ شبلی نعمانی

جیل میں ایک دن مولانا [ابوالکلام آزاد] نے مرحوم شبلی نعمانی کے متعلق ایک دلچسپ لطیفہ سنایا۔ کہنے لگے، مولانا شبلی نہایت زندہ دل صاحبِ ذوق آدمی تھے، حسن پرست بھی تھے اور موسیقی وغیرہ فنونِ لطیفہ سے گہری دلچسپی رکھتے تھے مگر مولوی تھے، عام رائے سے ڈرتے تھے اور بڑی احتیاط سے اپنا ذوق پورا کرتے تھے۔

ایک دفعہ موصوف دہلی میں حکیم اجمل خاں مرحوم کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ خواجہ حسن نظامی ملنے آئے اور کہنے لگے، آج میرے ہاں قوالی ہے، دہلی کی ایک مشہور طوائف۔۔۔۔(میں نام بھول گیا ہوں) گائے گی۔ محفل بالکل خاص ہے،میرے اور آپ کے سوا وہاں کوئی نہ ہوگا۔

مولانا شبلی نے دعوت قبول کر لی، کشمیری شال اوڑھی، وضع بدلی، بند گاڑی میں بیٹھے اور خواجہ صاحب کے ہاں پہنچ گئے۔ واقعی کوئی تیسرا آدمی مدعو نہ تھا، قوالی شروع ہوئی اور مولانا نے اپنے آپ کو محتسبوں سے محفوظ پا کر ضرورت سے زیادہ آزادی سے کام لیا۔ دل کھول کر گانے کی اور گانے والی کی تعریف کی۔ طوائف سے ہنستے بھی رہے اور اسے چھیڑتے بھی رہے۔
Maulana Shibli Nomani, مولانا شبلی نعمانی
مولانا شبلی نعمانی
Maulana Shibli Nomani
طوائف کا طبلچی ایک لحیم شحیم سن رسیدہ آدمی تھا۔ سر پر پٹے تھے اور منہ پر چوکور بڑی سی داڑھی، پٹے اور داڑھی خضاب سے بھونرا ہو رہے تھے۔ محفل جب برخاست ہونے لگی تو طبلچی دونوں ہاتھ بڑھائے مولانا کی طرف لپکا اور بڑے جوش سے مولانا کے ہاتھ پکڑ لیے، چومے، آنکھوں سے لگائے اور جوش سے کہنے لگا، "کس منہ سے خدا کا شکر ادا کروں کہ عمر بھر کی آرزو آج پوری ہوئی، مولانا سبحان اللہ، ماشاءاللہ، آپ نے "الفاروق" لکھ کر وہ کام کیا ہے جو نہ کسی سے ہوا نہ ہو سکے گا۔ بخدا آپ نے قلم توڑ دیا ہے، بندے کی کتنی تمنا تھی کہ حضرت کی زیارت سے مشرف ہو، سو آج بائی جی اور خواجہ صاحب کی بدولت یہ سعادت اس گنہگار کو نصیب ہوگئی۔"

مولانا آزاد نے فرمایا، علامہ شبلی بڑے ذکی الحس تھے، اس غیر متوقع واقعہ نے انکی ساری خوشی کرکری کر دی۔ شرم سے عرق عرق ہو گئے، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں؟ طبلچی کو کیا جواب دیں؟ کس طرح محفل سے غائب ہو جائیں؟ بے جان بت کی طرح بیٹھے رہ گئے۔ خواجہ صاحب نے موقع کی نزاکت محسوس کی اور طائفے کو رخصت کر دیا مگر علامہ کو سخت ذہنی صدمہ پہنچ چکا تھا، ہفتوں شگفتہ نہ ہو سکے۔

مولانا نے فرمایا، یہ واقعہ خود علامہ شبلی نے ان سے بیان کیا تھا۔ بیان کرتے وقت بھی متاثر تھے اور بار بار کہتے تھے، کاش "الفاروق" میرے قلم سے نہ نکلی ہوتی اور نکلی تھی تو اسے پڑھنے والا طبلچی اس قوالی سے پہلے ہی ناپید ہو چکا ہوتا، یہ نہیں تو مجھے موت آ گئی ہوتی کہ اس ذلت سے بچ جاتا۔"

(اقتباس از ذکرِ آزاد از عبدالرزاق ملیح آبادی)
----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 25, 2011

تذکرۂ معاصرین از مالک رام

تذکرہ نویسی کی روایت اردو میں بہت پرانی ہے اور تذکرہ نگاروں کے ساتھ ساتھ کئی مشہور کلاسیکی شعراء نے بھی اپنے ہم عصر شعرا اور متقدمین کے تذکرے لکھے ہیں جیسے میر، مصحفی، شیفتہ وغیرہ۔ ان تذکروں میں شعراء کا کلام اور اس پر رائے کے ساتھ ساتھ شاعروں کے کسی قدر سوانح بھی آ گئے ہیں۔ اسی تذکرہ نویسی کی روایت میں ایک گراں قدر اور بیش بہا اضافہ مالک رام دہلوی کی "تذکرۂ معاصرین" ہے جسے اردو کے "زریں عہد" کا بہترین تذکرہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

دراصل یہ کتاب ایک طرح سے کتاب وفیات ہے جس میں مالک رام نے 1967ء سے 1977ء تک وفات پا جانے والی دو سو سے زائد شخصیات کا ذکر کیا ہے جن میں شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی، محققین بھی ہیں اور ناقدین بھی۔ یعنی یہ وہ شخصیات ہیں جن کا کسی نے کسی حیثیت سے اردو سے گہرا تعلق رہا ہے اور یہ مالک رام کے ہم عصر تھے جن کے ساتھ مالک رام کے ذاتی تعلقات بھی تھے۔

مالک رام جب بھی کسی موضوع پر قلم اٹھاتے تھے تو اس موضوع کا حق ادا کر دیتے تھے، وہ انکی تصنیفات ہوں جیسے "ذکرِ غالب" اور "تلامذۂ غالب" یا انکی مرتب کردہ کتب جیسے غالب ہی کی "سبدِ چین" اور "گُلِ رعنا" یا انکے مقدمات اور حواشی جیسے مولانا ابوالکلام آزاد کی "غبارِ خاطر" اور "تذکرہ" پر، ان سب سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ وہ تحقیق کے میدان کے مرد تھے اور جرمن حکماء کی طرح جب تک کسی موضوع کا کلی احاطہ نہیں کر لیتے تھے تب تک اس موضوع پر قلم نہیں اٹھاتے تھے۔

Malik Ram, مالک رام
مالک رام دہلوی Malik Ram
اردو شعراء و ادبا کے کلام و کام کی تو بہت اشاعت ہوئی ہے لیکن ان کے سوانح و حالات اگر کبھی کسی کو ڈھونڈنے پڑ جائیں تو دانتوں پسینہ آ جاتا ہے لیکن آفرین ہے مالک رام مرحوم پر کہ سینکڑوں کتب و رسائل و جرائد و اخبارات کا عرق ریزی سے مطالعہ کرنے کے بعد اور مرحومین کے عزیز و اقارب و احباب سے خط و کتابت کرنے کے بعد انکے مستند اور مفصل حالات کو جمع کر دیا ہے۔ جن شعراء کے دواوین شائع ہو چکے تھے ان کے کلام کا انتخاب ان سے اور جن کے مجموعے نہیں تھے ان کے کلام کا انتخاب رسائل و جرائد و اخبارات کھنگال کر انکے سوانح کے ساتھ شامل کر دیا ہے اور انکی تصنیفات کا ذکر بھی کر دیا ہے۔ اندازِ تحریر انتہائی دلچسپ ہے اور سوانح اور انتخاب کے دریا کو چند صفحات کے کوزے میں یوں بند کیا ہے کہ تمام تفصیلات بکمال و تمام آ گئی ہیں۔

یہ کتاب دلّی سے 1972ء سے 1982ء کے درمیان چار جلدوں میں شائع ہوئی تھی اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ اس میں 1967ء سے 1977ء کے دوران وفات پانے والی شخصیات کا ذکر ہے جن کی ترتیب تاریخِ وفات کے لحاظ سے تھی لیکن اس کا پاکستانی ایڈیشن ترتیبِ نو کے ساتھ 2010ء میں شائع ہوا ہے اور چاروں جلدوں کو ایک ہی جلد میں یکجا کر دیا گیا ہے اور ترتیب الفبائی ہے جب کہ کتاب کے آخر میں تاریخِ وفات کے لحاظ سے ایک اشاریہ ضمیمے کے طور پر درج کر دیا گیا ہے۔ مالک رام ہر جلد کے شروع میں جو تعارف لکھتے تھے ان کو بھی اس کتاب کے شروع میں یکجا کر دیا گیا ہے جب کہ کتاب کے آخر میں دو مزید اشاریے شامل ہیں ایک اشخاص کا اور دوسرا کتب و رسائل کا۔ کتب میں اشاریے شامل کرنے کا مالک رام ضرور التزام کرتے تھے تا کہ بآسانی مطلوبہ معلومات حاصل ہوجائیں جبکہ دوسری طرف اردو کتب میں اس طرح کے اشاریے شامل کرنا ابھی بھی شاذ ہی ہے، کتاب کے شروع میں ڈاکٹر عارف نوشاہی کا ایک گراں قدر مقالہ "وفیات نویسی کی روایت-- عربی، فارسی، ترکی اور اردو میں" بھی شامل ہے۔
Malik Ram
تذکرہٴ معاصرین از مالک رام
اس کتاب کی ابتدا کا واقعہ بھی دلچسپ ہے، پہلی جلد کے تعارف میں مالک رام کے اپنے الفاظ یوں ہیں۔۔۔۔

"بعض احباب کے تعاون سے 1966ء کے اواخر میں دلّی میں "علمی مجلس" کا قیام عمل میں آیا۔ اس سے اصلی مقصد یہ تھا کہ ہم لوگ کبھی کبھی مل بیٹھیں، جہاں کسی علمی یا تحقیقی موضوع پر تبادلۂ خیالات کیا جا سکے۔ بعد کو فیصلہ ہوا کہ مجلس اپنا رسالہ بھی شائع کرے چنانچہ اس فیصلے کے مطابق تماہی [سہ ماہی] "تحریر" 1967ء میں جاری کیا گیا، اسکی ترتیب میرے سپرد ہوئی۔ ابھی ایک ہی شمارہ شائع ہوا تھا کہ لکھنؤ میں میرزا جعفر علی خاں اثر کا انتقال ہو گیا، میرے ان کے برسوں کے تعلق تھے۔ جی میں آئی کہ ان کے مختصر حالات "تحریر" میں شائع کر دوں، ابھی ارادہ ہی کر رہا تھا کہ رفیق مارہروی کے بھی انتقال کی خبر موصول ہوئی، یہ بھی میرے ملنے والے تھے، میں نے خیال کیا کہ اچھا ان کے بھی سہی۔ بدقسمتی سے وہ تماہی ختم ہوتے ہوتے چار پانچ صاحب داغِ مفارقت دے گئے اور میں نے 1967ء کی دوسری تماہی کے شمارے میں ان سب کے مختصر حالات شائع کر دیے، یوں گویا "تحریر" میں وفیات کے مستقل باب کا اضافہ ہو گیا۔ یہ فیصلہ کسی بڑی ہی بُری گھڑی میں ہوا تھا، وہ دن اور آج کا دن، اس کے بعد شاید ہی کوئی تماہی ایسی گزری ہو جس میں کسی نہ کسی مرحوم کے حالات مجھے نہ لکھنا پڑے ہوں۔ جب خیال کرتا ہوں کہ ان پانچ برس میں ستّر سے زیادہ اہلِ علم و قلم ہم سے جدا ہو گئے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔"
کتاب میں مذکور کچھ شخصیات۔۔۔۔

ابراہیم جلیس، اثرلکھنوی، امتیاز علی تاج، باقی صدیقی، بہزاد لکھنوی، جان نثار اختر، جعفر طاہر، جوش ملسیانی، حبیب اشعر دہلوی، حفیظ ہوشیارپوری، دیوان سنگھ مفتون، ڈاکٹر ذاکر حسین، ذوالفقار بخاری، رشید احمد صدیقی، رئیس احمد جعفری، ساغر صدیقی، سید سجاد ظہیر، سید علی عباس حسینی، سید محمد جعفری، سید مسعود حسین رضوی ادیب، سید وقار عظیم، شاہ معین الدین احمد ندوی، شاہد احمد دہلوی، شکیل بدایونی، شورش کاشمیری، شوکت سبزواری، شیخ محمد اکرام، عابد علی عابد، عندلیب شادانی، فرقت کاکوری، کرشن چندر، مجید امجد، مختار صدیقی، مخدوم محی الدین، مصطفیٰ زیدی، ملا واحدی، ممتاز شیریں، مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا غلام رسول مہر، ن م راشد، ناصر کاظمی، یوسف ظفر وغیرہ۔

ناشر۔ الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی
صفحات - 1060
قیمت - 1500 روپے (میری نظر میں قیمت انتہائی زیادہ ہے لیکن 40 فیصد رعایت نے کچھ تلافی ضرور کی)۔
کتاب کی بارے میں مزید تفصیلات ناشر کی اس ویب سائٹ پر ملاحظہ کیجیے۔
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 21, 2011

متفرق فارسی اشعار - ۲

دل اسبابِ طرَب گم کردہ، در بندِ غمِ ناں شُد
زراعت گاہِ دہقاں می شَوَد چوں باغ ویراں شُد
(غالب دہلوی)

(میرے) دل نے خوشی و مسرت کے سامان گم کر دیئے (کھو دیئے) اور روٹی کے غم میں مبتلا ہو گیا، (جسطرح کہ) جب کوئی باغ ویران ہو جاتا ہے تو وہ کسان کی زراعت گاہ (کھیت) بن جاتا ہے۔
--------

در کوئے نیک نامی ما را گذر ندادَند
گر تو نمی پسندی تغییر کن قضا را
(حافظ شیرازی)
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
نیک نامی کے کوچے سے ہمیں گزرنے نہ دیا گیا، اگر تمھیں یہ بات پسند نہیں ہے، یعنی ہمارا نیک نام نہ ہونا تو پھر تقدیر کو تبدیل کر دو۔ یہ شعر کچھ تغیر کے ساتھ بھی ملتا ہے جیسا کہ منسلک تصویر میں ہے۔
--------

بحرفِ ناملائم زحمتِ دل ہا مشو بیدل
کہ ہر جا جنسِ سنگی ہست، باشد دشمنِ مینا
(عبدالقادر بیدل)

بیدل، تلخ الفاظ (ناروا گفتگو) سے دلوں کو تکلیف مت دے، کہ جہاں کہیں بھی کوئی پتھر ہوتا ہے وہ شیشے کا دشمن ہی ہوتا ہے۔
--------

ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
(امیر خسرو)

تُو نے اپنی قیمت دونوں جہان بتائی ہے، نرخ زیادہ کرو کہ ابھی بھی یہ کم ہے۔
--------

غلامی
آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذرِ قباد و جَم کرد

یعنی از خوئے غلامی ز سگاں خوار تر است
من ندیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد
(اقبال، پیامِ مشرق)

آدمی اپنی بے بصری (اپنی حقیقت سے بے خبری) کی بنا پر آدمی کی غلامی کرتا ہے، وہ (آزادی و حریت) کا گوہر تو رکھتا ہے لیکن اسے قباد و جمشید (بادشاہوں) کی نذر کر دیتا ہے۔

یعنی اس غلامی کی عادت میں وہ کتوں سے بھی زیادہ خوار ہو جاتا ہے، (کیونکہ) میں نے نہیں دیکھا کہ (کبھی) کسی کتے نے دوسرے کتے کے سامنے سر خم کیا ہو۔
--------

غنی روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کن
کہ نورِ دیدہ اش روشن کُنَد چشمِ زلیخا را
(غنی کاشمیری)

غنی، پیرِ کنعاں ( یعقوب ع) کے نصیبوں کی سیاہی تو ذرا دیکھ کہ انکی آنکھوں کے نور (یوسف ع) نے روشن کیا تو زلیخا کی آنکھوں کو۔
--------

مرا دو چشمِ تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا
(عبید زاکانی)

مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔
--------

من عاشقم، گواہِ من ایں قلبِ چاک چاک
در دستِ من جز ایں سندِ پارہ پارہ نیست
(محمد رضا عشقی)

میں عاشق ہوں اور میرا گواہ یہ دلِ چاک چاک ہے، میرے ہاتھ میں (میرے پاس) اس پارہ پارہ سند کے سوا اور کچھ نہیں۔
--------

گرفتم آں کہ بہشتم دہند بے طاعت
قبول کردن و رفتن نہ شرط انصاف است
(عرفی شیرازی)

میں نے مان لیا کہ مجھے بہشت بغیر عمل کے ہی مل جائے گی لیکن اسے قبول کرنا اور اس میں داخل ہونا انصاف کے خلاف ہے۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 17, 2011

مشک آں است کہ خود ببوید۔۔۔۔۔۔

پچھلے سال 2010ء کی طرح اس سال بھی پاکستان بلاگ ایوارڈز منعقد کیے جا رہے ہیں اور اس خاکسار نے بھی بہترین ادبی بلاگ کیلیے اپنا بلاگ خود ہی نامزد کر دیا ہے بالکل پچھلے سال کی طرح۔ ایوارڈ وغیرہ تو خیر جو کچھ بھی ہے بس اسطرح چند اور لوگوں تک شاید آواز پہنچ جاتی ہے۔

پچھلے سال بہترین ادبی بلاگ ایوارڈ بھی ایک طرفہ تماشا تھا، بڑے زور و شور سے نامزدگیاں کی گئیں لیکن اعلان کرتے ہوئے کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔چھوڑیے حضرت کچھ بھی نہیں ہوا یعنی کہ سرے سے اس شعبے یعنی ادبی شعبے میں ایوارڈ ہی نہیں دیا گیا شاید منتظمین اور منصفین نے یہی سمجھا کہ کوئی ایسا ادبی بلاگ نہیں ہے جس کو اس "اعلیٰ " ایوارڈ سے نوازا جائے۔

خیر اس خاکسار کو اپنے اس بلاگ کے "ادبی" ہونے کیلیے کسی سند کی ضرورت تو نہیں ہے کہ "مشک آں است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید" لیکن پھر بھی گرمیِ محفل اور رونقِ بازار کیلیے اپنا بلاگ نامزد کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 16, 2011

کون کسی کا یار ہے سائیں - راغب مراد آبادی

کون کسی کا یار ہے سائیں
یاری بھی بیوپار ہے سائیں

یہ بھی جھوٹا، وہ بھی جھوٹا
جھوٹا سب سنسار ہے سائیں
Raghib Muradabadi,urdu poetry, urdu ghazal,
راغب مرادآبادی
Raghib Muradabadi
ہم تو ہیں بس رمتے جوگی
آپ کا تو گھر بار ہے سائیں

کب سے اُس کو ڈھونڈ رہا ہوں
جس کو مجھ سے پیار ہے سائیں

کرودھ کپٹ ہے جس کے من میں
مفلس اور نادار ہے سائیں

ڈول رہی ہے پریم کی نیا
داتا کھیون ہار ہے سائیں

بات کبھی ہے پھول کی ڈالی
بات کبھی تلوار ہے سائیں

گاؤں کی عزت کا رکھوالا
گاؤں کا لمبردار ہے سائیں

راغب مراد آبادی
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 12, 2011

متفرق فارسی اشعار - ١

رفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد

(ملک قمی)

میں نے پاؤں سے کانٹا نکالنا چاہا (اور اتنے میں) محمل نظر سے پوشیدہ ہو گیا، میں ایک لمحہ غافل ہوا اور راہ سے سو سال دور ہو گیا۔
--------

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر

(اقبال)
Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
اے میرے خدا، تُو دونوں جہانوں کو دینے والا اور بخشنے والا ہے جب کہ میں تیرا ایک فقیر ہوں لہذا روزِ محشر میرے عذر قبول فرما اور مجھے اپنی رحمت سے بخش دے، لیکن اس کے باوجود اگر تو سمجھے کہ میرے اعمال کا حساب کرنا ناگزیر ہے تو پھر مصطفیٰ (ص) کی نگاہ سے مجھے پوشیدہ رکھنا اور میرا حساب انکے سامنے نہ کرنا۔
--------

امیر خسرو کا ایک شعر، جسکا مصرعِ اولٰی انتہائی مشہور ہے

زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا، کیا ہی اچھا ہو اگر اسکی زبان میرے منہ میں ہو۔
--------

شورے شُد و از خوابِ عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقیست شبِ فتنہ، غنودیم

(غزالی مشہدی)

ایک شور بپا ہوا اور ہم نے خوابِ عدم سے آنکھ کھولی، دیکھا کہ شبِ فتنہ ابھی باقی ہے تو ہم پھر سو گئے۔
--------

خلل پزیر بَوَد ہر بنا کہ می بینی
بجز بنائے محبّت کہ خالی از خلل است

(حافظ شیرازی)

خلل پزیر (بگاڑ والی) ہے ہر وہ بنیاد جو کہ تُو دیکھتا ہے، ما سوائے مَحبّت کی بنیاد کہ وہ (ہر قسم کے) خلل سے خالی ہے۔
--------

خوش بَوَد فارغ ز بندِ کفر و ایماں زیستن
حیف کافر مُردن و آوخ مسلماں زیستن

(غالب دہلوی)

کفر اور ایمان کی الجھنوں سے آزاد زندگی بہت خوش گزرتی ہے، افسوس کفر کی موت پر اور وائے مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے پر۔
--------

رباعی
ہر چند کہ رنگ و روئے زیباست مرا
چوں لالہ رخ و چو سرو بالاست مرا
معلوم نہ شد کہ در طرب خانۂ خاک
نقّاشِ ازل بہر چہ آراست مرا

(عمر خیام نیشاپوری)

ہر چند کہ میرا رنگ اور روپ بہت خوبصورت ہے، میں لالہ کے پھول کی طرح ہوں اور سرو کی طرح بلند قامت ہوں۔ لیکن معلوم نہیں کہ اس مٹی کے گھر میں جس میں نوحے بپا ہیں، قدرت نے مجھے اس قدر کیوں سجایا ہے۔

(پہلے مصرعے میں لفظ 'روئے' کی جگہ 'بُوئے' بھی ملتا ہے)
--------

مَحبّت در دلِ غم دیدہ الفت بیشتر گیرَد
چراغے را کہ دودے ہست در سر زود در گیرَد

(نظیری نیشاپوری)

غم دیدہ دل میں محبت بہت اثر کرتی ہے، (جیسا کہ) جس چراغ میں دھواں ہو (یعنی وہ ابھی ابھی بجھا ہو) وہ بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔
--------

اگر عشقِ بُتاں کفر است بیدل
کسے جز کافر ایمانی ندارد

(عبدالقادر بیدل)

بیدل اگر عشقِ بتاں کفر ہے تو کافر کے سوا کوئی ایمان نہیں رکھتا۔
--------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 4, 2011

پروفیسر اقبال عظیم کی ایک خوبصورت غزل

پروفیسر اقبال عظیم کی ایک خوبصورت اور مرصع غزل

وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ، وہ بھولا سا چہرہ کتابی کتابی
وہ سُنبل سے گیسو سنہرے سنہرے، وہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی

کفِ دست نازک حنائی حنائی، وہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی
وہ باتوں میں جادو اداؤں میں ٹُونا، وہ دُزدیدہ نظریں عقابی عقابی
Iqbal Azeem, اقبال عظیم, urdu poetry, urdu ghazal,
Iqbal Azeem, اقبال عظیم
کبھی خوش مزاجی، کبھی بے نیازی، ابھی ہوشیاری، ابھی نیم خوابی
قدم بہکے بہکے نظر کھوئی کھوئی، وہ مخمور لہجہ شرابی شرابی

نہ حرفِ تکلّم، نہ سعیِ تخاطب، سرِ بزم لیکن بہم ہم کلامی
اِدھر چند آنسو سوالی سوالی، اُدھر کچھ تبسّم جوابی جوابی

وہ سیلابِ خوشبو گلستاں گلستاں، وہ سروِ خراماں بہاراں بہاراں
فروزاں فروزاں جبیں کہکشانی، درخشاں درخشاں نظر ماہتابی

نہ ہونٹوں پہ سرخی، نہ آنکھوں میں کاجل، نہ ہاتھوں میں کنگن، نہ پیروں میں پائل
مگر حُسنِ سادہ مثالی مثالی، جوابِ شمائل فقط لاجوابی

وہ شہرِ نگاراں کی گلیوں کے پھیرے، سرِ کوئے خوباں فقیروں کے ڈیرے
مگر حرفِ پُرسش نہ اِذنِ گزارش، کبھی نامرادی کبھی باریابی

یہ سب کچھ کبھی تھا، مگر اب نہیں ہے کہ آوارہ فرہاد گوشہ نشیں ہے
نہ تیشہ بدوشی، نہ خارہ شگافی، نہ آہیں نہ آنسو نہ خانہ خرابی

کہ نظروں میں اب کوئی شیریں نہیں ہے، جدھر دیکھیئے ایک مریم کھڑی ہے
نجابت سراپا، شرافت تبسّم، بہ عصمت مزاجی، بہ عفّت مآبی

جو گیسو سنہرے تھے اب نُقرئی ہیں، جن آنکھوں میں جادو تھا اب با وضو ہیں
یہ پاکیزہ چہرے یہ معصوم آنکھیں، نہ وہ بے حجابی نہ وہ بے نقابی

وہ عشقِ مجازی حقیقت میں ڈھل کر تقدّس کی راہوں پہ اب گامزن ہے
جو حُسنِ نگاراں فریبِ نظر تھا، فرشتوں کی صورت ہے گِردوں جنابی

وہ صورت پرستی سے اُکتا گیا ہے، خلوصِ نظر اور کچھ ڈھونڈتا ہے
نہ موجِ تبسّم، نہ دستِ حنائی، نہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی

نہ دُزدیدہ نظریں عقابی عقابی، نہ مخمور لہجہ شرابی شرابی
نہ سُنبل سے گیسو سنہرے سنہرے، نہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی

پروفیسر اقبال عظیم

غزل بشکریہ حجاب، اُردو محفل

------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Nov 1, 2011

کوہکن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے - غزل ڈاکٹر خورشید رضوی

موجودہ عہد کے ایک انتہائی اہم اور صاحبِ اسلوب شاعر پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی کی ایک خوبصورت غزل

نبضِ ایّام ترے کھوج میں چلنا چاہے
وقت خود شیشہٴ ساعت سے نکلنا چاہے

دستکیں دیتا ہے پیہم مری شریانوں میں
ایک چشمہ کہ جو پتھّر سے اُبلنا چاہے
Dr. Khursheed Rizvi, ڈاکٹر خورشید رضوی, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee,
پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی
Dr. Khursheed Rizvi
مجھ کو منظور ہے وہ سلسلہٴ سنگِ گراں
کوہکن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے

تھم گیا آ کے دمِ بازپسیں، لب پہ وہ نام
دل یہ موتی نہ اگلنا نہ نگلنا چاہے

ہم تو اے دورِ زماں خاک کے ذرّے ٹھہرے
تُو تو پھولوں کو بھی قدموں میں مسلنا چاہے

کہہ رہی ہے یہ زمستاں کی شبِ چار دہم
کوئی پروانہ جو اس آگ میں جلنا چاہے

صبح دم جس نے اچھالا تھا فضا میں خورشید
دل سرِ شام اُسی بام پہ ڈھلنا چاہے

ڈاکٹر خورشید رضوی

--------

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فَعلُن
(پہلے رکن فاعلاتن کی جگہ مخبون رکن فعلاتن بھی آسکتا ہے، آخری رکن فعلن کی جگہ فعلان، فَعِلن اور فَعِلان بھی آسکتا ہے یوں آٹھ وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22
ہندسوں کو اردو کی طرز پر دائیں سے بائیں پڑھیے۔ یعنی 2212 پہلے ہے اور اس میں بھی 12 پہلے ہے۔
(پہلے 2212 کی جگہ 2211 اور آخری 22 کی جگہ 122، 211 اور 1211 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

نبضِ ایّام ترے کھوج میں چلنا چاہے
وقت خود شیشہٴ ساعت سے نکلنا چاہے

نبض ای یا - فاعلاتن - 2212
م ترے کو - فعلاتن - 2211
ج مِ چلنا - فعلاتن - 2211
چاہے - فعلن - 22

وقت خُد شی - فاعلاتن - 2212
شَ ء ساعت - فعلاتن - 2211
سِ نکلنا - فعلاتن - 2211
چاہے - فعلن - 22

-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 26, 2011

نوائے سروش - خواجہ دل محمد اور ڈپٹی نذیر احمد

مولانا عبدالمجید سالک نے اپنی خودنوشت سوانح "سرگزشت" میں انجمنِ حمایت اسلام، لاہور کے ایک جلسے کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، ملاحظہ کیجیے۔

"خواجہ دل محمد اور ڈپٹی نذیر احمد

اس اجلاس میں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا، جو مجھے اب تک یاد ہے۔ خواجہ دل محمد صاحب ان دنوں کوئی انیس بیس سال کے نوجوان تھے اور اسی سال انہوں نے ریاضی میں ایم - اے کر کے برادرانِ وطن کے اس طعنے کا مؤثر جواب مہیا کیا تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔ خواجہ صاحب کی ایک خصوصیت خاص طور پر حیرت انگیز تھی کہ وہ ریاضی جیسے خشک مضمون کے ساتھ ہی ساتھ بحرِ شاعری کے بھی شناور تھے۔ اس سال انہوں نے ایک پاکیزہ مسدس "کلک گہر بار" کے نام سے پڑھی جس پر بہت پُرشور داد ملی اور انجمن کو چندہ بھی خوب ملا۔

اس اجلاس میں شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد بھی دہلی سے آئے ہوئے تھے، سر پر چوگوشیہ ٹوپی، چہرے پر تعبّس، سفید ڈاڑھی، لمبا سیاہ چغہ جو غالباً ایل ایل ڈی کا گاؤن تھا۔ آپ نے تقریر شروع کی تو دل آویز اندازِ بیان کی وجہ سے سارا جلسہ ہمہ تن گوش ہوگیا۔ آپ نے فرمایا، خواجہ دل محمد بہت ذہین اور لائق نوجوان ہیں اور شاعری فی نفسہ بُری چیز نہیں۔ حسان (رض) بن ثابت حضرت رسولِ خدا (ص) کے شاعر تھے لیکن میں کہتا ہوں کہ جو دماغ زیادہ عملی علوم کے لیے موزوں ہے اسے شعر کے بیکار شغل میں کیوں ضائع کیا جائے۔ اِس پر حاجی شمس الدین اٹھے اور کہا کہ شعر چونکہ مسلمہ طور پر نثر سے زیادہ قلوب پر اثر کرتا ہے اس لیے یہ بھی مقاصدِ قومی کے حصول کے لیے مفید ہے۔ چنانچہ خواجہ صاحب کی نظم پر انجمن کو اتنے ہزار روپیہ چندہ وصول ہوا جو دوسری صورت میں شاید نہ ہوتا۔
Deputy Nazeer Ahmed, ڈپٹی نذیر احمد
ڈپٹی نذیر احمد ﴿تصویر میں نام غلط ہے﴾۔
Deputy Nazeer Ahmed
اس پر مولانا نذیر احمد کسی قدر تاؤ کھا گئے اور کہنے لگے۔ حاجی صاحب چندہ جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں جو شخص خدمت میں ثابت قدم رہتا ہے اس کی بات قوم پر ضرور اثر کرتی ہے۔ یہ کہا اور عجیب دردناک انداز سے اپنی چوگوشیہ ٹوپی اتاری اور فرمایا کہ یہ ٹوپی جو حضور نظام خلد اللہ ملکہ؛ کے سامنے بھی نہیں اتری محض اس غرض سے اتارے دیتا ہوں کہ اس کو کاسہٴ گدائی بنا کر قوم سے انجمن کے لیے چندہ جمع کیا جائے۔ فقیر آپ کے سامنے موجود ہے، کشکول اس کے ہاتھ میں ہے، دے دو بابا، تمھارا بھلا ہوگا۔

بس پھر کیا تھا، جلسے میں بے نظیر جوش پیدا ہو گیا۔ مولانا کی ٹوپی مولانا کے سر پر رکھی گئی اور ہر طرف سے روپیہ برسنے لگا۔ یہاں تک کہ حاجی شمس الدین کی آواز اعلان کرتے کرتے بیٹھ گئی اور جب ذرا جوش کم ہوا تو مولانا نے پھر تقریر شروع کی اور ہنس کر حاجی صاحب سے کہا۔ اس نظم کے بعد ہماری نثر بھی آپ نے سُنی۔"

--اقتباس از سرگزشت از عبدالمجید سالک--
-----
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 24, 2011

صائب تبریزی کے کچھ متفرق اشعار -۲

مشہور فارسی شاعر مرزا محمد علی صائب تبریزی کے کچھ مزید متفرق اشعار

یادِ رخسارِ ترا در دل نہاں داریم ما
در دلِ دوزخ، بہشتِ جاوداں داریم ما

تیرے رخسار کی یاد دل میں چھپائے ہوئے ہیں یعنی دوزخ جیسے دل میں ایک دائمی بہشت بسائے ہوئے ہیں۔
-----

روزگارِ زندگانی را بہ غفلت مگزراں
در بہاراں مست و در فصلِ خزاں دیوانہ شو

زندگی کے دن غفلت میں مت گزار، موسمِ بہار میں مست ہو جا اور خزاں میں دیوانہ۔
-----
Saib Tabrizi, Persian poetry, Persian Poetry with Urdu translation, Farsi poetry, Farsi poetry with urdu translation,
یادگار صائب تبریزی، ایران
مشکل است از کوئے اُو قطعِ نظر کردَن مرا
ورنہ آسان است از دنیا گزر کردن مرا

اُس کے کُوچے کی طرف سے میرا قطعِ نظر کرنا مشکل (نا ممکن) ہے، ورنہ دنیا سے گزر جانا تو میرے لیے بہت آسان ہے۔
-----

در چشمِ پاک بیں نبوَد رسمِ امتیاز
در آفتاب، سایۂ شاہ و گدا یکے است

نیک (منصف؟) نگاہیں ایک کو دوسرے سے فرق نہیں کرتیں (کہ) دھوپ میں بادشاہ اور فقیر کا سایہ ایک (جیسا ہی) ہوتا ہے۔

بے ساقی و شراب، غم از دل نمی روَد
ایں درد را طبیب یکے و دوا یکے است

ساقی اور شراب کے بغیر غم دل سے نہیں جاتا کہ اس درد (دردِ دل) کا طبیب بھی ایک ہی ہے اور دوا بھی ایک۔

صائب شکایت از ستمِ یار چوں کند؟
ھر جا کہ عشق ھست، جفا و وفا یکے است

صائب یار کے ستم کی شکایت کیوں کریں کہ جہاں جہاں بھی عشق ہوتا ہے وہاں جفا اور وفا ایک ہی (چیز) ہوتے ہیں۔
-----

ما را دماغِ جنگ و سرِ کارزار نیست
ورنہ دلِ دو نیم کم از ذوالفقار نیست

ہمیں جنگ کا دماغ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے سر میں لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کا سودا سمایا ہے وگرنہ ہمارا دو ٹکڑے (ٹکڑے ٹکڑے) دل (اللہ کی مہربانی سے) ذوالفقار سے کم نہیں ہے (ذوالفقار: مہروں والی تلور، حضرت علی (ع) کی تلوار کا نام)۔
--------

ز ہر کلام، کلامِ عرب فصیح تر است
بجز کلامِ خموشی کہ افصح از عرب است

عرب کا کلام، ہر کلام سے فصیح تر (خوش بیاں، شیریں) ہے ماسوائے کلامِ خموشی (خاموشی) کے کہ وہ عرب کے کلام سے بھی فصیح ہے (خاموشی کی فضیلت بیان فرمائی ہے)۔
--------

انتظارِ قتل، نامردی است در آئینِ عشق
خونِ خود چوں کوهکن مردانہ می ‌ریزیم ما

عشق کے آئین میں قتل ہونے (موت) کا انتظار نامردی ہے، ہم اپنا خون فرہاد کی طرح خود ہی مردانہ وار بہا رہے ہیں۔
-----

دنیا بہ اہلِ خویش تَرحّم نَمِی کُنَد
آتش اماں نمی دہد، آتش پرست را

یہ دنیا اپنے (دنیا میں) رہنے والوں پر رحم نہیں کھاتی، (جیسے کہ) آگ، آتش پرستوں کو بھی امان نہیں دیتی (انہیں بھی جلا دیتی ہے)۔
-----

سیہ مستِ جنونم، وادی و منزِل نمی دانم
کنارِ دشت را، از دامنِ محمِل نمی دانم

میرا جنون ایسا سیہ مست ہے (اس نے مجھے وہ مدہوش کر رکھا ہے) کہ میں وادی اور منزل کچھ نہیں جانتا، میں دشت کے کنارے اور (محبوب کے) محمل کے دامن میں بھی کوئی فرق نہیں رکھتا، یعنی ان تمام منزلوں سے گذر چکا ہوں۔

من آں سیلِ سبک سیرَم کہ از ہر جا کہ برخیزم
بغیر از بحرِ بے پایاں دگر منزِل نمی دانم

میں ایسا بلاخیز طوفان ہوں کہ جہاں کہیں سے بھی اُٹھوں، بحرِ بے کنار کے علاوہ میری کوئی منزل نہیں ہوتی۔

اگر سحر ایں بُوَد صائب کہ از کلکِ تو می ریزد
تکلف بر طرف، من سحر را باطِل نمی دانم

صائب، اگر جادو یہ ہے جو تیرے قلم کی آواز (شاعری) میں ہے تو تکلف برطرف میں اس سحر کو باطل (کفر) نہیں سمجھتا۔
-----

نہ من از خود، نے کسے از حالِ من دارد خبر
دل مرا و من دلِ دیوانہ را گم کردہ ام

نہ مجھے اپنی اور نہ کسی کو میرے حال کی خبر ہے کہ میرے دل نے مجھے اور میں نے اپنے دیوانے دل کو گم کر دیا ہے۔
---------
مزید پڑھیے۔۔۔۔

Oct 20, 2011

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا - غزل مجروح سلطانپوری

مجروح سلطانپوری کی ایک خوبصورت غزل

جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا
Majrooh Sultanpuri, مجروح سلطانپوری, urdu poetry, urdu ghazal, ilm-e-arooz, taqtee
مجروح سلطانپوری
Majrooh Sultanpuri
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

میں تو جب جانوں کہ بھر دے ساغرِ ہر خاص و عام
یوں تو جو آیا وہی پیرِ مغاں بنتا گیا

جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایانِ شوق
خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا

شرحِ غم تو مختصر ہوتی گئی اس کے حضور
لفظ جو منہ سے نہ نکلا داستاں بنتا گیا

دہر میں مجروح کوئی جاوداں مضموں کہاں
میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا

(مجروح سلطانپوری)
--------

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فاعلاتُن فاعلاتُن فاعلاتُن فاعلُن
(آخری رکن فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آسکتا ہے)

اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(آخری 212 کی جگہ 1212 بھی آسکتا ہے)

تقطیع -

جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

جب ہوا عر - فاعلاتن - 2212
فا تُ غم آ - فاعلاتن - 2212
رام جا بن - فاعلاتن - 2212
تا گیا - فاعلن - 212

سوز جانا - فاعلاتن - 2212
دل مِ سوزے - فاعلاتن - 2212
دیگرا بن - فاعلاتن - 2212
تا گیا - فاعلن - 212

-------
مزید پڑھیے۔۔۔۔